۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنا پہلو بسترپر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ(اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ(اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے ربّ! زمین کے ربّ! ہر چیز کے ربّ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس شریر کے شرّسے کہ تو جس کی پیشانی پکڑنے والا ہے، تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو آخِر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، تو میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے)۔
Takhreej
(۵۵۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۱۳(انظر: ۵۹۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں درج ذیل آیت کی بہترین تفسیر بیان کی گئی ہے:
۔ سیدنا ابو خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بستر پر آ کر تین بار یہ دعا پڑھی: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ (میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر وہی، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں) تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں اور اگرچہ وہ (شام کی) عالج جگہ کی ریت کے برابر ہوں، بلکہ اگرچہ وہ درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔
Takhreej
(۵۵۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عبید اللہ بن الولید الوصافی، قال النسائی والفلاس: متروک الحدیث، وعطیۃ العوفی ضعیف، أخرجہ الترمذی: ۳۳۹۷(انظر: ۱۱۰۷۴)
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا وَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کفایت کیا اور ہمیں جگہ دی، پس کتنے ہی لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے والا اور ان کو جگہ دینے والا کوئی نہیں)۔
Takhreej
(۵۵۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۱۵(انظر: ۱۲۵۵۲)
Explanation
فوائد:… ہمیں کفایت کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موذِی چیزوں کا شرّ دور کیا اور حاجات و ضروریات پوری کیں، وگرنہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے آسرا چھوڑ دیا، نہ ان کو شرّ سے بچایا، نہ ان کی جان کو تحفظ دیا، نہ ان کے مال کی حفاظت کی، کئی لوگوں پر ان کے دشمن غالب آ کر ان کو تکلیف دے رہے ہیں، کئی لوگوںکے پاس گھر اور مکمل لباس نہیں ہیں اور کتنے ہی افراد ایسے ہیں کہ ان کے پاس خوردو نوش کی چیزیں نہیں ہیں۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ(اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔
۔ (تیسری سند) سابقہ سند کے ساتھ سابق روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ یوں ہیں: پس تو نماز والا وضو کر، … اس دعا کو آخر میںپڑھ (یعنی اس کے بعد چپ ہو کر سو جا)۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی، جب میں بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَکے لفظ تک پہنچا تو میں نے کہا: وَبِرَسُولِکَ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ الفاظ ہیں: وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا اور اگر صبح تک بقید ِ حیات رہا تو بہت زیادہ بھلائی پائے گا۔
Takhreej
(۵۵۳۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں یہ دعا پڑھنی چاہیے، اس کے بعد سونے والا خاموش ہو جائے، یہاں تک کہ سو جائے۔
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی سوئے تو اپنے دائیں ہاتھ کو سر کے نیچے رکھے اور پھر یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی…۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: اگر وہ اسی رات فوت ہو گیا تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے اللہ! اس دن میں اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندے کو اٹھائے گا)۔
۔ سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں وحشت محسوس کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھا کر: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ۔(میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) تو پھر شیطان تجھے نقصان نہیں دے گا، بلکہ بہت لائق ہے کہ وہ تیرے قریب ہی نہ آئے۔
۔ ابو عبد الرحمن حبلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے ایک کاغذ نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی یہ گواہی دیتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے، اور میں تیرے پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس دعا کی تعلیم دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سونا چاہے تو اس وقت یہ دعا پڑھا کرے۔
۔ سیدنا علی سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے نشانات کا شکوہ کیا، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی آئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر پر موجود نہیں تھے، اس لیے لوٹ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے، جبکہ ہم لیٹ چکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اٹھنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ، جب تم سونے لگو، تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔
فوائد:… سنن ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ بے تکلفی ہے، دراصل الفت سے تکلف ختم ہو جاتا ہے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث بھی ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ، دس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو، اور جب اپنے بستروںپر آ جاؤ تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، …۔
Takhreej
(۵۵۴۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۵۲(انظر: ۸۳۸)
۔ ابن اعبد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات بتلاؤں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال میں سے سب سے زیادہ معزز تھیں اور وہی میری بیوی بھی تھیں، انھوں نے اس قدر چکی چلائی کہ اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، انھوں نے مشکیزے کے ذریعے اتنا پانی لایا کہ ان کے گلے میں نشان پڑ گیا اور انھوں نے گھر میں جھاڑو دیا، یہاں تک کہ ان کے کپڑے خاک آلود ہو گئے، انھوں نے ہنڈیا کے نیچے اس قدر آگ جلائی کہ ان کے کپڑے میلے ہو گئے، ان کاموں سے ان کو تکلیف ہوئی، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی یا لونڈیاں لائی گئیں، میں نے سیدہ سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ایک غلام کا سوال کرو، جو تمہیں کام کی اس مشقت سے بچائے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غلام پائے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کر سکیں، …۔ پھر حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے حق میں غلام سے بہتر ہے، جب اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اس نے پردے سے اپنا سر نکالا اور دو بار کہا: میں اللہ اور رسول سے راضی ہوں۔
Takhreej
(۵۵۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن اعبد، وابو الورد، قال ابن المدینی: لیس بالمعروف، أخرجہ ۲۹۸۸، ۵۰۶۳(انظر: ۱۳۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، …اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ(اے اللہ! بیشک تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو نے ہی اس کو فوت کرنا ہے، اس کا مرنا اور جینا تیرے لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کرنا اور اگر اس کو موت دے دے تو اس کو بخش دینا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۵۴۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۱۲(انظر: ۵۵۰۲)
Explanation
فوائد:… آدمی نے ان کو کہا: کیا آپ نے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانِیْ وَآوَانِیْ ……اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو مجھے کافی ہوا، مجھے جگہ دی، مجھے کھلایا ، مجھے پلایا، جس نے مجھ پر احسان کیا اور مجھ پر مہربان ہوا اور جس نے مجھے عطا کیا اور خوب دیا، ہر حال پر ساری تعریف اللہ کیلئے ہے، اے اللہ! تو ہر چیز کا ربّ، ہر چیز کا بادشاہ ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، ہر چیز تیرے لیے ہے، میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نیند کے وقت گھبرا جانے کی صورت میں یہ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ …… وَأَنْ یَحْضُرُونِ(اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں)۔ سیدنا عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہ اپنے بالغ بچوںکو اس دعا کی تعلیم دیتے تھے، تاکہ وہ سوتے وقت اس کو پڑھیں اور جو بچے چھوٹے اور اس دعا کو یاد کرنے سے ناسمجھ ہوتے تھے، تو وہ اس دعا کو لکھ کر اس کی گردن میں لٹکا دیتے تھے۔
Takhreej
(۵۵۴۸) تخریج: حسن دون قولہ: فکان عبد اللہ …۔ قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۸۹۳، والترمذی: ۳۵۲۸(انظر: ۶۶۹۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا اس دعا کو لکھ کر بچیوں کے گلوں میں ڈال دینا، یہ ضعیف ہے، اس لیے اس سے گلے وغیرہ میں تعویذ لٹکانے کے جواز پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے بستر پر آئے تو وہ اپنے ازار کے پلّو کو کھینچے اور اس کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوا ہے، پھر وہ دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا حَفِظْتَ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔ (اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو بیدار ہو اور یہ ذکر کرے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ پھر کہے: رَبِّ اغْفِرْ لِی۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جائے گی اور اگر عزم کرکے وضو کر لیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے ایک کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے: بڑی لمبی رات پڑی ہے، سویا رہے، راوی نے ایک بار یوں کہا: وہ ہر گرہ پر طویل رات تک تھپکی دیتا رہتا ہے، لیکن جب آدمی بیدار ہو کراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے اور اس طرح جب وہ صبح کرتا ہے تو وہ طیب النفس، ہشاش بشاش اور خوشگوار ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ وہ خبیث النفس اور سست ہوتا ہے۔