TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2124 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
CHAPTER: Residing With A Virgin (After Marriage).
باب: کنواری عورت سے نکاح کرنے پر کتنے دن اس کے ساتھ رہے ؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ السُّنَّةُ كَذَلِكَ .
Narrated Anas bin Malik: When a man who has a wife married a virgin he should stay with her seven nights ; if he marries to a woman who has been previously married he should stay with her three nights. (The narrator said: ) If I say that he (Anas) narrated this tradition from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم I shall be true. But he said: The Sunnah is so-and-so.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے ۔
2124
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2124 In-book reference : Book 12, Hadith 79 English translation : Book 11, Hadith 2119
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح ۱۰۰ (۵۲۱۳)، ۱۰۱ (۵۲۱۴)، صحیح مسلم/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۱)، سنن الترمذی/النکاح ۴۰ (۱۱۳۹)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۲۶ (۱۹۱۶)، ( تحفة الأشراف: ۹۴۴)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۵(۱۵)، سنن الدارمی/النکاح ۲۷ (۲۲۵۵) (صحیح)

Related Chapters

885
1
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
2
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
3
Chapter: It is permissible for a father to arrange the marriage of a young virgin
والد کے ہاتھوں کم عمر کنواری (بیٹی) کا نکاح
Sahih Muslim
4
(9) CHAPTER. A woman can depute the ruler in the matter of marriage.
کسی عورت کا اپنا نکاح کرنے کے لیے بادشاہ کو وکیل بنانا
Sahih Bukhari
5
(9) CHAPTER. To marry virgins.
کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
6
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
Sahih Bukhari
7
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
Sahih Bukhari
8
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
9
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
10
(43) CHAPTER. lf a man gives his daughter in marriage while she is averse to it (in disagreement), then such marriage is invalid.
اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح ( وہ کنواری ہو یا بیوہ ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا ۔
Sahih Bukhari
11
(102) CHAPTER. If somebody marryies a matron and he has already a virgin wife (with him).
کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
12
(3) CHAPTER. Marriage established under coercion is invalid.
جس کے ساتھ زبردستی کی جائے اس کا نکاح
Sahih Bukhari
13
Chapter: Marriage is recommended for the one who desires it and can afford it, and the one who cannot afford it should distract himself by fasting
جس شخص کا دل چاہتا ہو اور کھانا پینا میسر ہو اس کے لیے نکاح کرنا مستحب ہے اور جو شخص کھانا پینا مہیا کرنے سے قاصر ہو وہ روزوں میں مشغول رہے
Sahih Muslim
14
Chapter: The prohibition of being married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time
نکاح میں عورت اور اس کے ساتھ اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کو جمع کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
15
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
Sahih Muslim
16
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
Sahih Muslim
17
Chapter: It is recommended to marry virgins
کنواری سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
18
CHAPTER: Women Whom It Is Disliked To Combine Between (In Marriage).
باب: ان عورتوں کا بیان جنہیں بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: Regarding The Guardian Preventing The Woman From Marriage.
باب: عورتوں کو نکاح سے روکنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Regarding A Virgin Who Was Married Off By Her Father Without He Consent.
باب: کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
21
باب: عورت اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Publicizing The Marriage
باب: نکاح کے اعلان کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Marrying Virgins
باب: کنواری لڑکی سے شادی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح صحیح نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With Proof (Bayyinah)
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Marriage Khutbah
باب: خطبہ نکاح کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of The Shigar Marriage
باب: نکاح شغار کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Conditions When Contracting A Marriage
باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Dividing Time For The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور غیر کنواری بیوی کے درمیان باری تقسیم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been related about it being disliked to enter upon women whose husbands are absent
باب: غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ چمٹنا حرام ہے
Jam e Tirmazi
39
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
40
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
41
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
Musnad Ahmad
43
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
44
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
Musnad Ahmad
45
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
46
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
Musnad Ahmad
47
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
Musnad Ahmad
50
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

98
Sahih Muslim
4063
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ»
Ubida b. al-Simit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Gold is to be paid for by gold, silver by silver, wheat by wheat, barley by barley, dates by dates, and salt by salt, like for like and equal for equal, payment being made hand to hand. If these classes differ, then sell as you wish if payment is made hand to hand.
خالد حذاء نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کا لین دین ) مثل بمثل ، یکساں ، برابر برابر اور نقد بنقد ہے ۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو ۔ "
Sahih Muslim
5055
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»،
Shaddid b. Aus said: Two are the things which I remember Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: Verily Allah has enjoined goodness to everything; so when you kill, kill in a good way and when you slaughter, slaughter in a good way. So every one of you should sharpen his knife, and let the slaughtered animal die comfortably.
اسماعیل بن علیہ نے خالد حذا ء سے ، انھوں نے ابوقلابہ سے ، انھوں نے ابو اشعث سے اور انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس لئے جب تم ( قصاص یاحد میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، تم میں سے ایک شخص ( جو ذبح کرنا چاہتا ہے ) وہ اپنی ( چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے ۔ "
Sunnan Ibn e Maja
3154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، ‏‏‏‏‏‏لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ .
It was narrated that Abu Zaid Al-Ansari said: “The Messenger of Allah (ﷺ) passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell of a cooking pot. He said: ‘Who is this who has slaughtered?’ A man from among us came out and said: ‘It is me, O Messenger of Allah, I slaughtered before the prayer so that I could feed my family and neighbors.’ He commanded him to repeat it. He said: ‘No, by the One besides Whom there is none worthy of worship, I do not have anything but a one-year-old sheep or a lamb.’ He (ﷺ) said: ‘Sacrifice it, but a one-year-old sheep will not do for anyone after you.’”
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
Jam e Tirmazi
124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورُ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ . وقَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَلَمْ يُسَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ إِذَا لَمْ يَجِدَا الْمَاءَ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى التَّيَمُّمَ لِلْجُنُبِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْهُ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَتَيَمَّمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ.
Abu Dharr narrated that : AlIah's Messenger said: Pure clean earth is a purifier for the Muslim; even if he did not find water for ten years. Then if he finds water, then let him use it (for purification) on his skin. For, that is better.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال ( یعنی جسم ) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے“۔ محمود ( محمود بن غیلان ) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
193
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ.
Anas bin Malik narrated: Bilal was ordered to make the phrases of the Adhan even, and the phrases of the Iqamah odd.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
205
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَنَا:‏‏‏‏ إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الْأَذَانَ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ تُجْزِئُ الْإِقَامَةُ إِنَّمَا الْأَذَانُ عَلَى مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ.
Malik bin Al-Huwairih said: A cousin of mine and I arrived as guests of Allah's Messenger. He said to us: 'When you travel then call the Adhan and Iqamah and let the eldest of you lead the prayer.'
مالک بن حویرث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا: جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں: اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
287
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَكَانَ إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ يُكْنَى أَبَا سُلَيْمَانَ.
Malik bin Al-Huwairith Al-Laithi narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat. When he was in an odd number of his Salat, he would not get up until he had sat completely.
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
Abu Al-Muhallab narrated from Imran bin Husain that : the Prophet (S) led them in Salat he forgot (something) so he performed two prostrations, then the Tashah-hud, then the Salam.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
1139
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Abu Qilabah narrated from Anas bin Malik, : He (Abu Qilabah) said: If I wish, I could say: 'The Messenger of Allah said' but he said: The Sunnah when a man married a virgin after he already has a wife, is that he stays with her seven (nights). And when he married a matron when he already has a wife, he stays with her three (nights).
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: ”سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری ( بیوہ یا مطلقہ ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔