TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان - بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 17 · 4 Hadith
۔ (۶۸۶۱)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی) امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ زَوْجِہَا حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلٰی اَیْتَامِہَا حَتّٰی بَانُوْا أَوْمَاتُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۰۷)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیںیا فوت ہو جائیں۔
Takhreej
(۶۸۶۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۱۴۹ (انظر: ۲۴۰۰۶)
Explanation
فوائد:… سیاہی مائل رخساروں سے مراد یہ ہے کہ اس عورت نے زیب و زینت اور خوشحالی و آسودہ حالی کو چھوڑ دیا اور اپنے یتیم بچوں کی خدمت میں مشقتیں برداشت کرتی رہی، جس کی وجہ سے اس کی شکل و صورت تبدیل ہو گئی۔ دراصل اس حدیث میںیتیم بچوں کی کفالت کرنے والوں کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔
6861
Sahih
۔ (۶۸۶۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ اَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبُرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ نِسَائُ قُرَیْشٍ، اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ وَاَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیْرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
Takhreej
(۶۸۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۶۵، ومسلم: ۲۵۲۷(انظر: ۷۶۵۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہb سیدہ مریمc کی بات کر کے یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں کہ قریشی خواتین سیدہ مریم سے افضل نہیں ہیں۔ دراصل قریشی خواتین کو ان کی صفات کی وجہ سے باقی عرب عورتوں پر فضیلت دی جا رہی ہے۔
6862
Sahih
۔ (۶۸۶۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ امْرَأَۃً مِنْ قَوْمِہِ یُقَالُ لَھَا: سَوْدَۃُ وَکَانَتْ مُصْبِیَۃً، کَانَ لَھَا خَمْسَۃُ صِبْیَۃٍ أَوْسِتَّۃٌ ِمنْ بَعْلٍ لَھَا مَاتَ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکِ مِنِّیْ؟)) قَالَتْ: وَاللّٰہِ! یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا یَمْنَعُنِی مِنْکَ اِلَّا أَنْ لَا تَکُوْنَ اَحَبَّ الْبَرِیَّۃِ اِلَیَّ، وَلٰکِنِّی اُکْرِمُکَ اَنْ یَضْغُوَ ھٰؤُلَائِ الصِّبْیَۃُ عِنْدَ رَأْسِکَ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، قَالَ: ((فَہَلْ مَنَعَکِ مِنِّیْ شَیْئٌ غَیْرُ ذٰلِکِ؟)) قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُکِ اللّٰہُ، اِنَّ خَیْرَ نِسَائٍ رَکِبْنَ اَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَائِ قُرَیْشٍ اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِیْ صِغَرٍ وَأَرْعَاہُ عَلٰی بَعْلٍ بِذَاتِ یَدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
Takhreej
(۶۸۶۳) تخریج: حسن لغیرہ دون ذکر اسم المرأۃ التی خطبھا النبیA وشھر بن حوشب علی ضعف فیہ حدیثہ حسن فی الشواھد، أخرجہ ابویعلی: ۲۶۸۶، والطبرانی: ۱۳۰۱۴ (انظر: ۲۹۲۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کے مال کی حفاظت کرنا خاتون کی بڑی صفات میں سے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سودہ نامی خاتون، ام ہانی ہی ہو، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں ہوا ہے، شاید اس کا لقب سودہ ہو، کیونکہ مشہور بات یہ ہے کہ اس کا نام فاختہ تھا، لیکن اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ کوئی اور خاتون ہو۔ بہرحالیہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ وہ سودہ نہیں ہے، جو آپ a کی بیوی تھیں، وہ سیدہ سودہ بنت زمعہ c تھیں اور آپ a نے سیدہ خدیجہc کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی، جب آپ a نے وفات پائی تو وہ زندہ تھیں۔
6863
Sahih
۔ (۶۸۶۴)۔ عَنْ کَرِیْمِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِہِ سَلْمٰی بِنْتِ جَابِرٍ اَنَّ زَوْجَہَا اسْتُشْہِدَ فَاَتَتْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَتْ: اِنِّی امْرَأَۃٌ قَدْ خَطَبَنِی الرِّجَالُ فَأَبَیْتُ اَنْ أَتَزَوَّجَ حَتّٰی اَلْقَاہُ فَتَرْجُوْ لِیْ اَنِ اجْتَمَعْتُ اَنَا وَھُوَ أَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَزْوَاجِہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَارَأَیْنَاکَ فَعَلْتَ ھٰذَا مُذْ قَاعَدْنَاکَ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِیْ بِیْ لُحُوْقًا فِی الْجَنَّۃ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْمَسَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۲۲)
۔ سیدنا سلمی بنت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔
Takhreej
(۶۸۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، کریم بن ابی حازم لم یرو عنہ غیر ابان بن عبد اللہ، ولم یوثقہ غیر ابن حبان، أخرجہ ابویعلی: ۵۳۲۸ (انظر: ۳۸۲۲)
Explanation
فوائد:… قریش، کنانہ، جدیلہ اور دورِ جاہلیت میں ان کے پیروکاروں کالقب احمس تھا، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے معاملے میں پکے تھے یایہ ہے کہ وہ ’’حمسائ‘‘ میںپناہ لیتے تھے، حمساء سے مراد کعبہ ہے۔ اس حدیث میں اس خاتون کا تعیین کے ساتھ ذکر نہیں ہے، تو پھر سیدنا ابن مسعودb نے سیدہ سلمیc کو اس کا مصداق کیسے ٹھہرایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمیc قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریمa نے ان کو بتلایا ہو۔
6864
Zaeef

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.