TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان - قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان - قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 9 · 4 Hadith
۔ (۵۰۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَخَلَ الْخَلَائَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعَوْذُ بِکُ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۶۹)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعَوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ… اے اللہ! میں خبیث جنّوںاور خبیث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Takhreej
(۵۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۲، ۶۳۲۲، ومسلم: ۳۷۵(انظر: ۱۱۹۴۷)
502
Sahih
۔ (۵۰۳)۔ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَتَی الْخَلَائَ قَالَ: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخَبَائِثِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَقَدْ قَالَہُمَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۰۴۴)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء کو آتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِِ۔… میں خبث اور خبیث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔
Takhreej
(۵۰۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:…اس روایت کے جامع ترمذی وغیرہ میں یہ الفاظ ہیں: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ۔)) اَلْخُبْث: ناپاکی، گندگی، برائی، کراہت، مذمت اَلْخَبَیْث: ناپاک، گندا، برا، مکروہ، مذموم، اذیت رساں
503
Sahih
۔ (۵۰۴)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ الْحُشُوْشَ مُحْتَضَرَۃٌ، فَاِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۵۰۱)
سیدنا زید بن ارقمؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ان طہارت خانوں میں شیطان حاضر ہوتے ہیں، اس لیے جب کوئی آدمی اِن میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ …اے اللہ! بیشک میں خبیث جنّوں اور خیبث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Takhreej
(۵۰۴) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین ۔ أخرجہ ابوداود: ۶، وابن ماجہ: ۲۹۶(انظر: ۱۹۲۸۶)
504
Sahih
۔ (۵۰۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: ((غُفْرَانَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: غُفْرَانَکَ … (اے اللہ!) میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں۔
Takhreej
(۵۰۵) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰، والترمذی: ۷، وابن ماجہ: ۳۰۰ (انظر: ۲۵۲۲۰)
Explanation
فوائد:…بیت الخلاء میں داخل ہونے والا صرف بسم اللہ بھی پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((سِتْرُ مَا بَیْنَ اَعْیُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِیْ آدَمَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُھُمُ الْخَلَائَ اَنْ یَّقُوْلَ بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … جنوں کی آنکھوں اور بنو آدم کی شرم گاہوں کے مابین یہ پردہ ہے کہ جب کوئی آدمی بیت الخلاء میں داخل ہو تو وہ بسم اللہ پڑھے۔ (ترمذی: ۵۵۱، ابن ماجہ: ۳۰۱) ابن ماجہ کی وہ حدیث ضعیف ہے، جس میں بیت الخلاء سے خارج ہوتے وقت یہ دعا بتلائی گئی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔ (اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے، اس کو ضعیف قرار دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ (دیکھیں انجاز الحاجۃ: ۳۰۱)
505
Sahih