قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى. ورد من حدیث ابن عمر و عائشہ رضی اللہ عنھم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں اور کتوں کو قتل کرو اور ذَا الطُّفْيَتَيْنِ (دو دھاری سانپ) وَالْأَبْتَرَ (چھوٹا دم کٹا سانپ)کو قتل کرو، کیونکہ یہ نظروں کو اچک لیتے ہیں اور اور حاملہ عورتوں کے حمل گرادیتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3991) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا رقم (4141)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : رات ہونے کے بعد باہر نکلنا کم کر دو کیونکہ اللہ کے کچھ جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اسی گھڑی میں زمین کے اندر پھیلا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1518) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ رقم (4440)
عَنْ هِشَامِ بن عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يا رَسول الله! كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، فَقَالَ لَهَا رَسُول صلی اللہ علیہ وسلم :اكْتَنِي (بِابْنِكِ عَبْدِ اللهِ يعني: ابْنَ الزُّبَيْرِ) أَنتِ أُمُّ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَبْدِ اللهِ، حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:(اپنے بیٹے عبداللہ، یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما)کے نام پر کنیت رکھ لو، تم ام عبداللہ ہو، انہیں ام عبداللہ کہا جاتا رہا حتی کہ فوت ہو گئیں ۔لیکن ان کی کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (132) مسند أحمد رقم (24025) المعجم الكبير للطبراني رقم (18567)
شقیق سے مروی ہے کہ عبداﷲ رضی اللہ عنہ نے صفا پر تلبیہ کہا پھر کہا: اے زبان اچھی بات کہو انعام حاصل کروگی، خاموش رہو شرمندہ ہونے سے سلامت رہوگی۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن یہ بات تم خود کہہ رہے ہو یا تم نے کسی سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے۔ ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان میں پوشیدہ ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (534) المعجم الكبير للطبراني رقم (10294) شعب الايمان للبيهقي رقم (4729)
فضالہ بن عبیدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جس سے لوگوں کے اموال اور جانیں محفوظ رہیں (وہ مؤمن ہے)، اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مجاہدوہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے
Takhreej
الصحيحة رقم (549) سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ رقم (3924) مسند أحمد رقم (22833)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بہترین شخص کے بارےمیں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ وہ آدمی جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کا سر یا گھوڑا تھامے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے قریب ترین ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جو کسی گھاٹی میں تنہا ہے ، نماز قائم کرتا ہے ، زکاۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں سے علیحدہ رہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جاتا ہے لیکن وہ دیتا نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (255) سنن النسائي كِتَاب الزَّكَاةِ باب مَنْ يُسْأَلُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُعْطِي بِهِ رقم (2522)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی جنت میں ہوگا، سچ بولنے والا جنت میں ہوگا، شہید جنت میں ہوگا، بچہ جنت میں ہوگا، وہ شخص جنت میں ہوگا جو شہر کے کسی کونے میں اپنے بھائی سے ملاقات صرف اللہ کے لئے کرتا ہے ۔ تمہاری بیویاں بھی جنت میں ہونگی جو اپنے شوہروں سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ، زیادہ بچے جننے والی اور بار بار شوہر کی طرف آنے والی ہوں گی۔ وہ بیوی جب ان کا شوہر ناراض ہو جائے تو آکر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھےاورکہےجب تک تم راضی نہیں ہوگے میں ایک لقمہ بھی نہیں چکھوں گی۔
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَّكُوْنَ نَاكِحًا أَوْ مَحْرَمٍ.
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کے پاس تنہائی میں رات نہ گزارے ،یا تو وہ خاوند ہو یا پھر اس کا محرم ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (386) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا رقم (4036)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کے خلاف نہ کرنا، کیونکہ میں بشر ہوں، جس مومن کو میں نے تکلیف دی ہو،برا بھلا کہاہو،لعنت کی ہو، یا مارا ہو تو یہ اس کے لئے رحمت پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بناد ے، جس کے ذریعے تو قیامت کے دن اسے قریب کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (3999) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ ﷺأَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا رقم (4707)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے(ہمارے گھر ملاقات کرنے کے لئے آئے) آپ نے ایک پراگندہ حال بکھرے بالوں والا آدمی دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا اسے کوئی ایسی چیز میسر نہیں جو اس کے بالوں کو بٹھادے؟ ایک آدمی کو دیکھا جس نے گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا اسے پانی میسر نہیں جس کے ذریعے یہ اپنے کپڑے دھو سکے؟
Takhreej
الصحيحة رقم (493) سنن أبي داؤد كِتَاب اللِّبَاسِ بَاب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ رقم (3540)
ابو برزہ اسلمی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے کسی عمل کے بارے میں حکم دیجئے جو میں کر سکوں؟ آپ نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو کیونکہ یہ تمہارے لئے صدقہ ہوگا
عقبہ بن عامر جہنیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات کن اعمال کے کرنے میں ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان روک کر رکھو، اپنے آپ کو گھر تک محدود رکھو (بغیر ضرورت گھر سے مت نکلو)، اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (890) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللِّسَانِ رقم (2330) مسند أحمد رقم (21206)
) عن أسود بن أصرم المحاربي قال : قلت : يَا رَسُـول الله ، أَوْصِـنِي . قال : « املك يَـدَك » وفي روايـة: لَا
تَبْسُطْ يَدَك إِلَا إلى خَيْر.
اسود بن اصرم محاربی سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ پر قابو رکھو اور دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ کو نیکی کے علاوہ نہ کھولنا
Takhreej
الصحيحة رقم (1560) الأحاد والمثاني لابن أبي عاصم رقم (1186)
براءرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اگر تم راستے میں بیٹھنے پر بضد ہو تو (مسافروں کو) راستے کی رہنمائی کرو، سلام کا جواب دو اور مظلوم کی مدد کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1561) سنن الترمذي كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْجَالِسِ عَلَى الطَّرِيقِ رقم (2650)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کا دل بہت سخت ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو
عن عائشة رضی اللہ عنہا مرفوعا: إِن أُعَظم النَّاس جُرْمًا إِنْسَان شَاعِر يَّهْجُو الْقَبِيلَة من أَسرهَا وَرَجُل تَنَفِّى من أَبِيه
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ : جرم کے لحاظ سے سب سےبڑا شخص وہ شاعر ہے جوپورے قبیلے کی ہجو کرتا ہے اور وہ شخص ہے جو اپنے باپ کا انکار کرتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ أنها قَالَـتْ: قَالَ رَسُـولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَعْظَـمَ النَّـاسِ فِرْيَـةً لَّرَجُلٌ هَجَا رَجُلًا فَهَجَا الْقَبِيلَةَ
بِأَسْرِهَا وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ وَزَنَّي أُمَّهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ(جھوٹ)کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے کہ کسی نے اس کی ہجو کی تو اس نے اس کے پورے قبیلے کی ہجو کردی۔ اور وہ آدمی جو اپنے باپ کا انکار کرکے اپنی ماں کو زانیہ قرار دے دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1487) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا كُرِهَ مِنْ الشِّعْرِ رقم (3751)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یقیناً اللہ عزوجل چرب زبان سے بغض رکھتا ہے۔ وہ شخص جو اپنی زبان کو اس طرح گھماتا ہے جس طرح گائے (جگالی کرتے ہوئے) اپنی زبان گھماتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (180) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَدِّقِ فِي الْكَلَامِ رقم (4352)