عَن جَابر بن عَبد الله رضی اللہ عنہ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ هُنَا غُلَامٌ فَقَالُوا : مَا نُسَمِيه ؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : « سَمُّوه بِأَحَبّ الْأَسْمَاء إِلَيّ حَمْزة بن عَبد الْمُطَّلِب ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: یہاں ایک شخص کے گھر بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے کہا: ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جو سب سے پیارا نام ہے وہ رکھو”حمزہ بن عبدالمطلب“
عبداللہرضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے مین میں رکھا ہے ۔ اسے آپس میں پھیلایا کرو کیونکہ جب ایک مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرتا ہے اور انہیں سلام کہتا ہے اور وہ اسے جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر(فضیلت کا درجہ ہے)۔ اگر وہ جواب نہ دیں تو جو ان سے اچھے اور پاکیزہ ہیں وہ انہیں جواب دیتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1894) المعجم الكبير للطبراني رقم (10238)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنے سے پہلے سلام کہو، اگر کوئی سلام کرنے سے پہلے تم سے سوال کرے تو اسے جواب نہ دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (816) المعجم الكبير للطبراني رقم (207)
ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ پوچھا گیا اگر اس کے پاس نہ ہو تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو؟ کہا کہ فقیر حاجت مند کی مدد کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ کہا کہ نیکی کا حکم کرے ۔ پوچھا گیا: اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ انہوں نے کہا: برائی سے رکا رہے یہی اس کا صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (573) صحيح البخاري كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَعْمَلْ بِالْمَعْرُوفِ رقم (1353)
ابو ذررضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر شخص پر صدقہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہاں سے صدقہ کروں ہمارے پاس تو مال نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تکبیر(اللہ اکبر)،سبحان اللہ، الحمدللہ ،لا الہ الا اللہ اور استغفراللہ صدقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تم نیکی کا حکم کرو برائی سے منع کرو۔ لوگوں کے راستے سے کانٹا ،ہڈی اور پتھر ہٹاؤ، اندھے کو راستہ بتاؤ، بہرے گونگے کو بات سمجھاؤ، حاجت مند کو اس کی حاجت کا راستہ بتاؤ جوتم جانتے ہو،مدد طلب کرنے والے مجبور شخص کی طرف دوڑ کر جاؤ اور کمزور کا بوجھ اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ،یہ سب کام تمہارے اپنے آپ پر صدقہ کرنے کی قبیل سے ہیں۔ اور تمہارے لئے تمہاری اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے، ابو ذررضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لئے میری اس شہوت میں کس طرح اجر ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خیال میں اگر تمہارا کوئی بیٹا ہوتا، وہ بڑا ہو جاتا تم اس سے بھلائی(کمائی) کی امید رکھتے اور وہ مرجاتا تو کیا تمہیں اس کا ثواب نہیں ملتا ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پیدا کیا ہے؟ ابو ذر نے کہا: نہیں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے رزق دیا تھا؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اپنی شہوت کو حلال جگہ پورا کرو اور حرام کاری سے اجتناب کرو، اگر اللہ نے چاہا تو اسے زندہ رکے گا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسے مار دے گا ، اور تمہارے لئے اس میں اجر ہوگا
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن ڈھانپ دیا کرو، مشکیزوں کے منہ بند کر دیا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے ، جو برتن کھلا ہوتا ہے یا جو مشکیزہ کھلا ہوتا ہے اس میں یہ وباء داخل ہوجاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3076) صحيح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ رقم (3758)
وحشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: شاید تم الگ الگ کھانا کھاتے ہو، اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرو۔ اللہ تعالیٰ کا نام لو اس میں تمہارے لئے برکت کر دی جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (664) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب فِي الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ (3272) ابن ماجة كِتَاب الْأَطْعِمَةِ (3277)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہےکہ:ابن آدم میں تین سو ساٹھ جوڑ یا ہڈیاں ہوتی ہیں، ہر دن ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ ہر اچھی بات صدقہ ہے آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے تو صدقہ ہے پانی کا جو گھونٹ تم پلاتے ہو صدقہ ہے ،راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (576) المعجم الكبير للطبراني رقم (10864)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونک مارتے اور ان ہتھیلیوں میں (سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ الناس) پڑھتے، پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم پر پھیرتے اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے اس کی ابتداء کرتے۔ آپ یہ کام تین مرتبہ کرتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3104) صحيح البخاري كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ بَاب فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ رقم (4630)
ابو موسیٰرضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی صحابی کو کسی کام سے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دینا نفرت نہ دلانا اور آسانی کرنا تنگی نہ کرنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (922) صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَاب فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ رقم (3262)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے حتی کہ بات سمجھ میں آجاتی اور جب کسی قوم کے پاس آتے اور انہیں سلام کہتے تو تین مرتبہ سلام کہتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3473) صحيح البخاريكِتَاب الْعِلْمِ بَاب مَنْ أَعَادَ الْحَدِيثَ ثَلَاثًا لِيُفْهَمَ عَنْهُ رقم (93)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے: عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کلمات کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اچھی بات کرے تو قیامت تک ان پر مہر ہوگی، اور اگر کوئی دوسری بات کرے تو یہ اس کا کفارہ ہوگا: (سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ الیک)، اے اللہ! تو پاک ہے ، اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ،میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3164) سنن النسائي كِتَاب السَّهْوِ باب نَوْعٌ آخَرُ مِنْ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ رقم (1327)
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ ،اللہ کے نام کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ، اے اللہ ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں کہ کہیں ہم پھسل نہ جائیں(اور ایک روایت میں ہے کہ کہیں میں پھسل نہ جاؤں باہم پھسلائے جائیں، یا ہم گمراہ ہوں یا ہم گمراہ کردئے جائیں۔ یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت کریں یا ہم پر جہالت کی جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3163) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ رقم (3349)
عَن أَنَس بن مَالكٍ: كَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا صَافَحَ رَجُلًا لَّمْ يَتْرُك يَدَه حَتَّى يَكُونَ هُوَ التَّارِكُ لِيَدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا۔