۔ (۶۸۶۱)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی) امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ
زَوْجِہَا حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلٰی اَیْتَامِہَا حَتّٰی بَانُوْا أَوْمَاتُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۰۷)
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیںیا فوت ہو جائیں۔
Takhreej
(۶۸۶۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۱۴۹ (انظر: ۲۴۰۰۶)
Explanation
فوائد:… سیاہی مائل رخساروں سے مراد یہ ہے کہ اس عورت نے زیب و زینت اور خوشحالی و آسودہ حالی کو چھوڑ دیا اور اپنے یتیم بچوں کی خدمت میں مشقتیں برداشت کرتی رہی، جس کی وجہ سے اس کی شکل و صورت تبدیل ہو گئی۔
دراصل اس حدیث میںیتیم بچوں کی کفالت کرنے والوں کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔
6861
Sahih