TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Jihad (kitab al-jihad) - جہاد کے مسائل - Book 15 of Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation

Book 15 of Sunnan Abu Dawood, with 180 chapters and 311 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

311 Hadith · 180 Chapters
CHAPTER: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant.
باب: عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ .
Abu Hurarirah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying “A Muslim ruler is shield by which a battle is fought. ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے ( تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی ) ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۳۷۸۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ۱۰۹ (۲۹۵۷)، صحیح مسلم/الإمارة ۹ (۱۸۴۱)، سنن النسائی/البیعة ۳۰ (۴۲۰۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : امام اور امیر کی قیادت میں عام شہری اس کے حکم اور اس کی رائے اور اس کی طرف سے دشمن سے کیے گئے معاہدوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، ایسی صورت میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہوتا ہے ، جس کے ذریعے سے لوگ نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وارسے محفوظ رہتا ہے ،امام اور دشمن کے درمیان جو بات صلح اور اتفاق سے طے ہو جاتی ہے ، اس کے مطابق دونوں فریق اپنے مسائل حل کرتے ہیں، تو امام کے معاہدہ کے نتیجے میں لوگ دشمن کی ایذا سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے امام اور حاکم کی حیثیت امن اور جنگ میں ڈھال کی ہے ، جس سے رعایا فوائد حاصل کرتی ہے ، اور دشمن کے شر سے محفوظ رہتی ہے۔
2757
Sahih
CHAPTER: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant.
باب: عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ بُكَيْرٌ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا يَصْلُحُ.
Narrated Abu Rafi: The Quraysh sent me to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, and when I saw the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, Islam was cast into my heart, so I said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I shall never return to them. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم replied: I do not break a covenant or imprison messengers, but return, and if you feel the same as you do just now, come back. So I went away, and then came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and accepted Islam. The narrator Bukair said: He informed me that Abu Rafi was a Copt. Abu Dawud said: This was valid in those days, but today it is not valid.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے ( صلح حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا ، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا۔ بکیر کہتے ہیں: مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۱۳)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (۸۶۷۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی اسلام لے آنے والے قاصد کو کفار کی طرف لوٹا دینا اسی مدت کے اندر اور خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا، اب ایسا کرنا اسلامی کاز کے لئے بہتر نہیں ہے
2758
Sahih
CHAPTER: Regarding There Being A Covenant Between The Imam And The Enemy, And He Advances Towards Them (To Attack).
باب: جب امام اور دشمن میں معاہدہ ہو تو امام دشمن کے ملک میں جا سکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ غَزَاهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرُوا فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَشُدُّ عُقْدَةً وَلَا يَحُلُّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ.
Narrated Amr ibn Abasah: Sulaym ibn Amir, a man of Himyar, said: There was a covenant between Muawiyah and the Byzantines, and he was going towards their country, and when the covenant came to an end, he attacked them. A man came on a horse, or a packhorse saying, Allah is Most Great, Allah is Most Great; let there be faithfulness and not treachery. And when they looked they found that he was Amr ibn Abasah. Muawiyah sent for him and questioned him (about that). He said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: When one has covenant with people he must not strengthen or loosen it till its term comes to an end or he brings it to an end in agreement with them (to make both the parties equal). So Muawiyah returned.
سلیم بن عامر سے روایت ہے، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے، وہ کہتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے، ( اس مدت میں ) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان سے جنگ کی، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے ، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ۲۷ (۱۵۸۰)، (تحفة الأشراف: ۱۰۷۵۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۱۱، ۱۱۳، ۳۸۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو اس لئے ناپسند کیا کیونکہ معاہدہ کی مدت پوری ہونے کے فوراً بعد دشمن کو آگاہ کئے بغیر جنگ نامناسب تھی اور بہتر یہ تھا کہ مدت پوری ہونے کے بعد دشمن کو آگاہ کر دیا جاتا پھر جنگ شروع کی جاتی۔
2759
Sahih
CHAPTER: Regarding Fulfilling The Agreement For One Who Has A Covenant, And The Sanctity Of His Protection.
باب: ذمی اور جس سے عہد و پیمان ہو اس کا پاس و احترام ضروری ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ .
Narrated Abu Bakrah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone kills a man whom he grants protection prematurely, Allah will forbid him to enter Paradise.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/القسامة ۱۰(۴۷۵۱)، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۶، ۳۸، ۴۶،۵۰، ۵۱)، سنن الدارمی/السیر ۶۱ (۲۵۴۶)
2760
Sahih
CHAPTER: Regarding Sending Messengers.
باب: ایلچی اور سفیر کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مُسَيْلِمَةُ كَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ:‏‏‏‏ مَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا ؟ قَالَا:‏‏‏‏ نَقُولُ كَمَا قَالَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا .
Narrated Nuaym ibn Masud: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say when he read the letter of Musaylimah: What do you believe yourselves? They said: We believe as he believes. He said: I swear by Allah that were it not that messengers are not killed, I would cut off your heads.
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے ، ( یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۵۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۸۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مسیلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا، عبداللہ بن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کا پیام لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ قاصد قتل نہ کئے جائیں، تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا گیا بالآخر وحشی کے ہاتھوں مسیلمہ مارا گیا۔
2761
Sahih
CHAPTER: Regarding Sending Messengers.
باب: ایلچی اور سفیر کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْ الْعَرَبِ حِنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِفَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ .
Narrated Abdullah ibn Masud: Harithah ibn Mudarrib said that he came to Abdullah ibn Masud and said (to him): There is no enmity between me and any of the Arabs. I passed a mosque of Banu Hanifah. They (the people) believed in Musaylimah. Abdullah (ibn Masud) sent for them. They were brought, and he asked them to repent, except Ibn an-Nawwahah. He said to him: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: Were it not that you were not a messenger, I would behead you. But today you are not a messenger. He then ordered Qarazah ibn Kab (to kill him). He beheaded him in the market. Anyone who wants to see Ibn an-Nawwahah slain in the market (he may see him).
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا، اور ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے ۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۹۱۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۴)، سنن الدارمی/السیر ۶۰ (۲۵۴۵)
2762
Zaeef
CHAPTER: Regarding Protection Granted By A Woman.
باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا أَجَارَتْ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ .
Ibn Abbas said “Umm Hani daughter of Abu Talib told me that in the year of the conquest she gave protection to a man from the polytheists. She came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and mentioned it to him. He said “We have given security to those to whom you have given it. ”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۰۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ۴ (۳۵۷)، والجزیة ۹ (۳۱۷۱)، والأدب ۹۴ (۶۱۵۸)، صحیح مسلم/المسافرین ۱۶ (۳۳۶)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ۸ (۲۸)، مسند احمد (۶/۳۴۳، ۴۲۳)، دي الصلاة ۱۵۱ (۱۴۹۴)
2763
Sahih
CHAPTER: Regarding Protection Granted By A Woman.
باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَيَجُوزُ.
Narrated Aishah, Ummul Muminin: A woman would give security from the believers and it would be allowed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۹۸)
2764
Zaeef
CHAPTER: Regarding Treaties With The Enemy.
باب: دشمن سے صلح کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ:‏‏‏‏ وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ حَلْ حَلْ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا خَلَأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ خُطَّةً يُعَظِّمُونَ بِهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ والْمُغِيَرةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا الْإِسْلَامُ فَقَدْ قَبِلْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمَالُ فَإِنَّهُ مَالُ غَدْرٍ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَصَّ الْخَبَرَ فَقَالَ سُهَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ قُومُوا فَانْحَرُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ احْلِقُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ مُهَاجِرَاتٌ الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُمُ اللَّهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَعْنِي فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى إِذْ بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ قَدْ جَرَّبْتُ بِهِ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ:‏‏‏‏ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسجِدَ يَعْدُو، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ فَقَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَجَّانِي اللَّهُ مِنْهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْلَ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سَيْفَ الْبَحْرِ وَيَنْفَلِتُ أَبُو جَنْدَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ .
Al Miswar bin Makhramah said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Makkah) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my soul is, they will not ask any me good thing by which they honor which God has made sacred without my giving them it. He then urged her and she leaped up and he turned aside from them, and stopped at the farthest side of al-Hudaibiyyah at a pool with little water. Meanwhile Budail bin Warqa al-Khuza’I came, and Urwah bin Masud joined him. He began to speak to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Whenever he spoke to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, he caught his beard. Al Mughriah bin Shubah was standing beside the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He had a sword with him, wearing a helmet. He (Al Mughriah) struck his (Urwah’s) hand with the lower end of his sheath, and said: Keep away your hand from his beard. Urwah then raised his hand and asked: Who is this? They replied: Al-Mughirah bin Shubah. He said: O treacherous one! Did I not use my offices in your treachery? In pre-Islamic days Al-Mughirah bin Shubah accompanied some people and murdered them, and took their property. He then came (to the Prophet) and embraced Islam. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: As for Islam we accepted it, but as to the property, as it has been taken by treachery, we have no need of it. He went on with the tradition the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Write down: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has decided. He then narrated the tradition. Suhail then said: And that a man will not come to you from us, even if he follows your religion, without you sending him back to us. When he finished drawing up the document, the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to his Companions: Get up and sacrifice and then shave. Thereafter some believing women who were immigrants came. (Allah sent down: O yea who believe, when believing women come to you as emigrants). Allah most high forbade them to send them back, but ordered them to restore the dower. He then returned to Madina. Abu Basir a man from the Quraish (who was a Muslim), came to him. And they sent (two men) to look for him; so he handed him over to the two men. They took him away, and when they reached Dhu Al Hulaifah and alighted to eat some dates which they had, Abu Basir said to one of the men: I swear by Allah so-and-so, that I think this sword of yours is a fine one; the other drew the sword and said: Yes I have tried it. Abu Basir said: Let me look at it. He let him have it and he struck him till he died, whereupon the other fled and came to Madina, and running entered the mosque. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: This man has seen something frightful. He said: I swear by Allah that my Companion has been killed, and im as good as dead. Abu Basir then arrived and said: Allah has fulfilled your covenant. You returned me to them, but Allah saved me from them. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Woe to his mother, stirrer up of war! Would that he had someone (i. e. some kinsfolk). When he heard that he knew that he would send him back to them, so he went out and came to the seashore. Abu Jandal escaped and joined Abu Basir till a band of them collected.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: حل حل ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں، اس پر عروہ نے کہا: اے بدعہد! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے ۲؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۳؎ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھو، یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کی ہے ، پھر پورا قصہ بیان کیا۔ سہیل نے کہا: اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اٹھو اور اونٹ نحر ( ذبح ) کرو، پھر سر منڈا ڈالو ، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے، اس نے میان سے نکال کر کہا: ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں، ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی، تو انہوں نے ( اسی تلوار سے ) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، ( یہ دیکھ کر ) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ڈر گیا ہے ، وہ بولا: قسم اللہ کی! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنا عہد پورا کیا، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو اس کی ماں کے لیے، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا ، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور ( ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا ) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ۱۰۶ (۱۶۹۴)، والشروط ۱۶ (۲۷۳۴)، والمغازي ۳۵ (۴۱۴۸)، ن الحج ۶۲ (۲۷۷۲)، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۷۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۲۳، ۳۲۷، ۳۲۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ’’حل حل‘‘ : یہ کلمہ اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹنی رک جائے اور چلنا چھوڑ دے۔ ۲؎ : اصل واقعہ یہ ہے کہ بنو مالک کی شاخ ثقیف کے تیرہ لوگوں کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مقوقس مصر کی زیارت کے لئے نکلے تھے واپسی میں مقوقس مصر نے ان لوگوں کو خوب خوب ہدایا و تحائف دئیے لیکن مغیرہ رضی اللہ عنہ کو کم نوازا جس کی وجہ سے انہیں غیرت آ گئی، راستے میں ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور شراب اس قدر پی کہ سب مدہوش ہو گئے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اچھا موقع ہاتھ آیا انہوں نے سب کو قتل کر دیا اور سب کے سامان لے لئے، بعد میں مقتولین کے ورثاء نے عروہ بن مسعود ثقفی سے جھگڑا کیا کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ ان کے بھتیجے تھے بمشکل عروہ نے ان سب کو دیت پر راضی کرکے فیصلہ کرایا، اسی احسان کی طرف عروہ نے اشارہ کیا ہے۔ ۳؎ : کیونکہ یہ مکر اور فریب سے حاصل ہوا ہے۔
2765
Sahih
CHAPTER: Regarding Treaties With The Enemy.
باب: دشمن سے صلح کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏أنهم اصطلحوا على وضع الحرب عشر سنين، ‏‏‏‏‏‏يأمن فيهن الناس وعلى أن بيننا عيبة مكفوفة وأنه لا إسلال ولا إغلال.
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery.
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ ، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۵۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حدیث میں «عیبہ» کا لفظ آیا ہے ، جس کے معنی ایسی تھیلی یا گٹھری کے ہیں جس میں عمدہ کپڑے رکھے جاتے ہیں، یہاں دل کو «عیبہ» سے تشبیہ دی اور «مکفوفہ» کے معنی بندھے ہوئے کے ہیں، یعنی ہمارے درمیان کپڑوں کا صندوق بند رہے گا، یعنی ہمارا دل ہر طرح کے مکر و فساد ، کینے اور بدعہدی سے پاک ہو گا، عہد کی محافظت و پاسداری کی جائے گی اور دونوں طرف سے اب تک جو باتیں ہوئی ہیں انہیں لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا کسی کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ ۲؎ : بعض لوگوں کے یہاں حدیث میں وارد «إسلال» سے مراد تلواریں نکالنا ہے، اور «إغلال» سے مراد زرہ پہننا ہے، اور «لا إسلال ولا إغلال» کے معنی ہیں جنگ نہیں کریں گے۔
2766
Sahih
CHAPTER: Regarding Treaties With The Enemy.
باب: دشمن سے صلح کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَالَ مَكْحُولٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَر رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ .
Narrated Dhu Mikhbar: Hassan ibn Atiyyah said: Makhul and Ibn Zakariyya went to Khalid ibn Madan, and I also went along with them. He reported a tradition on the authority of Jubayr ibn Nufayr. He said: Go with us to Dhu Mikhbar, a man from the Companions of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. We came to him and Jubayr asked him about peace. He said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: You will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you.
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا خالد بن معدان کی طرف مڑے اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں: جبیر نے ( مجھ سے ) کہا: ہمیں ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں کے پاس لے چلو، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قریب ہے کہ تم روم سے ایسی صلح کرو گے کہ کوئی خوف نہ رہے گا، پھر تم اور وہ مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ۳۵ (۴۰۸۹)، (تحفة الأشراف: ۳۵۴۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۹۱، ۵/۴۰۹) ویأتی عند المؤلف فی الملاحم برقم (۴۲۹۳)
2767
Sahih
CHAPTER: To Attack The Enemy By Surprise And To Imitate Them.
باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ قَالَ:‏‏‏‏ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ قُلْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا الصَّدَقَةَ وَقَدْ عَنَّانَا قَالَ:‏‏‏‏ وَأَيْضًا لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ اتَّبَعْنَاهُ فَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ قَالَ كَعْبٌ:‏‏‏‏ أَيَّ شَيْءٍ تَرْهَنُونِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا تُرِيدُ مِنَّا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نِسَاءَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ ! نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا فَيَكُونُ ذَلِكَ عَارًا عَلَيْنَا قَالَ:‏‏‏‏ فَتَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنْتَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ قَالُوا:‏‏‏‏ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ يُرِيدُ السِّلَاحَ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ فَلَمَّا أَتَاهُ نَادَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُتَطَيِّبٌ يَنْضَحُ رَأْسُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ وَقَدْ كَانَ جَاءَ مَعَهُ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرُوا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عِنْدِي فُلَانَةُ وَهِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ النَّاسِ قَالَ:‏‏‏‏ تَأْذَنُ لِي فَأَشُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَشَمَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَعُودُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ دُونَكُمْ فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ .
Jabir reported: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Who will pursue Kaab bin Al-Ashraf, for he has caused trouble to Allah and His Messenger? Muhammad bin Maslamah stood up and said: I (shall do), Messenger of Allah. Do you want that I should kill him? He said: Yes. He said: So permit me to say something (against you). He said: Yes say. He then came to him (Kaab bin al-Ashraf) and said to him: This man has asked us for sadaqah (alms) and has put us into trouble. He (Kaab) said: You will be more grieved. He (Muhammad bin Maslamah) said: We have followed him and we do not like to forsake him until we see what will be the consequences of his matter. We wished if you could lend us one or two wasqs. Kaab said: What will you mortgage with me? He asked: what do you want from us? He replied: your Women. They said: Glory be to Allah: You are the most beautiful of the Arabs. If we mortgage our women with you, that will be a disgrace for us. He said “The mortgage your children. ” They said “Glory be to Allaah, a son of us may abuse saying “You were mortgaged for one or two wasqs. ” They said “We shall mortgage or coat of mail with you. By this he meant arms”. He said “Yes, when he came to him, he called him and he came out while he used perfume and his head was spreading fragrance. When he at with him and he came there accompanied by three or four persons who mentioned his perfume. He said “I have such and such woman with me. She is most fragrant of the women among the people. He (Muhammad bin Maslamah) asked “Do you permit me so that I may smell? He said “Yes. He then entered his hand through his hair and smell it. ” He said “May I repeat?” He said “Yes. He again entered his hand through his hair. When he got his complete control, he said “Take him. So he struck him until they killed him. ”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کہہ سکتے ہو ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرھن ۳ (۲۵۱۰)، والجھاد ۱۵۸ (۳۰۳۱)، والمغازي ۱۵ (۴۰۳۷)، صحیح مسلم/الجھاد ۴۲ (۱۸۰۱)، (تحفة الأشراف: ۲۵۲۴)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (۸۶۴۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا، دوسروں کو بھی اس پر ابھارتا تھا اس کے ساتھ ساتھ عہد شکنی کا مجرم بھی تھا اسی لئے آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔
2768
Sahih
CHAPTER: To Attack The Enemy By Surprise And To Imitate Them.
باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ الْهَمْدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ السُّدِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Faith prevented assassination. A believer should not assassinate.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۱۵)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۷۶ (۳۲۷۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : معلوم ہوا کہ غفلت میں پڑے ہوئے شخص کو قتل کرنا درست نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اس حدیث میں فتک ( غفلت میں قتل) کی ممانعت سے قبل کا ہے یا کعب کا قتل اس کی عہد شکنی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل ہجو کرنے اور اس پر دوسروں کو ابھارنے کی وجہ سے تھا۔
2769
Sahih
CHAPTER: Regarding Saying ' Allahu Akbar' When Reaching Every High Ground During A Journey.
باب: سفر میں ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، ‏‏‏‏‏‏صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَرَ عَبْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ .
Abdullah bin Umar said “When the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم returned from an expedition, Hajj or ‘Umrah on every rising piece of ground he would say three times “Allaah is Most Great” and he would say “There is no god bt Allaah alone who has no partner, to Whom the dominion belongs, to Whom praise is due, and Who is Omnipotent, serving, prostrating ourselves before our Lord and expressing praise. Allaah alone has kept his word, helped His servant and routed the confederate.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد یا حج و عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار «الله اكبر» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، او وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی جتھوں کو شکست دی ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ۱۲ (۱۷۹۷)، والجھاد ۱۳۳ (۲۹۹۵)، والمغازي ۲۹ (۴۱۱۶)، صحیح مسلم/الحج ۱۵ (۱۳۴۴)، سنن الترمذی/الحج ۱۰۴ (۹۵۰)، (تحفة الأشراف: ۸۳۳۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۶۳)
2770
Sahih
CHAPTER: Regarding The Permission For Returning From The Battle After It Had Been Prohibited.
باب: پہلے جہاد سے لوٹ آنا منع تھا بعد میں اس کی اجازت ہو گئی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 44 الْآيَةَ نَسَخَتْهَا الَّتِي فِي النُّورِ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 62.
Ibn Abbas said “The verse “Those who believe in Allaah and the Last Day ask thee for no exemption from fighting with their goods and persons” was abrogated by the verse “Only those are believers who believe in Allaah and His Messenger. . . . For Allaah is Oft-Forgiving, Most Merciful. ”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «لا يستأذنك الذين يؤمنون بالله واليوم الآخر» اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو کبھی بھی تجھ سے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر جہاد کرنے سے رکے رہنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے۔ ۔ ۔ ( سورۃ التوبہ: ۴۴ ) کو سورۃ النور کی آیت «إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله» سے «غفور رحيم» تک باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے، جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں، پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ( سورۃ النور: ۶۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۶۲۵۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : باب اور اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کسی صورت میں جہاد سے چھٹی لے کر گھر آ جانے کی اجازت نہیں تھی، پھر بعد میں اجازت لے کر آنے کی رخصت مل گئی۔ ابتدائے اسلام میں منافقوں کی عام روش یہ تھی کہ وہ جہاد کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلتے نہیں تھے، اور اگر نکلتے بھی تو طرح طرح کے بہانے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر راستہ ہی سے واپس آ جاتے تھے، تو اللہ تعالی نے آیت کریمہ نازل فرمائی : «إنما يستأذنك الذين لا يؤمنون بالله واليوم الآخر» ( سورۃ التوبہ: ۴۵ )، جب یہ آیت اتری تو جہاد سے راستہ سے واپس آنے کو ممنوع قرار دے دیا گیا، گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت ہی سے کیوں نہ ہو۔ پھر جب اسلام طاقتور ہو گیا گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کی کثرت ہو گئی تو اللہ تعالی نے سورہ نور کی آیت: «إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله» سے «غفور رحيم» تک نازل فرمائی، تو پہلی آیت منسوخ ہو گئی اور بوقت ضرورت اجازت لے کر جہاد سے واپس آجانے کو جائز قرار دے دیا گیا۔
2771
Sahih
CHAPTER: On Sending A Person Carrying Good News.
باب: جنگ میں فتح کی خوشخبری دینے والوں کو بھیجنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ.
Jarir (bin Abd Allaah) said “The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to me “Why do you not give me rest from Dhu Al Khulasah? He went there and burned it. He then sent a man from Ahmas to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم to give him good tidings. His surname was Artah.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
Takhreej
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ایک گھر تھا جس میں دوس اور خثعم کے بت رہتے تھے، اور بعضوں نے کہا خود بت کا نام تھا۔ ۲؎ : تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے کا مطلب ہے کہ کیا تم اسے برباد نہیں کروگے کہ خس کم جہاں پاک۔
2772
Sahih
CHAPTER: Regarding Giving A Present To The One Who Delivers Good News.
باب: خوشخبری لانے والے کو انعام دینے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ وَقَصَّ ابْنُ السَّرْحِ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّيْتُ الصُّبْحَ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْتُ صَارِخًا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي.
Kaab bin Malik said “When the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم arrived from a journey, he first went to a mosque where he prayed two rak’ahs after which he sat in it and gave audience to the people. The narrator Ibn Al Sarh then narrated the rest of the tradition. He said “The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم forbade the Muslims to speak to any three of us. When considerable time had passed on me, I ascended the wall of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allaah he did not return my salutation. I then offered the dawn prayer on the fiftieth day on the roof of one of our houses. I then hear d a crier say “Kaab bin Mailk, have good news”. When the man whose voice I heard came to me giving me good news, I took off my garments and clothed him. I went on till I entered the mosque. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was sitting there. Talhah bin Ubaid Allaah stood up and hastened to me till he shook hands with me and greeted me.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ( اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الجہاد ۱۹۸ (۳۰۸۸)، صحیح مسلم/المسافرین ۱۲ (۷۱۶)، سنن النسائی/المساجد ۳۸(۷۳۲)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۳۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ہم تینوں سے مراد کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم ہیں، یہ لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے غزوہ تبوک میں نہیں گئے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو ان لوگوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس کوئی عذر نہیں تھا، محض سستی کی وجہ سے ہم لوگ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے، اسی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔ ۲؎ : یہ توبہ قبول ہونے کی مبارکبادی تھی۔
2773
Sahih
CHAPTER: Regarding Prostration Out Of Gratitude.
باب: سجدہ شکر کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَهُ أَمْرُ سُرُورٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بُشِّرَ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ.
Narrated Abu Bakrah: When anything came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم which caused pleasure (or, by which he was made glad), he prostrated himself in gratitude to Allah.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ۲۵ (۱۵۷۸)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۹۲ (۱۳۹۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۹۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اسے سجدہ شکر کہتے ہیں، جو ائمہ اسلام شافعی، احمد، اور محمد کے نزدیک مسنون اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
2774
Sahih
CHAPTER: Regarding Prostration Out Of Gratitude.
باب: سجدہ شکر کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ،‏‏‏‏عَنْ الأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا نَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ. حينَ حَدَّثَنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ.
Narrated Saad ibn Abu Waqqas: We went out with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم from Makkah making for Madina. When we were near Azwara', he alighted, then raised his hands, and made supplication to Allah for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. Then he stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself, remaining a long time in prostration. He then stood up and raised his hands for a time, after which he prostrated himself. Ahmad mentioned it three times. He then said: I begged my Lord and made intercession for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people, and He gave me a third of my people, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Then I raised my head and begged my Lord for my people and He gave me the remaining third, so I prostrated myself in gratitude to my Lord. Abu Dawud said: When Ahmad bin Salih narrated this tradition to us, he omitted the name of Ashath bin Ishaq, but Musa bin Sahl al-Ramli narrated it to us through him.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ۱؎کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۳۸۷۰) (اس کے راوی ابن عثمان مجہول اور اشعث لین الحدیث ہیں)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جحفہ کے پاس ایک گھاٹی کا نام ہے۔
2775
Zaeef
CHAPTER: Regarding At-Turuq (Returning From A Journey To The Family At Night).
باب: رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا.
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم disapproved that a man should come to his family during the night (after returning from a journey).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمرة (الحج) ۱۶(۱۸۰۱)، صحیح مسلم/الإمارة ۵۶ (۷۱۵)، (تحفة الأشراف: ۲۵۷۷)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان ۱۹ (۲۷۱۳)، مسند احمد (۳/۲۹۹، ۳۰۲)
2776
Sahih

Chapters

180
01
CHAPTER: What Has Been Reported About Hijrah (Emigration) And Living In The Desert Areas.
باب: ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان ۔
2 Hadith
02
CHAPTER: Regarding Hijrah: Has It Ended?
باب: کیا ہجرت ختم ہو گئی ؟
3 Hadith
03
CHAPTER: Regarding Residing In As-Sham.
باب: شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان ۔
2 Hadith
04
CHAPTER: Regarding The Continuance Of Jihad.
باب: جہاد کے ہمیشہ رہنے کا بیان ۔
1 Hadith
05
CHAPTER: Regarding The Reward Of Jihad.
باب: جہاد کے ثواب کا بیان ۔
1 Hadith
06
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Wandering (As-Siyahah).
باب: سیاحت کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
07
CHAPTER: Regarding The Virtues Of Returning Home From An Expedition.
باب: جہاد سے ( فارغ ہو کر ) لوٹنے کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
08
CHAPTER: Regarding The Virtues Of Fighting The Romans Compared To The Other Nations.
باب: دوسری قوموں کے مقابلے میں رومیوں سے لڑنے کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
09
CHAPTER: Regarding Sailing On The Sea While Going On An Expedition.
باب: جہاد کے لیے سمندر کے سفر کا بیان ۔
1 Hadith
10
CHAPTER: The Virtues Of Jihad At Sea.
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان ۔
5 Hadith
11
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Killing Disbeliever.
باب: کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
12
CHAPTER: Regarding The Detachment That Returns Without Any Spoils.
باب: مال غنیمت کے بغیر واپس ہونے والے لشکر کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
13
CHAPTER: Doubling (The Reward For) The Remembrance In The Cause Of Allah, The Mighty And Sublime.
باب: جہاد میں ذکر الٰہی کا ثواب دوگنا ہو جاتا ہے ۔
1 Hadith
14
CHAPTER: Regarding One Who Died In Batlle.
باب: جہاد کرتے ہوئے مر جانے والے کی فضیلت کا بیان ۔
2 Hadith
15
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Keeping Watch In The Cause Of Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
16
CHAPTER: That It Is Disliked To Abandon Fighting.
باب: جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان ۔
3 Hadith
17
CHAPTER: Regarding Abrogation Of The Command For Mass Deployment By Specific Deployment.
باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی ۔
2 Hadith
18
CHAPTER: The Allowance To Stay Behing Due To An Excuse.
باب: عذر کی بنا پر جہاد میں نہ جانے کی اجازت کا بیان ۔
2 Hadith
19
CHAPTER: What Is Accepted As Participation In Battle.
باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے ؟
2 Hadith
20
CHAPTER: Regarding Bravery And Cowardice.
باب: بہادری اور بزدلی کا بیان ۔
1 Hadith
21
CHAPTER: Regarding The Saying Of Allah, The Mighty And Sublime: And Do Not Throw Yourself Into Destruction.
باب: آیت کریمہ «ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» کی تفسیر ۔
1 Hadith
22
CHAPTER: Regarding Shooting.
باب: تیر اندازی کا بیان ۔
2 Hadith
23
CHAPTER: Regarding A Person Who Fights For Worldly Gain.
باب: دنیا طلبی کی خاطر جہاد کرنے والے کا بیان ۔
2 Hadith
24
CHAPTER: Whoever Fights So That The Word Of Allah Is Uppermost.
باب: اللہ کا کلمہ ( یعنی دین ) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان ۔
3 Hadith
25
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Martyrdom.
باب: شہادت کی فضیلت کا بیان ۔
2 Hadith
26
CHAPTER: Regarding The Acceptance Of The Martyr’s Intercession.
باب: شہید کی شفاعت کی قبولیت کا بیان ۔
1 Hadith
27
CHAPTER: Regarding The Visible Light At The Martyr’s Grave.
باب: شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان ۔
2 Hadith
28
CHAPTER: Regarding Fighting For Wages.
باب: مزدوری پر جہاد کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
29
CHAPTER: The Allowance To Take Wages.
باب: جہاد پر اجرت لینے کی رخصت کا بیان ۔
1 Hadith
30
CHAPTER: A Man Who Fights For The Wages Of His Service.
باب: آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے ۔
1 Hadith
31
CHAPTER: Regarding A Man Who Goes To Battle While His Parents Object.
باب: ماں باپ کی مرضی کے بغیر جہاد کرنے والے کا بیان ۔
3 Hadith
32
CHAPTER: Regarding Women Participating In Battle.
باب: عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں ۔
1 Hadith
33
CHAPTER: Regarding Fighting Against The Tyrant Rulers.
باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
34
CHAPTER: A Person Being Transported For Battle At The Expense Of Others.
باب: دوسرے کی سواری پر جہاد کے ارادے سے سوار ہونے کا بیان ۔
1 Hadith
35
CHAPTER: Regarding A Person Going To Battle, Seeking Reward And Spoils Of War.
باب: ثواب اور مال غنیمت کی نیت سے جہاد کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
36
CHAPTER: A Person Who Sells His Self (For The Sake Of Allah).
باب: آدمی اپنی جان اللہ کے ہاتھ بیچ ڈالے اس کے ثواب کا بیان ۔
1 Hadith
37
CHAPTER: A Person Who Accepts Islam, And Is Killed In The Same Spot, In The Cause Of Allah, The Most High.
باب: اسلام لا کر اسی جگہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے شخص کا بیان ۔
1 Hadith
38
CHAPTER: Regarding A Man Who Dies By His Own Weapon.
باب: اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان ۔
2 Hadith
39
CHAPTER: Supplication When Meeting (The Enemy).
باب: مڈبھیڑ کے وقت دعا ( کی قبولیت ) کا بیان ۔
1 Hadith
40
CHAPTER: Regarding A Person Who Asks Allah For Martyrdom.
باب: اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگنے والے شخص کا بیان ۔
1 Hadith
41
CHAPTER: Regarding It Being Disliked To Clip The Forelocks And Tails Of Horses.
باب: گھوڑے کی پیشانی اور دم کے بال کاٹنے کی کراہت کا بیان ۔
1 Hadith
42
CHAPTER: Regarding What Colors Are Recommended In Horses.
باب: گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان ۔
3 Hadith
43
CHAPTER: Can A Mare Be Called A (Faras ) Horse?
باب: کیا گھوڑی کا نام فرس رکھا جائے گا ؟
1 Hadith
44
CHAPTER: What Is Disliked Among Horses.
باب: ناپسندیدہ گھوڑوں کا بیان ۔
1 Hadith
45
CHAPTER: What Has Been Commanded Regarding Proper Care For Riding Beasts And Cattle.
باب: جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کے حکم کا بیان ۔
3 Hadith
46
CHAPTER: Regarding Dismounting At Camps.
باب: منزل پر اترنے کا بیان ۔
1 Hadith
47
CHAPTER: Regarding Garlanding Horses With Bowstrings.
باب: گھوڑے کی گردن میں تانت کے گنڈے پہنانے کا بیان ۔
1 Hadith
48
CHAPTER: Being Kind To Horses, And Keeping Them, And Rubbing Down Their Rump.
باب: گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان ۔
1 Hadith
49
CHAPTER: Regarding Hanging Bells (From The Necks Of Animals).
باب: جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا بیان ۔
3 Hadith
50
CHAPTER: Regarding Riding Al-Jallalah (Animals That Eat Dung And Filth).
باب: گندگی کھانے والے جانور پر سواری منع ہے ۔
2 Hadith
51
CHAPTER: Regarding A Person Naming His Riding Beast.
باب: آدمی اپنے جانور کا نام رکھے اس کا بیان ۔
1 Hadith
52
CHAPTER: Regarding Calling Out During The Time Of Departure (For Battle): ' O Allah’s Horseman! Ride' .
باب: کوچ کے لیے اعلان کے وقت ’’ اے اللہ کے شہسوار سوار ہو جا ‘‘ کہنے کا بیان
1 Hadith
53
CHAPTER: The Prohibition Of Cursing An Animal.
باب: جانوروں پر لعنت بھیجنے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
54
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Instigating Fights Among Beasts.
باب: جانوروں کو لڑانے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
55
CHAPTER: Regarding Branding Animals.
باب: جانوروں پر نشان لگانے کا بیان ۔
1 Hadith
56
CHAPTER: The Prohibition Of Branding The Face, And Striking The Face.
باب: چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے ۔
1 Hadith
57
CHAPTER: The Prohibition Of Studding Donkeys With Mare Horses.
باب: گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی ( ملاپ ) مکروہ ہے ۔
1 Hadith
58
CHAPTER: Regarding Three People Riding An Animal.
باب: تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان ۔
1 Hadith
59
CHAPTER: Regarding Remaining Halted Aton An Animal.
باب: جانور پر ( بغیر ضرورت ) بیٹھے رہنا منع ہے ۔
1 Hadith
60
CHAPTER: On Side Camels.
باب: کوتل اونٹوں کا بیان ۔
1 Hadith
61
CHAPTER: Regarding Traveling Fast, And Prohibition Of Staying On Roads At Night.
باب: سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان ۔
2 Hadith
62
CHAPTER: Traveling At Night.
باب: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
63
CHAPTER: The Owner Of The Animal Is More Entitled To Ride In The Front.
باب: جانور کا مالک اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے ۔
1 Hadith
64
CHAPTER: Regarding The Animal That Is Hamstrung During War.
باب: جانور کی کونچ لڑائی میں کاٹ دئیے جانے کا بیان ۔
1 Hadith
65
CHAPTER: Regrding Stakes In Racing.
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان ۔
4 Hadith
66
CHAPTER: Regarding Foot Races.
باب: پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان ۔
1 Hadith
67
CHAPTER: Regarding Al-Muhallil (Entering A Third Horse In A Race With Two Other Horses For A Stake).
باب: گھوڑ دوڑ میں محلل کی شرکت کا بیان ۔
2 Hadith
68
CHAPTER: Practicing Al-Jalab With Horses In Racing.
باب: گھوڑ دوڑ میں کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنے کا بیان ۔
2 Hadith
69
CHAPTER: Regarding Embellishing The Sword With Silver.
باب: تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان ۔
3 Hadith
70
CHAPTER: Regarding Entering The Masjid With An Arrow.
باب: تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان ۔
2 Hadith
71
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Passing An Unsheathed Sword.
باب: ننگی تلوار دینے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
72
CHAPTER: The Prohibition Of Cutting A Strap Between Two Fingers.
باب: چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنا منع ہے ۔
1 Hadith
73
CHAPTER: Regarding Wearing Coats Of Mail.
باب: زرہ پہننے کا بیان ۔
1 Hadith
74
CHAPTER: On Flags And Banners.
باب: جنگ میں جھنڈے اور پرچم لہرانے کا بیان ۔
3 Hadith
75
CHAPTER: Seeking Assistance From Allah By (Supplication, Worship Etc.) Of Weak Horses and Weak People.
باب: ضعیف اور بے کس لوگوں کے واسطہ سے مدد مانگنے کا بیان ۔
1 Hadith
76
CHAPTER: Regarding A Man Who Calls Out A Code Word.
باب: شعار ( کوڈ ) کو پکار کر کہنے کا بیان ۔
3 Hadith
77
CHAPTER: What A Man Should Say When Setting Out On A Journey.
باب: سفر کے وقت آدمی کیا دعا پڑھے ؟
2 Hadith
78
CHAPTER: Regarding The Supplication During A Farewell.
باب: الوداع ( رخصت ) کرتے وقت کی دعا کا بیان ۔
2 Hadith
79
CHAPTER: Supplication At The Time Of Mounting An Animal.
باب: سواری پر چڑھتے وقت سوار کیا دعا پڑھے ؟
1 Hadith
80
CHAPTER: What A Man Says When Dismounting At Camp.
باب: جب آدمی منزل پر پڑاؤ ڈالے تو کیا دعا پڑھے ؟
1 Hadith
81
CHAPTER: Regarding The Disapproval Of Traveling At The Beginning Of The Night.
باب: شروع رات میں چلنا مکروہ ہے ۔
1 Hadith
82
CHAPTER: Regarding Which Day Is Recommended For Travel.
باب: کس دن سفر کرنا مستحب ہے ؟
1 Hadith
83
CHAPTER: Regarding Setting Out On A Journey During The Early Hours Of The Day.
باب: سفر میں صبح سویرے نکلنے کا بیان ۔
1 Hadith
84
CHAPTER: Regarding A Man Traveling Alone.
باب: تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
85
CHAPTER: A Group Of People Traveling Together Putting One Of Them In Charge.
باب: ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں ۔
2 Hadith
86
CHAPTER: Regarding Traveling To The Territory Of The Enemy With The Mushaf.
باب: قرآن کریم کے ساتھ دشمن کی سر زمین میں جانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
87
CHAPTER: Regarding What Is Recommended In Armies, Companies, And Expeditions.
باب: چھوٹے بڑے لشکر ، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے ۔
1 Hadith
88
CHAPTER: Regarding Calling Idolators To Islam.
باب: کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
3 Hadith
89
CHAPTER: Regarding Burning In Enemy Territories.
باب: دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان ۔
3 Hadith
90
CHAPTER: Regarding Sending Spies.
باب: جاسوس بھیجنے کا بیان ۔
1 Hadith
91
CHAPTER: Regarding A Wayfarer Eating Dates And Drinking Milk He Passes By.
باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے ۔
3 Hadith
92
CHAPTER: Whoever Said That He Many Eat From What Has Fallen.
باب: زمین پر گری ہوئی چیزوں کے کھانے کا بیان ۔
1 Hadith
93
CHAPTER: Regarding Whoever Said That He May Not Milk (An Animal Without Permission).
باب: بغیر اجازت کے کسی کے جانور کا دودھ نہ نکالے ۔
1 Hadith
94
CHAPTER: Regarding Obedience.
باب: امیر لشکر کی اطاعت کا بیان ۔
4 Hadith
95
CHAPTER: What Has Been Ordered Regarding Keeping The Army Close Together (When Camping).
باب: لشکر کو اکٹھا رکھنے اور دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے کا حکم ۔
3 Hadith
96
CHAPTER: Regarding The Disapproval Of Desiring To Encounter The Enemy.
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو اور تمنا مکروہ ہے ۔
1 Hadith
97
CHAPTER: What Supplication Is Made When Encountering The Enemy.
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت کی دعا کا بیان ۔
1 Hadith
98
CHAPTER: Calling The Idolaters (To Accept Islam).
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
3 Hadith
99
CHAPTER: Deception During War.
باب: جنگ میں حیلہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
100
CHAPTER: Attacking The Enemy During The Night.
باب: شب خون ( رات میں چھاپہ ) مارنے کا بیان ۔
1 Hadith
101
CHAPTER: Staying In The Rear Guard.
باب: امام کا لشکر کے پچھلے دستہ کے ساتھ رہنے کا بیان ۔
1 Hadith
102
CHAPTER: What The Idolates Are To Be Fought For.
باب: کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے ۔
5 Hadith
103
CHAPTER: The Prohibition Of Fighting A Person Who Seeks Protection By Prostrating.
باب: جو سجدہ کر کے پناہ حاصل کرے اس کو قتل کرنا منع ہے ۔
1 Hadith
104
CHAPTER: Fleeing On The Day Of The March.
باب: میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان ۔
3 Hadith
105
CHAPTER: Regarding A Captive Being Compelled Into Disbelief.
باب: مسلمان قیدی کفر پر مجبور کیا جائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
1 Hadith
106
CHAPTER: Ragarding The Judgement For The Spy When He Is A Muslim.
باب: جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان ۔
2 Hadith
107
CHAPTER: Regarding A Spy That Is A Dhimmi.
باب: مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے والے ذمی کافر کا حکم کیا ہے ؟
1 Hadith
108
CHAPTER: Regarding A Spy Who Is Under Protection (In A Muslim Territory).
باب: جو کافر امن لے کر مسلمانوں میں جاسوسی کے لیے آیا ہو اس کے حکم کا بیان ۔
2 Hadith
109
CHAPTER: Regarding What Time Is Recommended For The Encounter.
باب: دشمن سے لڑائی کس وقت بہتر ہے ؟
1 Hadith
110
CHAPTER: Regarding The Order To Keep Silent At The Time Of The Encounter.
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت خاموش رہنے کا حکم ۔
2 Hadith
111
CHAPTER: Regarding A Man Walking During The Encounter.
باب: مڈبھیڑ کے وقت سواری سے اتر کر پیدل چلنے کا بیان ۔
1 Hadith
112
CHAPTER: Regarding Pride During Battle.
باب: لڑائی میں غرور اور تکبر کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
113
CHAPTER: Regarding A Man Being Taken Captive.
باب: مجاہد قیدی بنا لیا جائے تو کیا کرے ؟
2 Hadith
114
CHAPTER: Regarding Lying In Ambush.
باب: کمین ( گھات ) میں بیٹھنے والوں کا بیان ۔
1 Hadith
115
CHAPTER: Regarding Rows.
باب: جنگ میں صف بندی کا بیان ۔
1 Hadith
116
CHAPTER: Regarding Drawing Swords During The Encounter.
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت تلوار نکال لینے کا بیان ۔
1 Hadith
117
CHAPTER: Regarding Duals.
باب: مقابل یا حریف کو مقابلہ میں آنے کی دعوت دینے کا بیان ۔
1 Hadith
118
CHAPTER: Regarding The Prohibtion Of Mutilation.
باب: مثلہ ( ناک ، کان کاٹنے ) کی ممانعت کا بیان ۔
2 Hadith
119
CHAPTER: Regarding Killing Women.
باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان ۔
5 Hadith
120
CHAPTER: Regarding The Abhorrance Of Burning The Enemy With Fire.
باب: دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان ۔
3 Hadith
121
CHAPTER: Regarding A Man Who Rents His Riding Animal For Half Or A Share (Of The Spoils).
باب: آدمی اپنا جانور مال غنیمت کے آدھے یا پورے حصے کے بدلے کرایہ پر دے ۔
1 Hadith
122
CHAPTER: Regarding Shackling Captives.
باب: قیدی کے باندھنے کا بیان ۔
4 Hadith
123
CHAPTER: Regarding Abusing And Beating A Captive, (And Confession).
باب: قیدی کو مارنے پیٹنے اور ڈانٹ پلانے کا بیان ۔
1 Hadith
124
CHAPTER: Regarding Compelling A Captive To Accept Islam.
باب: قیدی کو اسلام لانے کے لیے مجبور نہ کئے جانے کا بیان ۔
1 Hadith
125
CHAPTER: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam.
باب: قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان ۔
3 Hadith
126
CHAPTER: To Kill A Captive While Imprisioned.
باب: قیدی کو باندھ کر مار ڈالنے کا بیان ۔
1 Hadith
127
CHAPTER: To Kill A Captive With An Arrow.
باب: قیدی کو باندھ کر تیروں سے مار ڈالنے کا بیان ۔
1 Hadith
128
CHAPTER: Regarding The Generosity In Freeing A Captive Without Any Ransom.
باب: قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان ۔
2 Hadith
129
CHAPTER: Regarding Ransoming Captives With Wealth.
باب: قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان
5 Hadith
130
CHAPTER: Regarding The Leader Remaining At The Battlefield After Victory Over The Enemy.
باب: دشمن پر غلبہ پانے کے بعد امام کا میدان جنگ میں ٹھہرنا ۔
1 Hadith
131
باب: قیدیوں کو الگ الگ کر دینے کا بیان ۔
1 Hadith
132
CHAPTER: The Permissiong To Separate In The Case Of Those (Captives) Who Reached Puberty.
باب: جوان قیدیوں کو الگ الگ رکھنا جائز ہے ۔
1 Hadith
133
CHAPTER: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils.
باب: دشمن جنگ میں کسی مسلمان کا مال لوٹ کر لے جائے پھر مالک اسے غنیمت میں پائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
2 Hadith
134
CHAPTER: Regarding Slavs Of The Idolaters Who Join the Muslims And Accept Islam.
باب: کفار و مشرکین کے غلام مسلمانوں سے آ ملیں اور مسلمان ہو جائیں تو کیا کیا جائے ؟
1 Hadith
135
CHAPTER: Permitting Food In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے ملک میں ( غنیمت میں ) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے ۔
2 Hadith
136
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Plundering When Food Is Scarce In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے ۔
3 Hadith
137
CHAPTER: Regarding Carrying Food Out Of The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کی زمین سے اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں لانے کا بیان ۔
1 Hadith
138
CHAPTER: Regarding Selling Food When There Is Surplus For The People In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان ۔
1 Hadith
139
CHAPTER: Regarding A Man Benefits From Something In The Spoils.
باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
140
CHAPTER: Regarding The Permissibility Of Using The Weapons That Have Been Used For Fighting In The Battlefield.
باب: لڑائی میں غنیمت کے ہتھیار کا استعمال جائز ہے ۔
1 Hadith
141
CHAPTER: Regarding The Gravity Of Ghulul.
باب: مال غنیمت میں چوری بڑا گناہ ہے ۔
2 Hadith
142
CHAPTER: Regarding The Imam Leaving the Ghulul When It Is Minimal, And Not Burning The Equipment.
باب: مال غنیمت میں سے کوئی معمولی چیز چرا لے تو امام اس کو چھوڑ دے اور اس کا سامان نہ جلائے ۔
1 Hadith
143
CHAPTER: Regarding Punishing The One Who Commits Ghulul.
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان ۔
3 Hadith
144
CHAPTER: The Prohibition Of Harboring A Person Who Committed Ghulul.
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے پر پردہ ڈالنا منع ہے ۔
1 Hadith
145
CHAPTER: Regarding The Salab (Spoils) Being Given To The Person Who Killed.
باب: جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ۔
2 Hadith
146
CHAPTER: Regarding The Imam Denying The Spoils (Salab To The Person Who Killed, If He Sees Fit To, And The Horse And Weapon Are Parts Of The Spoils (Salab).
باب: امام کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاتل کو مقتول کا سامان نہ دے ، گھوڑا اور ہتھیار بھی مقتول کے سامان میں سے ہے ۔
2 Hadith
147
CHAPTER: The Spoils(Salab) Are Not Be Subjected To The Khumus.
باب: قاتل کو مقتول سے جو سامان ملا ہے اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نہ نکالا جائے گا ۔
1 Hadith
148
CHAPTER: Whoever Finishes Off A Severly Wounded Person, He Is Granted Some Of His Spoils (Salab).
باب: زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا ۔
1 Hadith
149
CHAPTER: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him.
باب: جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا ۔
4 Hadith
150
CHAPTER: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils.
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان ۔
5 Hadith
151
CHAPTER: Regarding An Idolater Being Alloted A Share.
باب: لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟
1 Hadith
152
CHAPTER: Alloting Two Shares For The Horse.
باب: گھوڑے کے حصے کا بیان ۔
3 Hadith
153
CHAPTER: Regarding Giving Only One Portion (For The Horse).
باب: جس کے نزدیک گھوڑے کو ایک حصہ دینا چاہئے اس کی دلیل کا بیان ۔
1 Hadith
154
CHAPTER: Regarding The Nafl.
باب: نفل کا بیان ۔
4 Hadith
155
CHAPTER: Regarding The Nafl In The Case Of Detachement Of The Army.
باب: لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان ۔
7 Hadith
156
CHAPTER: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl.
باب: مال غنیمت میں سے نفل ( انعام ) دینے سے پہلے خمس ( پانچویں حصہ ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
3 Hadith
157
CHAPTER: The Spoils Acquired By A Detachment Should Be Divided Among The Whole Army.
باب: اس فوجی دستہ کا بیان جو واپس لوٹ کر لشکر میں مل جائے ۔
2 Hadith
158
CHAPTER: Regarding The Nafl Of Gold And Silver, And From The Spoils Gained In The Beginning (Of The Battle).
باب: سونے ، چاندی اور مال غنیمت سے نفل ( انعام ) دینے کا بیان ۔
2 Hadith
159
CHAPTER: Regarding The Imam Taking Something From The Fa’i For Himself.
باب: مال فے میں سے امام کا اپنے لیے کچھ رکھ لینے کا بیان ۔
1 Hadith
160
CHAPTER: Regarding Fulfilling The Covenant.
باب: عہد و پیمان کو نبھانے کا بیان ۔
1 Hadith
161
CHAPTER: Regarding The Imam Is The Shield Of The Covenant.
باب: عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے
2 Hadith
162
CHAPTER: Regarding There Being A Covenant Between The Imam And The Enemy, And He Advances Towards Them (To Attack).
باب: جب امام اور دشمن میں معاہدہ ہو تو امام دشمن کے ملک میں جا سکتا ہے ۔
1 Hadith
163
CHAPTER: Regarding Fulfilling The Agreement For One Who Has A Covenant, And The Sanctity Of His Protection.
باب: ذمی اور جس سے عہد و پیمان ہو اس کا پاس و احترام ضروری ہے ۔
1 Hadith
164
CHAPTER: Regarding Sending Messengers.
باب: ایلچی اور سفیر کا بیان ۔
2 Hadith
165
CHAPTER: Regarding Protection Granted By A Woman.
باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان ۔
2 Hadith
166
CHAPTER: Regarding Treaties With The Enemy.
باب: دشمن سے صلح کرنے کا بیان ۔
3 Hadith
167
CHAPTER: To Attack The Enemy By Surprise And To Imitate Them.
باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے ۔
2 Hadith
168
CHAPTER: Regarding Saying ' Allahu Akbar' When Reaching Every High Ground During A Journey.
باب: سفر میں ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان ۔
1 Hadith
169
CHAPTER: Regarding The Permission For Returning From The Battle After It Had Been Prohibited.
باب: پہلے جہاد سے لوٹ آنا منع تھا بعد میں اس کی اجازت ہو گئی ۔
1 Hadith
170
CHAPTER: On Sending A Person Carrying Good News.
باب: جنگ میں فتح کی خوشخبری دینے والوں کو بھیجنے کا بیان ۔
1 Hadith
171
CHAPTER: Regarding Giving A Present To The One Who Delivers Good News.
باب: خوشخبری لانے والے کو انعام دینے کا بیان ۔
1 Hadith
172
CHAPTER: Regarding Prostration Out Of Gratitude.
باب: سجدہ شکر کا بیان ۔
2 Hadith
173
CHAPTER: Regarding At-Turuq (Returning From A Journey To The Family At Night).
باب: رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے ؟
3 Hadith
174
CHAPTER: Regarding Reception.
باب: مسافر کا استقبال کرنا ۔
1 Hadith
175
CHAPTER: Regarding What Is Recommended Of Spending All The Supplies In Battle Upon The Return Of The Warrior.
باب: جہاد سے واپسی میں زادراہ ختم ہو جانے پر دوسروں سے مانگنے کا بیان ۔
1 Hadith
176
CHAPTER: Regarding The Salat Performed Upon Returning From A Journey.
باب: سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان ۔
2 Hadith
177
CHAPTER: Regarding Wages For The One Who Distributes The Spoils.
باب: تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان ۔
2 Hadith
178
CHAPTER: Engaging In Trade During Battle.
باب: جہاد میں تجارت کا بیان ۔
1 Hadith
179
CHAPTER: Regarding Carrying Weapons To The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے ملک میں ہتھیار جانے دینے کا بیان ۔
1 Hadith
180
CHAPTER: Regarding Residing In The Land Of Shirk.
باب: شرک کی سر زمین میں رہائش اختیار کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
No chapter matched that.

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.