Noun

سَعِيرًا

(in) a Blazing Fire

بھڑکتی ہوئی آگ میں

Verb Form
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
سَعَّرَ
يُسَعِّرُ
سَعِّرْ
مُسَعِّر
مُسَعَّر
تَسْعِیْر
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلسَّعْرُ: کے معنیٰ آگ بھڑکنے کے ہیں۔ اور سَعَرْتُ النَّارَ وَاَسَعَرْتُھَا کے معنیٰ آگ بھڑکانے کے۔ مجازاً لڑائی وغیرہ بھڑکانے کے لئے استمعال ہوتا ہے۔ جیسے اِسْتَعَرَا لْحَرْبُ: لڑائی بھڑک اٹھی اِسْتَعَرَ اللصُّوصُ: ڈاکو بھڑک اٹھے۔ یہ اِشْتَعَلَ کے ہم معنیٰ اور نَاقَۃٌ مَسْعُوْرَۃٌ کے معنیٰ دیوانی اونٹنی کے ہیں جیسے مُوقَدَۃٌ وَمُھَیَّجَۃٌ کا لفظ اس معنیٰ میں بولا جاتا ہے۔ اَلْمِسْعَرُ: آگ بھڑکانے کی لکڑی (کہرنی) لڑائی بھڑکانے والا۔ اَلسُّعَارُ: آگ کی تپش کو کہتے ہیں اور سَعَرَالرَّجُلُ کے معنیٰ آگ یا گرم ہوا سے جھلس جانے کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا) (۴:۱۰) اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ (وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ) (۸۱:۱۲) اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی۔ (عذاب السعیر) (۶۷:۵) دہکتی آگ (کا عذاب) تیار کررکھا ہے۔ تو یہاں سَعِیْرٌ بمعنیٰ مَسْعُوْرٌ ہے۔ نیز قرآن پاک میں ہے: (اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ) (۵۴:۴۷) بے شک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں۔ السِّعْرُ کے معنیٰ مروجہ نرخ کے ہیں اور یہ استعارہ النار (آگ کا بھڑکنا) کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔

Lemma/Derivative

16 Results
سَعِير
Surah:4
Verse:10
بھڑکتی ہوئی آگ میں
(in) a Blazing Fire
Surah:4
Verse:55
بھڑکتی ہوئی آگ
(as a) Blazing Fire
Surah:17
Verse:97
بھڑکنے میں
the blazing fire
Surah:22
Verse:4
جلنے کے
(of) the Blaze
Surah:25
Verse:11
بھڑکتی آگ
a Blazing Fire
Surah:31
Verse:21
بھڑکتی ہوئی آگ کے
(of) the Blaze!
Surah:33
Verse:64
بھڑکتی ہوئی آگ کو
a Blaze
Surah:34
Verse:12
بھڑکتی ہوئی آگ کے
(of) the Blaze
Surah:35
Verse:6
بھڑکتی ہوئی آگ کے
(of) the Blaze
Surah:42
Verse:7
دوزخ
the Blazing Fire