عبداللہ بن جعفر طیاررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تو الْحَمْدُلِلهِ کہتے ،آپ کو يَرْحَمُـكَ اللهُ کہا جاتا تو آپ کہتے يَهْدِيـكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ، اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے
ابو مدینہ دارمی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ جب ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک یہ آیت نہ پڑھ لیتے العصر﴿۱﴾ ﴿۲﴾ زمانے کی قسم یقینا انسان خسارے میں ہے۔ پھر ان میں سے کوئی دوسرے سے سلام کہتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2648) المعجم الكبير للطبراني رقم (1366)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور آپ کے گھر میں جھانکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر لیا اور اس کی آنکھ کی طرف سیدھا کر دیا حتی کہ وہ واپس پلٹ گیا ۔
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اہل جاہلیت کے لئے ہر سال میں دو دن تھے جس میں وہ کھیلا کرتے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو فرمایا: تمہارے لئے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے بہتر دنوں سے بدل دیا ہے، وہ دن عیدا لفطر اور عید الاضحٰی کے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2021) سنن النسائي كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب منه رقم (1538)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے اور کہتے : السام علیک(آپ پر ہلاکت ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وعلیکم( اور تم پر بھی)، عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا(اور ایک روایت میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رک جاؤ، (بد زبان مت بنو) کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اس طرح کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے انہیں جواب نہیں دیا؟ تب اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل کی وَ اِذَا جَآئُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اﷲُ۔ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسا سلام کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہیں کہا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2721) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب النَّهْيِ عَنْ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ رقم (4028)
عن عبد الله بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہ قال: كَان رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَكْرَه أَنْ يَّطَأ أَحدٌ عَقِبَه وَلَكِنْ يَّمِيْنٌ وَّشِمَالٌ.
عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے لیکن دائیں بائیں چلنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے
) عن أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُ نَفَسٍ مِّنْ بَنِي آدَم سَيِّدٌ فَالرَّجُل سَيِّدُ أَهِلِـهِ وَالْمَرْأَةُ سَيِّدَةُ
بَيْتِهَا.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کا ہر شخص سردار ہے آدمی اپنے گھر والوں کا سردار ہے اور عورت اپنے گھر کی سردار ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2041) عمل اليوم والليلة لأبن السني رقم (387)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُوا جَمِيعًا وَّلا تَفَرَّقُوا ، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاثْنَيْنِ ، وَطَعَامَ الاثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکھٹے کھاؤ الگ الگ نہ ہو جاؤ کیونکہ ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے، اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کافی ہو جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2691) المعجم الكبير للطبراني رقم (582)
عَن زَيْد بن أَرقَم قَالَ: كُنَّا إِذَا سَلَّم النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْنَا، قُلْنَا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُه.
زید بن ارقمرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کہتے تو ہم کہتے علیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ (آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت، اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت ہو)
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ يَّمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَّمْتَلِئَ شِعْرًا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا پیٹ بدبو دار پیپ سے بھر جائے حتی کہ وہ اسے دیکھ لے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (336) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبَ...رقم (5688) صحيح مسلم رقم (4191)
ابو مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے دوسرےمسلمان پر چار حقوق ہیں جب وہ چھینکے تو اسے جواب دے جب اسے دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2154) سنن ابن ماجةكِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ رقم (1424)
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میرے ر ب نے مجھے معراج کروائی تو میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(یعنی غیبت کرتے تھے) اور ان کی عزتیں خراب کرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2691) المعجم الكبير للطبراني رقم (582)