TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَقِيْقَةِ؟ فَقَالَ: إن الله لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الْاِسْمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُم أَنْ يَّنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نا فرمانی کو پسند نہیں کرتا گویا کہ آپ نے اس نام کو نا پسند کیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم اپنے کسی شخص کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس کے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو شخص پسند کرے کہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرے تو وہ کر لے لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری
Takhreej
الصحيحة رقم (1655) سنن النسائي كِتَاب الْعَقِيقَةِ باب منه رقم (4141)
285
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ حُسَيْنِ بن عَلِيٍّ ، مَرفوعاً: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الأُمُورِ وأَشْرَافَهَا ، وَيَكْرَهُ سَفَسَافِهَا .
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ رفعت و عزو شرف والے معاملات کو پسند کرتا ہےاور برے معاملات کو نا پسند کرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1627) المعجم الكبير للطبراني رقم (2826) مسند الشهاب القضاعي رقم (1001)
286
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِن الرُّؤْيَا تَقَع عَلَى ما تُعْبَرُ، وَمَثَلُ ذَلِك مَثَلُ رَجَلٍ رَفَع رِجُلَه فَهُو يَنْتَظِر مَتًى يَضَعَهَا ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُم رُؤْيَا فَلَا يحدث بِهَا إِلَا نَاصِحًا أَو عَالِمًا ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب اسی طرح واقع ہو جاتا ہے جس طرح اس کی تعبیر بیان کی جائے ۔ اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا رکھی ہے اور وہ منتظر ہے کہ کب اسے رکھے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے تو کسی خیر خواہ یا عالم کے علاوہ کسی کو نہ بیان کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (120) مستدرك الحاكم كتاب تعبير الرؤيا رقم (8291)
287
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَّهُ فِي قَرْيَةٍ فَأَرْصَدَ اللهُ تعالى عَلى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ المَلَكُ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ أُزُور أَخًا لِّي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ: هَلْ لَّكَ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ (تَرُبُّهَا)؟ قَالَ: لَا إلَا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ أَنَّ اللهَ عزوجل قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ لَه.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایک آدمی کسی بستی میں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لئے چلا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا، وہ اس کے پاس سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میرا بھائی ہے اس سے ملنے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا تھا(جس کا بدلہ لینے جا رہے ہو)؟ اس نے کہا:نہیں بس میں اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا:میں تمہاری طرف اللہ کا پیغامبر بن کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے جس طرح تونے اللہ کے لئے اس سے محبت کی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (144) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ رقم (4656)
288
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ؟ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُّ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ
جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کون ہوتا ہے جو میرے بارے میں بات کر تا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں کو بخش دیا اور اس شخص کے عمل ضائع کر دیئے
Takhreej
الصحيحة رقم (1685) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الْإِنْسَانِ مِنْ ...رقم (4753)
289
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ
بلال بن حارث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: کبھی آدمی اللہ کی خوشنودی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتاہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ بلنددرجے تک پہنچ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن اپنی خوشنودی لکھ دیتے ہیں۔ اور کبھی آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ یہ انتہائی نچلے درجے کیہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لئے اس بات کی وجہ سے ناراضگی لکھ دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (888) مؤطا امام مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ التَّحَفُّظِ فِي الْكَلَامِ رقم (1562)
290
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ السَّلامَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ فِي الأَرْضِ فَأَفْشُوا السَّلامَ بَينَكُمْ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس نے دنیا میں رکھ دیا ہے اس لئے آپس میں سلام کو عام کیا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (184) الأدب المفرد للبخاري رقم (1026)
291
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ، مرفوعا: إِنَّ السَّلامَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ الله فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ فِيكُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ فَرَدُّوا عَلَيْهِ، كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، لأَنَّهُ ذَكَّرَهُمْ، فَإِنْ لَّمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِّنْهُمْ وَأَطْيَبُ
سیدنا عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رکھ دیا ہے ۔ اس لئے آپس میں سلام کو عام کرو، کیونکہ جب آدمی کسی قوم پر سلام بھیجتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر فضیلت ہوتی ہے کیونکہ اس نے انہیں یاد دہانی کروائی۔ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہے وہ اس کا جواب دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1607) المعجم الكبير للطبراني رقم (10238)
292
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيْهَا يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ کبھی ایسی بات کرتا ہےجسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس بات کی وجہ سے وہ مشرق و مغرب میں دوری سے بھی زیادہ جہنم کی گہرائی میں گرجاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (540) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب حِفْظِ اللِّسَانِ...رقم (5996)
293
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَيِّدًا، وَّإِنَّ سَيِّدَ الْمَجَالِسِ قُبَالَةَ الْقِبْلَةِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ہر چیز کا سردار ہوتا ہےاور مجالس کا سرداروہ ہے جو جس کی طرف رخ کرکے شرکائے مجلس بیٹھے ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2645) المعجم الكبير للطبراني رقم (513)
294
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن حذيفة بن اليمان ، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: « إِن الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِي الْمُؤْمِنَ فَسَلَّم عليه ، وَأَخَذ بِيَده ، فَصَافَحَه ، تناثرت خطاياهما ، كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَق الشَّجَر ».
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب مومن سے ملتا ہے اور اسے سلام کہتا ہے ، اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو ان دونوں کی خطائیں اس طرح جھڑجاتی ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (526، 2692) المعجم الأوسط للطبراني رقم (250)
295
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ مَسَابّٰكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَّكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّـا بَخِيلًا جَبَانًا.
عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ تمہارا ایک دوسرے کے نسب میں عیب جوئی کرنا کسی کے حق میں عیب کی بات نہیں ہے، تم تو آدم کی اولاد ہو جوایک دوسرے کے برابرہیں،کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے دین یا نیک عمل کے،آدمی کے تباہ ہونےکےلئے یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو بدگو، بخیل اور بزدل ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1038) مسند أحمد رقم (16675) المعجم الكبير للطبراني رقم (14231)
296
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَآءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ (وفي رواية لأحمد: فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو(دیا تی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک واضح بات کرنا شروع کی(اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف کرنے لگا) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں ارو بعض اشعار پُرحکمت ہوتےہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1731) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ رقم (4358) مسند أحمد رقم (2909)
297
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أُبَيّ بْنَ كَعْبٍ مَرفُوعاً: إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حِكْمَةً.
ابی بن کعب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : بعض اشعار پرحکمت ہوتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2851) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهُ رقم (5679)
298
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ هَانِئِ بن يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ!، دُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ يُّدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ مِنْ مّوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ، وَحُسْنُ الْكَلامِ.
ہانی بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی راہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔آپ نے فر مایا: یقینا مغفرت کو واجب کرنے والی چیزوں میں سے سلام پھیلانا اور اچھی بات کرنا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1035) المعجم الكبير للطبراني رقم (17920)
299
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يهودي على رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ يا محمد! فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَعَلَيْكَ فَقَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك فسكتُّ ، ثم دخل آخر فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ: عَلَيْكَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك ثم دخل الثالث فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فلم أصبر حتى قلت : وعليك السام وَغَضَبُ اللهِ وَلَعْنَتُه إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتَحَيُّونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللهُ؟ فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا: قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ إِن الْيَهُود قَوْم حُسُّدٌ ، وَإِنَّهُم لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْء كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى السَّلَام ، وَعَلَى آمين ».
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السام علیک یا محمد(اے محمد آپ پر ہلاکت ہو) ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک(اور تجھ پربھی) ۔عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ میں خاموش رہی۔ پھر دوسرا یہودی داخل ہوا اس نے بھی یہی کہا: السام علیک، میں نےبولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ پھر تیسرا یہودی داخل ہوا اور کہا: السام علیک، مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا : وعليك السام وغضب اللہ ولعنته، اخوان القردة والخنازیر(تم پر بھی ہلاکت ہو اور اللہ کا غضب اور اس کی لعنت بندروں اور خنزیر کے بھائیو)تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو ایسا سلام کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ فحش کو پسند نہیں کرتا نہ ہی تکلف سے فحش کہنے کو پسند کرتا ہے انہوں نے ایسی بات کہی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا۔ یقیناً یہودی حاسد قوم ہےکسی چیز پر یہ ہم سے اتا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ ہم سے”سلام “اور”آمین“ پر کرتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (691) مسند أحمد رقم (23880) صحيح ابن خزيمة رقم (551)
300
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أَنس قال : لَمَا حَضَرَت أبا سَلمْة الْوَفَاة قَالَت أَم سَلمْة : إلى من تَكِلنِي ؟ فَقَال : اللَّهُمّ إِنَّك لَأم سَلمْة خَيْر من أبي سَلمْة ، فَلَمَا تُوَفِّي خَطَبَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَالَت : إِنِّي كَبِيرَة السِّنّ ، قال : أَنا أكبر مِنْك سنا ، وَالْعِيَال عَلَى الله وَرَسُوله ، وَأَمَّا الْغَيْرَة فَأَرْجُو الله أَن يُذْهِبهَا ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَأَرْسَل إِلَيْهَا برحايَيَنِ ، وَجَرَۃً للماء.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ہیںس کس کے سپرد کر کے جار ہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ ! ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لئے تو ابو سلمہ رضی اللہ عنہا سے بہتر ہے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بڑی عمر کی ہوں آپ نے فرمایا: میں عمر میں تم سے بڑا ہوں۔ اور بچوں کی کفالت اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہے، رہی بات غیرت کی تو میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ اسے لے جائیگا ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی اور ان کی طرف دو چکیاں اور پانی کا ایک مٹکا بھیجا
Takhreej
الصحيحة رقم (293) مسند أبو يعلى رقم (4052)
301
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرفُوعاً: أَنَا زَعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ببیت فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ببیت فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میں اس شخص کے لئے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ حق پر بھی ہو اور اس شخص کے لئے جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولےاور جو اپنے اخلاق کو اچھا کرلے اس کے لئے جنت کے اعلےٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (273) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي حُسْنِ الْخُلُقِ رقم (4167)
302
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن جابر بن صخر ، قال : سمعتُ النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول : « إِنَّا نُهِينَا أَن تُرَى عَوْرَاتُنَا ».
جابر بن صخر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہمارے ستَر(شرمگاہ) دیکھے جائیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1706) مستدرك الحاكم رقم (4972) شعب الايمان للبيهقي رقم (7502)
303
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ مَرفُوعاً: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ آپ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں میں تھوڑا سا فرق رکھا
Takhreej
الصحيحة رقم (800) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا رقم (5546) مسند أحمد رقم (21754)
304
Sahih