TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللهَ فَيُقَالُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَيَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
عبداللہ بن جعفر طیار‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تو الْحَمْدُلِلهِ کہتے ،آپ کو يَرْحَمُـكَ اللهُ کہا جاتا تو آپ کہتے يَهْدِيـكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ، اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (2387) مسند أحمد رقم (1657)
365
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَن أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا تَلَاقَوْا تَصَافَحُوا ، وَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَر تَعَانَقُوْا ».
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ملتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2647) المعجم الأوسط للكبير للطبراني رقم (97)
366
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُه يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے تو آپ کے صحابہ آپ کے آگے چلتے اور آپ کی پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (436) مسند أحمد رقم (13719)
367
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مَدِينَةَ الدَّارِمِيِّ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ: وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ .
ابو مدینہ دارمی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ جب ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک یہ آیت نہ پڑھ لیتے العصر﴿۱﴾ ﴿۲﴾ زمانے کی قسم یقینا انسان خسارے میں ہے۔ پھر ان میں سے کوئی دوسرے سے سلام کہتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2648) المعجم الكبير للطبراني رقم (1366)
368
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور آپ کے گھر میں جھانکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر لیا اور اس کی آنکھ کی طرف سیدھا کر دیا حتی کہ وہ واپس پلٹ گیا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (612) مسند أحمد رقم (12516)
369
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَّلْعَبُوْنَ فِيْهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِيْنَةَ قَالَ: كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِّنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اہل جاہلیت کے لئے ہر سال میں دو دن تھے جس میں وہ کھیلا کرتے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو فرمایا: تمہارے لئے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے بہتر دنوں سے بدل دیا ہے، وہ دن عیدا لفطر اور عید الاضحٰی کے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2021) سنن النسائي كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب منه رقم (1538)
370
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كاَنَ نَاسٌ يَّأتُونَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ اليَهُودِ فَيَقُولُونَ : السَّامُ عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: وَعَلَيْكُم فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ (وفي رواية: قَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَهْ يَا عَائِشَةُ (لَا تَكُونِي فَاحِشَةً)فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ! إِنَّهُم يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُّ عَلَيْهِمْ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَ اِذَا جَآئُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اﷲُ۔.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے اور کہتے : السام علیک(آپ پر ہلاکت ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے: وعلیکم( اور تم پر بھی)، عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا(اور ایک روایت میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رک جاؤ، (بد زبان مت بنو) کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اس طرح کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں نے انہیں جواب نہیں دیا؟ تب اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل کی وَ اِذَا جَآئُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اﷲُ۔ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسا سلام کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہیں کہا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2721) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب النَّهْيِ عَنْ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ رقم (4028)
371
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يُسَمِّي الْأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ فَرَسًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑی کا نام فرس رکھا کرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2131) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجِهَادِ بَاب هَلْ تُسَمَّى الْأُنْثَى مِنْ الْخَيْلِ فَرَسًا رقم (2183)
372
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بن عَلِيِّ بنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى قَالَتْ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم يَكْرَهُ أَنْ يُّؤْخَذَ مِنْ رَأْسِ الطَّعَامِ.
عبیداللہ بن علی بن ابی رافع اپنی دادی سلمی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ کھانے کے درمیان سے لیا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3125) المعجم الكبير للطبراني رقم (20211)
373
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن عبد الله بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہ قال: كَان رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَكْرَه أَنْ يَّطَأ أَحدٌ عَقِبَه وَلَكِنْ يَّمِيْنٌ وَّشِمَالٌ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے لیکن دائیں بائیں چلنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (1239) مستدرك الحاكم رقم (7853)
374
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: كُلُّ خُطْبَةٍ لَّيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کہتے اور ان کے لئے برکت کی دعا کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1278) المعجم الأوسط للطبراني رقم (5321)
375
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: كُلُّ خُطْبَةٍ لَّيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ہر خطبہ جس میں(توحیدورسالت کی) شہادت نہ ہو کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (169) أبو داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي الْخُطْبَةِ (4201)الترمذي كِتَاب النِّكَاحِ مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ (1024)
376
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عن أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُ نَفَسٍ مِّنْ بَنِي آدَم سَيِّدٌ فَالرَّجُل سَيِّدُ أَهِلِـهِ وَالْمَرْأَةُ سَيِّدَةُ بَيْتِهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کا ہر شخص سردار ہے آدمی اپنے گھر والوں کا سردار ہے اور عورت اپنے گھر کی سردار ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2041) عمل اليوم والليلة لأبن السني رقم (387)
377
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُوا جَمِيعًا وَّلا تَفَرَّقُوا ، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاثْنَيْنِ ، وَطَعَامَ الاثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکھٹے کھاؤ الگ الگ نہ ہو جاؤ کیونکہ ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے، اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کافی ہو جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2691) المعجم الكبير للطبراني رقم (582)
378
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے تو ہم میں سے ہر شخص وہاں بیٹھتا جہاں اسے جگہ ملتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (330) أبو داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي التَّحَلُّقِ (4187)الترمذي كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب اجْلِسْ حَيْثُ... (2649)
379
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَن زَيْد بن أَرقَم قَالَ: كُنَّا إِذَا سَلَّم النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْنَا، قُلْنَا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُه.
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کہتے تو ہم کہتے علیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ (آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت، اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت ہو)
Takhreej
الصحيحة رقم (1449) شعب الايمان للبيهقي رقم (8603)
380
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ وَّنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھڑے ہو کر پانی پیتےاور چلتے پھرتے کھانا کھالیتے تھے۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3178) سنن الترمذي كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ...رقم (1802)
381
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ يَّمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَّمْتَلِئَ شِعْرًا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا پیٹ بدبو دار پیپ سے بھر جائے حتی کہ وہ اسے دیکھ لے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (336) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبَ...رقم (5688) صحيح مسلم رقم (4191)
382
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ
ابو مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے دوسرےمسلمان پر چار حقوق ہیں جب وہ چھینکے تو اسے جواب دے جب اسے دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2154) سنن ابن ماجةكِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ رقم (1424)
383
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا عَرَجَ بِي ربي عزوجل مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَّهُمْ أَظْفَارٌ مِّنْ نُّحَاسٍ يَّخْمُشُونَ وُجُوْهَهُمْ وَصُدُوْرَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میرے ر ب نے مجھے معراج کروائی تو میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(یعنی غیبت کرتے تھے) اور ان کی عزتیں خراب کرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2691) المعجم الكبير للطبراني رقم (582)
384
Sahih