VerbPersonal Pronoun

تَشْكُرُونَ

(be) grateful

تم شکر ادا کرتے

Verb Form 1
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
شَكَرَ
يَشْكُرُ
اُشْكُرْ
شَاكِر
مَشْكُوْر
شُكْر/شُكْرَان
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلشُّکْرُ کے معنیٰ کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کَشْرٌ سے مقلوب ہے جس کے معنیٰ کشف یعنی کھولنا کے ہیں۔ شکر کی ضد کفر ہے جس کے معنیٰ نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دَابَّۃٌ شَکُوْرٌ اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کررہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عَیْنٌ شَکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنیٰ ہوں گے منعم کے ذکر سے بھر جانا۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا۔ شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا۔ شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا۔ اور آیت کریمہ: (اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا) (۳۴:۱۳) اے داؤد کی آل میرا شکر کرو۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں شِکْرًا منصوب علی التمیز ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ جو عمل کرو وہ اﷲ تعالیٰ کی شکرگزاری کے لئے کرو۔ اور بعض نے کہا ہیکہ شِکْرًا اِعْمَلُوا کا مفعول ہے۔ اور اُشْکُرُوا کی بجائے اِعْمَلُوْا اس لئے کہا گیا ہے تاکہ شکر کی انواع ثلاثہ یعنی شکر قلبی، شکرلسانی، اور شکر بالجوارح کے التزام پر تنبیہ ہوجائے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ) (۳۱:۱۴) کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی) (وَ سَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ) (۳:۱۴۵) اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے۔ (وَ مَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ) (۲۷:۴۰) اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدہ کے لئے۔ اور آیت کریمہ: (قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ) (۳۴:۱۳) اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہی ہیں۔ میں تنبیہ پائی جاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا کماحقہ شکرگزار ہونا بہت مشکل کام ہے یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے اولیاء میں شکرگزاری پر صرف دو پیغمبروں کی تعریف کی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جیسے فرمایا: (شَاکِرًا لِّاَنْعُمِہٖ) اس کی نعمتوں کا شکرگزار ٹھہرے تھے۔ دوم حضرت نوح علیہ السلام کی جیسے فرمایا: (اِنَّہٗ کَانَ عَبۡدًا شَکُوۡرًا) (۱۷:۳) بے شک نوح ہمارا شکرگزار بندہ تھا۔ اور جب شکر کی نسبت اﷲ تعالیٰ کی طرف ہو جیسے: ( وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ) (۶۴:۱۷) بے شک خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔ تو اس سے اﷲ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام کرنا اور ان کی عبادت گزاری کی پوری پوری جزا دینا مراد ہوتا ہے نَاقَۃٌ شکِرَۃٌ: دودھ سے بھرے ہوئے تھنوں والی اونٹنی (یہ شُکر سے صیغہ صفت ہے) مقول مشہور ہے۔ (1) ھُوَ اَشکَرُ مِنْ بَرُوْقٍ: وہ بروق گھاس سے بھی زیادہ شکرگزار یہ۔ بروق گھاس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہلکی سی بارش سے ہری بھری ہوجاتی ہے اور شَکرٌ کے معنیٰ کنایہ کے طور پر عورت کی شرمگاہ اور اس سے جماع کے بھی آتے ہیں۔ کسی نے کہا ہے۔ (2) اِنْ سَأَلَتْکَ ثَمْنَ شَکْرِھَا وَشَبْرِکَ اَنْشَأتَ تَطُلُّھَا: اگر وہ تجھ سے اپنی شرمگاہ اور جماع کی اجرت طلب کرتی ہے تو تو اس میں حیلے بہانے کرتا ہے۔ اَلشَّکِیرُ: تروتازہ گھاس جو درخت کے تنہ میں ہو۔ اور شِکرَت (س) اَلشَّجَرَۃِ کے معنیٰ درخت کی شاخوں کے گنجان ہونے کے ہیں۔

Lemma/Derivative

46 Results
شَكَرَ
Surah:22
Verse:36
تم شکر ادا کرو
be grateful
Surah:23
Verse:78
تم شکر ادا کرتے ہو
you give thanks
Surah:27
Verse:19
میں شکر ادا کروں
I may thank You
Surah:27
Verse:40
کیا میں شکر کرتا ہوں
whether I am grateful
Surah:27
Verse:40
شکر کیا
(is) grateful
Surah:27
Verse:40
شکر ادا کرے گا
he is grateful
Surah:27
Verse:73
شکر کرتے
grateful
Surah:28
Verse:73
تم شکر ادا کرو
be grateful
Surah:29
Verse:17
اور شکر ادا کرو
and be grateful
Surah:30
Verse:46
تم شکر ادا کرو
be grateful