TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3909 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 11 in this chapter
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of the children of the Ansar, and the women of the Ansar.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ”اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
3909
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 46, Hadith 3909 Arabic reference : Book 49, Hadith 4287
صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3909
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴۳ (۲۵۰۷)

Related Chapters

201
1
انصار کے فضائل و مناقب
Musnad Ahmad
2
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
Musnad Ahmad
3
Chapter: The Virtues Of Abu Talhah Al-Ansari (RA)
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل:۔
Sahih Muslim
4
Chapter: The Virtues Of Ubayy Bin Ka'b And A Group Of The Ansar (RA)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انصار کی ایک جماعت کے فضائل:۔
Sahih Muslim
5
Chapter: The Virtues Of The Ansar (RA)
انصار رضوان اللہ عنھم اجمعین کے فضائل
Sahih Muslim
6
Chapter: The Virtues Of The Women Of The Quraish
قریش کی خواتین کے فضائل:۔
Sahih Muslim
7
انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
Sunnan Ibn e Maja
8
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of The Salat
باب: فضائل نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Muhajir Staying In Makkah For Three Days After Returning (From Mina)
باب: منیٰ سے لوٹنے کے بعد مکہ اور قریش کے مہاجرین
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah Are FromQuraish Until The Hour Is Established'
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
13
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
16
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
Mishkat
21
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
Mishkat
22
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
Mishkat
23
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
Mishkat
24
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
Musnad Ahmad
25
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
26
قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب
Musnad Ahmad
27
سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
28
سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
Musnad Ahmad
29
سورۃ قریش سورۂ قریش کی تفسیر اور قریش کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
30
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
32
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
33
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
Musnad Ahmad
34
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
Musnad Ahmad
35
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
36
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
Musnad Ahmad
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
38
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
Musnad Ahmad
39
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
40
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
42
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
Musnad Ahmad
45
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس خطبہ کا تذکرہ جس میں انصار کی شان اور فضیلت بیان ہوئی
Musnad Ahmad
48
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
49
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
50
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

124
Sahih Muslim
6414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ»
Zaid b. Arqam reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar.
محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما! "
Jam e Tirmazi
3315
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنَّا فِي غَزَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ:‏‏‏‏ يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ:‏‏‏‏ يَا لِلْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوَقَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 8، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو:‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا تَنْقَلِبُ حَتَّى تُقِرَّ أَنَّكَ الذَّلِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَزِيزُ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Sufyan narrated from Amr bin Dinar that he heard Jabir bin Abdullah saying: “We were in a battle” – Sufyan said: “They say it was the battle of Banu Mustaliq” – “A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar. The man from the Muhajirin said: ‘O Muhajirin!’ the man from the Ansar said: ‘O Ansar!’ The Prophet heard that and said: ‘What is this evil call of Jahliyyah?’ They said: ‘A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar.’ So the Prophet said: ‘Leave that, for it is offensive.’ Abdullah bin Ubayy bin Salul heard that and said: ‘Did they really do that? By Allah! If we return to Al-Madinah indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.’ Umar said: ‘Allow me to chop off the head of this hypocrite, O Messenger of Allah!’ The Prophet said: ‘Leave him, I do not want the people to say that Muhammad kills his Companions.’” Someone other than Amr said: “So his son, Abdullah bin Abdullah, said: ‘By Allah! You shall not return until you say that you are the mean and that the Messenger of Allah is the honorable.’ So he did so.”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ( سفیان کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ غزوہ بنی مصطلق تھا ) ، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری شخص کے چوتڑ پر لات مار دی، مہاجر نے پکارا: اے مہاجرین، انصاری نے کہا: اے انصاریو! یہ ( آواز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، فرمایا: ”جاہلیت کی کیسی پکار ہو رہی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو لات مار دی ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ ( پکار ) چھوڑ دو، یہ قبیح و ناپسندیدہ پکار ہے“، یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول نے سنی تو اس نے کہا: واقعی انہوں نے ایسا کیا ہے؟ قسم اللہ کی مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت دار لوگ ذلیل و بےوقعت لوگوں کو نکال دیں گے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانے دو ( گردن نہ مارو ) لوگ یہ باتیں کرنے لگیں کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے“، عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سے اس کے بیٹے عبداللہ ابن عبداللہ نے ( تو یہاں تک ) کہہ دیا کہ تم پلٹ نہیں سکتے جب تک یہ اقرار نہ کر لو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی باعزت ہیں تو اس نے اقرار کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3902
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ إِلَيْهِ:‏‏‏‏ إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
Zaid bin Arqam wrote to Anas bin Malik, comforting him over those of his family and children of his paternal uncle who suffered on the day of Al-Harrah. So he wrote to him: I give you glad tidings of good news from Allah. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of their children.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے ( اس خط میں ) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
Sahih Muslim
6416
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: «وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ» لَا أَشُكُّ فِيهِ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sought forgiveness for the Ansar and he said: I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it.
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔ ( اسحاق نے ) کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : " اور انصارکی اولاد دوں اور انصارکے ساتھ نسبت رکھنے والوںکی بھی ( مغفرت فرما ۔ ) " مجھے اس کے بارےمیں کو ئی شک نہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
5257
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي السَّائِبِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ،‏‏‏‏ فَبَيْنمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ،‏‏‏‏ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ،‏‏‏‏ فَقُمْتُ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ مَا لَكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ حَيَّةٌ هَاهُنَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَتُرِيدُ مَاذَا ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَقْتُلُهَا،‏‏‏‏ فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ،‏‏‏‏ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ،‏‏‏‏ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ،‏‏‏‏ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى باب الْبَيْتِ،‏‏‏‏ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي،‏‏‏‏ فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ،‏‏‏‏ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ،‏‏‏‏ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ،‏‏‏‏ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ .
Abu al-Saib said I went to visit Abu Sa’ld al-Khudri, and while I was sitting I heard a movement under under his couch. When I looked and found a snake there, I got up. Abu Sa’ld said: what is with you? I said: Here is a snake. He said: what do you want ? I said: I shall kill it. He then pointed to a room in his house in front of his room and said: My cousin (son of my uncle) was in this room. He asked his permission to go to his wife on the occasion of the battle of Troops (Ahzab), as he was recently married. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم gave him permission and ordered him to take his weapon with him. He came to his house and found his wife standing at the door of the house. When he pointed to her with the lance, she said; do not make haste till you see what has brought me out. He entered the house and found an ugly snake there. He pierced in the lance while it was quivering. He said: I do not know which of them died first, the man or the snake. His people then came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and said: supplicate Allah to restore our companion to life for us. He said: Ask forgiveness for your Companion. Then he said: In Madina a group of Jinn have embraced Islam, so when you see one of them, pronounce a waring to it three times and if it appears to you after that, kill it after three days.
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے ( جھانک کر ) دیکھا تو ( وہاں ) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ ( کیوں کھڑے ہو گئے ) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا ( چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو ) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ ( گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا ) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی ( ساتھی ) کو لوٹا دے، ( زندہ کر دے ) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ( اب زندگی ملنے سے رہی ) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو ( سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں ) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
Jam e Tirmazi
80
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
Jabir narrated: Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1288
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَافِعُ، ‏‏‏‏‏‏لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏الْجُوعُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَرْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Rafi' bin 'Amr: I was throwing stones at a date-palm belonging to some of the Ansar. They took me along with them to the Prophet (ﷺ). He said: O Rafi'! Why were you throwing stones at their date-palm?' He said: I said: 'Out of hunger, O Messenger of Allah! He said: 'Do not throw stones at them, eat what falls. May Allah fill you and quench your thirst.' This Hadith is Hasan Gharib Sahih.
رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: ”رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”پتھر مت مارو، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
1393
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، قَالَ:‏‏‏‏ دَقَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي،‏‏‏‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ إِنَّا سَنُرْضِيكَ،‏‏‏‏ وَأَلَحَّ الْآخَرُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَبْرَمَهُ،‏‏‏‏ فَلَمْ يُرْضِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ،‏‏‏‏ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ،‏‏‏‏ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ،‏‏‏‏ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً،‏‏‏‏ وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً ،‏‏‏‏ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ:‏‏‏‏ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ،‏‏‏‏ وَوَعَاهُ قَلْبِي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي أَذَرُهَا لَهُ،‏‏‏‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ لَا جَرَمَ لَا أُخَيِّبُكَ،‏‏‏‏ فَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي السَّفَرِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ يُحْمِدَ الثَّوْرِيُّ.
Narrated Abu As-Safar: A man from the Quraish broke a tooth of a man from the Ansar. So he appealed to Mu'awiyah against him. He said to Mu'awiyah: 'O Commander of the Believers! This person broke one of my teeth.' Mu'awiyah said: 'We will try to get satisfaction for you.' And the other person insisted that Mu'awiyah get him to agree [but he was not satisfied]. So Mu'awiyah said him: 'It is up to your companion.' Abu Ad-Darda' was sitting with him, so Abu Ad-Darda said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying [he said: 'My ears heard and my heart remembered]: There is no man who is struck in his body and he forgives for it, except that Allah raises him a level and removes a sin from him.' The Ansari said: 'Did you hear that from the Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: My ears heard it and my heart remembered it.' He said: 'Then I will leave it to him.' Mu'awiyah said: 'Surely you should not suffer.' So he ordered that he be given some wealth.
ابوسفر سعید بن احمد کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا، انصاری نے معاویہ رضی الله عنہ سے فریاد کی، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! اس ( قریشی ) نے میرا دانت توڑ دیا ہے، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: ہم تمہیں ضرور راضی کریں گے، دوسرے ( یعنی قریشی ) نے معاویہ رضی الله عنہ سے بڑا اصرار کیا اور ( یہاں تک منت سماجت کی کہ ) انہیں تنگ کر دیا، معاویہ اس سے مطمئن نہ ہوئے، چنانچہ معاویہ نے اس سے کہا: تمہارا معاملہ تمہارے ساتھی کے ہاتھ میں ہے، ابو الدرداء رضی الله عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ابو الدرداء رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے، میرے کانوں نے اسے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”جس آدمی کے بھی جسم میں زخم لگے اور وہ اسے صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ بلندی عطا کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، انصاری نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے سنا ہے؟ ابو الدرداء نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، اس نے کہا: تو میں اس کی دیت معاف کر دیتا ہوں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: لیکن میں تمہیں محروم نہیں کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہمیں یہ صرف اسی سند سے معلوم ہے، مجھے نہیں معلوم کہ ابوسفر نے ابو الدرداء سے سنا ہے، ۲- ابوسفر کا نام سعید بن احمد ہے، انہیں ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے۔
Jam e Tirmazi
1575
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏يَسْقِينَ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to go to battle with Umm Sulaim, and other women with her, from the Ansar, who would give water and attend to the wounded. [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Ar-Rabi' bin Mu'awwidh. This Hadith is Hasan Sahih.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصار کی چند عورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے، وہ پانی پلاتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے۔