The book of purification and its sunnah - طہارت اور اس کے احکام و مسائلت اور اس کے احکام و مسائل - Book 2 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 2 of Sunnan Ibn e Maja, with 88 chapters and 298 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
It was narrated from Umm Kurz that:
The Messenger of Allah said: The urine of a boy should be sprinkled over and the urine of a girl should be washed.
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۸۳۵۰، ومصباح الزجاجة: ۲۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/ ۴۲۲، ۴۴۰، ۴۶۴)
Explanation
احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں شریعت نے فرق رکھا ہے، اس کو روکنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات فاسدہ کرنا محض تعصب بے جا کی کرشمہ سازی ہے، مسلمان کو اس کے رسول کا فرمان کافی ہے، اس کے سامنے اسے کسی دوسری طرف نہیں دیکھنا چاہئے
It was narrated from Anas bin Malik that:
A Bedouin urinated in the mosque, and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah said: Do not interrupt him. Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine).
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
A Bedouin entered the mosque when the Messenger of Allah was sitting there, and (the man) said: 'O Allah, forgive me and Muhammed, and do not forgive anyone else with us.' The Messenger of Allah smiled and said: 'You have placed restrictions on something that is vast.' Then the Bedouin turned away, went to a corner of the mosque, spread his legs and began to urinate. After he had a better understanding, the Bedouin said: 'He got up and came to me, and may my father and mother be ransomed for him, he did not rebuke me nor revile me. He said: This mosque is not for urinating in. Rather it is built for the remembrance of Allah and prayer.' Then he called for a large vessel of water and poured it over the place where he had urinated.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۵۰۷۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ۵۸ (۲۱۹)، سنن ابی داود/الطہارة ۱۳۸ (۳۸۰)، سنن الترمذی/الطہارة ۱۱۲ (۱۴۷)، سنن النسائی/الطہارة ۴۵ (۵۳)، مسند احمد (۲/۵۰۳)
It was narrated that Wathilah bin Asqa' said:
A Bedouin came to the Prophet and said: 'O Allah, have mercy on me and Muhammed, and do not allow anyone else to share in your Mercy.' The Prophet said: 'You have placed restrictions on something that is vast, woe to you!' Then he (the Bedouin) spread his legs and urinated, and the Companions of the Prophet told him to stop, but the Messenger of Allah said: 'Let him be,' then he called for a vessel of water and poured it over (the urine).
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۵۵، ومصباح الزجاجة: ۲۲۱)
Explanation
اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet, said:
I am a woman whose hem is lengthy, and I may walk through a dirty place. The Messenger of Allah said: 'That which comes after it purifies it.'
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے
Takhreej
سنن ابی داود/الطہارة ۱۴۰ (۳۸۳)، سنن الترمذی/الطہارة ۱۰۹ (۱۴۳)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۹۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۴ (۱۶)، سنن الدارمی/الطہارة ۶۴ (۷۶۹)
Explanation
یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامنِ محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے، «نعوذ باللہ من ہذا الوسواس»۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
It was said: O Messenger of Allah, we want to come to the mosque, but the path that we walk upon is impure. The Messenger of Allah said: Some parts of the earth purify others.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین کا دوسرا ( پاک ) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۴۹۴۵، ومصباح الزجاجة: ۲۲۱)
It was narrated that a woman from (the tribe of) Banu 'Abdul-Ashhal said:
I said to the prophet: 'Between the mosque and I there is a filthy path.' He said: 'After that is there a cleaner path?' I said: 'Yes.' He said: 'This is (a remedy) for that.'
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطہارة ۱۴۰ (۳۸۴)، (تحفة الأشراف: ۱۸۳۸۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۳۵)
It was narrated from Abu Rafi' that :
Abu Hurairah was met by the Prophet in one of the streets of Al-Madinah when he was in a state of sexual impurity, so he slipped away. The Prophet missed him, so when he came (later on), he said: 'Where were you O Abu Hurairah?' He said: 'O Messenger of Allah, you met me when I was in a state of sexual impurity, and I did not want to sit with you until I had a bath. The Messenger of Allah said: 'The believer does not become impure.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
It was narrated that Hudhaifah said:
The Prophet came out and met me when I was sexually impure, so I kept away from him. Then I had a bath and came to him. He said: 'What is the matter with you?' I said: 'I was sexually impure.' The Messenger of Allah said: 'The Muslim does not become impure.'
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا، خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، مردہ ہو یا زندہ، امام بخاری نے ایک روایت میں تعلیقاً یہ الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں کہ مومن زندہ یا مردہ کسی صورت میں نجس نہیں ہوتا، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بزرگوں کی محفلوں میں پاکی کے اہتمام کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم یا استاذ اپنے شاگردوں کا حال پوچھے اور غیر حاضری کے اسباب دریافت کرے۔
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:
I asked Sulaiman bin Yasar about a garment which gets semen on it. 'Should I wash it off or wash the entire garment?' Sulaiman said: 'Aishah said: Semen used to get on the garment of the Messenger of Allah and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see the marks left on it by washing.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
Hammam bin Harith narrated:
A guest came and stayed with 'Aishah, and she ordered that he be given a yellow blanket of hers. He had a nocturnal emission on it, and he felt too shy to send it back to send it back to her when it had the traces of that emission on it, so he dipped it in water and then sent it to her. 'Aishah said: 'Why did he spoil our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his finger. I often scraped it (semen) from the garment of the Messenger of Allah with my finger.'
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو اسے دور کرنے کے تین طریقے ہیں، کھرچنا، رگڑنا، اور دھونا، جس طریقے سے بھی اس کا ازالہ ممکن ہو کر سکتا ہے، بعض روایتوں میں اگر منی گیلی ہو تو دھوئے اور سوکھی ہو تو کھرچنے یا رگڑنے کا ذکر ہے، کھرچنے، رگڑنے، یا دھونے سے اگر نشان باقی رہتا ہے تو کوئی حرج نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ منی کا معاملہ رینٹ اور تھوک جیسا ہے اس کو کھرچنا یا رگڑنا کافی ہے، اور یہی دلیل ہے اس کے پاک ہونے کی۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Abu Sufyan that:
He asked his sister Umm Habibah, the wife of the Prophet: Did the Messenger of Allah ever offered prayer in a garment in which he had sexual intercourse? She said: Yes, if there was nothing noxious on it.
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
It was narrated that Abu Darda' said:
The Messenger of Allah came out to us with water dripping from his head, and he led us in prayer wearing a single garment, placing its one end on the right shoulder, and the other end on the other shoulder. When he finished praying, 'Umar bin Khattab said to him: 'O Messenger of Allah, did you lead us in prayer wearing a single garment? He said: 'Yes, I perform prayer in it, and in it I (i.e. I had sexual intercourse in it).
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۹۴۵، ومصباح الزجاجة: ۲۲۲)
Explanation
ان روایتوں سے ثابت ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی کپڑا خاص نماز کے لئے نہیں رہتا تھا، بلکہ روز مرہ کے کپڑوں سے ہی نماز بھی ادا کر لیتے تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو سجادے، جوڑے اور کپڑے نماز کے لئے خاص کر لئے ہیں، یہ بدعات و محدثات میں داخل ہیں، پھر اگر کوئی ان کو چھو لے تو ہندؤوں کی طرح چھوت سمجھتے ہیں، اور بھوت کی طرح الگ رہتے ہیں، ان کو وسواس خناس نے مبہوت کر دیا ہے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said:
A man asked the Prophet whether he could perform prayer in a garment in which he had intercourse with his wife. He said: 'Yes, unless he sees something on it, in which case he should wash it.'
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۲۲۰۶، ومصباح الزجاجة: ۲۲۴)، مسند احمد (۵/۸۹، ۹۷)
It was narrated that Hammam bin Harith said:
Jarir bin 'Abdullah urinated, then he performed ablution and wiped over his leather socks. Someone asked him: 'Do you do this?' He said: 'Why shouldn't I? I saw the Messenger of Allah doing this.' Ibrahim (who narrated it from Hammam) said: They were pleased by the Hadith of Jarir because he accepted Islam after the revelation of Ma'idah.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، ( کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا ) ۱؎۔
اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورہ مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد «خف» (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
It was narrated from 'Urwah bin Mughirah bin Shu'bah from his father Mughirah bin Shu'bah, that:
The Messenger of Allah went out to relieve himself, and Mughirah followed him with a vessel of water. When he finished relieving himself, he performed ablution and wiped over his leather socks
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated from Ibn 'Umar that:
He saw Sa'd bin Malik wiping over his leather socks and said: Is it you doing this? They both went to 'Umar and Sa'd said to 'Umar: Give my brother's son a verdict regarding wiping over leather socks. 'Umar said: We used to wipe over our leather socks when we were with the Messenger of Allah and we do not see anything wrong with that. Ibn 'Umar said: Even if that is after one has defecated? He said: Yes.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۵۷۰، ومصباح الزجاجة: ۲۲۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ۴۹ (۲۰۲)، موطا امام مالک/الطہارة ۸ (۴۲)، مسند احمد (۱/۳۵)