أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ .
It was narrated from Kab bin Ujra:
That he was with the Messenger of Allah in Ihram and he suffered an infestation of head lice. The Messenger of Allah commanded him to shave his head and told him: Fast for three days, or fed six poor persons two Mudds earch, or sacrifice a sheep. Whichever one of these you do will be sufficient for you.'
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ” ( اس کے کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المحصر ۵، ۶، ۷، ۸ (۱۸۱۴-۱۸۱۸)، المغازی ۳۵ (۴۱۵۹)، تفسیر البقرة ۳۲ (۴۵۱۷)، المرضی ۱۶ (۵۶۶۵)، الطب ۱۶ (۵۷۰۳)، الکفارات ۱ (۶۷۰۸)، صحیح مسلم/الحج ۱۰ (۱۲۰۱)، سنن ابی داود/الحج۴۳ (۱۸۵۷)، سنن الترمذی/الحج ۱۰۷ (۹۵۳)، وتفسیر البقرة (۲۹۷۳، ۲۹۷۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۱۴)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ۸۶ (۳۰۷۹)، موطا امام مالک/الحج ۷۸ (۲۳۷)، مسند احمد (۴/ ۲۴۱، ۲۴۲، ۲۴۳، ۲۴۴)
2854
Sahih