TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5947 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
بھائو مقرر کرنے کا بیان
۔ (۵۹۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: سَعِّرْ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّمَا یَرْفَعُ اللّٰہُ وَیَخْفِضُ، إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ اَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَیْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِیْ مَظْلِمَۃٌ۔)) قَالَ آخَرُ: سَعِّرْ، فَقَالَ: ((اُدْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھائو تو مقرر کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف اللہ تعالی ہی ہے، جو بھاؤ کو چڑھا دیتا ہے اور کم کر دیتا ہے، میں تو یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملوں کہ میں نے کسی کا نقصان نہ کیا ہوا ہو۔ جب ایک دوسرے شخص نے بھییہی بات کی کہ آپ نرخ کا تعین کر دیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو پکارو (اور اس سے دعا کرو)۔
5947
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۹۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۵۰، وابویعلی: ۶۵۱۲، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۲۹ (انظر: ۸۸۵۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… نرخ مقرر کرنے کی صورت یہ ہے کہ سلطان یا اس کا نائب یا کوئی حاکم منڈی میں اشیاء فروخت کرنے والوں کو احکام کے ذریعے پابند کر دے کہ وہ اتنے نرخ سے زائد اشیاء فروخت نہ کریں اور نرخ کے اتار چڑھاؤ، کمی بیشی کو مصلحتاً روک دیں۔ اس سے ایک تو تاجروں کو نقصان ہوتا ہے، دوسرا وہ اشیاء کو روک کر عوام کو ضروریات ِ زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے مالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کو سستے داموں فروخت کرے یا مہنگے داموں، کوئی دوسرا اس کو پابند نہیں کر سکتا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ایسے تاجروں کو لوگوں پر آسانی کرنے کی ترغیب دلائی جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۰۴۸)اور اس کے بعد والی احادیث میںیہ ترغیب دلائی گئی ہے۔

Related Chapters

46
1
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Price Fixing
باب: چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Who Is Placed In Charge During War
باب: جنگ کے لیے امیر مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
Musnad Ahmad
6
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
7
قرآن اور اوراد کے حزب مقرر کرنا
Musnad Ahmad
8
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
9
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
10
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
11
(35) CHAPTER. Should a day be fixed for women in order to teach them religion (apart from men)?
اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
12
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
Sahih Bukhari
13
(74) CHAPTER. Servants for the mosque.
مسجد کے لیے خادم مقرر کرنا
Sahih Bukhari
14
(51) CHAPTER. The Imam is appointed to be followed.
امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں
Sahih Bukhari
15
(22) CHAPTER. One Muadh-dhin on Friday.
جمعہ کے لیے ایک مؤذن مقرر کرنا
Sahih Bukhari
16
(64) CHAPTER. Can one select some special days [for observing Saum (fast)]?
روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا
Sahih Bukhari
17
(88) CHAPTER. To buy foodstuff on credit.
اناج ادھار ( ایک مدت مقرر کر کے ) خریدنا
Sahih Bukhari
18
(1) CHAPTER. As-Salam by a definite known specified measure.
ماپ مقرر کر کے سلم کرنا
Sahih Bukhari
19
(2) CHAPTER. As-Salam for a known specified weight.
بیع سلم مقررہ وزن کے ساتھ جائز ہے
Sahih Bukhari
20
(7) CHAPTER. It is permissible for one to employ someone to repair a wall which is about to collapse.
اگر کوئی شخص کسی کو اس کام پر مقرر کرے کہ وہ گرتی ہوئی دیوار کو درست کر دے تو جائز ہے
Sahih Bukhari
21
(17) CHAPTER. The taxes imposed on the slaves by their masters; and the leniency in imposing taxes on female slaves.
غلام لونڈی پر روزانہ ایک رقم مقرر کردینا
Sahih Bukhari
22
(19) CHAPTER. Whoever appealed to the masters of a slave to reduce his taxes.
اس کے متعلق جس نے کسی غلام کے مالکوں سے غلام کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کے لیے سفارش کی
Sahih Bukhari
23
(9) CHAPTER. When no period is specified in the contract of share-cropping.
اگر بٹائی میں سالوں کے تعداد مقرر نہ کرے ؟
Sahih Bukhari
24
(17) CHAPTER. If the owner of the land (says to the tenant), let you utilize the land as long as Allah permits you, and does not mention a specfic time for the expiration of the lease, then the lease can be continued according to the approval of both the parties.
اگر زمین کا مالک کاشتکار سے یوں کہے میں تجھ کو اس وقت تک رکھوں گا جب تک اللہ تجھ کو رکھے اور کوئی مدت مقرر نہ کرے تو معاملہ ان کی خوشی پر رہے گا ( جب چاہیں فسخ کر دیں )
Sahih Bukhari
25
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
Sahih Bukhari
26
(5) CHAPTER. The inheritance share of the offspring from the property of their dead fathers and mothers.
لڑکے کی ( مقررہ ) میراث اس کے باپ اور ماں کی طرف سے کیا ہو گی
Sahih Bukhari
27
(7) CHAPTER. What is forbidden as regards Cheating in bargains.
یتیم لڑکی سے جو مرغوبہ ہو اس کے ولی فریب دے کر یعنی مہر مثل سے کم مہر مقرر کر کے نکاح کرے تو یہ منع ہے ۔
Sahih Bukhari
28
(21) CHAPTER. If a judge has to witness in favour of a litigant when he is a judge or he had it before he became a judge (can he pass a judgement in his favour accordingly or should he refer the case to another judge before whom he would bear witness?).
جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں
Sahih Bukhari
29
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
30
Chapter: Not appointing the family of the prophet (saws) in charge of charity
آل بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو صدقہ کی وصولی پر مقرر نہ کرنے کا بیان
Sahih Muslim
31
Chapter: Give The Shares Of Inheritance To Those Who Are Entitled To Them, And Whatever Is Left Goes To The Closest Male Relative
مقررہ حصے والوں کو انم کے حصےے دو اور جو بچ جائے وہ سب سے قریبی رشتہ رکھنے والے مرد کے لیے ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: Ruler appointing leaders of expeditions and advising them of the etiquette of war, etc.
بھیجے گے دستو ں پر امام کا امیر مقرر کرنا اور ان کو جنگ کے آداب وغیرہ کی تلقین کرنا
Sahih Muslim
33
Chapter: Appointing a successor or not doing so
کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنے اور نہ کرنے کا بیان
Sahih Muslim
34
CHAPTER: On Fixing A Part From The Qur’an For Daily Recitation.
باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Regarding One Who Married Without Specifying The Dowry And Then Died.
باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Dividing (Fairly) Between One’s Wives
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Regarding Appointing A Minister.
باب: وزیر مقرر کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding Fixing Prices.
باب: نرخ مقرر کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
39
امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
Sunnan Ibn e Maja
40
جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
41
Chapter: When the Zakat collector receives an animal that is one year younger or one year older than required
جب زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ دینے والے سے مقررہ عمر سے چھوٹا یا بڑا جانور لے تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
42
ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
Sunnan Ibn e Maja
43
عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
44
قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
46
اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
5946
۔ (۵۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُ: لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمُقَوِّمُ أَوِ الْمُسَعِّرُ إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ أُفَارِقَکُمْ وَلَیْسَ أَحَدٌمِنْکُمْ یَطْلُبُنِیْ بِمَظْلِمَۃٍ فِیْ مَالٍ وَلَانَفْسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ہمارے لئے قیمتیا بھائو مقرر کردیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ـیہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو قیمت مقرر کرتا ہے یا بھاؤ بڑھاتا ہے، میں تو یہ امید رکھتاہوں کہ جب تم سے جدا ہوں تو تم میں سے کوئی بھی اپنے مال اور جان کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
Musnad Ahmad
10910
۔ (۱۰۹۱۰)۔ عَن أَبِی وَائِلٍ عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ عُبَیْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَکْثَرِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَقُتِلَ عُبَیْدٌیَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَی قَاتِلَ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَإِنِّی لَأَرْجُوْ أَنْ لَا یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ قَاتِلِ عُبَیْدٍ وَبَیْنَ أَبِی مُوسَی فِی النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۲۹)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔
Musnad Ahmad
11600
۔ (۱۱۶۰۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحَدٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: اَلَیْسَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا قَالَتْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} [مریم: ۷۲]۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۲)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے آگے یوںتلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔
Musnad Ahmad
11966
۔ (۱۱۹۶۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَلَا مِنْ رَجُلٍ یَأْخُذُ بِمَا فَرَضَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ کَلِمَۃً أَوْ کَلِمَتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَیَجْعَلُہُنَّ فِی طَرَفِ رِدَائِہِ فَیَتَعَلَّمُہُنَّ وَیُعَلِّمُہُنَّ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: فَقُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((فَابْسُطْ ثَوْبَکَ۔)) قَالَ: فَبَسَطْتُ ثَوْبِی فَحَدَّثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((ضُمَّ إِلَیْکَ۔)) فَضَمَمْتُ ثَوْبِی إِلٰی صَدْرِی فَإِنِّی لَأَرْجُوْ أَنْ لَا أَکُوْنَ نَسِیتُ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْہُ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۸۳۹۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اللہ کے فرائض میں سے ایک، دو، تین، چار یا پانچ باتیں سن کر اپنی چادر کے پلو میں باندھ لے، پھر ان باتوں کا علم خود بھی حاصل کرے اور دوسروں کو بھی ان کی تعلیم دے؟ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کام کے لیے میں حاضر ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنا کپڑا بچھائو۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھایا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ باتیں ارشاد فرمائیں اور پھر فرمایا: اس کپڑے کو سمیٹ لو۔ چنانچہ میں نے اپنے کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینےسے لگا لیا، مجھے امید ہے کہ اس کے بعد میں نے آپ سے جو بھی حدیث سنی، اسے بھولنے نہیں پاؤں گا۔