TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1983 - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 104 of 143 in this chapter
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَّمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَّاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔اس نے مجھ سے کھانا مانگا، میرے پاس صرف ایک کھجور تھی ،میں نے وہ کھجور اسے دے دی۔ اس نے وہ کھجور لی اور دونوں بیٹیوں میں میں تقسیم کر دی، خود اس سے کچھ نہ کھایا، پھر کھڑی ہوئی اور اپنی بیٹیوں کو لے کر چلی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے آپ کو وہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بییواں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو یہ اس کے لئے آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔
1983
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (3143)، صحيح البخاري رقم (5536) ،كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ ... .

Related Chapters

286
1
Chapter: What Has Been Related About Gifts And Equality Between Children
باب: عطیہ دینے اور اولاد کے درمیان برابری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
3
بیویوں کے درمیان تقسیم اور کنواری اور بیوہ بیوی کے پاس خاوند کے قیام کی مدت کا بیان
Musnad Ahmad
4
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
Musnad Ahmad
5
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
6
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
Musnad Ahmad
7
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
Sahih Muslim
8
Chapter: The First Group To Enter Paradise Will Look Like The Moon When It Is Full; Their Attributes And Their Spouses
پہلے زمرے میں جنت میں داخل ہونے والے چودھویں کی رات کے چاند جیسے ہوں گے،ان کے احوال اور ان کی بیویوں کابیان
Sahih Muslim
9
Chapter: A man being given a kunyah before he has a child
اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
(106)Chapter: What Has Been Related About A Man Going To All Of His Women With One Ghusl
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Forming Rows Between Columns
باب: ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Squat Between The Two Prostrations
باب: سجدوں کے درمیان اقعاء کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Is Said Between The Two Prostrations
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About 'What Is Between The East And The West Is A Qiblah'
باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Sitting Between Two Khutbah
باب: دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کے بیٹھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Curtailing The Khutbah
باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Sa'i between As-Safa and Al-Marwah
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Dividing Time For The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور غیر کنواری بیوی کے درمیان باری تقسیم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Equality Between Co-Wives
باب: سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Separate Brothers, And A Mother And Her Child In Sales
باب: غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About A Slave Owned By Two Men And One Of Them Frees His Portion Of Him
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
26
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
27
Chapter: About It Being Disliked To Separate (Related) Captives
باب: قیدیوں کے درمیان تفریق کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Live Among The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے درمیان رہنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Parent's Rights
باب: اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Love Of A Parent For His Child
باب: اولاد کی محبت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: مسلمان اور کافر کے درمیان وراثت باطل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
36
باب: جنت اور جہنم کے درمیان مناظرے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
Mishkat
38
قبیلۂ قیس سے سیدنا ابن منتفقؓ کی آمد کابیان
Musnad Ahmad
39
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
41
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
42
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
Musnad Ahmad
44
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
45
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
46
فرض نماز اور اس کی سنتوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
Musnad Ahmad
49
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
Musnad Ahmad
50
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Sahih Muslim
6693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
A'isha, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: A woman came to me along with her two daughters. She asked me for (charity) but she found nothing with me except one date, so I gave her that. She accepted it and then divided it between her two daughters and herself ate nothing out of that. She then got up and went out, and so did her two daughters. (In the meanwhile) Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited me and I narrated to him her story. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who is involved (in the responsibility) of (bringing up) daughters, and he accords benevolent treatment towards them, there would be protection for him against Hell-Fire.
معمر اور شعیب نے ابن شہاب زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے حدیث بیان کی ، انہیں عروہ بن زبیر نے بتایا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے ( کھانا ) مانگا تو اسے میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہ ملا ۔ میں نے وہی اس کو دے دی ، اس نے وہ کھجور لے کر اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دی اور خود اس میں سے کچھ نہ کھانا ، پھر وہ کھڑی ہوئی ، اور وہ اس کی دونوں بیٹیاں چلی گئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے ( بچانے والا ) پردہ ہوں گی ۔ "
Jam e Tirmazi
1915
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah said: A woman came to me with two daughters. She was asking (for food) but I did not have anything with me except a date. So I gave it to her and she divided it between her two daughters without eating any of it herself. Then she got up to leave, and the Prophet entered, and I informed him about her. So the Prophet said: Whoever is tested something from these daughters (and he/she passes the test), they will be a screen for them from the Fire.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے ( کھانے کے لیے ) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چنانچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ ( واقعہ ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
4949
وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ. فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے سوال کیا ، میرے پاس صرف ایک کھجور ہی تھی ، میں نے وہی اسے دے دی ، اس نے اسے اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دیا ، اور خود نہ کھائی ، پھر وہ کھڑی ہوئی اور چلی گئی ۔ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی ان بیٹیوں سے کسی طرح آزمائش کی گئی اور اس نے ان سے حسن سلوک کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
1418
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُ ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ .
Narrated Aisha: A lady along with her two daughters came to me asking (for some alms), but she found nothing with me except one date which I gave to her and she divided it between her two daughters, and did not eat anything herself, and then she got up and went away. Then the Prophet came in and I informed him about this story. He said, Whoever is put to trial by these daughters and he treats them generously (with benevolence) then these daughters will act as a shield for him from Hell-Fire. (See Hadith No. 24, Vol. 8).
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔
Sahih Bukhari
5995
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) A lady along with her two daughters came to me asking me (for some alms), but she found nothing with me except one date which I gave to her and she divided it between her two daughters, and then she got up and went away. Then the Prophet came in and I informed him about this story. He said, Whoever is in charge of (put to test by) these daughters and treats them generously, then they will act as a shield for him from the (Hell) Fire.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک عورت ( اور ) اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کر دی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
Sahih Bukhari
2272
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، حَتَّى أَوَوْا الْمَبِيتَ إِلَى غَارٍ فَدَخَلُوهُ ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ ، فَقَالُوا : إِنَّهُ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا ، فَنَأَى بِي فِي طَلَبِ شَيْءٍ يَوْمًا ، فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا ، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ مَالًا ، فَلَبِثْتُ وَالْقَدَحُ عَلَى يَدَيَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّى بَرَقَ الْفَجْرُ ، فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ ، فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا ، فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ ، عَلَى أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا ، فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : لَا أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ ، فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الْوُقُوعِ عَلَيْهَا فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ ، فَجَاءَنِي بَعْدَ حِينٍ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَدِّ إِلَيَّ أَجْرِي ، فَقُلْتُ لَهُ : كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْبَقَرِ ، وَالْغَنَمِ ، وَالرَّقِيقِ ، فَقَالَ : يَاعَبْدَ اللَّهِ ، لَا تَسْتَهْزِئُ بِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَأَخَذَهُ كُلَّهُ ، فَاسْتَاقَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ ، فَخَرَجُوا يَمْشُونَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: I heard Allah's Apostle saying, Three men from among those who were before you, set out together till they reached a cave at night and entered it. A big rock rolled down the mountain and closed the mouth of the cave. They said (to each other), Nothing could save you Tom this rock but to invoke Allah by giving referenda to the righteous deed which you have done (for Allah's sake only).' So, one of them said, 'O Allah! I had old parents and I never provided my family (wife, children etc.) with milk before them. One day, by chance I was delayed, and I came late (at night) while they had slept. I milked the sheep for them and took the milk to them, but I found them sleeping. I disliked to provide my family with the milk before them. I waited for them and the bowl of milk was in my hand and I kept on waiting for them to get up till the day dawned. Then they got up and drank the milk. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from our critical situation caused by this rock.' So, the rock shifted a little but they could not get out. The Prophet added, The second man said, 'O Allah! I had a cousin who was the dearest of all people to me and I wanted to have sexual relations with her but she refused. Later she had a hard time in a famine year and she came to me and I gave her one-hundred-and-twenty Dinars on the condition that she would not resist my desire, and she agreed. When I was about to fulfill my desire, she said: It is illegal for you to outrage my chastity except by legitimate marriage. So, I thought it a sin to have sexual intercourse with her and left her though she was the dearest of all the people to me, and also I left the gold I had given her. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from the present calamity.' So, the rock shifted a little more but still they could not get out from there. The Prophet added, Then the third man said, 'O Allah! I employed few laborers and I paid them their wages with the exception of one man who did not take his wages and went away. I invested his wages and I got much property thereby. (Then after some time) he came and said to me: O Allah's slave! Pay me my wages. I said to him: All the camels, cows, sheep and slaves you see, are yours. He said: O Allah's slave! Don't mock at me. I said: I am not mocking at you. So, he took all the herd and drove them away and left nothing. O Allah! If I did that for Your Sake only, please relieve us from the present suffering.' So, that rock shifted completely and they got out walking.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی امت کے تین آدمی کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی، اور اس میں اندر داخل ہو گئے۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں، سوا اس کے کہ تم سب، اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی دعا شروع کی کہ اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا، نہ اپنے بال بچوں کو، اور نہ اپنے غلام وغیرہ کو۔ ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہو گئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ ( میرے ماں باپ ) سو چکے تھے۔ پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا۔ جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے۔ مجھے یہ بات ہرگز اچھی معلوم نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا، اے اللہ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے۔ اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا۔ مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی، اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا، لیکن اس نے نہ مانا۔ اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا۔ تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے۔ چنانچہ وہ راضی ہو گئی۔ اب میں اس پر قابو پا چکا تھا۔ لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو۔ یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا۔ حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تیسرے شخص نے دعا کی۔ اے اللہ! میں نے چند مزدور کئے تھے۔ پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہو گیا پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھے میری مزدوری دیدے، میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے۔ اونٹ، گائے، بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے۔ وہ کہنے لگا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی۔ تو اے اللہ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے۔
Sahih Muslim
6951
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - قَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا - أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ» وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: «اللهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا» وَقَالَ: «فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ» وَقَالَ: «فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ، فَارْتَعَجَتْ» وَقَالَ: «فَخَرَجُوا مِنَ الْغَارِ يَمْشُونَ»
Abdullah b 'Umar reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Three persons belonging to the earlier Ummahs set out on a journey until they had to spend a night in a cave. The rest of the hadith is the same and the additional words are: A person amongst them said: O Allah, I had my aged parents and I served them milk before I (served that) to my wife, children and my servants. And in case of the second one, the words are: She avoided me until she was hard pressed because of famine and she came to me and I gave her one hundred and twenty dinars. And in case of the third one (the words are): I invested his wages, and it brought profit and, as a result thereof, the merchandise increased and there was an abundance of goods. And he (the narrator said) that they got out of the cave and began to walk.
سالم بن عبداللہ ( بن عمر ) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص ( کسی غرض سے ) روانہ ہوئے ، حتی کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی " پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا : " اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے ، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا ، نہ مال کو ( اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں ) دودھ پلاتا تھا ۔ " اور ( یہ بھی ) کہا : " ( میری عم زاد ) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی ، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے ( سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے ) ایک سو بیس دینار دیے ۔ " اور ( تیسرے شخص کے واقعے میں ) اس نے کہا : " میں نے اس کی اجرت کو ( کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے ) خوب بار آور بنایا ، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے ۔ " اور آخر میں کہا : " تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے ۔ "