TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ(نا فرمانی کرنے والی)نام تبدیل کیا اور فرمایا: تم جمیلہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (213) صحيح مسلم كِتَاب الْآدَابِ بَاب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ رقم (3987)
305
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: مَا اسْمُكَ قَالَ: حَزْنٌ قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ قَالَ: لَا السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ.
سعید بن مسیب اپنے والد سےوہ ان کےدادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا حزن غم آپ نے فرمایا تم سہل(نرمی) ہو۔ انہوں نے کہا نہیں، نرمی روند دی جاتی ہے اور اسے حقیر و معمولی سمجھا جاتا ہے۔ سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سختیوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (214) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ رقم (4305)
306
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن جَابَر مرفوعا: انْطَلقُوا بِنَا إلى الْبَصِير الذى في بَنِى وَاقِف نَعُودُه قال وكان رَجُلًا اعمى.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہمارے ساتھ بصیر کی طرف چلو جو بنو واقف میں ہے کہ ہم اس کی عیادت کریں وہ ایک نابینا آدمی تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (521) شعب الايمان للبيهقي رقم (8893)
307
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَّهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ: بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
ابو مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری شخص تھا اسے ابو شعب کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک غلام قصاب تھا ۔ اس نے کہا میرے لئے کھانا بناؤ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں گا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کی آپ کے پیچھے ایک اور آدمی چلنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی تھی اور یہ آدمی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو نہ دو۔ اس نے کہا نہیں میں نے اسے اجازت دے دی
Takhreej
الصحيحة رقم (3552) صحيح البخاري كِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب الرَّجُلِ يَتَكَلَّفُ الطَّعَامَ لِإِخْوَانِهِ رقم (5014)
308
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
إِنَّهُ اتَّبَعَنَا رَجُلٌ لَّمْ يَكُنْ مَعَنَا حِينَ دَعَوْتَنَا فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ جَاءَ من حديث أَبِي مَسْعُودٍ البَدري، وجابر بن عبدالله. هذا لفظ حديث أَبِي مَسْعُود البدري قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ إِلَى غُلَامٍ لَّهُ لَحَّام فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَّكْفِي خَمْسَةً فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْجُوعَ قَالَ: فَصَنَعَ طَعَامًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَعَاهُ وَجُلَسَاءَهُ الَّذِينَ مَعَهُ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُمْ حِينَ دُعُوا فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى الْبَابِ قَالَ لِصَاحِبِ الْمَنْزِلِ...فذكره قَالَ: فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ فَلْيَدْخُلْ.
ہمارے پیچھے ایک آدمی چلنے لگاجو ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں دعوت دی گئی اگر تم اسے اجازت دو تو یہ اندر آجائے ۔ یہ حدیث ابو مسعود البدری اور جابر بن عبداللہ سے مروی ہے اور ابو مسعود بدری انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک آدمی جسے ابو شعیب کہا جاتا تھا اپنے ایک قصاب غلام کی طرف آیا اور کہا : میرے لئے اتنا کھانا بناؤ جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو ،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔ اس نے کھانا بنایا ، پھرابو شعیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا آپ کو اور آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ساتھیوں کو بلایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ایک آدمی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا جو دعوت کے وقت ان کے ساتھ نہیں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے تک پہنچے تو آپ نے گھر کے مالک سے کہا:۔ ۔ ۔حدیث ذکر کی اور اس نے کہا: ہم نے اسے اجازت دے دی ہے یہ اندر آجائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3579) سنن الترمذي كِتَاب النِّكَاحِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَجِيءُ إِلَى الْوَلِيمَةِ مِنْ غَيْرِ دَعْوَةٍ رقم (1018)
309
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَجَحَتْ قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَكُونُهُ.
اسحاق بن سعید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ،عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے ابن زبیر! اللہ تبارک وتعالیٰ کے حرم میں الحاد سے بچو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے کہ اس میں ایک قریشی شخص الحاد کرے گا۔ اگر اس کے گناہوں کا وزن جن و انس کے گناہوں کے ساتھ کیا جائے تب بھی اس کے گناہ بھاری ہوں گے ۔ دیکھو کہیں تم نہ ہونا
Takhreej
الصحيحة رقم (3108) مسند أحمد رقم (5924) مصنف ابن أبي شيبة رقم (154)
310
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ فَقُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا
علی‌رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ جب حسن پیدا ہوئےتو ان کا نام حمزہ رکھا ، جب حسین پیدا ہوئے تو اس کے چچا کے نام پرجعفر رکھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان دونوں ناموں کو بدل دوں ،میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ نے دونوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2709) مسند أحمد رقم (1299) مستدرك الحاكم رقم (7844)
311
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي نِسْوَةٍ نُّبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُّشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا وَّلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قَالَتْ: فَقُلْنَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَا أُصَـافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَـةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَّاحِدَة.
امیمہ بنت رققہی سے مروی ہے کہ میں کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ ہم سب آپ سے اسلام پر بیعت کرنے آئی تھیں۔ عورتوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے اس بات پر بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی، نہ ہم چوری کریں گی، نہ ہم زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ ہم کسی پر بہتان باندھیں گی، اور نہ ہم نیکی کے کام میں نافرمانی کریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن استطاعت اور طاقت کے مطابق۔ عورتوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔ اے اللہ کےر سول! آئیے ہم آپ کی بیعت کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔سو(100) عورتوں کے لئے بھی میری بات اسی طرح ہے جس طرح ایک عورت کے لئے
Takhreej
الصحيحة رقم (529) مؤطا امام مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْبَيْعَةِ رقم (1556)
312
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ سے لڑائی کے دن حسان بن ثابت‌رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو،یقیناً جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (801) صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب مَرْجِعِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ الْأَحْزَابِ رقم (3814)
313
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: اهْجُوا بِالشِّعْـرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِـدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّـدٍ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْضَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ.
کعب بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) شعر کے ساتھ ہجو کرو۔ یقیناً مومن اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے گویا کہ تم انہیں تیروں سے چھلنی کر رہے ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (802) مسند أحمد رقم (15235)
314
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عًنْ جَرْمُوز الْهُجَيْمِيَّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا.
جرموز ہجیمی سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے نہ بن جانا
Takhreej
الصحيحة رقم (1729) مسند أحمد رقم (19757) المعجم الكبير للطبراني رقم (2137، 2138)
315
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « إِيَّاك وَالسَّمَر بَعَد هَدَأَة اللَّيْل فَإِنَّكُم لَا تَدْرُون ما يَأْتِي اللهُ مِنْ خَلْقِه ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رات پرسکون ہوجانے کے بعد رات کی بات چیت سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے کون سی مخلوق لےآئے
Takhreej
الصحيحة رقم (1752) مستدرك الحاكم رقم (7872)
316
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أَنس بن مَالَك مرفوعا: إِيَّاك وَكُلَّ مَا يُعْتَذرُ مِنْه.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ہر اس کا م سے بچو جس سے بعد میں معذرت کرنی پڑے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (354) الزهد الكبير للبيهقي رقم (534)
317
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ مُعَاوِيَةَ مرفوعا: إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ.
معاویہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : ایک دوسرے کی خوشامد کرنے سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1284) سنن ابن ماجةكِتَاب الْأَدَبِ بَاب الْمَدْحِ رقم (3733)
318
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بن حَاتِمٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيْمَنُ امْرِئٍ وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ .
عدی بن حاتم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی خوش بختی اور بدبختی اس کے دو جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1286) المعجم الكبير للطبراني رقم (13656) صحيح ابن حبان رقم (5810)
319
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : بَابَان مُعَجَّلَان عُقُوبَتهما في الدُّنْيَا الْبَغْيُ وَالْعُقُوقُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دروازے(گناہ کے) ایسے ہیں جنکی سزا دنیا میں جلدی ملتی ہے:”سرکشی و بغاوت اور نافرمانی“
Takhreej
الصحيحة رقم (1120) مستدرك الحاكم رقم (7458)
320
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن عَائَشَة قَالَت : قُلْت : يَا رَسُولَ الله ! كُلْ جَعَلَنِي اللهُ فَدَاكَ مُتَّكِئًا ؛ فَإِنَّه أَهْوَنُ عَليكَ فأَحْنى رَأَسَهُ حَتَّى كَادَ أَن تُصِيبَ جَبْهَتُه الْأَرَضَ وَقَالَ : بَلْ آكَلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ وَأَجْلسُ كَمَا يَجْلِسُ العَبدُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، ٹیک لگا کر کھائیے، کیونکہ یہ آپ کے لئے آسان ہے۔ آپ نے اپنا سر جھکایا ممکن تھا کہ آپ کا چہرہ زمین سے لگ جاتا اور فرمایا: نہیں میں اسی طرح کھاؤں گا جس طرح عام بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھوں گا جس طرح عام بندہ بیٹھتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (544) شرح السنة (3/ 187/ 2)
321
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن ابن عباس ، مَرفوعاً: « الْبَرَكَة مَعَ أكَابركُمْ »
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: برکت تمہارے بزرگوں (عمر رسیدہ لوگوں)کے ساتھ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1778) مستدرك الحاكم رقم (197) صحيح ابن حبان رقم (560)
322
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرفُوعاً: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنْ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ.
ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم اپنے بھائی سے مسکرا کر ملو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور تم نیکی کا حکم کرو برائی سے روکو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے او رکسی نا بینا(کمزور نظر) کو راستہ دکھاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹاؤ تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے۔ اور تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (572) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ الْمَعْرُوفِ رقم (1879)
323
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيْهِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا قَاعِدٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: تَحَوَّلْ إِلَى الظِّلِّ.
قیس بن ابی حازم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا: سائے میں آجاؤ
Takhreej
عن جَابَر مرفوعا: تَسْلِيمُ الرجل بِإِصْبَع وَّاحِدَة يُشِيْر بِهَا فِعلُ الْيَهُود .
324
Sahih