TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Book 87 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 87 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 57 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

57 Hadith · 9 Chapters
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۵۲)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ ذَکَرٍ وَلَا أُنْثٰی إِلَّا وَعَلٰی رَأْسِہِ جَرِیرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِینَ یَرْقُدُ، فَإِنْ اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ اللّٰہَ تَعَالٰی انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ انْحَلَّتْ عُقَدُہُ کُلُّہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۰)
۔ سیدنا جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مردو زن کے سرپر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے، جب بندہ سوتا ہے تو اس پر تین گرہیں لگائی جاتی ہیں، لیکن جب وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۔
Takhreej
(۵۵۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۱۳۳، وابن حبان: ۲۵۵۴، وابویعلی: ۲۲۹۸(انظر: ۱۴۳۸۷)
5552
Sahih
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۵۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا اسْتَیْقَظَ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: ہٰذَا أَوْ نَحْوَ ہٰذَا الْمَعْنَی، وَإِذَا نَامَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۸۰۴)
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ اور جب سوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ(اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۵۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۱۱(انظر: ۱۸۶۰۳)
5553
Sahih
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۵۴)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ مِنَ اللَّیْلِ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ نَمُوتُ وَنَحْیَا۔)) وَإِذَا اسْتَیْقَظَ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۳)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ نَمُوتُ وَنَحْیَا(اے اللہ! ہم تیرے نام کے ساتھ فوت ہوتے ہیں اور پھر زندہ ہوں گے)۔ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔
Takhreej
(۵۵۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳۹۵(انظر: ۲۱۳۶۶)
5554
Sahih
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
۔ (۵۵۵۵)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَمِنًا أَنْ یَقُولَ: إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ مِنَ اللَّیْلِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ۔)) فَإِذَا اسْتَیْقَظَ مِنَ اللَّیْلِ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانِی بَعْدَمَا أَمَاتَنِی وَإِلَیْہِ النُّشُورُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۷۵)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے شایانِ شان بھی تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے بھی ایسے ہی تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بستر پر آتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ (اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں) پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: (ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے)۔
Takhreej
(۵۵۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۱۲، ۶۳۲۴(انظر: ۲۳۲۸۶)
5555
Sahih
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۵۶)۔ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَیْتَہُ فَذَکَرَ اسْمَ اللّٰہِ حِینَ یَدْخُلُ وَحِینَ یَطْعَمُ، قَالَ الشَّیْطَانُ: لَا مَبِیتَ لَکُمْ، وَلَا عَشَائَ ہَاہُنَا، وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عِنْدَ دُخُولِہِ، قَالَ: أَدْرَکْتُمُ الْمَبِیتَ، وَإِنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عِنْدَ مَطْعَمِہِ، قَالَ: أَدْرَکْتُمْ الْمَبِیتَ وَالْعَشَائَ۔)) قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۸۸)
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندہ گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: نہ تم اس گھر میں رات گزار سکتے ہو اور نہ شام کا کھانا ملے گا، لیکن اگر آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے تو وہ شیطان کہتا ہے: تم نے اس گھر میں رات گزارنے کو پا لیا ہے، پھر اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنا بھی پا لیا ہے اور شام کا کھانا بھی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
Takhreej
(۵۵۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۱۸(انظر: ۱۴۷۲۹)
Explanation
فوائد:… گھر کے تمام افراد کو گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ شیطان کی نحوستوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
5556
Sahih
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۵۷)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْہَلَ أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۵۱)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،…… أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ ہم پھسل جائیں، یا گمراہ ہو جائیں، یا ظلم کریں، یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت والا کام کروں یا ہم پر جہالت مسلط کر دی جائے)۔
Takhreej
(۵۵۵۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ أبوداود: ۵۰۹۴، والترمذی: ۳۴۲۷، والنسائی: ۸/۲۸۵، وابن ماجہ: ۳۸۸۴(انظر: ۲۶۶۱۶)
5557
Sahih
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۵۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ یُرِیدُ سَفَرًا أَوْ غَیْرَہُ فَقَالَ حِینَ یَخْرُجُ: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، إِلَّا رُزِقَ خَیْرَ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْہُ شَرُّ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۱)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کی پناہ لی، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)
Takhreej
(۵۵۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ صالح بن کیسان، أخرجہ ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۴۹۱(انظر: ۴۷۱)
5558
Zaeef
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۵۹)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ فِی سُوقٍ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَۃٍ، وَمَحَا عَنْہُ بِہَا اَلْفَ اَلْفِ سَیِّئَۃٍ، وَبَنٰیَ لَہٗ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۳۲۷)
۔ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق ، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے )، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اس کی دس لاکھ برائیاں معاف کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔
Takhreej
(۵۵۵۹) حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۳۵، والترمذی: ۳۴۲۸، ۳۴۲۹(انظر: ۳۲۷)
Explanation
فوائد:… جامع ترمذی کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یوں ہیں: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ۔ سبحان اللہ! اتنا بڑا اجر و ثواب، در حقیقت اللہ تعالیٰ لامتناہی خزانوں کا مالک ہے اور اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرتا ہے، اجر و ثواب کی اس مقدار کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بازار ایسی جگہ ہے، جہاں لوگ تجارت، خرید و فروخت اور زیادہ منافع کے حصول اور خسارے سے بچاؤ کے حیلوں میںمصروف ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں، نیز بازاروں کو سب سے برا خطۂ زمین قرار دیا گیا ہے، لیکن جو آدمی ان امور کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر کو یاد رکھے گا، وہ بڑا اجرو ثواب پائے گا۔
5559
Sahih
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَفَّارَۃُ الْمَجَالِسِ أَنْ یَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۰۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالس کا کفارہ ہے کہ بندہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیسری حمد کے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۵۶۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۴۸۵۸، والترمذی: ۳۴۳۳(انظر: ۸۸۱۸)
Explanation
فوائد:… ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ جَلَسَ فِی مَجْلِسٍ فَکَثُرَ فِیہِ لَغَطُہُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ یَقُومَ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ إِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ فِی مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ۔)) … جو آدمی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے، جس میں بہت زیادہ شور و غل اور لغو باتیں ہوتی ہیں، پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ تو اس کے اس مجلس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
5560
Sahih
نیا کپڑا پہننے والے کی دعا
۔ (۵۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاہُ بِاسْمِہِ عِمَامَۃً أَوْ قَمِیصًا أَوْ رِدَائً ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ کَسَوْتَنِیہِ، أَسْأَلُکَ خَیْرَہُ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہُ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۴۸۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ پگڑی ہے، یا قمیص، یا چادر اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ کَسَوْتَنِیہِ، أَسْأَلُکَ خَیْرَہُ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہُ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہی ہے‘ تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا‘ (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں‘ اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔)
Takhreej
(۵۵۶۱) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۰۲۰، والترمذی: ۱۷۶۷(انظر: ۱۱۴۶۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ
5561
Sahih
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأٰی نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ تَرَکَ عَمَلَہُ وَإِنْ کَانَ فِی صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ۔)) فَإِنْ کَشَفَہُ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔))ٔٔ (مسند أحمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔
Takhreej
(۵۵۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۹، وابن ماجہ: ۳۸۸۹(انظر: ۲۵۵۷۰)
Explanation
فوائد:… قوم ہود کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب )ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے ۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴، ۲۵)
5562
Sahih
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۳)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَأَی الْمَطْرَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۴۸۶)
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا (اے اللہ! اس کو خوشگوار بارش بنا دے)۔
Takhreej
(۵۵۶۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5563
Sahih
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۴)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔
Takhreej
(۵۵۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، ولجھالۃ حال ابی مطر، أخرجہ الترمذی: ۳۴۵۰(انظر: ۵۷۶۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳)
5564
Zaeef
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۵)۔ عَنْ بِلَال بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۷)
۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔
Takhreej
(۵۵۶۵) تخریج: حسن لشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۳۴۵۱(انظر: ۱۳۹۷)
Explanation
فوائد:… دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پورے ماہ کے لیے سعادت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے دوام کا سوال کیا ہے، کیونکہ ہر ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی روشنی میں مختلف فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کسی کے رزق میں کمی آتی ہے، کسی کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، کسی پر آزمائشیں پڑتی ہیں، کسی کو خوشی کے اسباب ملتے ہیں، کوئی شرّ میں آگے نکل جاتا ہے، کسی کو خیر نصیب ہوتی ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پورے ماہ کے لیے امن و سلامتی کا سوال کیا۔
5565
Sahih
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الشَّہْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ، وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۷۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ،… وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۵۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عبادۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۹۸(انظر: ۲۲۷۹۱)
5566
Zaeef
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاحَ الدِّیَکَۃِ مِنَ اللَّیْلِ فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَکًا سَلُوْا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُہَاقَ الْحِمَارِ فَإِنَّہُ رَأٰی شَیْطَانًا، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اور جب تم گدھے کی رینک سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۵۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۰۳، ومسلم: ۲۷۲۹(انظر: ۸۰۶۴)
5567
Sahih
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
۔ (۵۵۶۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ یَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ): ((إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ، وَنُہَاقَ الْحَمِیرِ مِنَ اللَّیْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ، فَإِنَّہَا تَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا ہَدَأَتِ الرِّجْلُ ،فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبُثُّ فِی لَیْلِہِ مِنْ خَلْقِہِ مَا شَائَ، وَأَجِیفُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ بَابًا أُجِیفَ وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَأَوْکِئُوا الْأَسْقِیَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: القِرَبَ)، وَغَطُّوا الْجِرَارَ، وَأَکْفِئُوا الْآنِیَۃَ۔)) قَالَ یَزِیدُ: ((وَأَوْکِئُوا الْقِرَبَ۔))(مسند أحمد: ۱۴۳۳۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو کتے کی بھونک یا گدھے کی رینک سنو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ جب لوگ سو جائیں تو باہر نہ نکلا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت مختلف مخلوقات کو منتشر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے بند کیا کرو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا، جسے اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزوں کی ڈوریاں کس دے کر رکھو،گھڑوں کو ڈھانپ دیا کرو اور برتنوں کو الٹاکر کر دیا کرو۔
Takhreej
(۵۵۶۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۵۱۰۳(انظر: ۱۴۲۸۳)
Explanation
فوائد:… کتے کی بھونک اور گدھے کی رینک کو رات کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا کہ رات کو کثرت سے شیطانوں کا انتشار ہوتا ہے، وگرنہ دن کے وقت بھی ان آوازوں کو سنتے وقت تعوّذ پڑھا جائے گا۔
5568
Sahih

Chapters

9