TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2003 - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 124 of 143 in this chapter
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَلِي بن أَبِي طَالِب: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ أَنْ تَكَلَّم النَّسَاء (يعني في بيوتهن) إِلَّا بِإِذْن أَزْوَاجِهِنَّ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے (ان کے گھروں میں)ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر بات کرنے سے منع فرمایا
2003
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (381) ، صحيح مسلم كِتَاب النِّكَاحِ بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ ...رقم (2509)

Related Chapters

286
1
Chapter: What Has Been Related About Gifts And Equality Between Children
باب: عطیہ دینے اور اولاد کے درمیان برابری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
3
بیویوں کے درمیان تقسیم اور کنواری اور بیوہ بیوی کے پاس خاوند کے قیام کی مدت کا بیان
Musnad Ahmad
4
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
Musnad Ahmad
5
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
6
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
Musnad Ahmad
7
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
Sahih Muslim
8
Chapter: The First Group To Enter Paradise Will Look Like The Moon When It Is Full; Their Attributes And Their Spouses
پہلے زمرے میں جنت میں داخل ہونے والے چودھویں کی رات کے چاند جیسے ہوں گے،ان کے احوال اور ان کی بیویوں کابیان
Sahih Muslim
9
Chapter: A man being given a kunyah before he has a child
اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
(106)Chapter: What Has Been Related About A Man Going To All Of His Women With One Ghusl
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Forming Rows Between Columns
باب: ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Squat Between The Two Prostrations
باب: سجدوں کے درمیان اقعاء کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Is Said Between The Two Prostrations
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About 'What Is Between The East And The West Is A Qiblah'
باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Sitting Between Two Khutbah
باب: دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کے بیٹھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Curtailing The Khutbah
باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Sa'i between As-Safa and Al-Marwah
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Dividing Time For The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور غیر کنواری بیوی کے درمیان باری تقسیم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Equality Between Co-Wives
باب: سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Separate Brothers, And A Mother And Her Child In Sales
باب: غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About A Slave Owned By Two Men And One Of Them Frees His Portion Of Him
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
26
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
27
Chapter: About It Being Disliked To Separate (Related) Captives
باب: قیدیوں کے درمیان تفریق کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Live Among The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے درمیان رہنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Parent's Rights
باب: اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Love Of A Parent For His Child
باب: اولاد کی محبت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: مسلمان اور کافر کے درمیان وراثت باطل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
36
باب: جنت اور جہنم کے درمیان مناظرے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
Mishkat
38
قبیلۂ قیس سے سیدنا ابن منتفقؓ کی آمد کابیان
Musnad Ahmad
39
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
41
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
42
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
Musnad Ahmad
44
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
45
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
46
فرض نماز اور اس کی سنتوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
Musnad Ahmad
49
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
Musnad Ahmad
50
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

217
Silsila Sahih
506
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ وَأَمِنُوا فَ (والذي نفسي بيده) مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا (ويجاهدون معنا) فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ منهم فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَّمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ النساء قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَّمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللهِ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے) تم میں سے كوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كرتا جتنا شدید جھگڑا مومنین اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كے بارے میں كریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ كہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے، روزہ ركھا كرتے تھے، حج كیا كرتے تھے( اور ہمارے ساتھ جہاد كیا كرتے تھے) پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، ان میں سے جن كو پہچانتے ہو آگ سے نكال لو۔ جنتی ان كے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كے چہروں كو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تك جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تك جلائے گی( جنتی) ان میں سے (بے شمار) لوگوں كو نكال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے انہیں نكال لیا۔ پھر( وہ دوبارہ آئیں گے، اور بات چیت كریں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ایک دینار جنان بھی ایمان ہے اسے آگ سے نكال لو۔ (جنتی بے شمار لوگوں كو نكالیں گے) ۔پھر(وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان میں سے آگ میں ایك بھی نہیں چھوڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لوٹ جاؤ)جس شخص كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر ایمان ہو( اسے بھی آگ سے نكال لو، جنتی اس میں سے بے شمار لوگوں كو نكالیں گے، جنتی كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ایك بھی نہیں چھوڑا ۔) حتیٰ كہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نكال لو(جنتی بے شمار لوگوں كو نكال لیں گے۔) ابو سعید نے كہا: جو شخص اس حدیث كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿النساء:۴۰﴾ ترجمہ: یقینا اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں كرتا ، اور اگر نیكی ہو تو اسے کئی گناہ بڑھا دے گا، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت كرتا ہے ۔ جنتی لوگ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان سب كو نكال لیا، اب آگ میں كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كی، انبیاءنے سفارش كی، مومنین نے سفارش كی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا۔ اللہ آگ میں سے ایك مٹھی، یا دو مٹھی ایسے لوگوں كی بھر كر نكالے گا، جنہوں نے كبھی كوئی نیكی نہیں كی ہوگی، جو جل كر كوئلہ ہو چكے ہونگے۔ انہیں اس پانی تك لایا جائے گا جسے( آب حیات) كہا جاتا ہے۔ ان پر پانی ڈالا جائے گا وہ اس طرح اُگ آئیں گے جس طرح دانہ سیلاب كے كچرے میں پھوٹ آتا ہے۔(جسےا تم نے چٹان كے اطراف میں دیكھا ہوگا، اور درختوں كے اطراف میں، ان میں سے جو سورج كی طرف ہوتا ہے، وہ سر سبز ہوجاتا ہے، اور جو سائے كی طرف ہوتاہے وہ سفید رہ جاتاہے)۔ ان كے جسم موتی كی طرح ہوجائیں گے ، اور ان كی گردنوں پر مہر لگی ہوگی( اور ایك روایت میں ہے، مہریں لگی ہونگی) یہ اللہ كے آزاد كردہ ہیں۔ ان سے كہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جس چیز كی تمنا كرو گے ، اور جو چیز دیكھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ (اہل جنت كہیں گے: یہ رحمن كے آزاد كردہ ہیں، اس نے کسی عمل اور نیکی کے بغیر انہیں جنت میں داخل كیا ہے)، وہ كہیں گے: اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ دے دیا جو دنیا والوں میں سے كسی كو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی عمدہ چیز ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب اس سے عمدہ كیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا، اب میں كبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہونگا۔
Silsila Sahih
1435
عَنْ أَبِي سَعِيدِالْخُذْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَّصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ. قَالَ: يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ؟ قَالَ فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ. فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِّنَ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا (۴۰) (النساء) قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ: فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ: عُتَقَاءُ الله. قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا. قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا! وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن جب مومن لوگ آگ سے آزادی پائیں گے اور امن میں آجائیں گے تو دنیا میں جو جھگڑا حق کے بارے میں کرتے تھے اس سے زیادہ سخت جھگڑا وہ اپنے رب سے مومنوں میں سے ان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو جہنم میں داخل کردیے گئے ہوں گے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے،ہمارے ساتھ روزہ ركھتے اور ہمارے ساتھ حج كرتے تھے، پھر بھی تو نے انہیں آگ میں داخل كر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جاؤ جنہیں پہچانتے ہو انہیں آگ سے نكال لو۔ وہ ان كے پاس آئیں گے اور ان كے چہروں سے انہیں پہچانیں گے جنہیں آگ نے نہیں جلایا ہوگا۔ ان میں سے كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ نے نصف پنڈلیوں تك كھایا ہوگا، كسی كو ٹخنوں تك جلایا ہوگا، وہ انہیں نكال لیں گے ،پھر كہیں گے: اے ہمارے رب جن کے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا وہ ہم نے نكال لئے۔ اللہ فرمائے گا: جس كے دل میں ایك دینار وزن كے برابر بھی ایمان ہے اسے نكال لو، پھر جس كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر بھی ایمان ہے اسے نكال لو، حتی كہ جس كے دل میں ایك ذرے كے برابر بھی ایمان ہو گا اس كے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ حكم دے دے گا۔ ابو سعید‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جو شخص اس بات كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھے: (النساء:۴۰) یقینا اللہ تعالیٰ ایك ذرے كے وزن كے برابر بھی ظلم نہیں كرتا اور اگر(اتنے وزن كی) نیكی ہو تو اسے دوگنا كر دیتا ہے، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كا تونے ہمیں حكم دیا وہ ہم نے نكال لئے، اب آگ میں كوئی بھی ایسا نہیں بچا جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كر دی، انبیاء نے سفارش كر دی، مومنین نے سفارش كر دی اب ارحم الراحمین بچا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ آگ سے ایسے لوگوں کی ایک یا دو مٹھیاں بھر دیں گے جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہوگا۔ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ ان کو ‘‘آب حیات’’ نامی پانی کے پاس لایا جائے گا اور یہ پانی ان پر الا جائے تو وہ اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے پانی کے بہاؤ میں کوئی دانا اگتا ہے۔ ان کے جسم موتی کی طرح چمکیں گے۔ ان کی گردنوں میں ‘‘عتقاء اللہ’’یعنی اللہ کے آزاد کردہ کی مہر ہوگی۔ فرمایا: ان سے کہا جائے گا کہ: جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جس چیز کی تم تمنا کرو گے یا جو چیز تم دیکھو گے وہ تمہیں دے دی جائے گی۔ اور تمہارے لئے میرے پاس اس سے بھی بڑھ کر ایک اور چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے پروردگار اس سے افضل اور بہتر اور کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ: میری رضا مندی، اب میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔
Silsila Sahih
1788
عَنْ عَائَشَة، قَالَتْ: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: يَا رَسُوْلَ الله، إِنَّك لَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ نَّفْسِي، وَإِنَّك لَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ أَهِلِي، وَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ وَّلَدِي، وَإِنِّي لَأَكُون في الْبَيْت، فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيْكَ، فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ، وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ عَرَفْتُ أَنَّك إِذَا دَخَلَتَ الْجَنَّة رَفَعْتَ مَعَ النَّبِيِّين ، وَإِنِّي إِذَا دَخَلَتُ الْجَنَّة خَشِيْتُ أَنْ لَا أَرَاك. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيْل بِهَذِهِ الْآيَة: وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا (ؕ۶۹) (النساء)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں، میرے گھر والوں سے زیادہ عزیزہیں، میری اولاد سے زیادہ عزیز ہیں، میں گھر میں ہوتا ہوں اورآپ كو یاد كرتا ہوں تو مجھے صبر نہیں آتا جب تك آپ كو آكر دیكھ نہ لوں ۔ جب مجھے اپنی موت اور آپ كی موت یاد آتی ہے تو مجھے معلوم ہے كہ آپ كو انبیاء كے ساتھ بلند مقام دے دیا جائے گا اور جب میں جنت میں جاؤں گا تو مجھے ڈر ہے كہ آپ كو نہیں دیكھ سكوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے كوئی جواب نہیں دیا حتی كہ جبریل علیہ السلام یہ آیت لے كر نازل ہوئے:(النساء:۶۹) اور جس شخص نے اللہ اور اس كے رسول كی اطاعت كی تو یہ ان لوگوں كے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام كیا، انبیاء میں سے، صدیقین میں سے، شہداء اور صالحین میں سے، اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں
Silsila Sahih
2453
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ :هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. وَزَادَفِی آخِرِہ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا (۲۹) (النساء) قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا، کیا دیکھتا ہوں کہ عبداللہ بن عمر و بن عاص کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور لوگ آپ کے گرد جمع ہیں۔ میں ان کے پاس آیا اور عبداللہ بن عمرو کے قریب بیٹھ گیا انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نےایک جگہ پڑاؤ ڈالاتو کوئی اپنا خیمہ درست کرنے لگا کوئی تیر اندازی کرنے لگااور کوئی جانوروں میں مشغول ہوگیا اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: الصلاۃ جامعۃ(نماز کے لئے جمع ہو جاؤ)ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے جو نبی بھی گذرا اس کی ذمہ داری تھی کہ اپنی امت کے لئے جو بات بہتر ہوتی اس کی طرف راہنمائی کرے اور جو ان کے لئے نقصان دہ شر ہوتا اس سے ان کو ڈرائے، تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی لوگوں میں ہے۔ اور بعد میں آنے والے آزمائش اور ایسے معاملات میں پھنس جائیں گے جنہیں تم عجیب سمجھو گے ایک فتنہ آئے گا اس کے مراحل ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں گے پھر ایک اور فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا: یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے۔پھر وہ ختم ہو جائے گا اس کے بعد ایک اور فتنہ آئے گا،مومن کہے گا: یہی ہے یہی ہے۔ جو شخص پسند کرتا ہو کہ آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے تو اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھنے والا ہواور لوگوں سے وہی طرز عمل اپنائے جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے، اور جس شخص نے کسی امیر کی بیعت کی اسے اپنا ہاتھ اور دل کی فرمانبرداری دے دی تو جتنی اس میں استطاعت ہو اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا امیر آکر اس سے امارت چھیننے کی کوشش کرے تو دوسرے کی گردن اڑادو۔ اور اس حدیث کے آخر میں ابن عبدرب الکعبہ نے اضافہ کیا: کہ میں ان کے قریب ہوا اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور اپنےدل پر دونوں ہاتھ رکھے اور کہنے لگے: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا، میں نے ان سے کہا: یہ آپ کے چچا کا بیٹا معاویہ‌رضی اللہ عنہ ہے ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے کھائیں، اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(النساء:۲۹) ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ، سوائے آپس میں رضامندی سے تجارت کے ذریعے اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرنے والا ہے۔وہ ایک لمحہ خاموش رہے، پھر کہنے لگے: اللہ کی فرمانبرداری والے کام میں اس کی(یعنی معاویہ‌رضی اللہ عنہ کی )اطاعت کرو اور اللہ کے نافرمانی والے کام میں اس کی(یعنی معاویہ‌رضی اللہ عنہ کی )نافرمانی کرو ۔
Silsila Sahih
2553
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ :هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. وَزَادَفِی آخِرِہ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: ﮋ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷﭸ ﭹ ﭺ ﭻﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮊ (النساء) قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ. ( )
کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سےسنا فرما رہے تھے:یقیناً ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے
Silsila Sahih
2680
عن جابر بن عبداﷲ رضي اﷲ تعالٰی عنھما قال: أشرف رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌علی فلق من أفلاق الحرۃ ونحن معہ فقال: نعمت الأرض المدینۃ إذا خرج الدجال علی کل نقب من أنقابھا ملک لا یدخلھا فإذا کان کذلک رجفت المدینۃ بأھلھا ثلاث رجفات لا یبقی منافق ولا منافقۃ إلا خرج إلیہ وأکثر یعني من یخرج إلیہ النساء وذلک یوم التخلیص وذلک یوم تنفي المدینۃ الخبث کما ینفي الکیر خبث الحدید یکون معہ سبعون ألفا من الیھود علی کل رجل منھم ساج وسیف محلی فتضرب رقبتہ بھذا الضرب الذي عند مجتمع السیول۔ ثم قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ما کانت فتنۃ وتکون حتی تقوم الساعۃ أکبر من فتنۃ الدجال ولا من نبيّ إلی حذر امتہ ولأخیرنکم بشيء ما أخبرہ نبي قبلي۔ ثم وضع یدہ علی عینہ ثم قال: أشھد أن اﷲ عزوجل لیس بأعور۔
جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حرہ (آتش فشانی سنگریزے) کی کسی اونچی جگہ پر چڑھے ہم بھی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بہترین زمین (علاقہ) مدینے کی ہے، جب دجال نکلے گا تو اس کے ہر راستے پر فرشتہ بیٹھا ہوگا اور دجال اس میں داخل نہیں ہوسکے گا، جب صورت حال اس طرح ہوگی تو مدینہ تین مرتبہ اپنے رہنے والوں کو ہلائے گا، کوئی منافق اور منافقہ اس میں باقی نہیں رہے گا، وہ مدینے سے باہر نکل جائیں گے، اکثر نکلنے والی عورتیں ہوں گی، یہ خلاصی کا دن ہوگا، اور ایسا دن ہوگا کہ مدینہ اپنا میل کچیل اس طرح نکال دے گا، جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ ختم کردیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ان میں سے ہر شخص پر چمکتی ہوئی تلوار ہوگی، اس کی گردن پر ایسی ضرب لگائی جائے گی جیسے سیلابی پانی پر لگائی جاتی ہے۔ پھر رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کوئی فتنہ قیامت تک دجال کے فتنے سے بڑا نہیں ہوا نہ ہوگا۔ او رکوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نہ ہو، میں تمہیں ایسی نشانی بتا رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی۔ پھر اپنا ہاتھ اپنی آنکھ پر رکھا پھر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کا نام نہیں۔
Silsila Sahih
3168
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُّكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِّنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُّفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ! يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْهَا ، وَفِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ قَالَ: وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا النساء: ١٢٨.
عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہم میں سے کسی بیوی کو دوسری بیوی پر ہمارے پاس ٹھہرنے میں فضیلت (ترجیح) نہیں دیتے تھے۔ کم ہی کوئی دن ہوتا کہ وہ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں۔ وہ ہر بیوی کے قریب ہوتے حتی کہ اس تک پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہوگئیں اور اس بات سے ڈرنے لگیں کہ کہیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌انہیں چھوڑ نہ دیں تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا دن عائشہ کے لئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان کی یہ بات قبول کر لی، اسی بارے میں اور ان جیسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ،میرے خیال میں فرمایا: (النساء:۱۲۸) ترجمہ:اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بے پرواہی یا بے رغبتی کا خوف ہو۔
Jam e Tirmazi
3026
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الْخَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَتِ الْخَمْرُ مِنَّا، ‏‏‏‏‏‏وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَدَّمُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأْتُ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami: that 'Ali bin Abi Talib said: 'Abdur-Rahman bin 'Awf prepared some food for which he invited us, and he gave us some wine to drink. The wine began to affect us when it was time for Salat. So they encouraged me (to lead) and I recited: 'Say: O you disbelievers! I do not worship what you worship, and we worship what you worship' - so Allah, Most High, revealed: O you who believe! Do not approach Salat when you are in a drunken state until you know what you are saying (4:43).
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ”اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو“، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو“ ( النساء: ۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3037
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا.
Narrated Thuwair - Ibn Abi Fakhitah: from his father that 'Ali bin Abi Talib said: There is no Ayah in the Qur'an more beloved to me than this Ayah: Verily Allah forgives not associating others with Him, but He forgives what is less than that for whomever He wills (4:116).
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ”اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا“ ( النساء: ۱۱۶ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے، ۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے۔