TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَن جَابر بن عَبد الله رضی اللہ عنہ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ هُنَا غُلَامٌ فَقَالُوا : مَا نُسَمِيه ؟ فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « سَمُّوه بِأَحَبّ الْأَسْمَاء إِلَيّ حَمْزة بن عَبد الْمُطَّلِب ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: یہاں ایک شخص کے گھر بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے کہا: ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جو سب سے پیارا نام ہے وہ رکھو”حمزہ بن عبدالمطلب“
Takhreej
الصحيحة رقم (2878) مستدرك الحاكم رقم (4876)
345
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: السَّلامُ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ بَينَكُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ الْمُسلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَوْمٍ فَسَلَّم عَلَيهِم فَرَدُّوا عَلَيْهِ كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، فَإِنْ لَّمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَأَطْيَبُ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے مین میں رکھا ہے ۔ اسے آپس میں پھیلایا کرو کیونکہ جب ایک مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرتا ہے اور انہیں سلام کہتا ہے اور وہ اسے جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر(فضیلت کا درجہ ہے)۔ اگر وہ جواب نہ دیں تو جو ان سے اچھے اور پاکیزہ ہیں وہ انہیں جواب دیتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1894) المعجم الكبير للطبراني رقم (10238)
346
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: السَّلامُ قَبل السُؤَالِ فَمَنْ بَدَأَكُم بِالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلامِ فَلا تُجِيبُوهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنے سے پہلے سلام کہو، اگر کوئی سلام کرنے سے پہلے تم سے سوال کرے تو اسے جواب نہ دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (816) المعجم الكبير للطبراني رقم (207)
347
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرٍو، مَرفُوعاً: الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلامِ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلامِ، وقَبِيحُهُ كَقَبيْحِ الْكَلامِ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : شعر بات کی طرح ہے اچھا شعر اچھی بات کی طرح اور برا شعر بری بات کی طرح ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (447) المعجم الكبير للطبراني رقم (1488) سنن الدارقطني رقم ( 4353)
348
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن عامر بن سعد ، عن أبيه مرفوعا: « طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ ، فَإِنَّ اليَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا ».
عامر بن سعید اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ:اپنے صحن صاف رکھا کرو کیونکہ یہودی اپنے صحن صاف نہیں رکھتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (236) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4205)
349
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ: کھانا کھا کر شکر کرنے والا صبر کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (655) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مِنْهُ رقم (2410)
350
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ مَرفُوعاً: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ پوچھا گیا اگر اس کے پاس نہ ہو تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو؟ کہا کہ فقیر حاجت مند کی مدد کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ کہا کہ نیکی کا حکم کرے ۔ پوچھا گیا: اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ انہوں نے کہا: برائی سے رکا رہے یہی اس کا صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (573) صحيح البخاري كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَعْمَلْ بِالْمَعْرُوفِ رقم (1353)
351
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ مَرفُوعاً: عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِّنْهُ عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ: لَأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَةَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَـمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتُـدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَـةٍ لَّهُ قَـدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْـكَ إِلَى اللَّهْفَانِ، الْمُسْتَغِيثِ، وَتَرْفَـعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِكَ زَوْجَتَكَ أَجْرٌ. قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ، أَكُنْتَ تَحْتَسِبُهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ: قَالَ: بَلْ اللهُ خَلَقَهُ. قَالَ: فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟ قَالَ: بَلِ اللهُ هَدَاهُ. قَالَ: فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ؟ قَالَ: بَلِ اللهُ كَانَ يَرْزُقُهُ. قَالَ: كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللهُ أَحْيَاهُ، وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ، وَلَكَ أَجْرٌ.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر شخص پر صدقہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہاں سے صدقہ کروں ہمارے پاس تو مال نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا :تکبیر(اللہ اکبر)،سبحان اللہ، الحمدللہ ،لا الہ الا اللہ اور استغفراللہ صدقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تم نیکی کا حکم کرو برائی سے منع کرو۔ لوگوں کے راستے سے کانٹا ،ہڈی اور پتھر ہٹاؤ، اندھے کو راستہ بتاؤ، بہرے گونگے کو بات سمجھاؤ، حاجت مند کو اس کی حاجت کا راستہ بتاؤ جوتم جانتے ہو،مدد طلب کرنے والے مجبور شخص کی طرف دوڑ کر جاؤ اور کمزور کا بوجھ اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ،یہ سب کام تمہارے اپنے آپ پر صدقہ کرنے کی قبیل سے ہیں۔ اور تمہارے لئے تمہاری اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے، ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لئے میری اس شہوت میں کس طرح اجر ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے خیال میں اگر تمہارا کوئی بیٹا ہوتا، وہ بڑا ہو جاتا تم اس سے بھلائی(کمائی) کی امید رکھتے اور وہ مرجاتا تو کیا تمہیں اس کا ثواب نہیں ملتا ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پیدا کیا ہے؟ ابو ذر نے کہا: نہیں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے رزق دیا تھا؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اپنی شہوت کو حلال جگہ پورا کرو اور حرام کاری سے اجتناب کرو، اگر اللہ نے چاہا تو اسے زندہ رکے گا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسے مار دے گا ، اور تمہارے لئے اس میں اجر ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (575) مسند أحمد رقم (20510)
352
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن ابن عمر مَرفُوعاً: عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: کوڑے کو وہاں لٹکاؤ جہاں گھر والے دیکھتے رہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1446) المعجم الكبير للطبراني رقم (10521)
353
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرفُوعاً:عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ لَهُمْ أَدَبٌ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ کوڑے کو وہاں لٹکاؤ جہاں گھر والے دیکھتے رہیں کیونکہ یہ ان کے لئے ادب سکھانے کا ذریعہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1447) المعجم الكبير للطبراني رقم (10523)
354
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَّنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَّمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَّمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَآءِ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن ڈھانپ دیا کرو، مشکیزوں کے منہ بند کر دیا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے ، جو برتن کھلا ہوتا ہے یا جو مشکیزہ کھلا ہوتا ہے اس میں یہ وباء داخل ہوجاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3076) صحيح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ رقم (3758)
355
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ وَحْشِـيٍّ أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبـَعُ قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ.
وحشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: شاید تم الگ الگ کھانا کھاتے ہو، اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرو۔ اللہ تعالیٰ کا نام لو اس میں تمہارے لئے برکت کر دی جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (664) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب فِي الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ (3272) ابن ماجة كِتَاب الْأَطْعِمَةِ (3277)
356
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرفُوعاً: فِي ابْنِ آدَمَ سِتُّونَ وَثَلاثُ مِائَةِ سُلَامَي أَو عَظیمٌ أَو مَفْصِلٌ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، كُلُ كَلِمَةٍ طَّيِّبَةٍ صَدَقَةٌ، وَعَوْنُ الرَّجُلِ أَخَاهُ صَدَقَةٌ، وَالشَّربَةُ مِنَ الْمَاءِ تُسْقِيهَا صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہےکہ:ابن آدم میں تین سو ساٹھ جوڑ یا ہڈیاں ہوتی ہیں، ہر دن ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ ہر اچھی بات صدقہ ہے آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے تو صدقہ ہے پانی کا جو گھونٹ تم پلاتے ہو صدقہ ہے ،راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (576) المعجم الكبير للطبراني رقم (10864)
357
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن عائشة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قوله : (ذلک ادنی الا تعولوا)، قال : « أَنْ لَا تَجُوْرُوا ». ( )
عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: (ذلک ادنی الا تعولوا) فرمایا کہ تم ظلم نہ کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3222) صحيح ابن حبان كتاب الحج باب الهدي (4104)
358
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا ﮋقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌﮊ وَﮋقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِﮊ وَﮋقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِﮊ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونک مارتے اور ان ہتھیلیوں میں (سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ الناس) پڑھتے، پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم پر پھیرتے اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے اس کی ابتداء کرتے۔ آپ یہ کام تین مرتبہ کرتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3104) صحيح البخاري كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ بَاب فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ رقم (4630)
359
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِـنْ أَصْحَـابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَـالَ: بَشِّـرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی صحابی کو کسی کام سے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دینا نفرت نہ دلانا اور آسانی کرنا تنگی نہ کرنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (922) صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَاب فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ رقم (3262)
360
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے حتی کہ بات سمجھ میں آجاتی اور جب کسی قوم کے پاس آتے اور انہیں سلام کہتے تو تین مرتبہ سلام کہتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3473) صحيح البخاريكِتَاب الْعِلْمِ بَاب مَنْ أَعَادَ الْحَدِيثَ ثَلَاثًا لِيُفْهَمَ عَنْهُ رقم (93)
361
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى صَلَاةً تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ: إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً له: سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَاتُوْبُ اِلَیْکَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے: عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کلمات کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اچھی بات کرے تو قیامت تک ان پر مہر ہوگی، اور اگر کوئی دوسری بات کرے تو یہ اس کا کفارہ ہوگا: (سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ الیک)، اے اللہ! تو پاک ہے ، اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ،میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3164) سنن النسائي كِتَاب السَّهْوِ باب نَوْعٌ آخَرُ مِنْ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ رقم (1327)
362
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَّزِلَّ (وفي رواية: أَزِلَّ...بالإفراد في الأفعال كلها)أونُزَلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْنُضَلَ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ ،اللہ کے نام کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ، اے اللہ ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں کہ کہیں ہم پھسل نہ جائیں(اور ایک روایت میں ہے کہ کہیں میں پھسل نہ جاؤں باہم پھسلائے جائیں، یا ہم گمراہ ہوں یا ہم گمراہ کردئے جائیں۔ یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت کریں یا ہم پر جہالت کی جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3163) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ رقم (3349)
363
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَن أَنَس بن مَالكٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَافَحَ رَجُلًا لَّمْ يَتْرُك يَدَه حَتَّى يَكُونَ هُوَ التَّارِكُ لِيَدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2485) الموضح للخطيب (2 / 225)
364
Sahih