TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Establishing the prayer and the sunnah regarding them - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل - Book 7 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Book 7 of Sunnan Ibn e Maja, with 205 chapters and 630 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

630 Hadith · 205 Chapters
رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْكُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ:‏‏‏‏ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏سَلَّمَ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Umm Hani’ bint Abu Talib that on the day of the Conquest (of Makkah) the Messenger of Allah (ﷺ) prayed voluntary Duha with eight Rak’ah, saying the Salam after each two Rak’ah.
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل ) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۱ (۱۲۹۰)،(تحفة الأشراف:۱۸۱۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ۲۱ (۲۸۰)، الصلاة ۴ (۳۵۷)، الجزیة ۹ (۳۱۷۱)، الأدب ۹۴ (۶۱۵۸)، صحیح مسلم/الحیض ۱۶ (۳۳۶)، المسافرین ۱۳ (۳۳۶)، سنن الترمذی/الوتر ۱۵ (۴۷۴)، الاستئذان ۳۴ (۲۷۳۴)، سنن النسائی/الطہارة ۱۴۳ (۲۲۶)، موطا امام مالک/صلاةالضحیٰ ۸ (۲۷)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۵۱ (۱۴۹۴)
Explanation
نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ رکعات تک کا ذکر ہے، اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے، اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵)۔ اکثر علماء کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ نماز الضحیٰ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
1323
Sahih
رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے۔
حدثنا هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سفيان السعدي عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «في كل ركعتين تسليمة».
It was narrated from Abu Sa’eed that the Prophet (ﷺ) said: “After each two Rak’ah there should be the Taslim.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۳۶۰، ومصباح الزجاجة:۴۶۶)
1324
Zaeef
رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُطَّلِبِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَدَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، ‏‏‏‏‏‏وَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَبَاءَسُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَمَسْكَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَتُقْنِعُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ .
It was narrated that Muttalib that is, Ibn Abu Wada’ah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The night prayers are (to be offered) two by two. Say the Tashah-hud after each two Rak`ah, and raise your hands in all humility like one who is poor and needy and say: ‘Allāhummaghfir lī (O Allah, forgive me).’ And whoever does not do that, it is imperfect.’”
مطلب بن ابی وداعہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے ( یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو ) اس کی نماز ناقص ہے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۲ (۱۲۹۶)،(تحفة الأشراف:۱۱۲۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۷)
Explanation
مطلب بن أبی وداعہ وہم ہے، صحیح (المطلب بن ربیعہ ہے) ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸، تہذیب الکمال، ترجمہ المطلب بن ربیعہ ۲۸؍۷۶)۔
1325
Zaeef
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever fasts Ramadan and spends its nights in prayer, out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۹۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ۲۸ (۳۷)، لیلة القدر ۱ (۲۰۱۴)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۵ (۷۵۹)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۸ (۱۳۷۱)، سنن الترمذی/الصوم ۱ (۶۸۳)، سنن النسائی/الصیام ۳ (۶۱۰۴)، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ۱ (۲)، مسند احمد (۲/۲۳۲،۲۴۱،۳۸۵،۴۷۳،۵۰۳)، سنن الدارمی/الصوم ۵۴ (۱۸۱۷)
Explanation
رمضان میں رات کو عبادت کرنا سنت ہے خواہ اخیر رات میں کرے یا شروع رات میں، اور اس کا وقت نماز عشاء کے بعد سے نماز فجر تک ہے، اور قیام رمضان تہجد پڑھنے سے ادا ہو جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ تراویح ہی پڑھے، تہجد کی طرح آٹھ رکعتیں تراویح کی ادا کرے، نبی کریم ﷺ سے یہی ثابت ہے۔ لیکن جو شخص آخری رات میں تہجد پڑھتا ہو یا پڑھ سکتا ہو تو اس کے حق میں یہی زیادہ افضل و بہتر ہے کہ وہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر پہلے نماز تراویح با جماعت پڑھنی ہو، اور آخری رات میں آدمی تنہا ہو، تو باجماعت نماز اس کے لئے افضل اور زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ باجماعت پڑھنے والے کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ بیس رکعت کی مروجہ تراویح پر عوام کی محافظت نے صحیح احادیث سے ثابت گیارہ رکعت تراویح کو ترک کر دیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ: ۱- نبی اکرم ﷺ نے (۱۱) رکعت سے زیادہ نماز تراویح نہیں ادا فرمائی، اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو سنت صحیحہ کے مطابق لوگوں کو (۱۱) رکعت تراویح ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا، واضح رہے کہ عہد فاروقی میں رمضان میں لوگوں کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کی روایت شاذ اور ضعیف ہے، اور ثقہ راویوں کی اس روایت کے خلاف ہے کہ یہ (۱۱) رکعات تھیں، اور ان کے پڑھانے کا حکم عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا، شاذ روایت (یعنی ثقہ راوی کی روایت جس کی ثقات نے مخالفت کی ہو) اگر صحیح بھی ہو جائے تو ثقات یا زیادہ ثقہ راوی کی صحیح اور محفوظ روایت کو لینا، اور اس پر عمل کرنا اولی اور بہتر ہے، کیونکہ یہ عدد میں سنت نبویہ کے مطابق ہے، نیز اس میں یہ بھی نہیں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا، بلکہ لوگوں کا فعل تھا جو اس صحیح روایت کے خلاف تھا جس میں (۱۱) رکعت تراویح پڑھانے کا حکم موجود ہے، اگر یہ فعل عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اور ثابت بھی ہوتا تو اس پر عمل اور مطابق سنت صحیح روایت پر عمل نہ کرنا ایسا امر نہیں تھا کہ عامل بالحدیث جماعت مسلمین کے گروہ سے خارج ہو جائے جیسا کہ تعصب اور جہالت کے شکار لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ جو بات سمجھی جا سکتی ہے وہ بیس رکعات کے جواز کی ہے، لیکن یہ بات قطعی طور سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس فعل کو کیا، اور جس پر مواظبت فرمائی وہ افضل ہے، اور وہ (۱۱) رکعت ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی رمضان کی نماز کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز (تراویح و تہجد) نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو ایسی ادا فرماتے کہ جس کے طول اور حسن کے متعلق کچھ نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں مزید پڑھتے اس کے طول وحسن کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں ادا فرماتے (صحیح بخاری، و صحیح مسلم)۔ ان رکعات میں کمی بھی ممکن ہے، حتی کہ صرف ایک رکعت ہی پڑھ لے تو ایسا کر سکتا ہے، اس پر رسول اکرم ﷺ کی قولی اور فعلی دونوں حدیثیں دلیل ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کتنی رکعت وتر ادا فرماتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور چھ رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور دس رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور سات رکعات سے کم پر آپ وتر نہیں پڑھتے تھے، اور نہ تیرہ رکعات سے زیادہ پڑھتے تھے (سنن ابی داود، مسند احمد)، اور تیرہ رکعتیں یوں کہ دو رکعتیں عشاء کے بعد کی سنتیں ہیں، یا وہ دو ہلکی رکعتیں جن سے نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز کا افتتاح فرماتے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ وتر حق ہے، جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، جو چاہے تین رکعت، جو چاہے ایک ہی رکعت پڑھے، (طحاوی، ومستدرک الحاکم) یہ بھی واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی (۲۰) رکعت تراویح کا پڑھنا ثابت نہیں ہے، اور بیس رکعت پر اجماع کا جن لوگوں نے دعوی کیا ہے ان کا دعوی باطل ہے، سنت سے ثابت (۱۱) رکعت تراویح کی وجہ سے علماء نے اس سے زائد رکعات پر نکیر کی ہے۔
1326
Sahih
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْهُ حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ لَيَالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ بِنَا لَيْلَةَ السَّابِعَةِ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّادِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الْخَامِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ بِنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الثَّالِثَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ وَمَا الْفَلَاحُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ السُّحُورُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ بَقِيَّةِ الشَّهْرِ
It was narrated that Abu Dharr said: “We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not lead us in praying Qiyam (prayers at night) during any part of it, until there were seven nights left. He led us in praying Qiyam on the seventh night until approximately one third of the night had passed. Then on the sixth night which followed it he did not lead us in prayer. Then he led us in praying Qiyam on the fifth night which followed it until almost half the night had passed. I said: ‘O Messenger of Allah, would that we had offered voluntary prayers throughout the whole night.’ He said: ‘Whoever stands with the Imam until he finishes, it is equivalent to spending the whole night in prayer.’ Then on the fourth night which followed it, he did not lead us in prayer, until the third night that followed it, when he gathered his wives and family, and the people gathered, and he led us in prayer until we feared that we would miss the Falah.” It was asked: “What is the Falah?” He said: “Suhur.” He said: “Then he did not lead us in prayer at night for the rest of the month.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۸ (۱۳۷۵)، سنن الترمذی/الصوم ۸۱ (۸۰۶)، سنن النسائی/السہو ۱۰۳ (۱۳۶۵)، قیام اللیل ۴ (۱۶۰۶)،(تحفة الأشراف:۱۱۹۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۵۹،۱۶۳)، سنن الدارمی/الصوم ۵۴ (۱۸۱۸)
Explanation
اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں اس حساب سے تیئسویں اور پچیسویں اور ستائیسویں رات میں نبی کریم ﷺ نے قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ لیلۃ القدر بھی انہیں راتوں میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ستائیسویں رات کا لیلۃ القدر ہونا راجح ہے، لیلۃ القدرکی تعیین میں لوگوں کا بہت اختلاف ہے اور یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب ہے، البتہ جو سال بھر تہجد پڑھتا رہے گا وہ لیلۃ القدر بھی ضرور پائے گا، ان شاء اللہ، اس حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف تین راتیں تراویح پڑھیں، دوسری حدیث میں ہے کہ چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے لیکن آپ ﷺ حجرہ مبارک سے باہر تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں ڈرا ایسا نہ ہو یہ نماز تم پر فرض ہو جائے، اس حدیث سے تراویح کے باجماعت پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہو گئی۔
1327
Sahih
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ كِلَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ .
It was narrated that Nadr bin Shaiban said: “I met Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman and said: ‘Tell me a Hadith that you heard from your father, in which mention is made of the month of Ramadan.’ He said: ‘Yes, my father narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the month of Ramadan and said: “A month which Allah has enjoined upon you to fast, and in which I have established Qiyam (prayers at night) as Sunnah for you. So whoever fasts it and spends its nights in prayer out of faith and in hope of reward; he will emerge from his sins as on the day his mother bore him.”
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ۔
Takhreej
سنن النسائی/الصیام ۲۲ (۲۲۱۰)،(تحفة الأشراف:۹۷۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۹۱،۱۹۵)
1328
Zaeef
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِاللَّيْلِ بِحَبْلٍ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ كَسِلًا خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘At night Satan ties a rope in which there are three knots to the nape of the neck of anyone of you. If he wakes up and remembers Allah, one knot is untied. If he performs ablution, another knot is untied, and if he gets up to pray, all the knots are untied, so he wakes up energetic and cheerful, he has already earned something good. But if he does not do that, he wakes up bad-tempered, having earned nothing good.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۵۵۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ۱۲ (۱۴۴۲)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۶۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۸ (۷۷۶)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۷ (۱۳۰۶)، سنن النسائی/قیام اللیل۵ (۱۶۰۸)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ۲۵ (۹۵)، مسند احمد (۲/۲۴۳،۲۵۳)
Explanation
مولف نے اس حدیث سے قیام اللیل مراد لیا ہے، اور ممکن ہے کہ نماز فجر کے لئے اٹھنے سے اور وضو کرنے سے بھی شیطان کی یہ گرہیں کھل جائیں،«والعلم عند الله»، ہمیں گرہ کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، درحقیقت شیطان یہ گرہیں لگاتا ہے اور بعضوں نے تاویل کی اور اس سے غفلت کی رسی مراد لی، اور گرہوں سے اس غفلت کو مضبوط کر دینا، اور رات کے لمبی ہونے کا احساس دلا دینا مراد لیا ہے، جب کہ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے۔
1329
Sahih
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ .
It was narrated that ‘Abdullah said: “Mention was made to the Messenger of Allah (ﷺ) of a man who slept until morning came. He said: ‘That is because Satan urinated in his ears.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/التہجد ۱۳ (۱۱۴۴)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۷۰)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۸ (۷۷۴)، سنن النسائی/قیام اللیل ۵ (۱۶۰۹،۱۶۱۰)،(تحفة الأشراف:۹۲۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۷۵،۴۲۷)
Explanation
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان میں پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لئے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اسی کو شیطان کے آدمی کے کان میں پیشاب کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
1330
Sahih
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not be like so-and-so, who used to pray voluntary night prayers then stopped praying voluntary night prayers.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
Takhreej
صحیح البخاری/التہجد ۱۹ (۱۱۵۲)، صحیح مسلم/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، سنن النسائی/قیام اللیل ۵۰ (۱۷۶۴)،(تحفة الأشراف:۸۹۶۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۰)
1331
Sahih
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَدَثَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏ لَا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The mother of Sulaiman bin Dawud said to Sulaiman: “O my son, do not sleep too much at night, for sleeping too much at night will leave a man poor on the Day of Resurrection.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا ۔
Takhreej
(تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۰۹۴، ومصباح الزجاجة:۴۶۷)
1332
Zaeef
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَبُو يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ .
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever prays a great deal at night, his face will be handsome during the day.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۳۳۶، ومصباح الزجاجة:۴۶۸)
1333
Zaeef
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏ وعبد الوهاب، ‏‏‏‏‏‏ ومحمد بن جعفر، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقِيلَ:‏‏‏‏ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏أَفْشُوا السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Salam said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah, the people rushed towards him and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has come!’ I came along with the people to see him, and when I looked at the face of the Messenger of Allah (ﷺ), I realized that his face was not the face of a liar. The first thing he said was: “O people, spread (the greeting of) Salam, offer food to people and pray at night when people are sleeping, you will enter Paradise in peace.”
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ۔
Takhreej
سنن الترمذی/القیامة ۴۲ (۲۴۸۵)،(تحفة الأشراف:۵۳۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۵۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۵۶ (۱۵۰۱)،(حدیث مکرر ہے، دیکھئے:۳۲۵۱)
1334
Sahih
(عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَغَرِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ .
It was narrated that Abu Sa’eed and Abu Hurairah said that the Prophet (ﷺ) said: ‘When a man wakes up at night and wakes his wife, and they pray two Rak’ah, they will be recorded among the men and women who remember Allah much.”
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۷ (۱۳۰۹)،(تحفة الأشراف:۳۹۶۵،۱۲۱۹۵)
Explanation
ان کی شان میں قرآن میں یہ آیا ہے: «والذاكرين الله كثيرا والذاكرات» اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے مرد اور عورتیں (الأحزاب:35) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل (تہجد) کے لئے دو رکعت بھی کافی ہے، اور سنت آٹھ، دس اور بارہ ہے، اور اس کے بعد وتر، اگر دو رکعت بھی نہ ہو سکیں تو صرف بستر پر ہی رہ کر تھوڑی دیر دعا اور استغفار کر لے، اور اللہ کی یہ یاد بھی غنیمت ہے۔
1335
Zaeef
(عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجحْدَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَبَتْ رَشَّ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَبَى رَشَّتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and wakes his wife, and she prays; and if she refuses he sprinkles water in her face. And May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and wakes her husband and he prays; and if he refuses, she sprinkles water in his face.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۷ (۱۳۰۸)،۳۴۸ (۱۴۵۰)، سنن النسائی/ قیام اللیل ۵ (۱۶۱۱)،(تحفة الأشراف:۱۲۸۶۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۵۰،۴۳۶)
1336
Sahih
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا .
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Sa’ib said: “Sa’d bin Abu Waqqas came to us when he had become blind. I greeted him with Salam and he said: ‘Who are you?’ So I told him, and he said: ‘Welcome, O son of my brother. I have heard that you recite Qur’an in a beautiful voice. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This Qur’an was revealed with sorrow, so when you recite it, then weep. If you cannot weep then pretend to weep, and make your voice melodious in reciting it. Whoever does not make his voice melodious, he is not one of us.”
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۹۰۰، ومصباح الزجاجة:۴۶۹)وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۵ (۱۴۶۹)
Explanation
حدیث میں «تغنى» کا لفظ ہے، اور «تغنى» کا معنی گانا ہے، قرآن میں «تغنى» نہیں ہو سکتی، لہذا «تغنى» سے یہ مراد ہو گا کہ باریک آواز سے درد کے ساتھ اس کو پڑھنا بایں طور کہ پڑھنے والے پر اور سننے والے سب پر اثر ہو، اور دلوں میں اللہ کا خوف اور خشوع پیدا ہو، اور تجوید کے قواعد کی رعایت باقی رہے، کلمات اور حروف میں کمی اور بیشی نہ ہو، سفیان بن عیینہ نے کہا: «تغنی بالقرآن» کا یہ معنی ہے کہ قرآن کو دولت لازوال سمجھے، اور دنیا داروں سے غنی یعنی بے پرواہ رہے۔
1337
Zaeef
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ كُنْتِ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا .
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said: “One night at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) I was late returning from the ‘Isha’, then I came and he said: ‘Where were you?’ I said: ‘I was listening to the recitation of a man among your Companions, for I have never heard a recitation or a voice like his from anyone.’ He got up and I got up with him, to go and listen to him. Then he turned to me and said: ‘This is Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah. Praise is to Allah Who has created such men among my Ummah.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ، ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۳۰۳، ومصباح الزجاجة:۴۷۰)، ومسند احمد (۶/۱۶۵)
Explanation
سالم مولی ابوحذیفہ مشہور قاری اور خوش آواز تھے، یہ دونوں صفات ایک قاری میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اکثر لوگ خوش آواز تو ہوتے ہیں لیکن تجوید یعنی قواعد قراءت سے ناواقف ہوتے ہیں، اور بعض قاری ہوتے ہیں لیکن ان کی آواز اچھی نہیں ہوتی، نیز حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عورت کو اجنبی مرد کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔
1338
Sahih
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ .
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Among the people who recite the Qur’an with the most beautiful voices is the man who, when you hear him, you think that he fears Allah.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۶۴۶، ومصباح الزجاجة:۴۷۱)
Explanation
یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔
1339
Zaeef
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏يَجْهَرُ بِهِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ .
It was narrated that Fadalah bin ‘Ubaid said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah listens more attentively to a man with a beautiful voice who recites Qur’an out loud than the master of a singing slave listens to his slave.’”
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۴۰، ومصباح الزجاجة:۴۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۹،۲۰)
1340
Zaeef
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and heard a man reciting Qur’an. He asked: ‘Who is this?’ It was said: ‘(He is) ‘Abdullah bin Qais.’ He said: ‘He has been given (sweet melodious voice) from the Mazamir of the family of Dawud.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۱۱۹، ومصباح الزجاجة:۴۷۳)، وقد أخر جہ: سنن النسائی/الافتتاح ۸۳ (۱۰۲۰)، مسند احمد (۲/۳۵۴،۳۶۹،۴۵۰)
1341
Sahih
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ .
It was narrated from Bara’ (bin ‘Azib) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Beautify the Qur’an with your voices.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۵ (۱۴۶۸)، سنن النسائی/الافتتاح ۸۳ (۱۰۱۶)،(تحفة الأشراف:۱۷۷۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ۵۲ تعلیقًا، مسند احمد (۴/۲۸۳،۲۸۵،۳۰۴)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ۳۴ (۳۵۴۳)
Explanation
خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں «زينوا أصواتكم بالقرآن» کے الفاظ ہیں، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ موسیقی کی طرح آواز نکالو۔
1342
Sahih

Chapters

205
01
نماز شروع کرنے کا بیان۔
4 Hadith
02
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان
2 Hadith
03
نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
3 Hadith
04
نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان
4 Hadith
05
فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
5 Hadith
06
جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
4 Hadith
07
ظہر اور عصر کی قرات کا بیان
4 Hadith
08
ظہر و عصر میں کبھی کوئی آیت آواز سے پڑھ دینے کا بیان
2 Hadith
09
مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
10
عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
11
امام کے پیچھے قرات کا حکم
7 Hadith
12
(قرات میں) امام کے دونوں سکتوں کا بیان
2 Hadith
13
جہری نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان
5 Hadith
14
آمین زور سے کہنے کا بیان
7 Hadith
15
رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان
11 Hadith
16
نماز میں رکوع کا بیان
4 Hadith
17
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان
2 Hadith
18
رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟۔
5 Hadith
19
نماز میں سجدے کا بیان
7 Hadith
20
رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان
4 Hadith
21
سجدے میں اعتدال اور میانہ روی
2 Hadith
22
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان
4 Hadith
23
دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟۔
2 Hadith
24
تشہد کا بیان
4 Hadith
25
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان
6 Hadith
26
تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟۔
2 Hadith
27
تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان
3 Hadith
28
سلام پھیرنے کا بیان۔
4 Hadith
29
ایک سلام پھیرنے کا بیان
3 Hadith
30
امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان
2 Hadith
31
امام صرف اپنے لیے دعا نہ کرے
1 Hadith
32
سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟۔
5 Hadith
33
نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان
4 Hadith
34
جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟
3 Hadith
35
بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
4 Hadith
36
نمازی کے سترہ کا بیان
4 Hadith
37
نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان۔
3 Hadith
38
کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟۔
6 Hadith
39
نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان
3 Hadith
40
نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
4 Hadith
41
امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے
4 Hadith
42
نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟۔
6 Hadith
43
لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟۔
2 Hadith
44
دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان
4 Hadith
45
امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟۔
3 Hadith
46
کون شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے؟۔
2 Hadith
47
امام کی ذمہ داری کیا ہے؟۔
3 Hadith
48
جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے
5 Hadith
49
دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان
3 Hadith
50
صفیں برابر کرنے کا بیان
4 Hadith
51
پہلی صف کی فضیلت
4 Hadith
52
عورتوں کی صف کا بیان
2 Hadith
53
ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان
1 Hadith
54
صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان
2 Hadith
55
صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
56
قبلہ کا بیان
4 Hadith
57
مسجد میں داخل ہونے والا دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے
2 Hadith
58
لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
3 Hadith
59
نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟۔
3 Hadith
60
لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے نماز پڑھنے والے کے حکم کا بیان
1 Hadith
61
نمازی کے تھوکنے کا بیان
4 Hadith
62
نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان
3 Hadith
63
چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
3 Hadith
64
گرمی اور سردی میں کپڑوں پہ سجدہ کرنے کا بیان
3 Hadith
65
نماز میں (غلطی پر تنبیہ کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں
3 Hadith
66
جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
3 Hadith
67
نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان
3 Hadith
68
نماز میں خشوع و خضوع کا بیان
4 Hadith
69
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
5 Hadith
70
قرآن کے سجدوں کا بیان
3 Hadith
71
قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد
5 Hadith
72
نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان
3 Hadith
73
سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان
6 Hadith
74
سفر میں جمع بین الصلاتین (دو نمازیں جمع کرنے) کا بیان
2 Hadith
75
سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان
2 Hadith
76
جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟۔
5 Hadith
77
تارک نماز کے گناہ کا بیان
3 Hadith
78
جمعہ کی فرضیت کا بیان
3 Hadith
79
جمعہ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
80
جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان
3 Hadith
81
جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
82
جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان
3 Hadith
83
جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان
4 Hadith
84
جمعہ کے وقت کا بیان
4 Hadith
85
جمعہ کے خطبہ کا بیان
7 Hadith
86
خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ غور سے سننے کا بیان
2 Hadith
87
دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟۔
3 Hadith
88
دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت
2 Hadith
89
منبر سے اترنے کے بعد امام بات چیت کر سکتا ہے
1 Hadith
90
نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
91
جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان
3 Hadith
92
کتنی دور سے جمعہ کے لیے آنا ضروری ہے
1 Hadith
93
بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
4 Hadith
94
جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان
1 Hadith
95
جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان
3 Hadith
96
نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت
2 Hadith
97
جمعہ کے دن اذان کا بیان
1 Hadith
98
دوران خطبہ امام کی جانب منہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان
3 Hadith
100
سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان۔
3 Hadith
101
فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان
5 Hadith
102
فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
103
فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
3 Hadith
104
فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟۔
2 Hadith
105
ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان
2 Hadith
106
جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
107
جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
108
ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
109
دن کی مستحب (نفل) نماز کا بیان
1 Hadith
110
مغرب سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان
2 Hadith
111
مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔
2 Hadith
112
مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں کون سی سورتیں پڑھے؟۔
1 Hadith
113
مغرب کے بعد چھ رکعت سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
114
وتر کا بیان
3 Hadith
115
وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
116
ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
4 Hadith
117
وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
2 Hadith
118
دعائے قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان
1 Hadith
119
دعا میں ہاتھ اٹھانے اور اس کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔
1 Hadith
120
رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
3 Hadith
121
رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان
3 Hadith
122
سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
123
وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان
3 Hadith
124
سفر میں وتر پڑھنے کا بیان
2 Hadith
125
وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
2 Hadith
126
وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان
3 Hadith
127
سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
2 Hadith
128
رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنے کا بیان
1 Hadith
129
نماز میں سہو (بھول چوک) کا بیان
2 Hadith
130
بھول کر ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
131
جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
132
نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان
2 Hadith
133
جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سوچے اور غور کرے اور جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرے
2 Hadith
134
دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
135
سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان
2 Hadith
136
سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان
2 Hadith
137
نماز پر بنا کرنے کا بیان
2 Hadith
138
جس کو نماز میں حدث ہو جائے تو وہ مسجد سے کس حالت میں باہر جائے؟۔
1 Hadith
139
بیمار کی نماز کا بیان
2 Hadith
140
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
4 Hadith
141
بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے
3 Hadith
142
مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان
4 Hadith
143
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ایک امتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان
1 Hadith
144
امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
4 Hadith
145
نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
4 Hadith
146
دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان
3 Hadith
147
فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت
3 Hadith
148
جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان
3 Hadith
149
مکہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
150
جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟۔
3 Hadith
151
ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان
3 Hadith
152
سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان
5 Hadith
153
نماز استسقا کا بیان
3 Hadith
154
استسقا کی دعا کا بیان
4 Hadith
155
عیدین کی نماز کا بیان
4 Hadith
156
عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟۔
4 Hadith
157
نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
3 Hadith
158
عیدین میں خطبے کا بیان
6 Hadith
159
نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟۔
1 Hadith
160
عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟۔
3 Hadith
161
عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان
4 Hadith
162
عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان
4 Hadith
163
عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان
2 Hadith
164
عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان
3 Hadith
165
عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
3 Hadith
166
عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟۔
3 Hadith
167
بارش کی وجہ سے نماز عید مسجد میں پڑھنے کا بیان
1 Hadith
168
عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم
1 Hadith
169
عیدین میں غسل کرنے کا بیان
2 Hadith
170
عیدین کی نماز کے وقت کا بیان
1 Hadith
171
تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان
4 Hadith
172
رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے۔
4 Hadith
173
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
3 Hadith
174
تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان
6 Hadith
175
(عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان
2 Hadith
176
قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان
6 Hadith
177
جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
178
قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟۔
4 Hadith
179
تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان
6 Hadith
180
رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟۔
3 Hadith
181
تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟۔
6 Hadith
182
رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟۔
4 Hadith
183
تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟۔
2 Hadith
184
نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟۔
3 Hadith
185
مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کا بیان
2 Hadith
186
گھر میں نفل پڑھنے کا بیان
4 Hadith
187
صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان
4 Hadith
188
نماز استخارہ کا بیان
1 Hadith
189
نماز حاجت کا بیان
2 Hadith
190
صلاۃ التسبیح کا بیان
2 Hadith
191
نصف شعبان کی رات کا بیان
3 Hadith
192
شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان
4 Hadith
193
نماز گناہوں کا کفارہ ہے
4 Hadith
194
پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان
5 Hadith
195
مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت
3 Hadith
196
بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت
4 Hadith
197
مسجد قباء میں نماز کی فضیلت
2 Hadith
198
جامع مسجد میں نماز کی فضیلت
1 Hadith
199
منبر رسول پہلے کیسے بنا؟۔
4 Hadith
200
نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان
4 Hadith
201
کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان
3 Hadith
202
(قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہو گا
2 Hadith
203
فرض نماز پڑھنے کی جگہ پر نفل پڑھنے کا بیان
2 Hadith
204
مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان
2 Hadith
205
نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟۔
2 Hadith
No chapter matched that.