TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان - تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان - قرض کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of قرض کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 10 · 11 Hadith
۔ (۶۰۴۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَظَلَّ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ تَرَکَ لِغَارِمٍ)) (مسند احمد: ۵۳۲)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سائے میں جگہ دے گا کہ جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہوگا، جو آدمی تنگدست کو مہلت دے گا یا چٹی بھرنے والے کو معاف کر دے گا۔
Takhreej
(۶۰۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، العباس بن الفضل الانصاری منکر الحدیث، قالہ البخاری، ہشام بن زیاد القرشی متروک الحدیث، وابوہ لینہ البخاری، ومحجن مولی عثمان لم یوثقہ غیر ابن حبان (انظر: ۵۳۲)
Explanation
فوائد:… لیکن اس باب میں احادیث ِ صحیحہ کا وجود ملتا ہے، مثلا: سیدنا ابو الیسرbسے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ عَنْہُ، اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ۔)) …’’جوشخصکسی تنگدست کو مہلت دے گا یا اس کو معاف کر دے گا، اللہ تعالی اس کو اپنے سائے میں جگہ دیں گے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۳۰۰۶، واللفظ لابن حبان) اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ لَہٗ،اَظَلَّہُاللّٰہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ۔)) …’’جسشخصنےتنگدستکومہلتدییا اس کو سرے سے معاف کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جبکہ اس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔‘‘ یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ تنگدست کو مہلت دینےیا اس کو معاف کر دینے کی وجہ سے حشر کے میدان میں اللہ تعالی کا سایہ نصیب ہو جائے، جبکہ اس میدان میں گرمی بھی آگ برس رہی ہو گی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوْاخَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} … ’’اور اگر تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۲۸۰)
6048
Zaeef
۔ (۶۰۴۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ وَھُوَ یَقُوْلُ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، فَأَوْمَأَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بِیَدِہِ اِلَی الْآرْضِ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أوَ وَضَعَ لَہُ، وَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ، اَلَا اِنَّ عَمَلَ الْجَنَّۃِ حَزْنٌ بِرَبْوَۃٍ، ثَلَاثًا اَ لَا اِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَہْلٌ بِسَہْوَۃٍ، وَالسَّعِیْدُ مَنْ وُقِیَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جُرْعَۃٍ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ جُرْعَۃِ غَیْظٍیَکْظِمُہَا عَبْدٌ، مَا کَظَمَہَا عَبْدٌ اِلَّا مَلَأَ اللّٰہُ جَوْفَہُ اِیْمَانًا۔)) (مسند احمد:۳۰۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دست مبارک سے زمین کی طرف اشارہ کیا، ابوعبدالرحمن نے اسی طرح کا اشارہ بھی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کردے تواللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے بھاپ سے محفوظ رکھے گا، خبردار!جنت والے اعمال اونچی جگہ پر سخت زمین پر ہل چلا نے کی مانند مشکل ہیں (یہ کلمہ تین دفعہ دوہرایا) اور دوزخ والے اعمال خواہش پرستی کی وجہ سے نرم زمین پر ہل چلانے کی مانند ہیں، اور خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچ گیا ہو۔ وہ گھونٹ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، جو بندہ غصے کو برداشت کر کے پی جاتا ہے، جب بندہ (غصے پر قابو پا کر) ایسا گھونٹ پیتا ہے تو اللہ تعالی اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، نوح بن جعونۃ لا یعرف بجرح ولا تعدیل، وقال الذھبی: اجوِّز ان یکون نوح بن ابی مریم، اتی بخبر منکر، ثم اشار الی ھذا الحدیث، واقرہ ابن حجر، وقد اجمعوا علی تکذیبہ (انظر: ۳۰۱۵)
6049
Zaeef
۔ (۶۰۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إن رَجُلًا لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَکَانَ یُدَایِنُ النَّاسَ فَیَقُوْلُ لِرَسُوْلٍ: خُذْ مَا تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللّٰہَ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا ھَلَکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، اِلَّا أَنَّہُ کَانَ لِیْ غُلَامٌ وَکُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ فَاِذَا بَعَثْتُہُ یَتَقَاضٰی قُلْتُ لَہُ: خُذْ مَاتَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّیَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، البتہ وہ لوگوں کے ساتھ لین دین کے معاملات کے بارے میں اپنے نمائندے سے کہتا تھا: جس سے جومیسر ہو، لے لینا اور جس کے لے مشکل ہو، اس کو چھوڑدینا اوردرگزر کرنا،شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر فرمادے، پس جب وہ فوت ہوا تو اللہ تعالی نے اس سے کہا: کیا تو نے کبھی خیر کا کوئی کام بھی کیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے ایک عمل کیا ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ میں لوگوں سے کاروباری لین دین کیا کرتا تھا اور جب میںنے اپنے لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تھا تو اس کو کہتا تھا: جو کسی سے آسان لگے، وہ لے لینا اور جس کے لیے مشکل ہو، اس کو رہنے دینا اور درگزر کرنا، شاید اس وجہ سے اللہ تعالی ہم سے درگزر کرے، اللہ تعالی نے کہا: تحقیق میں نے تجھ سے درگزر کر دیا ہے۔
Takhreej
(۶۰۵۰) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۰۷۸، ۳۴۸۰، ومسلم: ۱۵۶۲ (انظر: ۸۷۳۰)
6050
Sahih
۔ (۶۰۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد:۱۷۱۹۰)
۔ سیدنا ابومسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۰۵۱) تخریج:انظر الحدیث التالی، ھو نفس ھذا الحدیث (انظر: ۱۷۰۶۴)
6051
Sahih
۔ (۶۰۵۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَزَادَ: ((فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۴)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کردیا۔
Takhreej
(۶۰۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۷۷، ۳۴۵۱، ومسلم: ۱۵۶۰ (انظر: ۲۳۳۵۳)
6052
Sahih
۔ (۶۰۵۳)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ لَہُ عَلٰی رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ اَخَّرَہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۱۹)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اس کو (کچھ دنوں تک) مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض (اتنی مقدار میں) صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔
Takhreej
(۶۰۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابوداود نفیع بن الحارث الاعمی متروک۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۶۰۳ (انظر: ۱۹۹۷۷)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث اس مفہوم میں واضح ہے۔
6053
Zaeef
۔ (۶۰۵۴)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلُہُ صَدَقَۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) قُلْتُ: سَمِعْتُکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلُہُ صَدَقَۃٌ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔))، قَالَ لَہُ: ((بِکُلِّ یَوْمٍ صَدَقَۃٌ قَبْلَ أَنْ یَحِلَّ الدَّیْنُ، فَاِذَا حَلَّ الدَّیْنُ فَأَنْظَرَ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۳۴)
۔ سیدنا بریدہ سلمیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ پھر ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دن میں نے آپ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ اور ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ (پہلی دفعہ ایک گنا اور دوسری دفعہ دو گنا کی بات کی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرض کے وعدے کا وقت آنے سے پہلے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور جب قرض کا وعدہ آ جاتا ہے اور وہ مہلت دے دیتا ہے تو ہر روز قرض کی دوگنا مقدار کا ثواب ملتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۱۸(انظر: ۲۳۰۴۶)
6054
Sahih
۔ (۶۰۵۵)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ کَانَ لَہُ عَلٰی رَجُلٍ دَیْنٌ وَکَانَ یَأْتِیْہِیَتَقَاضَاہُ فَیَخْتَبِیْئُ مِنْہُ فَجَائَ ذَاتَ یَوْمٍ فَخَرَجَ صَبِیٌّ فَسَأَلَہُ عَنْہُ فقَالَ: نَعَمْ ھُوَ فِی الْبَیْتِیَاْکُلُ خَزِیْرَۃً، فَنَادَاہُ: یَا فُلَانُ! اُخْرُجْ فَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّکَ ھَاھُنَا، فَخَرَجَ إِلَیْہِ، فَقَالَ: مَایُغِیْبُکَ عَنِّیْ؟ قَالَ: إِنِّیْ مُعْسِرٌ وَلَیْسَ عِنْدِیْ، قَالَ: آللّٰہِ! إِنَّکَ مُعْسِرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَبَکٰی اَبُوْ قَتَادَۃَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِیْمِہِ أَوْ مَحَا عَنْہُ کَانَ فِیْ ظِلِّ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۹۹)
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے قرض لینا تھا، وہ اس کا تقاضاکرنے کیلئے اس کے پاس آتے رہتے تھے، لیکن وہ مقروض ان کو دیکھ کر چھپ جاتا تھا، ایک روز وہ حسب ِ معمول قرض کا مطالبہ کرنے کیلئے آئے اور اس آدمی کا لڑکا گھرسے باہر آیا، سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے اپنے مقروض کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے، اس بچے نے کہا: جی وہ گھر پر ہیں اور خزیرہ کھارہے ہیں،یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آواز دی: اے فلاں! باہر آجا،مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو گھر پر ہی ہے، سو وہ باہر آ گیا، سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ تو مجھ سے چھپ جاتا تھا؟ اس نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ میں تنگدست ہوں، میرے پاس قرض کی ادائیگی کی طاقت نہیں ہے۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رو پڑے اور پھر کہا: میں نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہو سنا: جو مقروض کو مہلت دے گا یا اس کا قر ض معاف کر دے گا تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں کھڑا ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۶۳(انظر: ۲۲۶۲۳)
Explanation
فوائد: … گوشت اور آٹے سے تیار کیا ہوا ایک کھانا۔
6055
Sahih
۔ (۶۰۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُہُ وَتُنْکَشَفَ کُرْبَتُہُ فَلْیُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ۔)) (مسند احمد: ۴۷۴۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا یہ ارادہ ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی مصیبت دور کی جائے تو وہ تنگدست پر کشادگی کرے۔
Takhreej
(۶۰۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زید العمی، ثم ھو منقطع، زید روایتہ عن الصحابۃ مرسلۃ۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۷۱۳ (انظر: ۴۷۴۹)
6056
Zaeef
۔ (۶۰۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَہُ اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّ عَرْشِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دییااس کا قر ض معاف کردیا تو روز قیامت اللہ تعا لی اسے اپنے عرش کاسایہ دے گا۔
Takhreej
(۶۰۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ الترمذی: ۱۳۰۶(انظر: ۸۷۱۱)
6057
Sahih
۔ (۶۰۵۸)۔ عَنْ اَبِی الْیَسَرِ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُظِلَّہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ ظِلِّہِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَوْمَ لَاظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ) فَلْیُنْظِرِ الْمُعْسِرَ أَوْلِیَضَعْ عَنْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۰۵)
۔ صحابی رسو ل سیدنا ابو الیسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالی اس دن اس پر اپنا سایہ کریں، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا،تو اس کو چاہئے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قر ض سرے سے معاف ہی کردے۔
Takhreej
(۶۰۵۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۱۹ (انظر: ۱۵۵۲۰)
6058
Sahih

Chapters

10
01
قر ض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
3 Hadith
02
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
8 Hadith
03
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریمa کے قرض لینے کا بیان
6 Hadith
04
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
05
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
4 Hadith
06
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
2 Hadith
07
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
1 Hadith
08
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
7 Hadith
10
تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.