TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2211 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
CHAPTER: Regarding A Man Calling His Wife: ' My Sister' .
باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ:‏‏‏‏ يَا أُخَيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Tamimah reported from a man of his tribe “The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم heard a man say his wife “O my younger sister! So he prohibited him (addressing his wife in this manner) Abu Dawud said “This tradition has also been transmitted by Abd Al Aziz bin Al Mukhtar from Khalid from Abu Uthman from Abu Thamimah from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. This has also been narrated by Shubah from Khalid from a man on the authority of Abu Thamimah from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم.
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
2211
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2211 In-book reference : Book 13, Hadith 37 English translation : Book 12, Hadith 2205
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۵۹۹، ۱۸۸۴۶) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)

Related Chapters

606
1
Chapter: What has been related about the man who thinks to himself about divorcing his wife
باب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The prohibition of marriage to one's stepdaughter and the sister of one's wife
ربیبہ (بیوی کے سابقہ شوہر کی بیٹی )اور بیوی کی بہن سے نکاح کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
3
Chapter: What has been related about a man who divorces his wife irrevocably
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What has been related about a man whose father asks him to divorce (his wife)
باب: باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
5
(43) CHAPTER. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
6
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
7
(3) CHAPTER. To recite the Quran while lying in the lap of one's own menstruating wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کی گود میں حائضہ ہونے کے باوجود قرآن پڑھنا جائز ہے
Sahih Bukhari
8
(108) CHAPTER. Is it permissible to touch or push one's wife in prostration, in order to prostrate properly?
اس بیان میں کہ کیا مرد سجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو چھو سکتا ہے ؟ ( تاکہ وہ سکڑ کر جگہ چھوڑ دے کہ بآسانی سجدہ کیا جا سکے )
Sahih Bukhari
9
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
10
(31) CHAPTER. Can a person who has had sexual intercourse (with his wife) in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?
رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
11
(14) CHAPTER. Giving gifts by a husband to his wife, and by a wife to her husband.
خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو کچھ ہبہ کر دینا
Sahih Bukhari
12
(64) CHAPTER. The man's selection of one wive to accompany in holy battles.
آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے ( یہ درست ہے )
Sahih Bukhari
13
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
14
(67) CHAPTER. What a man should say on having a sexual intercourse with his wife.
جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے ۔
Sahih Bukhari
15
(84) CHAPTER. The advice of a man to his daughter regarding her husband.
آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
16
(26) CHAPTER. If a husband hints that he suspects his paternity to a child.
جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اورصاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
17
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
Sahih Bukhari
18
(13) CHAPTER. The expenditure of a poor man on his family.
مفلس آدمی کو ( جب کچھ ملے تو ) پہلے اپنی بیوی کو کھلاناواجب ہے ۔
Sahih Bukhari
19
(54) CHAPTER. What one should say before having sexual intercourse with his wife.
جب مرد اپنی بیوی کے پاس آئے تو کیادعا پڑھنی چاہئے
Sahih Bukhari
20
(20) CHAPTER. Whoever took an oath that he would not enter upon his wife for one month and that month was of twenty-nine days.
جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا
Sahih Bukhari
21
(40) CHAPTER. Whoever saw his wife with (committing illegal sexual intercourse) with another man and killed him.
اس مرد کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھا اور اسے قتل کر دیا ۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
22
Chapter: Recommendation to the one who sees a woman and is attracted to her, to go to his wife or slave woman and have intercourse with her
جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کے دل میں بس جائے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ اپنی بیوی یا زرخرید کنیز کے پاس آ کر اس سے صحبت کر لے
Sahih Muslim
23
Chapter: It is permissible for a man to have intercourse with his wife from the front or from the back, without entering the behind
دبر سے تعر ض کیے بغیر اپنی بیوی کی شرمگاہ میں آگے سے اور پیچھے سے مجامعت کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: Expiation must be offered by one who declares his wife to be unlawful for him but does not intend divorce thereby
جس نے اپنی بیوی کو حرام ٹھہرالیااور طلاق کی نیت نہ کی اس پرکفارہ واجب ہے
Sahih Muslim
25
Chapter: It Is Recommended For The One Who Is Seen Alone With A Woman Who Is His Wife Or Mahram, To Say; This Is So-And-So,' To Ward off Suspicion
جو شخص اپنی بیوی یا کسی محرم خاتون کے ساتھ اکیلا ہوتو وہ بدگمانی سے بچنے کے لئے (دیکھنے والوں کو) بتادے کہ یہ فلاں ہے
Sahih Muslim
26
CHAPTER: Regarding A Woman Who Asks Her Husband To Divorce Another Wife Of His.
باب: عورت اپنے ( ہونے والے ) شوہر سے یہ مطالبہ نہ کرے کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیدے ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding A Man Who Was Married To More Than Four Women, Or To Two Sisters, And Then He Accepts Islam.
باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: If A Man Finds A Man With His Wife, Should He Kill Him?
باب: جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے ؟
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Aman having the kunyah Abul-Qasim.
باب: آدمی اپنی کنیت ابوالقاسم رکھے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
30
Chapter: What Has Been Related About What Is Said When One Has Intercourse With His Wife
باب: آدمی بیوی کے پاس (صحبت کے لیے) آئے تو کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
31
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What has been related about: No woman should ask for the divorce of her sister
باب: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About A Man Having Relations With The Slave Girl Of His Wife
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Spending on Daughters And Sisters
باب: لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
Musnad Ahmad
38
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
39
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
40
ایک بیوی کا اپنا دن اپنی سوکن کو ہبہ کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان میں دن میں جماع کرنے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیتا ہے
Musnad Ahmad
42
لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
Musnad Ahmad
43
حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے
Musnad Ahmad
44
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
Musnad Ahmad
45
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
Musnad Ahmad
46
(12) CHAPTER. Having sexual intercourse and repeating it. And engaging with one's own wives and taking a single bath (after doing so).
جس نے جماع کیا اور پھر دوبارہ کیا اور جس نے اپنی کئی بیویوں سے ہمبستر ہو کر ایک ہی غسل کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
47
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
48
(41) CHAPTER. To talk with the family and the guests after the Isha prayer.
اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو ( عشاء کے بعد ) گفتگو کرنا
Sahih Bukhari
49
(5) CHAPTER. When a traveller leaves his original place, he can shorten his Salat (prayers).
جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی سے نکل جائے تو قصر کرے
Sahih Bukhari
50
(18) CHAPTER. Thinking of something during As-Salat (the prayer).
آدمی نماز میں کسی بات کا فکر کرے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,600
Sunnan Abu Dawood
3049
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ،‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُهُ إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُهُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ .
Narrated A man of Banu Taghlib: Harb ibn Ubaydullah ibn Umayr ath-Thaqafi told on the authority of his grandfather, a man of Banu Taghlib: I came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, embraced Islam, and he taught me Islam. He also taught me how I should take sadaqah from my people who had become Muslim. I then returned to him and said: Messenger of Allah, I remembered whatever you taught me except the sadaqah. Should I levy tithe on them? He replied: No, tithes are to be levied on Christians and Jews.
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلام سکھایا، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
Jam e Tirmazi
297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا. قال أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ.
Abu Hurairah narrated: Hadhf the Salam is a Sunnah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔
Jam e Tirmazi
2438
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ سِوَاكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سِوَايَ ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَامَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏أَبِي الْجَذْعَاءِ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ.
Abdullah bin Shaqiq Umamah narrated: I was with a troop in Jeruselem, and a man among them said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w)saying: From the intersection of one man in my Ummah more (people) then Banu Tamim will be admitted into Paradise.' It was said: 'O Messenger of Allah! Someone other than you?' He said: 'Other than me.' So when he stood, I said: 'Who is this?' They said: 'This is Ibn Abi Al-Jadh'a.'
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے“، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ ہو گا“، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔
Jam e Tirmazi
3650
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3766
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتُ لَأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لِامْرَأَتِهِ:‏‏‏‏ يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ،‏‏‏‏ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ،‏‏‏‏ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ.
Narrated Abu Hurairah: I used to ask a man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) concerning Ayat of the Qur'an which I would be more knowledgeable about than him, so that he might inform me something (more about them). So when I would ask Ja'far bin Abi Talib, he would not answer me until he would go with me to his place and say to his wife: 'O Asma, give us some food.' Once she had given us some food, he would answer me. And Ja'far used to love the poor and sit with them, and speak with them, and they would speak with him, so the Messenger of Allah (ﷺ) used to call him Abu Al-Masakin (the Father of the Poor).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
Sahih Bukhari
4889
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ وَتَعَالَيْ ، فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ ضَحِكَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 .
Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Messenger and said, O Allah's Messenger ! I am suffering from fatigue and hunger. The Prophet sent (somebody) to his wives (to get something), but the messenger found nothing with them. Then Allah's Messenger said (to his companions). Isn't there anybody who can entertain this man tonight so that Allah may be merciful to him? An Ansari man got up and said, I (will, entertain him), O Allah's Messenger ! So he went to his wife and said to her, This is the guest of Allah's Messenger , so do not keep anything away from him. She said. By Allah, I have nothing but the children's food. He said, When the children ask for their dinner, put them to bed and put out the light; we shall not take our meals tonight, She did so. In the morning the Ansari man went to Allah's Messenger who said, Allah was pleased with (or He bestowed His Mercy) on so-and-so and his wife (because of their good deed). Then Allah revealed: 'But give them preference over themselves even though they were in need of that.' (59.9)
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا ( کہ وہ آپ کی دعوت کریں ) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی ( ابوطلحہ ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں ( انصاری صحابی ) اور ان کی بیوی ( کے عمل ) کو پسند فرمایا۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة‏» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔
Sahih Muslim
89
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «كَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ كَذَّابًا
Ahmad bin Ibrāhīm ad-Dawraqī narrated to me, he said, Abd us-Salām al-Wābisī narrated to me, he said, Abd Allah bin Ja’far ar-Raqqī narrated to me, on authority of Ubayd Allah bin Amr, he said: ‘Yahyā bin Abī Unaysah was a liar’.
عبد اللہ بن جعفر رقی نے عبید اللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا ، کہا : یحییٰ بن ابی انیسہ جھوٹا تھا ۔
Sahih Muslim
304
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عَذَّبَهُ اللهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ، وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا، فَهْوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
It is narrated on the authority of Thabit b. Dahhak that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: He who took deliberately a false oath on a religion other than Islam would become that which he had professed. And he who killed himself with anything Allah would torment him with that in the Fire of Hell.
شعبہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، نیز سفیان ثوری نے بھی خالدحذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ارو انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق ( اسی مذہب سے ) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا ، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا ۔ ‘ ‘ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے ۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی ( اس روایت میں ’’جان بوجھ کر ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا ، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
352
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَ: «قَالَ اللهُ إِنَّ أُمَّتَكَ»
This hadith has been narrated by another chain of transmitters with the exception that Ishaq made no mention of this: Allah said: Verily your people.
اسحق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حسن بن علی نے زائدہ سے حدیث سنائی اور ان دونوں ( جریر اور زائدہ ) نے مختار سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، تاہم اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : بے شک آپ کی امت ....... ‘ ‘