۔ (۵۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ رَأَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّہُ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَیْئًامِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۲)
ابو سلام کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے والے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر پانی کو چھونے سے پہلے قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کی۔
Takhreej
(۵۰۱) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۸۰۷۴)
Explanation
فوائد:…جہاں تک زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا مسئلہ ہے تو یہ دونوں کام وضو کے بغیر درست ہیں، مزید دلائل اور آثار سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے، البتہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اپنے مقام پر آئے گی۔
501
Sahih