The book of purification and its sunnah - طہارت اور اس کے احکام و مسائلت اور اس کے احکام و مسائل - Book 2 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 2 of Sunnan Ibn e Maja, with 88 chapters and 298 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
Abdul-Muhaimin bin 'Abbas bin Sahl As-Sa'idi narrated from his father, from his grandfather:
The Messenger of Allah wiped over his leather socks and he ordered us to wipe over the leather socks.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۸۰۰، ومصباح الزجاجة: ۲۲۷)
It was narrated that Anas bin Malik said:
I was with the Messenger of Allah on a journey, and he said: 'Is there any water?' He performed ablution and wiped over his leather socks, then he joined the army and led them (in prayer).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: کچھ پانی ہے ؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۹۳، ومصباح الزجاجة: ۲۲۷)
It was narrated from Abu Buraidah from his father that:
An-Najashi gave the Prophet a gift of a pair of plain black leather socks. He put them on, then he (performed ablution and) wiped over them.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطہارة ۵۹ (۱۵۵)، سنن الترمذی/الأدب ۵۵ (۲۸۲۰)، (تحفة الأشراف: ۱۹۵۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۵۲)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۶۲۰)
It was narrated that Jabir said:
The Messenger of Allah passed by a man who was performing ablution and washing his leather socks. He gestures with his hand, (and said): 'Rather I have been commanded to wipe them.' The Messenger of Allah gestured with his hand like this, from the tips of the toes to the base of the shin, tracing lines with his fingers.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: تمہیں تو ( موزوں پر ) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۳۰۸۴، ومصباح الزجاجة: ۲۲۸)
It was narrated that Shuraih bin Hani' said:
I asked 'Aishah about wiping over the leather socks and she said: 'Go to 'Ali and ask him, for he knows more about that than I do.' So I went to 'Ali and asked him about wiping. He said: 'The Messenger of Allah used to tell us that the resident could wipe for one day and one night, and the traveler could do so for three days.'
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔
Takhreej
صحیح مسلم/الطہارة ۲۴ (۲۷۶)، سنن النسائی/الطہارة ۹۹ (۱۲۸)، (تحفة الأشراف: ۱۰۱۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۹۶، ۱۰۰، ۱۱۳، ۱۲۰، ۳ ۱۳، ۱۳۴، ۱۴۶، ۱۴۹)، سنن الدارمی/الطہارة ۴۲ (۷۴۱)
It was narrated that Khuzaimah bin Thabit said:
The Messenger of Allah set a time limit for the traveler of three days, and if the questioner had persisted in asking, he would have made it five (days).
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطہارة ۶۰ (۱۵۷)، سنن الترمذی/الطہارة ۷۱ (۹۵)، (تحفة الأشراف: ۳۵۲۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۱۳، ۲۱۴، ۲۱۵)
Explanation
اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہو جائے، تو اتارنے پڑیں گے۔
It was narrated from Khuzaimah bin Thabit that:
The Prophet said: Three days. I think he said, And three nights during which the traveler may wipe over his leather socks.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن اور ان کی راتیں مسافر کے لیے موزوں پر مسح کے حکم میں داخل ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
They said: 'O Messenger of Allah! What about the purification of the leather socks?' He said: 'For the traveler it is three days and nights, and for the resident it is one day and one night.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abu Bakrah, from his father, that:
The Prophet granted a concession to travelers: If a traveler performed ablution and put on leather socks, then he performed a fresh ablution, he could wipe over the leather socks for three days and nights; the resident could do so for one day and one night.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو رخصت دی کہ جب وہ باوضو ہو کر اپنے موزے پہنے، پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے اور نیا وضو کرے، تو وہ اپنے موزوں پر تین دن اور تین رات تک مسح کرے، اور مقیم ایک دن، اور ایک رات تک۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۹۲، ومصباح الزجاجة: ۲۲۹)
It was narrated from Ubayy bin 'Imarah, in whose house the Messenger of Allah performed prayer facing both prayer direction, that :
He said to the Messenger of Allah: Can I wipe over my leather socks? He said: Yes. He said: For one day? He said: For two days? He said: For three? And so on, until the number reached seven. He (the Prophet) said: For as long as you see fit.
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، کہا: ایک دن تک؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، کہا: دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، کہا: تین دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، یہاں تک کہ سات تک پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تک تمہارا دل چاہے ۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani that:
He came to 'Umar bin Khattab from Egypt. 'Umar said: How long has it been since you have taken off your leather socks? He said: From one Friday to the next. He said: You have acted in accordance with the Sunnah.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مصر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ نے اپنے موزے کب سے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے کہا: جمعہ سے جمعہ تک، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سنت کو پا لیا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۶۱۰)
Explanation
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فتح مصر کی خوش خبری لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے، چونکہ ایسے موقعہ پر رکنے ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہوتا، اس لئے انہوں نے تین دن سے زیادہ تک مسح کر لیا، یہ حکم ایسی ہی اضطراری صورتوں کے لئے ہے، ورنہ اصل حکم وہی ہے جو گزرا، مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے۔
یعنی جب ان کو طہارت کر کے پہنے، تو پھر ان پر مسح صحیح ہے، اتارنا ضروری نہیں، اور جن لوگوں نے اس میں قیدیں لگائی ہیں کہ پائے تابے چمڑے کے ہوں، یا موٹے ہوں، اتنے کہ خود بخود تھم رہیں، یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کی شرع میں کوئی دلیل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ شارع علیہ السلام نے اپنی امت پر آسانی کے لئے پاؤں کا دھونا ایسی حالت میں جب موزہ یا جراب یا جوتا چڑھا ہو معاف کر دیا ہے جیسے سر کا مسح عمامہ بندھی ہوئی حالت میں، پھر اس آسانی کو نہ قبول کرنا، اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت ہے۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that:
The Messenger of Allah performed ablution and wiped over his socks and his sandals.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ معلی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے «والنعلين» کہا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۰۰۷، ومصباح الزجاجة: ۲۲۶)
عمامہ پر مسح مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے، اور ان حدیثوں میں ذکر نہیں ہے کہ پیشانی پر مسح کر کے باقی ہاتھ عمامہ پر پھیرا، یہ حنفیوں کی تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، امام احمد نے سلمان رضی اللہ عنہ سے عمامہ کے مسح کی روایت کی ہے، ابوداؤد نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے، حاصل کلام یہ کہ سر پر اور عمامہ پر، اور سر اور عمامہ دونوں پر تینوں طرح صحیح اور ثابت ہے۔
It was narrated that Abu Muslim, the freed slave of Zaid bin Suhan, said:
I was with Salman, and he saw a man removing his leather socks for ablution. Salman said to him 'Wipe over your leather socks and your head cover, and your forehead, for I saw the Messenger of Allah wiping over his leather socks and head cover.'
زید بن صوحان کے غلام ابو مسلم کہتے ہیں کہ میں سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وضو کے لیے اپنے موزے نکال رہا ہے، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنے موزے، عمامہ اور پیشانی پر مسح کر لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۵۱۱، ومصباح الزجاجة: ۲۲۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۳۹، ۴۴۰)
Explanation
بوصیری نے «مصباح الزجاجۃ» میں «باب الصلاة في الثوب الذي يجامع فيه» میں اس سیاق کو قدرے اختلاف سے دیا ہے جو یہ ہے: ابن حجر فرماتے ہیں: «وقد رأيته في رواية سعدون عند ابن ماجة في نسخة صحيحة موجودة، وفيها عدة أحاديث في الطهارة لم أرها في رواية غيره، وقد تتبعتها في أماكنها بعون الله. النكت الظراف» سنن ابی داود/عوض الشهري کے محقق نسخہ میں یہ حدیث (۲۲۹) نمبر پر ہے، موصوف فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہندوستانی حیدر آبادی نسخہ اور سنن ابی داود/ مصطفى الأعظمي کے نسخہ میں ساقط ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
I saw the Messenger of Allah performing ablution, wearing a Qatari turban. He put his hand beneath the turban and wiped the front part of his head, and he did not take the turban off.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، آپ کے سر پہ ایک قطری عمامہ تھا، آپ نے اپنا ہاتھ عمامہ کے نیچے داخل کر کے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا، اور عمامہ نہیں کھولا۔