سعید بن مسیب اپنے والد سےوہ ان کےدادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا حزن غم آپ نے فرمایا تم سہل(نرمی) ہو۔ انہوں نے کہا نہیں، نرمی روند دی جاتی ہے اور اسے حقیر و معمولی سمجھا جاتا ہے۔ سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سختیوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (214) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ رقم (4305)
عن جَابَر مرفوعا: انْطَلقُوا بِنَا إلى الْبَصِير الذى في بَنِى وَاقِف نَعُودُه قال وكان رَجُلًا اعمى.
جابررضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہمارے ساتھ بصیر کی طرف چلو جو بنو واقف میں ہے کہ ہم اس کی عیادت کریں وہ ایک نابینا آدمی تھا
ابو مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری شخص تھا اسے ابو شعب کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک غلام قصاب تھا ۔ اس نے کہا میرے لئے کھانا بناؤ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں گا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کی آپ کے پیچھے ایک اور آدمی چلنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی تھی اور یہ آدمی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو نہ دو۔ اس نے کہا نہیں میں نے اسے اجازت دے دی
Takhreej
الصحيحة رقم (3552) صحيح البخاري كِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب الرَّجُلِ يَتَكَلَّفُ الطَّعَامَ لِإِخْوَانِهِ رقم (5014)
ہمارے پیچھے ایک آدمی چلنے لگاجو ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں دعوت دی گئی اگر تم اسے اجازت دو تو یہ اندر آجائے ۔ یہ حدیث ابو مسعود البدری اور جابر بن عبداللہ سے مروی ہے اور ابو مسعود بدری انصاریرضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک آدمی جسے ابو شعیب کہا جاتا تھا اپنے ایک قصاب غلام کی طرف آیا اور کہا : میرے لئے اتنا کھانا بناؤ جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو ،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔ اس نے کھانا بنایا ، پھرابو شعیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا آپ کو اور آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ساتھیوں کو بلایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ایک آدمی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا جو دعوت کے وقت ان کے ساتھ نہیں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے تک پہنچے تو آپ نے گھر کے مالک سے کہا:۔ ۔ ۔حدیث ذکر کی اور اس نے کہا: ہم نے اسے اجازت دے دی ہے یہ اندر آجائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3579) سنن الترمذي كِتَاب النِّكَاحِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَجِيءُ إِلَى الْوَلِيمَةِ مِنْ غَيْرِ دَعْوَةٍ رقم (1018)
اسحاق بن سعید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ،عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے ابن زبیر! اللہ تبارک وتعالیٰ کے حرم میں الحاد سے بچو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے کہ اس میں ایک قریشی شخص الحاد کرے گا۔ اگر اس کے گناہوں کا وزن جن و انس کے گناہوں کے ساتھ کیا جائے تب بھی اس کے گناہ بھاری ہوں گے ۔ دیکھو کہیں تم نہ ہونا
Takhreej
الصحيحة رقم (3108) مسند أحمد رقم (5924) مصنف ابن أبي شيبة رقم (154)
علیرضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ جب حسن پیدا ہوئےتو ان کا نام حمزہ رکھا ، جب حسین پیدا ہوئے تو اس کے چچا کے نام پرجعفر رکھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان دونوں ناموں کو بدل دوں ،میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ نے دونوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2709) مسند أحمد رقم (1299) مستدرك الحاكم رقم (7844)
امیمہ بنت رققہی سے مروی ہے کہ میں کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ ہم سب آپ سے اسلام پر بیعت کرنے آئی تھیں۔ عورتوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے اس بات پر بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی، نہ ہم چوری کریں گی، نہ ہم زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ ہم کسی پر بہتان باندھیں گی، اور نہ ہم نیکی کے کام میں نافرمانی کریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن استطاعت اور طاقت کے مطابق۔ عورتوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔ اے اللہ کےر سول! آئیے ہم آپ کی بیعت کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔سو(100) عورتوں کے لئے بھی میری بات اسی طرح ہے جس طرح ایک عورت کے لئے
Takhreej
الصحيحة رقم (529) مؤطا امام مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْبَيْعَةِ رقم (1556)
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ.
براء بن عازبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ سے لڑائی کے دن حسان بن ثابترضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو،یقیناً جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (801) صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب مَرْجِعِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ الْأَحْزَابِ رقم (3814)
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: اهْجُوا بِالشِّعْـرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِـدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّـدٍ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْضَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ.
کعب بن مالکرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) شعر کے ساتھ ہجو کرو۔ یقیناً مومن اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے گویا کہ تم انہیں تیروں سے چھلنی کر رہے ہو۔
عن جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « إِيَّاك وَالسَّمَر بَعَد هَدَأَة اللَّيْل فَإِنَّكُم لَا تَدْرُون ما يَأْتِي اللهُ مِنْ خَلْقِه ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رات پرسکون ہوجانے کے بعد رات کی بات چیت سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے کون سی مخلوق لےآئے
عن أنس رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : بَابَان مُعَجَّلَان عُقُوبَتهما في الدُّنْيَا الْبَغْيُ وَالْعُقُوقُ.
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دروازے(گناہ کے) ایسے ہیں جنکی سزا دنیا میں جلدی ملتی ہے:”سرکشی و بغاوت اور نافرمانی“
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، ٹیک لگا کر کھائیے، کیونکہ یہ آپ کے لئے آسان ہے۔ آپ نے اپنا سر جھکایا ممکن تھا کہ آپ کا چہرہ زمین سے لگ جاتا اور فرمایا: نہیں میں اسی طرح کھاؤں گا جس طرح عام بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھوں گا جس طرح عام بندہ بیٹھتا ہے
ابوذررضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم اپنے بھائی سے مسکرا کر ملو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور تم نیکی کا حکم کرو برائی سے روکو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے او رکسی نا بینا(کمزور نظر) کو راستہ دکھاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹاؤ تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے۔ اور تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (572) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ الْمَعْرُوفِ رقم (1879)