TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت

Chapter 4 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 11 · 6 Hadith
۔ (۱۲۶۵) عَنْ نَافِع أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیَنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَیَجْتَمِعُوْنَ فَیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلَاۃَ وَلَیْسَیُنَادِیْ بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ بَعَضُہُمْ: اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثلَ قَرْنَ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَاتَبْعَثُونَ رَجُلَا یُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))(مسند احمد: ۶۳۵۷)
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیںبھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔
Takhreej
(۱۲۶۵) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۴، و مسلم: ۳۷۷ (انظر: ۶۳۵۷)
Explanation
فوائد: … ناقوس: عیسائی لوگ اپنی نمازوں کے اوقات کا اعلان کرنے کے لیے ایک لمبی لکڑی پر چھوٹی لکڑی مارتے ہیں، اسے ناقوس کہتے ہیں۔ قرن(بوق): اس میں ایک طرف سے پھونک مارنے سے دوسری طرف سے آواز نکلتی ہے، نمازوں کے اوقات کی خبر دینے کا یہیہودیوں کا انداز تھا۔
1265
Sahih
۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔
Takhreej
(۱۲۶۶) تخر یـج: …أِسنادہ حسن۔أخرجہ ابوداود: ۴۹۹، والترمذی: ۱۸۹، وابن خزیمۃ: ۳۷۱، وابن حبان: ۱۶۷۹ (انظر: )
1266
Sahih
۔ (۱۲۶۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْ ذِیِن فَکَانَ بِلَالٌ مَوْلیٰ أَبیِ بَکْرٍ یُؤَذِّنُ بِذَالِکَ وَیَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ، فَجَائَ ہُ فَدَعَاہُ ذَاتَ غَدَاۃٍ إِلَی الفَجْرِ، فَقِیلَ لَہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، قَالَ سَعِیدُ بِنْ اَلْمَسَیِّبِ فَأُ دْ خِلَتْ ھَذِہِ الْکَلِمَۃُ فِی التَّأْذِینِ إِلٰی صَلَاۃِ الفَجْرِ (مسند احمد: ۱۶۵۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّبکہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔
Takhreej
(۱۲۶۷) تخر یـج: …حدیث حسن دون قولہ: ویدعو رسول اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الی الصلاۃ، قال: فجائہ فدعاہ … الی آخر الخبر۔ فھی زیادۃ منکرۃ انفرد بھا ابن اسحاق فی ھذہ الروایۃ، وھو مدلس، ولم یسمع ھذا الحدیث من الزھری۔ أخرجہ البھیقی: ۱/ ۴۱۵، وابن خزیمۃ: ۳۷۳ (انظر: ۱۶۴۷۷)
Explanation
فوائد:… یہ خواب سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فطری سعادت ہے، یہ سچے خواب ہیں، ایسے خوابوں کو مختلف احادیث میں نبوت کا پچیسواں، چھیالیسواں اور سترہواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ان الفاظ میں کوئی تضاد نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس اختلاف کا تعلق خواب دیکھنے والے سے ہے، جو جتنا نیک ہو گا، اتنا ہی اس کا خواب سچا ہو گا۔ ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((قال: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ۔)) یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن زید کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ناقوس بنایا جائے، تاکہ لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جا سکے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی تک ناقوس بنانے کا حکم دیا تھا، ابھی اسے بجایا نہیں گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کی مشروعیت کے اسباب پیدا کر دیئے تھے۔ قابل تعجب بات ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سچے خواب کا شرف حاصل ہوا اور اذان دینے کے لیے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتخاب کیا گیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌّ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) یعنی: ان شاء اللہ یہ سچا خواب ہے،تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اس خواب (کے کلمات) اس پر ڈالو، تاکہ وہ اذان دے، کیونکہ وہ تیری بہ نسبت زیادہ بلند آواز والا ہے، … …۔ (ابو داود، ابن ماجہ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن خوبصورت اور بلند آواز والا ہونا چاہیے، صحیح ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آواز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت پسند آئی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اذان کی تعلیم دی۔ لیکن اس وقت اکثر مساجد میں اس چیز کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی ابتدا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہدِ مبارک میں ہی ہوئی، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
1267
Sahih
۔ (۱۲۶۸)عَنْ مُعَاذِ بِنْ جَبَلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّیْ رَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی مُسْتَیْقِظٌ أَریٰ رَجُلاً نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ عَلَیْہِ بُرْدَانٍ أَخْضَرَانِ نَزَلَ عَلٰی جِذْم ِحاَئِطٍ مِنَ الْمَدِیَنَۃِ ِفَأَذَّنَ مَثْنٰی مَثْنٰی ثُمَّ جَلَسَ، ثُم أَقَامَ فَقَالَ مَثْنٰی مَثْنٰی، قَالَ: ((نِعْمَ مَا رَأَ یْتَ، عَلِّمْہَا بِلَالًا۔)) قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ ذَالِکَ وَلٰـکِنَّہُ سَبَقَنِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۷)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، مجھے یوں لگا کہ میں جاگ رہا ہوں، ایک آدمی اپنے اوپر دو سبز چادریں لیے ہوئے مدینہ کے کسی باغ کی ایک طرف آسمان سے نازل ہوا، اس نے دو دو کلموں والی اذان کہی، پھر بیٹھ گیا ہے، پھر اس نے دو دو کلموں والی اقامت کہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے بہترین چیز دیکھی ہے، یہ کلمات بلال کو سکھاَ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا میں نے بھی اس طرح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸) تخر یـج:… منقطع، ابن ابی لیلی لم یسمع من معاذ، وقد اختلف علی ابن ابی لیلی۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۸۱، والدارقطنی: ۱/۲۴۲۔ وأخرجہ ابوداود مطولا: ۵۰۶، ۵۰۷ (انظر: ۲۲۰۲۷، ۲۲۱۲۴)
1268
Zaeef
۔ (۱۲۶۹) عَنْ بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أمَرَنِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أنْ لَا أُثَوِّبَ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الصَّلَاۃِ إِلاَّ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ (أحَدُ الرُّوَاۃِ) فِی حَدِیثِہِ: قَالَ لِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَذَّ نْتَ فَـلَا تُثَوِّبْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰۹)
سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی نماز کے علاوہ کسی دوسری نماز میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہوں اور ایک راویٔ حدیث أبو احمد کہتے ہیں سیّدنا کہ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا کر۔
Takhreej
(۱۲۶۹) تخر یـج: …حسن بمجموع طرقہ وشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف، أبو اسرائیل اسماعیل بن خلیفۃ الملائی فیہ ضعف لکن یعتبر فی المتابعات والشواھد، وقد اضطرب فی ھذا الحدیث…۔ أخرجہ الترمذی: ۱۹۸، وابن ماجہ: ۷۱۵ (انظر: ۲۳۹۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے آخری ٹکڑے سے مراد یہ ہے کہ اذان فجر کے علاوہ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا جائے، جیسا کہ اس حدیث کے شروع والے حصے اور دوسری سند والی روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔
1269
Sahih
۔ (۱۲۷۰) (وَمِنْ طَرِبقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُو قَطَنِ قَالَ ذَکَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَۃَ الْحَکَمَ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی عَنْ بِلَالَ قَالَ: فَأَمَرَنِیْ أَنْ أُثَوِّبَ فِیِْ الْفَجْرِ، وَنَہَانِیْ عَنِ الْعِشَائِ، فَقَالَ شُعْبَۃُ: وَاللّٰہِ مَاذَکَرَ ابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی، وَلَا ذَکَرَ إِلاَّ إِسْنَادًا ضَعِیْفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنْتُ أُرَاہُ رَوَاہُ عَنْ عِمْرَانَ بِنْ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۱)
ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیثیہ ہے: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔
Takhreej
(۱۲۷۰) تخر یـج: …أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۲۰۸، والبیھقی: ۱/ ۴۲۴، وانظر ما قبلہ (انظر: ۲۳۹۱۴)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں کہ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنے کا آغاز عہد نبوی میں ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے ہو گیا تھا، بعض دلائل کا ذکر اس باب میں موجود ہے اور بعض کا ذکر آئندہ آئے گا، کچھ مرویات درج ذیل ہیں: سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِیْ الْفَجْرِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: سنت یہ ہے کہ مؤذن اذانِ فجر میں حی علی الفلاح کے بعد اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، دارقطنی، بیہقی) جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان سکھلائی تو اسے فرمایا: ((فَاِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ:اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: جب نمازِ فجر (کی اذان ہو تو) اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنا ہے۔ (ابوداود: ۵۰۰) مطلبیہ ہے کہ یہ الفاظ الصلوۃ خیر من النوم فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا اور عشاء کی اذان مین یہ کہنے سے روک دیا جیسا کہ دیگر احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا۔ (عبداللہ رفیق)
1270
Zaeef

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.