TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بھائو مقرر کرنے کا بیان

Chapter 38 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 38 of 48 · 4 Hadith
۔ (۵۹۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: غَـلَا السِّعْرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ سَعَّرْتَ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ الْمُسَعِّرُ، وَإِنِّیْ لَاَرْجُوْ أَنْ اَلْقَی اللّٰہَ وَلَایَطْلُبُنِیْ أَحَدٌ بِمَظْلِمَۃٍ ظَلَمْتُہَا اِیَّاہُ فِیْ دَمٍ وَلَا مَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ بھائو مقرر فرمادیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی ہی ہے، جو پیدا کرنے والا، کمی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، رزق دینے والا اور بھاؤ بڑھانے والاہے، میں اللہ تعالی سے یہ امید رکھتا ہوں کہ جب میں اس کو ملوں تو کوئی بھی خون اور مال کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی حق تلفی کامطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
Takhreej
(۵۹۴۵) اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۵۱، وابن ماجہ: ۲۲۰۰، والترمذی: ۱۳۱۴(انظر: ۱۲۵۹۱)
5945
Sahih
۔ (۵۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُ: لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمُقَوِّمُ أَوِ الْمُسَعِّرُ إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ أُفَارِقَکُمْ وَلَیْسَ أَحَدٌمِنْکُمْ یَطْلُبُنِیْ بِمَظْلِمَۃٍ فِیْ مَالٍ وَلَانَفْسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ہمارے لئے قیمتیا بھائو مقرر کردیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ـیہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو قیمت مقرر کرتا ہے یا بھاؤ بڑھاتا ہے، میں تو یہ امید رکھتاہوں کہ جب تم سے جدا ہوں تو تم میں سے کوئی بھی اپنے مال اور جان کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
Takhreej
(۵۹۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۰۱ (انظر: ۱۱۸۰۹)
5946
Sahih
۔ (۵۹۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: سَعِّرْ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّمَا یَرْفَعُ اللّٰہُ وَیَخْفِضُ، إِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ اَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَیْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِیْ مَظْلِمَۃٌ۔)) قَالَ آخَرُ: سَعِّرْ، فَقَالَ: ((اُدْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھائو تو مقرر کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف اللہ تعالی ہی ہے، جو بھاؤ کو چڑھا دیتا ہے اور کم کر دیتا ہے، میں تو یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملوں کہ میں نے کسی کا نقصان نہ کیا ہوا ہو۔ جب ایک دوسرے شخص نے بھییہی بات کی کہ آپ نرخ کا تعین کر دیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو پکارو (اور اس سے دعا کرو)۔
Takhreej
(۵۹۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۵۰، وابویعلی: ۶۵۱۲، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۲۹ (انظر: ۸۸۵۲)
Explanation
فوائد:… نرخ مقرر کرنے کی صورت یہ ہے کہ سلطان یا اس کا نائب یا کوئی حاکم منڈی میں اشیاء فروخت کرنے والوں کو احکام کے ذریعے پابند کر دے کہ وہ اتنے نرخ سے زائد اشیاء فروخت نہ کریں اور نرخ کے اتار چڑھاؤ، کمی بیشی کو مصلحتاً روک دیں۔ اس سے ایک تو تاجروں کو نقصان ہوتا ہے، دوسرا وہ اشیاء کو روک کر عوام کو ضروریات ِ زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے مالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کو سستے داموں فروخت کرے یا مہنگے داموں، کوئی دوسرا اس کو پابند نہیں کر سکتا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ایسے تاجروں کو لوگوں پر آسانی کرنے کی ترغیب دلائی جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۰۴۸)اور اس کے بعد والی احادیث میںیہ ترغیب دلائی گئی ہے۔
5947
Sahih
۔ (۵۹۴۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ یَعْنِی الْبَصَرِیَّ قَالَ: ثَقُلَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ فَدَخَلَ إِلَیْہِ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیَادٍیَعُوْدُہُ فَقَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ یَا مَعْقِلُ! أَنِّی سَفَکْتُ دَمًا؟ قَالَ: مَاعَلِمْتُ قَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ اَنِّیْ دَخَلْتُ فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُ، قَالَ: أَجْلِسُوْنِیْ، ثُمَّ قَالَ: اسْمَعْ یَا عُبَیْدَ اللّٰہِ! حَتّٰی أُحَدِّثَکَ شَیْئًا لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّۃً وَلَا مَرَّتَیْنِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ دَخَلَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِیْنَ لِیُغْلِیَہُ عَلَیْہِمْ فَاِنَّ حَقًّا عَلَیاللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ أَنْ یُقْعِدَہُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۹)
۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ جب سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیماری کی وجہ سے بوجھل ہوگئے تو ان کے پاس عبید اللہ بن زیاد تیمارداری کے لئے آیا اور کہا: اے معقل! کیا میں نے خون ریزی کی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے پھر کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مسلمانوں کے بھائو میںکسی قسم کی مداخلت کی ہو؟ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں ہے۔ پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اٹھا کر بٹھاؤ، پھر انھوں نے عبیداللہ سے مخاطب ہوکر کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک دو بار نہیںسنی، (بلکہ کئی دفعہ سنی ہے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ـجس نے مسلمانوں کے بھائو میں مداخلت کی اور اس کو اُن پر مہنگا کردیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ روزِ قیامت اسے آگ کے وسیع مقام پر بٹھائے۔ عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی کئی دفعہ، ایک دو مرتبہ نہیں۔
Takhreej
(۵۹۴۸) تخریج: اسنادہ جید۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۲، والطیالسی: ۹۲۸، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۴۷۹، والبیھقی: ۶/ ۳۰ (انظر: ۲۰۳۱۳)
Explanation
فوائد:… آگ کا وسیع مقام، اس سے مراد یہ ہے کہ وسیع جگہ ہو گی اور وہاں بہت زیادہ آگ ہو گی، اللہ تعالی پناہ میں رکھے۔
5948
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.