TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3921 - Chapter: Interpretation Of Dreams - Interpretation of dreams - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 9 in this chapter
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ،‏‏‏‏ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا يَمَامَةُ،‏‏‏‏ أَوْ هَجَرٌ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ،‏‏‏‏ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ،‏‏‏‏ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ،‏‏‏‏ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ هَزَزْتُهُ فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ،‏‏‏‏ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ،‏‏‏‏ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ،‏‏‏‏ فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ،‏‏‏‏ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ،‏‏‏‏ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بِهِ يَوْمَ بَدْرٍ .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet (ﷺ) said: “In a dream I saw myself emigrating from Makkah to a land in which there were date-palm trees, and I thought that it was Yamamah or Hajar, but it was Al-Madinah, Yathrib. And I saw in this dream of mine that I was wielding a sword then it broke in the middle. That was what befell the believers on the Day of Uhud. Then I wielded it again and it was better than it had been before, and that is what Allah brought about of the Conquest and the regrouping of the believers. And I also saw cows, and by Allah it is good, for they are the group of the believers (who were martyred) on the Day of Uhud, and the goodness is that which Allah brought forth after that, and the reward of the truth which Allah brought us on the Day of Badr.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے درخت ( بہت ) ہیں، پھر میرا خیال یمامہ ( ریاض ) یا ہجر ( احساء ) کی طرف گیا، لیکن وہ مدینہ ( یثرب ) نکلا، اور میں نے اسی خواب میں یہ بھی دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی جس کا سرا ٹوٹ گیا، اس کی تعبیر وہ صدمہ ہے جو احد کے دن مسلمانوں کو لاحق ہوا، اس کے بعد میں نے پھر تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے بھی بہتر ہو گئی، اس کی تعبیر وہ فتح اور وہ اجتماعیت ہے جو اللہ نے بعد میں مسلمانوں کو عطا کی، پھر میں نے اسی خواب میں کچھ گائیں بھی دیکھیں، اور یہ آواز سنی، «والله خير»یعنی اللہ بہتر ہے ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چند مسلمان جنگ احد کے دن کام آئے ۱؎، «والله خير»، کی آواز آنے سے مراد وہ بہتری تھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بعد دی، اور وہ سچا ثواب ہے جو غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ۔
3921
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Ibn Majah 3921 In-book reference : Book 35, Hadith 29 English translation : Vol. 5, Book 35, Hadith 3921
Conclusion
تخریج
«صحیح البخاری/المناقب ۲۵ (۳۶۲۲)، صحیح مسلم/الرؤیا ۴ (۲۲۷۲)،(تحفة الأشراف:۹۰۴۳)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الرؤیا ۱۳ (۲۲۰۴)
Explanation
شرح و تفصیل
تو گایوں کا ذبح ہونا ان لوگوں کی شہادت کی طرف اشارہ تھا۔

Related Chapters

88
1
(48) CHAPTER. The interpretation of dreams after the Fajr prayer.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
2
Chapter: Interpretation Of Dreams
خواب کی تعبیر:۔
Sahih Muslim
3
Chapter: How Should Dreams be Interpreted
خواب کی تعبیر کس طرح بیان کی جائے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: خواب کی تعبیر کا بیان
Jam e Tirmazi
5
باب: خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان
Jam e Tirmazi
6
خوابوں کی تعبیر کا بیان
Musnad Ahmad
7
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
8
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
9
(1) CHAPTER. The commencement of the Divine Revelation to Allah's Messenger was in the form of good (righteous) dreams.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سچے خواب کے ذریعہ ہوئی
Sahih Bukhari
10
(2) CHAPTER. The dreams of righteous people (faithful believers).
صالحین کے خوابوں کا بیان
Sahih Bukhari
11
(3) CHAPTER. Good dreams are from Allah.
اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
Sahih Bukhari
12
(9) CHAPTER. The dreams of prisoners, evil-doers and Mushrikun.
قیدیوں اور اہل شرک وفساد کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
13
(11) CHAPTER. Night dreams.
رات کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
14
(12) CHAPTER. Dreams (while sleeping) in the daytime.
دن کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
15
(13) CHAPTER. The dreams of women.
عورتوں کے خواب کا بیان
Sahih Bukhari
16
(47) CHAPTER. Whoever considers the interpretation of the first interpreter of one's dream as not invalid if he does not interpret it correctly.
اگر پہلی تعبیر دینے والا غلط تعبیر دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہوگا
Sahih Bukhari
17
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
18
Chapter: The Dreams Of The Prophet (SAW)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب:۔
Sahih Muslim
19
CHAPTER: A Woman Has Dreams Like A Man Has Dreams.
باب: عورت کو مرد ہی کی طرح ( خواب میں ) احتلام ہوتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Regarding dreams.
باب: خواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
Chapter: Dreams are of Three Types
خواب کی تین قسمیں ہیں
Sunnan Ibn e Maja
22
Chapter: If a dream is interpreted and it comes to pass (in that manner), he should not tell anyone about it except one whom he loves
جب خواب کی تعبیر بیان کر دی جائے تو اسی طرح واقع ہو جاتی ہے اس لیے
Sunnan Ibn e Maja
23
Chapter: The People who see the Truest Dreams are those who are truest in speech
جو شخص جتنا ہی زیادہ سچا ہو گا اسی قدر اس کا خواب بھی سچا ہو گا
Sunnan Ibn e Maja
24
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
25
باب: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے
Jam e Tirmazi
26
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
27
باب: خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What One Says Upon Seeing A Dream He Dislikes
باب: برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
31
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
32
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
33
اس چیز کا بیان کہ اچھا خواب نبوت کی خوشخبریوں میں سے ہے
Musnad Ahmad
34
اس امر کا بیان کہ مومن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے
Musnad Ahmad
35
خوابوں کی اقسام اور اس چیز کا بیان کہ مکروہ خواب دیکھنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
36
خواب دیکھنے کے بہترین اوقات اور خواب کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
40
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
41
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
Musnad Ahmad
42
(37) CHAPTER. Recite (and study) the Quran together as long as you agree about its interpretation.
قرآنمجید اس وقت تک پڑھو جب تک دل لگا رہے
Sahih Bukhari
43
(10) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And We made not the vision which We showed you [O Muhammad as an actual eye witness and not a dream on the night of Al-Isra], but a trial for the mankind...” (V.17:60)
آیت اور وہ خواب جو ہم نے تم کو دکھایا ہے ، اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے ، کی تفسیر
Sahih Bukhari
44
(4) CHAPTER. “A righteous good dream that comes true is one of the forty-six parts of An-Nubuwwa (Prophethood).”
اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Sahih Bukhari
45
(8) CHAPTER. If a number of persons have the same dream.
خواب کا توارد یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں
Sahih Bukhari
46
(10) CHAPTER. Whoever saw the Prophet in a dream.
جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا
Sahih Bukhari
47
(14) CHAPTER. A bad dream is from Satan.
دودھ کو خواب میں دیکھنا
Sahih Bukhari
48
(15) CHAPTER. The milk (see in a dream).
جب دودھ کسی کے اعضاء و ناخون سے پھوٹ نکلے تو کیا تعبیر ہے ؟
Sahih Bukhari
49
(16) CHAPTER. (If one sees in a dream) that milk is flowing in his limbs or nails.
خواب میں قمیص دیکھنا
Sahih Bukhari
50
(17) CHAPTER. (The seeing of) a shirt in a dream.
خواب میں کرتے کا گھیسٹنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

485
Sahih Muslim
5934
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا، فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ، وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ»
Abu Musa reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I dreamt (while asleep) that I was about to migrate from Mecca to a land abounding in palm trees and I guessed that it would be Yamama or Hajar, but it was the city of Yathrib (the old name of Medina), and I saw in this dream of mine that I was brandishing a sword and its upper end was broken and this is what fell (in the form of misfortune to the believers on the Day of Uhud). I brandished (the sword) for the second time and it became all right and this is what came to be true when Allah granted us victory and solidarity of the believers. And I saw therein cows also and Allah is the Doer of good. These meant the group from amongst the believers on the Day of Uhud and the goodness which Allah brought after that and the reward of attestation of his Truth which Allah brought to us after the Day of Badr.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اس زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں ، میرا گمان یمامہ اور حجر کی طرف گیا لیکن وہ مدینہ نکلا ، جس کا نام یثرب بھی ہے اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی ، اس کی تعبیر احد کے دن مسلمانوں کی شکست نکلی ۔ پھر میں نے تلوار کو دوسری بار ہلایا تو آگے سے ویسی ہی ثابت اور اچھی ہو گئی ۔ اس کی تعبیر یہ نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی اور مسلمانوں کی جماعت قائم ہو گئی ( یعنی جنگ احد کے بعد خیبر اور مکہ فتح ہوا اور اسلام کے لشکر نے زور پکڑا ) اور میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں ( جو کاٹی جاتی تھیں ) اور اللہ تعالیٰ بہتر ہے ( جیسے یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ خیر ) اس سے مسلمانوں کے وہ لوگ مراد تھے جو احد میں شہید ہوئے اور خیر سے مراد وہ خیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بھیجی اور سچائی کا ثواب جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عنایت کیا ۔
Jam e Tirmazi
734
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ فَأَقُولُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي صَائِمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَتَانِي يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا هِيَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ حَيْسٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَكَلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Aishah, the Mother of the Believers, narrated: The Messenger of Allah came to me saying, 'Do you have anything for breakfast?' I said: 'No.' Then he said: 'I am fasting.' She said: One day he came to me and I said: 'O Messenger of Allah; I have received a gift for us.' He said: 'What is it?' She said: I said 'Hais' He said: 'I began the day fasting' She said: Then he ate.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو پوچھتے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی: نہیں۔ تو آپ فرماتے: ”تو میں روزے سے ہوں“، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”کیا چیز ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”حیس“، آپ نے فرمایا: ”میں صبح سے روزے سے ہوں“، پھر آپ نے کھا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Jam e Tirmazi
3350
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا بَايَعَ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ يَا مُسَوِّدَ وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُؤَنِّبْنِي رَحِمَكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَسَاءَهُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَا مُحَمَّدُ يَعْنِي نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَمْلِكُهَا بَعْدَكَ بَنُو أُمَيَّةَ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْقَاسِمُ:‏‏‏‏ فَعَدَدْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ أَلْفُ شَهْرٍ لَا يَزِيدُ يَوْمٌ وَلَا يَنْقُصُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قِيلَ:‏‏‏‏ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ هُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Al-Qasim bin Al-Fadl Al-Huddani narrated from Yusuf bin Sa’d, who said: “A man stood up in front of Al-Hasan bin Ali, after he pledged to Mu’awiyah, so he said: ‘You have made fools of the believers.’ – or: ‘O you who has made fools of the believers’ – So he said: ‘Do not scold me so, may Allah have mercy upon you, for indeed the Prophet had a dream in which he saw Banu Umayyah upon his Minbar. That distressed him, so (the following) was revealed: Verily We have granted you Al-Kauthar (O Muhammad) meaning a river in Paradise, and (the following) was revealed: ‘Verily We have sent it down on the Night of Al-Qadr. And what will make you know what the Night of Al-Qadr is? The Night of Al-Qadr is better than a thousand months, in which Banu Umayyah rules after you O Muhammad.” Al-Qasim said: “So we counted them, and found that they were one-thousand months, not a day more nor less.”
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3818
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّيَ مُخَاطَ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Narrated 'Aishah, the Mother of the Believers: The Prophet (ﷺ) wanted to wipe the running nose of Usamah. 'Aishah said: Leave it to me so that I may be the one to do it. He said: O 'Aishah, love him, for verily I love him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ۱؎ تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Mishkat
4618
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ: أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فعادَ أحسنَ مَا كانَ فإِذا هوَ جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ
ابوموسی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے کھجوروں کی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ، میرا خیال تھا کہ وہ یمامہ ہے یا ہجر ہے ، لیکن وہ (سر زمین) مدینہ ہے جس کا نام یثرب تھا ، اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار ہلائی تو اس کا وسط ٹوٹ گیا ، اس سے مراد وہ ہے جو مومنوں کو غزوۂ احد میں تکلیف اٹھانا پڑی ، پھر میں نے دوبارہ اسے ہلایا تو وہ اپنی پہلی حالت سے بھی بہتر ہو گئی ، اس سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے (مکہ کی) فتح عطا فرمائی اور مومنوں کو اکٹھا کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
3622
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى أُرَاهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ بِأُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ .
Narrated Abu Musa: The Prophet said, In a dream I saw myself migrating from Mecca to a place having plenty of date trees. I thought that it was Al-Yamama or Hajar, but it came to be Medina i.e. Yathrib. In the same dream I saw myself moving a sword and its blade got broken. It came to symbolize the defeat which the Muslims suffered from, on the Day of Uhud. I moved the sword again, and it became normal as before, and that was the symbol of the victory Allah bestowed upon Muslims and their gathering together. I saw cows in my dream, and by Allah, that was a blessing, and they symbolized the believers on the Day of Uhud. And the blessing was the good Allah bestowed upon us and the reward of true belief which Allah gave us after the day of Badr.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے، میں سمجھتا ہوں (یہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ) محمد بن علاء نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے باغات ہیں۔ اس پر میرا ذہن ادھر گیا کہ یہ مقام یمامہ یا ہجر ہو گا۔ لیکن وہ یثرب مدینہ منورہ ہے اور اسی خواب میں میں نے دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو وہ بیچ میں سے ٹوٹ گئی۔ یہ اس مصیبت کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو اٹھانی پڑی تھی۔ پھر میں نے دوسری مرتبہ اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی صورت میں ہو گئی۔ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح دی اور مسلمان سب اکٹھے ہو گئے۔ میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں اور اللہ تعالیٰ کا جو کام ہے وہ بہتر ہے۔ ان گایوں سے ان مسلمانوں کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے اور خیر و بھلائی وہ تھی جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے خیر و سچائی کا بدلہ بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا تھا۔“
Sahih Bukhari
4081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ».
Narrated Abu Musa: The Prophet said, I saw in a dream that I moved a sword and its blade got broken, and that symbolized the casualties which the believers suffered on the day of Uhud. Then I moved it again, and it became as perfect as it had been, and that symbolized the Conquest (of Mecca) which Allah helped us to achieve, and the union of all the believers. I (also) saw cows in the dream, and what Allah does is always beneficial. Those cows appeared to symbolize the faithful believers (who were martyred) on the day of Uhud.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا اور اس سے اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی جو غزوہ احد میں انہیں اٹھانا پڑا تھا۔ پھر میں نے دوبارہ اس تلوار کو ہلایا، تو پھر وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ اس کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے فتح اور مسلمانوں کے پھر از سر نو اجتماع کی صورت میں ظاہر کی۔ میں نے اسی خواب میں ایک گائے دیکھی تھی ( جو ذبح ہو رہی تھی ) اور اللہ تعالیٰ کے تمام کام خیر و برکت لیے ہوتے ہیں۔ اس کی تعبیر وہ مسلمان تھے ( جو ) احد کی لڑائی میں ( شہید ہوئے ) ۔
Silsila Sahih
2059
عن زَيَاد بن جُبَير بن حية، قال: أَخْبَرَنِي أبي أَن عمر بن الْخطَاب رِضْوَان الله عليه، قال للهرمزان: أَمَا إِذ فُتَّنِيْ بِنَفْسِك فَانْصَح لي، وَذَلك أَنَّه قال لَه: تَكَلَّم لَا بأس، فأمِنَه، فَقَال الهرمزان: نَعَم إِن فَارِس الْيَوْم رَأْسٌ وَّجَنَاحَانِ، قَالَ: فَأَيْن الرأسُ؟ قَالَ: نَهَاوَنْد مَع بُنْدَارِ، قَالَ: فَإِنَّ مَعَه أَسَاوِرَة كِسْرَى، وَأَهْل أصفهان، قال : فَأَيْن الجَنَاحَانِ؟ فَذَكَر الْهُرْمُزَان مَكَانًا نَسِيْتُه، فَقَال الهرمزان: اقْطَعْ الْجَنَاحَيْن تُوْهِن الرَأْسَ، فَقَال لَه عمر رِضْوَان الله عليه: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ الله، بَل أَعْمِدُ إِلَى الرَّأْسِ فَيَقْطَعُه الله، فَإِذَا قَطَعَه الله عَنِّي انْقَطَع عَنِّي الجَنَاحَانِ، فَأَرَاد عمر أَن يَسِير إِلَيْه بِنَفْسِهِ، فَقَالُوا : نُذَكِّرُك الله يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين أَن تَسِير بِنَفْسِك إلى العجم، فَإِن أَصَبْت بِهَا لَم يَكُن لَلْمُسْلِمِين نظام، وَلَكِنْ ابْعَث الجنود، قال: فَبَعَث أَهَل المدينة، وَبَعَث فِيهِم عبد الله بن عمر بن الخطاب، وَبَعَث الْمُهَاجِرِين والأنصار، وَكَتَب إلى أبي مَوسَى الأشعري، أَن سِر بِأَهْل البصرة، وَكَتَب إلى حُذَيْفَة بن اليمان، أَن سِر بِأَهْل الكوفة، حَتَّى تَجْتَمِعُوا بنهاوند جميعا، فَإِذَا اجتمعتم، فَأَمِيرُكُم النُّعْمَان بن مُقْرِن الْمُزَنِیُّ. فَلَمَا اجْتَمَعُوا بنهاوند أَرْسَل إِلَيْهِم بُنْدَار (العلج) أَن أَرْسِلُوا إِلَيْنَا يَا مَعْشَر الْعَرَب رَجُلًا مِنْكُم نُكَلِّمُهُ، فَاخْتَار النَّاسُ الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أَبِيْ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْه رَجُلٌ طويلٌ، أَشْعَثَ أعورَ، فَأَتَاهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا سَأَلْنَاهُ؟ فَقَال لَنا: إِنِّي وَجَدْتُ الْعَلَج قَد اسْتَشَار أَصْحَابه في أَيِّ شَيْءٍ تَأْذَنُون لِهَذَا العربي؟ أَبَشَارَتُنَا وَبَهْجَتُنَا وَمُلْكُنَا؟ أَوْ نَتَقَشَّفُ لَهُ، فَنَزْهَدُهُ عَمَّا في أَيْدِيَنَا؟ فَقَالُوا: بَل نَأْذَن لَه بِأَفْضَل ما يَكُون من الشَّارَة والعدة، فَلَمَّا رَأَيْتُهُم رَأَيْتُ تِلْكَ الحِرَاب، وَالدَّرَق يَلْمَعُ مِنْهُ البَصَر، وَرَأَيْتُهُم قِيَامًا عَلَى رأسه، وَإِذَا هُو عَلَى سَرِيرٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَى رَأْسِهِ التَّاجُ، فَمَضَيْتُ كَمَا أَنَا، وَنَكَسْتُ رَأْسِي لِأَقْعُد مَعَه عَلَى السرير، قال: فَدُفِعْتُ وَنُهِرْتُ، فَقُلْتُ إِن الرُّسُل لَا يُفْعَلُ بِهْم هَذا، فَقَالُوا لِي : إِنَّمَا أَنْتَ كَلْبٌ أَتَقْعُد مَعَ الْمَلِكِ؟!، فَقُلْت: لَأَنَا أَشْرَفُ في قَوْمِي مِنْ هَذَا فِيْكُمْ، قَالَ : فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: اِجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَتُرْجِمَ لِي قَولُه؟ فَقَال: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! إِنَّكُم كُنْتُم أَطْوَل النَّاس جُوْعًا، وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً، وَأَقْذَرَ النَّاس قَذَرًا، وَأَبْعَد النَّاس دارًا، وأَبْعَدَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَمَا كَان مَنَعَنِي أَن آمُر هَذِه الأَسَاوِرَةِ حَوْلِي، أَنْ يَنْتَظِمُوْكُمْ بِالنِّشَابِ، إِلَا تَنْجِيْسًا لِجِيَفِكُمْ لِأَنَّكُم أَرْجَاسٌ، فَإِن تَذْهَبُوا يُخَلّٰي عَنْكُمْ، وَإِنْ تَأْبُوا نُبَوِّئُكُمْ مَصَارِعَكُمْ، قال الْمُغِيَرة : فَحَمَدْتُ الله وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ : وَالله ما أَخْطَأَتَ مِنْ صِفَتِنَا وَنَعْتِنَا شَيْئًا، إِنْ كُنَّا لَأَبْعَد النَّاس دَارًا وَأَشَدّ النَّاس جُوعًا وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً وَأَبْعَد النَّاس من كُل خَيْرٍ حَتَّى بَعَثَ الله إِلَيْنَا رَسُوْلًا، فَوَعَدَنَا بِالنَّصْر في الدُّنْيَا وَالْجَنَّة في الآخرة، فَلَم نَزَلْ نَتَعَرَّفُ مِنْ رَبِّنَا مُذْ جَاءَنَا رَسُولُه ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الفَلاح، وَالنَّصْرَ، حَتَّى أَتَيْنَاكُمْ، وَإِنَّا وَالله نَرَى لَكُم مُلْكًا وَعَيْشًا لَا نَرْجِعُ إِلَى ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا، حَتَّى نَغْلِبَكُمْ عَلَى مَا فِي أَيْدِيْكُمْ، أَو نُقْتُلَ في أَرْضِكُمْ، فَقَال : أَمَّا الأعور، فَقَد صَدَقَكُم الَّذِي في نفسه، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ، وَقَد وَالله أرْعَبْتُ الْعَلْج جهدي، فَأَرْسَل إِلَيْنَا الْعَلْج إِمَّا أَن تَعْبُرُوا إِلَيْنَا بِنَهَاوَنْد، وَإِمَّا أَنْ نَعْبُرَ إِلَيْكُمْ، فَقَال النُّعْمَان : اُعْبُرُوا، فَعَبَرْنَا قَالَ أَبِي : فَلَم أَر كَالْيَوْم قَطُ، إِن الْعُلُوج يجيئون، كَأَنَّهُم جِبَال الحَدِيْد، وَقَدْ تَوَاثَقُوا أَنْ لَا يَفِرُّوا مِنَ العَرَبِ، وَقَد قُرن بَعْضُهُم إِلَى بَعْضٍ، حَتَّى كَان سَبْعَةٌ في قران، وَأَلْقَوْا حَسَك الْحَدِيد خَلْفَهُمْ، وَقَالُوا : من فَر مِنَّا عقره حَسَك الحديد، فَقَال الْمُغِيَرة بن شُعُبَة حِين رَأَى كَثْرَتَهُم : لَم أَر كَالْيَوْم قَتِيْلًا، إِن عَدُوَّنَا يَتْرُكُون أَنْ يَتَنَامُوا، فَلَا يُعَجَّلُوا أما وَالله لَو أَن الْأَمْر إِلَيّ لَقَد أَعْجَلْتُهُم به، قال : وكان النُّعْمَانُ رَجُلًا بَكَّاءً، فَقَال : قَد كَان الله جَلّ وَعَز يُشْهِدُك أَمْثَالَهَا فَلَا يَحْزُنْكَ وَلَا يَعِيْبُكَ مَوْقِفُكَ، وَإِنِّي وَالله ما يَمنَعُنِي أَن أناجزهم، إِلَا لِشَيْءٍ شَهِدْتُه من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، أن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان إِذ غَزَا فَلَم يُقَاتِلْ أَوَّل النَّهَار لَم يُعَجِّلْ حَتَّى تَحْضُر الصَّلَوَات وَتَهُبُّ الأَرْوَاحَ، وَيُطَيِّبُ القِتَالَ، ثم قال النُّعْمَان : اللَّهُمّ إِنِّي أَسْأَلَك أَن تَقَرّ عَيْنَي بِفَتْحٍ يَكُون فِيه عِزُّ الإِسْلَامِ، وَأَهْلِهِ وَذُلُّ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ، ثُمَّ اخْتِم لِي عَلَى أَثْر ذَلِك بالشهادة، ثم قال : أمِّنُوا يَرْحَمُكُم الله، فَأَمَّنَّا وَبَكَى فَبَكَيْنَا، فَقَال النُّعْمَان: إِنِّي هازٌّ لِوَائِي فَتَيَسَّرُوا لِلسِّلَاحِ، ثُمَّ هَازِّهُ الثَّانِيَةَ، فَكُونُوا مُتَيَسِّرِيْنَ لِقِتَالِ عَدُوِّكُم بِإِزَائِكُمْ، فَإِذَا هَزَزْتُهَا الثَّالِثَةَ، فَلْيَحْمِلْ كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِم مِنْ عَدُوِّهمْ عَلَى بَرَكْةِ الله، قَالَ: فَلَمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهَبَّت الْأَرْوَاح كَبَّر وكبرنا، وَقَال رِيح الْفَتْح وَالله إِن شَاء الله، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَن يَسْتَجِيبَ الله لِي وَأَن يُفْتَح عَلَيْنَا فهزَّ اللِّوَاءَ فَتَيَسَّرُوا، ثُمَّ هَزَّهُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ هَزَّه الثالثة، فَحَمَلَنَا جَمِيَعًا كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِمْ، وَقَال النُّعْمَان : إِنْ أَنَا أَصَبْتُ فَعَلَى النَّاسِ حُذَيْفَة بن اليمان، فَإِنْ أُصِيْبَ حُذَيْفَةَ، فَفُلَان، فَإِن أُصِيبَ فُلَانٌ (ففُلَانٍ)، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً آخِرُهُم الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أبي : فَوَالله ما عَلِمْت من الْمُسْلِمَيْن أحدًا، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إلى أَهْلِه، حَتَّى يُقْتَلَ أَو يَظْفُرَ فَثَبتوا لنا، فَلَم نَسْمَع إِلَا وَقْع الْحَدِيد عَلَى الحديد، حَتَّى أُصِيب في الْمُسْلِمَيْن عصَابَةً عظيمةً، فَلَمَّا رَأَوْا صَبْرَنَا وَرَأَوْنَا لَا نُرِيد أَن نَرْجِع، انهزموا، فَجَعَل يَقَعُ الرَّجُلُ، فَيَقَعُ عَلَيه سَبْعَةٌ في قران، فَيُقْتَلُون جميعا، وَجَعَل يعقرهم حَسَك الْحَدِيد خلفهم، فَقَال النُّعْمَان : قَدِّمُوا اللِّوَاء فَجَعَلْنَا نُقَدِّمُ اللِّوَاءَ فَنَقْتُلُهُم ونهزمهم، فَلَمَّا رَأَى النعمان، قَد اسْتَجَاب الله لَه وَرَأَى الْفَتْح جَاءَتْه نِشَابَةٌ، فَأَصَابَت خَاصِرَتِه فقتلته، فَجَاء أَخُوه مَعْقَل بن مُقْرَن فسجى عليه ثَوْبًا وَأَخَذ اللِّوَاء فَتَقَدَّم ثم قال: تَقَدَّمُوا رحمكم الله، فَجَعَلْنَا نَتَقَدَّمُ فَنَهْزَمُهُمْ ونقتلهم، فَلَمَا فَرَغْنَا وَاجْتَمَع الناس، قالوا: أَيْن الأمير؟ فَقَال معقل: هذا أَمِيرُكُم قَد أَقَرَّ الله عَيْنَه بِالْفَتْح وَخَتَم لَه بالشهادة، فَبَايَع النَّاسَ حُذَيْفَةَ بن اليمان، قال : وكَانَ عُمَرُ ابن الخطاب رِضْوَان الله عليه بِالْمَدِينَة يَدْعُو الله، وَيَنْتَظِرُ مِثْلَ صَيْحَة الحُبْلَى، فَكَتَبَ حُذَيْفَةُ، إلى عُمَرَ بِالْفَتْح مَع رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِين، فَلَمَّا قَدِم عَلَيْه قَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِير المؤمنين، بِفَتْحٍ أَعَزَّ اللهُ فِيه الْإِسْلَام وَأَهْلَه وأذل فِيه الشِّرْك وأهله، وَقَال: النُّعْمَان بَعَثَكَ؟ قال: اِحْتَسَبَ النَّعْمَان يَا أَمِير المؤمنين، فَبَكَى عُمَرُ وَاْسْتَرْجَعَ، فَقَالَ : وَمَنْ وَيْحَكَ، فَقَال: فُلَانٌ، وَفَلَانٌ، وفلانٌ، حَتَّى عَدَّ نَاسًا ثُمَّ قَالَ وَآخَرِين يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين لَا تَعْرِفُهُم، فَقَالَ: عُمَرُ رِضْوَان الله عَلَيْه، وَهُو يَبْكِي لَا يَضُرُّهُمْ، أَنْ لَا يَعْرِفُهُم عُمُرُ، لَكِن الله يَعْرِفُهُم
زیاد بن جبیر بن حیہسے مروی ہے کہتے ہیں:مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:جب تم میرے پاس سےجاہی رہےہوتومیرےلئےایک نیکی کردو،عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا کہ:ڈرو مت اور اسے امان دے دی۔ ہرمزان نے کہا: ٹھیک ہے،آج کے فارس کا ایک سر اور دو بازو ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:سر کہاں ہے؟ ہر مزان نے کہا:نہاوند، بندار کے ساتھ ۔کیوں کہ اس کے ساتھ کسریٰ کے ستون اور اہل اصفہان ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:بازو کہاں ہیں؟ ہر مزان نے ایک جگہ کا ذکر کیا جو مجھے بھول گئی۔ ہرمزان نے کہا: دونوں بازو کاٹ دو، سر کمزور ہو جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے دشمن! تم جھوٹ بولتے ہو، میں سر کی طرف جاؤں گا، اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سر کاٹ دے گا تو بازوخودبخودختم ہو جائیں گے۔عمر رضی اللہ عنہ نے خود جانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: امیر المومنین ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ عجم کی طرف نہ جائیں۔ اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو مسلمانوں کا نظام سنبھالنے والا کوئی نہیں۔آپ لشکر بھیج دیجئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو بھیجا، ان میں عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو بھی بھیجا۔ مہاجرین و انصار کو بھی بھیجا اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بصرہ والوں )بصرہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تم اہل کفوہ (کوفہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ، اور سب نہاوند میں جمع ہو جاؤ، جب تم جمع ہو جاؤ تو تمہارے امیر نعمان بن مقرن مزنی ہوں گے۔ جب وہ نہاوند میں جمع ہوگئے ۔تو بندار نے ان کی طرف (کافر شخص)بھیجا کہ اے عرب کی جماعت!ہمارے پاس اپنا کوئی آدمی بھیجو، ہم اس سے بات چیت کریں(مذاکرات کریں) لوگوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو چنا ، میرے والد کہتے ہیں: گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں، لمبے قد، بکھرے بالوں والے، بھینگے، وہ بندار کے پاس گئے، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نےایک عجمی کافر کو دیکھاکہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ طلب کر رہا ہے۔ تم نے اس عربی کو کیوں بلایا ہے؟ کیا اسے ہماری شان و شوکت، حسن و جمال اور بادشاہت ہمارے پاس ہے ہم اسے غنیمت جانیں؟ کہنے لگے: کہا نہیں، بلکہ اس سے بھی بلند تر مقصد کے لئے بلایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی عسکری قوت اور عددی برتری دکھائیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کے نیزے بھی دیکھے اور ڈھالیں بھی جن سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔ انہیں اس کے سر پر کھڑے دیکھا، وہ سونے کے ایک تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا، میں اپنی اسی کیفیت میں چلتارہا۔ میں نے اس کے ساتھ تخت پر بیٹھنا چاہا تو مجھے (تخت سے) ہٹا دیا گیا، میں نے کہا:قاصدوں کے ساتھ اس طرح نہیں کیا جاتا۔ وہ مجھ سے کہنے لگے: تم کتے ہو کیا تم بادشاہ کے ساتھ بیٹھوگے؟ میں نے کہا: جتنا،توعزت دار ہے اس سے زیادہ میں اپنی قوم میں محترم ہوں،نہاوند نے مجھے ڈانٹ دیا، اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، مجھے اس کی بات ترجمہ کر کے بتائی گئی ۔اس نے کہا: اے عرب کی جماعت! تم لوگوں میں طویل بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے،سب سے گندے لوگ تھے۔ صحراو بیابان میں تمہارا گھر تھا، ہر بھلائی سے دور تھے مجھے اور کسی بات نے نہیں روکا کہ میں اپنے سرداروں کو تمہارا نظم و ضبط بہتر کرنے کا حکم دوں، سوائے تمہاری بدبو دارنجس لاشوں کے کیوں کہ تم پلید ہو۔ اگر تم واپس چلے جاؤ تو تمہارا راستہ چھوڑ دیاجائے گا، اگر انکار کرو گے تو یہ تمہارا قبرستان ہوگا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا: واللہ آپ نے ہمارا کوئی وصف اور عادت غلط بیان نہیں کی۔ ہم واقعی بہت دور صحرا بیابان میں تھے ۔اور ستگ بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے۔ بھلائی سے بہت دور تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا، اس نے ہمیں دنیا میں مدد کا وعدہ دیا اور آخرت میں جنت کا۔ جب سے اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا ہے ہم اپنے رب کے مدد اور کامیابی کو پرکھتے آرہے ہیں، حتی کہ ہم تمہارے پاس آگئے۔ اللہ کی قسم! ہم تمہاری بادشاہت اور عیش والی زندگی دیکھ رہے ہیں ہم اس بدبختی کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں جائیں گے، یہاں تک کہ ہم تمہارے قبضے میں موجود ہر چیز پر غالب نہ آجائیں ۔یا ہم تمہاری زمین میں قتل نہ کردیئے جائیں۔ اس نے کہا: بھینگے آدمی نے اپنے دل کی سچی بات تمہارے سامنے کر دی۔ میں اس کے پاس سے اٹھ گیا، واللہ میں نے علج رضی اللہ عنہ (عجمی کافر)کو اپنی جرأت سے مرعوب کر دیا۔ علج (عجمی کافر)نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ: یا تو تم نہاوند پار کر کے ہمارے پاس آؤ ورنہ ہم آتے ہیں، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہاوند پار کرو، ہم نے نہاوند پار کیا۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا۔ علج (عجمی کافر)اس طرح آرہے تھے گویا وہ لوہے کے پہاڑ ہوں۔ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے عرب سے بھاگیں نہیں، اور انہیں آپس میں ملا دیا گیا حتی کہ ایک زنجیر میں سات آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے پیچھے لوہے کے آرے ڈال دئیے کہ جو بھاگے گا اسے لوہے کے آرے کاٹ دیں گے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ان کی کثرت دیکھی تو کہاکہ آج کے دن جتنے مقتول میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ہمارے دشمن کی نیندیں اڑی ہوئی تھیں کہ ان پر جلدی نہ کی جائے۔ واللہ معاملہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں جلدی کرتا، نعمان رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رونے والے انسان تھے۔ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسے کئی مواقع عطا کئے ہیں، اس لئے یہ تمہیں غمزدہ نہ کرے اور تمہارے موقف کو معیوب نہ کرے، اور مجھے ان سے ٹکرانے سے کوئی چیز نہیں روکتی سوائے اس بات کے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ابتدائی حصے میں قتال نہیں کرتے تھے۔ جب تک نماز کا وقت نہ ہو جاتا، اور ہوائیں چلنا شروع نہ ہو جاتیں،جلدی نہ کرتے، اور لڑائی کا بہترین وقت نہ ہو جاتا۔پھر نعمان جلدی نہ کرتے کہنے لگے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ایسی فتح سے جس میں اسلام اور اہل اسلام کی عزت اور کفر اور اہل کفر کی ذلت ہو، میری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ پھر اس کے بعد میرا خاتمہ شہادت کی موت پر کر دے۔ پھر کہنے لگے: آمین کہو، اللہ تم پر رحم کرے، ہم نے آمین کہا۔ وہ رونے لگے تو ہم بھی رونے لگے، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جھنڈالہراؤں گا ۔اپنا اسلحہ تیار کر لینا، پھر دوسری مرتبہ اسے لہراؤں گا تو اپنے سامنے دشمن سے لڑائی کے لئے تیار ہو جانا، جب میں اسے تیسری مرتبہ لہراؤں گا تو ہر شخص اللہ سے برکت کی امید کرتے ہوئے اپنے سامنے والے دشمن پر حملہ کر دے۔ جب نماز کا وقت ہوگیا۔ اور ہوائیں چل پڑیں تو انہوں نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۔کہنے لگے: واللہ فتح کی ہوا ہے، ان شاء اللہ اور مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ میری دعا قبول کرے گا، اور ہمیں فتح دے گا، انہوں نے جھنڈا لہرایا تو وہ تیار ہوگئے پھر دوسری مرتبہ لہرایا پھر تیسری مرتبہ لہرایا تو ہم سب نے اکھٹے ہو کر اپنے ساتھ والوں پر حملہ کر دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے کچھ ہو جائے تو امیر حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہوں گے، اگر حذیفہ کو کچھ ہو جائے تو فلاں، اگر فلاں کو کچھ ہو جائے تو (فلاں)حتی کہ سات نام گنوائے، آخر میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ میرے والد کہتے ہیں :واللہ میں مسلمانوں میں سے کسی شخص کو نہیں جانتا جو چاہتا ہو کہ وہ قتل یا کامیاب ہونے سے پہلے گھر واپس پلٹ جائے وہ ثابت قدم رہے۔ ہم صرف تلواروں کی گرج سن رہے تھے۔ حتی کہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی، جب انہوں نے دیکھا کہ ہم نے صبر کر لیا ہے(ہم ڈٹ گئے ہیں) اور واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو منتشر ہوگئے۔ ایک آدمی گرتا تو اس پر سات آدمی گرتے اور سب قتل کر دیئے جاتے۔ پیچھے سے لوہے کے آرے انہیں کاٹنے لگے۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جھنڈا آگے کرو، ہم جھنڈا آگے کرنے لگے، ہم انہیں قتل کرتے اور شکست دیتے، جب نعمان رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی ہے اور فتح دیکھ لی تو ایک تیرآیا اور ان کی پسلی میں جا گھسا اور وہ شہید ہوگئے ۔ ان کے بھائی معقل بن مقرن آئے اور ان پر کپڑا ڈال دیا، اور جھنڈا پکڑ لیا، آگے بڑھ کر کہنے لگے: آگے بڑھو اللہ تم پر رحم کرے، ہم آگے بڑھتے انہیں شکست دیتے اور قتل کرتے رہے۔ جب ہم فارغ ہوئے اور لوگ جمع ہوگئے، تو کہنے لگے: امیر کہاں ہیں: معقل نے کہا: یہ تمہارا امیر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کو فتح دکھا کر ٹھنڈک عطا فرمائی، اور خاتمہ شہادت پر کیا۔ لوگوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینے میں اللہ سے دعائیں کر رہے تھے اور چیخنے والی حاملہ کی طرح بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مسلمان شخص کے ہاتھ فتح کا پیغام بھیجا، جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: امیر المومنین فتح مبارک ہو، جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت دی اور شرک اور اہل شرک کو ذلیل کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نعمان نے تمہیں بھیجا ہے؟ اس آدمی نے کہا: امیر المومنین! نعمان رضی اللہ عنہ اجر پاگئے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر کہنے لگے: اور کون کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: فلاں فلاں، حتی کہ کئی لوگ گنوادیے۔ پھر کہنے لگا: امیر المومنین دوسرے وہ لوگ جنہیں آپ نہیں جانتے ۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جبکہ وہ رو رہے تھے: کوئی حرج نہیں اگر عمر انہیں نہیں جانتا لیکن اللہ تو انہیں جانتا ہے۔
Jam e Tirmazi
598
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ أَطَاقَ ذَاكَ مِنَّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ .
Asim bin Damrah said: We asked Ali about the prayer of the Messenger of Allah during the day. He said: 'You will not be able to do that.' We said: 'Whoever among is able (he will)?' So he said: 'When the sun appeared over there (east) like it appears here (west) at Asr, the Messenger of Allah would pray two Rak'ah, and when the sun appeared over there (east) like it appears here (west) at Zuhr, he would pray four Rak'ah. And he would pray four before Zuhr and two after it, and four before Asr separating between every two Rak'ah with At-Taslim upon the angels that are close (to Allah) and those who follow them among the believers, and the Muslims.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی الله عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس پر ہم نے کہا: ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج اس طرف ( یعنی مشرق کی طرف ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ عصر کے وقت اس طرف ( یعنی مغرب کی طرف ) ہوتا ہے تو دو رکعتیں پڑھتے، اور جب سورج اس طرف ( مشرق میں ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ اس طرف ( مغرب میں ) ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے، اور چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے اور دو رکعت اس کے بعد اور عصر سے پہلے چار رکعت پڑھنے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور انبیاء و رسل پر اور مومنوں اور مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے ان پر سلام پھیر کر فصل کرتے۔

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.