Establishing the prayer and the sunnah regarding them - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل - Book 7 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 7 of Sunnan Ibn e Maja, with 205 chapters and 630 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
It was narrated from Umm Hani’ bint Abu Talib that on the day of the Conquest (of Makkah) the Messenger of Allah (ﷺ) prayed voluntary Duha with eight Rak’ah, saying the Salam after each two Rak’ah.
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل ) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۱؎۔
نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ رکعات تک کا ذکر ہے، اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے، اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵)۔ اکثر علماء کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ نماز الضحیٰ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
حدثنا هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سفيان السعدي عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «في كل ركعتين تسليمة».
It was narrated from Abu Sa’eed that the Prophet (ﷺ) said:
“After each two Rak’ah there should be the Taslim.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۳۶۰، ومصباح الزجاجة:۴۶۶)
It was narrated that Muttalib that is, Ibn Abu Wada’ah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The night prayers are (to be offered) two by two. Say the Tashah-hud after each two Rak`ah, and raise your hands in all humility like one who is poor and needy and say: ‘Allāhummaghfir lī (O Allah, forgive me).’ And whoever does not do that, it is imperfect.’”
مطلب بن ابی وداعہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے ( یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو ) اس کی نماز ناقص ہے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۲ (۱۲۹۶)،(تحفة الأشراف:۱۱۲۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۷)
Explanation
مطلب بن أبی وداعہ وہم ہے، صحیح (المطلب بن ربیعہ ہے) ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸، تہذیب الکمال، ترجمہ المطلب بن ربیعہ ۲۸؍۷۶)۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever fasts Ramadan and spends its nights in prayer, out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۹۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ۲۸ (۳۷)، لیلة القدر ۱ (۲۰۱۴)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۵ (۷۵۹)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۸ (۱۳۷۱)، سنن الترمذی/الصوم ۱ (۶۸۳)، سنن النسائی/الصیام ۳ (۶۱۰۴)، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ۱ (۲)، مسند احمد (۲/۲۳۲،۲۴۱،۳۸۵،۴۷۳،۵۰۳)، سنن الدارمی/الصوم ۵۴ (۱۸۱۷)
Explanation
رمضان میں رات کو عبادت کرنا سنت ہے خواہ اخیر رات میں کرے یا شروع رات میں، اور اس کا وقت نماز عشاء کے بعد سے نماز فجر تک ہے، اور قیام رمضان تہجد پڑھنے سے ادا ہو جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ تراویح ہی پڑھے، تہجد کی طرح آٹھ رکعتیں تراویح کی ادا کرے، نبی کریم ﷺ سے یہی ثابت ہے۔ لیکن جو شخص آخری رات میں تہجد پڑھتا ہو یا پڑھ سکتا ہو تو اس کے حق میں یہی زیادہ افضل و بہتر ہے کہ وہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر پہلے نماز تراویح با جماعت پڑھنی ہو، اور آخری رات میں آدمی تنہا ہو، تو باجماعت نماز اس کے لئے افضل اور زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ باجماعت پڑھنے والے کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ بیس رکعت کی مروجہ تراویح پر عوام کی محافظت نے صحیح احادیث سے ثابت گیارہ رکعت تراویح کو ترک کر دیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ: ۱- نبی اکرم ﷺ نے (۱۱) رکعت سے زیادہ نماز تراویح نہیں ادا فرمائی، اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو سنت صحیحہ کے مطابق لوگوں کو (۱۱) رکعت تراویح ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا، واضح رہے کہ عہد فاروقی میں رمضان میں لوگوں کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کی روایت شاذ اور ضعیف ہے، اور ثقہ راویوں کی اس روایت کے خلاف ہے کہ یہ (۱۱) رکعات تھیں، اور ان کے پڑھانے کا حکم عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا، شاذ روایت (یعنی ثقہ راوی کی روایت جس کی ثقات نے مخالفت کی ہو) اگر صحیح بھی ہو جائے تو ثقات یا زیادہ ثقہ راوی کی صحیح اور محفوظ روایت کو لینا، اور اس پر عمل کرنا اولی اور بہتر ہے، کیونکہ یہ عدد میں سنت نبویہ کے مطابق ہے، نیز اس میں یہ بھی نہیں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا، بلکہ لوگوں کا فعل تھا جو اس صحیح روایت کے خلاف تھا جس میں (۱۱) رکعت تراویح پڑھانے کا حکم موجود ہے، اگر یہ فعل عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اور ثابت بھی ہوتا تو اس پر عمل اور مطابق سنت صحیح روایت پر عمل نہ کرنا ایسا امر نہیں تھا کہ عامل بالحدیث جماعت مسلمین کے گروہ سے خارج ہو جائے جیسا کہ تعصب اور جہالت کے شکار لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ جو بات سمجھی جا سکتی ہے وہ بیس رکعات کے جواز کی ہے، لیکن یہ بات قطعی طور سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس فعل کو کیا، اور جس پر مواظبت فرمائی وہ افضل ہے، اور وہ (۱۱) رکعت ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی رمضان کی نماز کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز (تراویح و تہجد) نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو ایسی ادا فرماتے کہ جس کے طول اور حسن کے متعلق کچھ نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں مزید پڑھتے اس کے طول وحسن کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں ادا فرماتے (صحیح بخاری، و صحیح مسلم)۔ ان رکعات میں کمی بھی ممکن ہے، حتی کہ صرف ایک رکعت ہی پڑھ لے تو ایسا کر سکتا ہے، اس پر رسول اکرم ﷺ کی قولی اور فعلی دونوں حدیثیں دلیل ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کتنی رکعت وتر ادا فرماتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور چھ رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور دس رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور سات رکعات سے کم پر آپ وتر نہیں پڑھتے تھے، اور نہ تیرہ رکعات سے زیادہ پڑھتے تھے (سنن ابی داود، مسند احمد)، اور تیرہ رکعتیں یوں کہ دو رکعتیں عشاء کے بعد کی سنتیں ہیں، یا وہ دو ہلکی رکعتیں جن سے نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز کا افتتاح فرماتے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ وتر حق ہے، جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، جو چاہے تین رکعت، جو چاہے ایک ہی رکعت پڑھے، (طحاوی، ومستدرک الحاکم) یہ بھی واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی (۲۰) رکعت تراویح کا پڑھنا ثابت نہیں ہے، اور بیس رکعت پر اجماع کا جن لوگوں نے دعوی کیا ہے ان کا دعوی باطل ہے، سنت سے ثابت (۱۱) رکعت تراویح کی وجہ سے علماء نے اس سے زائد رکعات پر نکیر کی ہے۔
It was narrated that Abu Dharr said:
“We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not lead us in praying Qiyam (prayers at night) during any part of it, until there were seven nights left. He led us in praying Qiyam on the seventh night until approximately one third of the night had passed. Then on the sixth night which followed it he did not lead us in prayer. Then he led us in praying Qiyam on the fifth night which followed it until almost half the night had passed. I said: ‘O Messenger of Allah, would that we had offered voluntary prayers throughout the whole night.’ He said: ‘Whoever stands with the Imam until he finishes, it is equivalent to spending the whole night in prayer.’ Then on the fourth night which followed it, he did not lead us in prayer, until the third night that followed it, when he gathered his wives and family, and the people gathered, and he led us in prayer until we feared that we would miss the Falah.” It was asked: “What is the Falah?” He said: “Suhur.” He said: “Then he did not lead us in prayer at night for the rest of the month.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۸ (۱۳۷۵)، سنن الترمذی/الصوم ۸۱ (۸۰۶)، سنن النسائی/السہو ۱۰۳ (۱۳۶۵)، قیام اللیل ۴ (۱۶۰۶)،(تحفة الأشراف:۱۱۹۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۵۹،۱۶۳)، سنن الدارمی/الصوم ۵۴ (۱۸۱۸)
Explanation
اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں اس حساب سے تیئسویں اور پچیسویں اور ستائیسویں رات میں نبی کریم ﷺ نے قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ لیلۃ القدر بھی انہیں راتوں میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ستائیسویں رات کا لیلۃ القدر ہونا راجح ہے، لیلۃ القدرکی تعیین میں لوگوں کا بہت اختلاف ہے اور یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب ہے، البتہ جو سال بھر تہجد پڑھتا رہے گا وہ لیلۃ القدر بھی ضرور پائے گا، ان شاء اللہ، اس حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف تین راتیں تراویح پڑھیں، دوسری حدیث میں ہے کہ چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے لیکن آپ ﷺ حجرہ مبارک سے باہر تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں ڈرا ایسا نہ ہو یہ نماز تم پر فرض ہو جائے، اس حدیث سے تراویح کے باجماعت پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہو گئی۔
It was narrated that Nadr bin Shaiban said:
“I met Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman and said: ‘Tell me a Hadith that you heard from your father, in which mention is made of the month of Ramadan.’ He said: ‘Yes, my father narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the month of Ramadan and said: “A month which Allah has enjoined upon you to fast, and in which I have established Qiyam (prayers at night) as Sunnah for you. So whoever fasts it and spends its nights in prayer out of faith and in hope of reward; he will emerge from his sins as on the day his mother bore him.”
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ۔
Takhreej
سنن النسائی/الصیام ۲۲ (۲۲۱۰)،(تحفة الأشراف:۹۷۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۹۱،۱۹۵)
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘At night Satan ties a rope in which there are three knots to the nape of the neck of anyone of you. If he wakes up and remembers Allah, one knot is untied. If he performs ablution, another knot is untied, and if he gets up to pray, all the knots are untied, so he wakes up energetic and cheerful, he has already earned something good. But if he does not do that, he wakes up bad-tempered, having earned nothing good.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۵۵۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ۱۲ (۱۴۴۲)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۶۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۸ (۷۷۶)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۷ (۱۳۰۶)، سنن النسائی/قیام اللیل۵ (۱۶۰۸)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ۲۵ (۹۵)، مسند احمد (۲/۲۴۳،۲۵۳)
Explanation
مولف نے اس حدیث سے قیام اللیل مراد لیا ہے، اور ممکن ہے کہ نماز فجر کے لئے اٹھنے سے اور وضو کرنے سے بھی شیطان کی یہ گرہیں کھل جائیں،«والعلم عند الله»، ہمیں گرہ کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، درحقیقت شیطان یہ گرہیں لگاتا ہے اور بعضوں نے تاویل کی اور اس سے غفلت کی رسی مراد لی، اور گرہوں سے اس غفلت کو مضبوط کر دینا، اور رات کے لمبی ہونے کا احساس دلا دینا مراد لیا ہے، جب کہ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے۔
It was narrated that ‘Abdullah said:
“Mention was made to the Messenger of Allah (ﷺ) of a man who slept until morning came. He said: ‘That is because Satan urinated in his ears.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/التہجد ۱۳ (۱۱۴۴)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۷۰)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۸ (۷۷۴)، سنن النسائی/قیام اللیل ۵ (۱۶۰۹،۱۶۱۰)،(تحفة الأشراف:۹۲۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۷۵،۴۲۷)
Explanation
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان میں پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لئے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اسی کو شیطان کے آدمی کے کان میں پیشاب کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not be like so-and-so, who used to pray voluntary night prayers then stopped praying voluntary night prayers.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
Takhreej
صحیح البخاری/التہجد ۱۹ (۱۱۵۲)، صحیح مسلم/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، سنن النسائی/قیام اللیل ۵۰ (۱۷۶۴)،(تحفة الأشراف:۸۹۶۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۰)
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The mother of Sulaiman bin Dawud said to Sulaiman: “O my son, do not sleep too much at night, for sleeping too much at night will leave a man poor on the Day of Resurrection.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا ۔
Takhreej
(تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۰۹۴، ومصباح الزجاجة:۴۶۷)
It was narrated that ‘Abdullah bin Salam said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah, the people rushed towards him and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has come!’ I came along with the people to see him, and when I looked at the face of the Messenger of Allah (ﷺ), I realized that his face was not the face of a liar. The first thing he said was: “O people, spread (the greeting of) Salam, offer food to people and pray at night when people are sleeping, you will enter Paradise in peace.”
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ۔
Takhreej
سنن الترمذی/القیامة ۴۲ (۲۴۸۵)،(تحفة الأشراف:۵۳۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۵۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۵۶ (۱۵۰۱)،(حدیث مکرر ہے، دیکھئے:۳۲۵۱)
It was narrated that Abu Sa’eed and Abu Hurairah said that the Prophet (ﷺ) said:
‘When a man wakes up at night and wakes his wife, and they pray two Rak’ah, they will be recorded among the men and women who remember Allah much.”
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے ۱؎۔
ان کی شان میں قرآن میں یہ آیا ہے: «والذاكرين الله كثيرا والذاكرات» اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے مرد اور عورتیں (الأحزاب:35) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل (تہجد) کے لئے دو رکعت بھی کافی ہے، اور سنت آٹھ، دس اور بارہ ہے، اور اس کے بعد وتر، اگر دو رکعت بھی نہ ہو سکیں تو صرف بستر پر ہی رہ کر تھوڑی دیر دعا اور استغفار کر لے، اور اللہ کی یہ یاد بھی غنیمت ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and wakes his wife, and she prays; and if she refuses he sprinkles water in her face. And May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and wakes her husband and he prays; and if he refuses, she sprinkles water in his face.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۷ (۱۳۰۸)،۳۴۸ (۱۴۵۰)، سنن النسائی/ قیام اللیل ۵ (۱۶۱۱)،(تحفة الأشراف:۱۲۸۶۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۵۰،۴۳۶)
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Sa’ib said:
“Sa’d bin Abu Waqqas came to us when he had become blind. I greeted him with Salam and he said: ‘Who are you?’ So I told him, and he said: ‘Welcome, O son of my brother. I have heard that you recite Qur’an in a beautiful voice. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This Qur’an was revealed with sorrow, so when you recite it, then weep. If you cannot weep then pretend to weep, and make your voice melodious in reciting it. Whoever does not make his voice melodious, he is not one of us.”
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدیث میں «تغنى» کا لفظ ہے، اور «تغنى» کا معنی گانا ہے، قرآن میں «تغنى» نہیں ہو سکتی، لہذا «تغنى» سے یہ مراد ہو گا کہ باریک آواز سے درد کے ساتھ اس کو پڑھنا بایں طور کہ پڑھنے والے پر اور سننے والے سب پر اثر ہو، اور دلوں میں اللہ کا خوف اور خشوع پیدا ہو، اور تجوید کے قواعد کی رعایت باقی رہے، کلمات اور حروف میں کمی اور بیشی نہ ہو، سفیان بن عیینہ نے کہا: «تغنی بالقرآن» کا یہ معنی ہے کہ قرآن کو دولت لازوال سمجھے، اور دنیا داروں سے غنی یعنی بے پرواہ رہے۔
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:
“One night at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) I was late returning from the ‘Isha’, then I came and he said: ‘Where were you?’ I said: ‘I was listening to the recitation of a man among your Companions, for I have never heard a recitation or a voice like his from anyone.’ He got up and I got up with him, to go and listen to him. Then he turned to me and said: ‘This is Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah. Praise is to Allah Who has created such men among my Ummah.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ، ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۳۰۳، ومصباح الزجاجة:۴۷۰)، ومسند احمد (۶/۱۶۵)
Explanation
سالم مولی ابوحذیفہ مشہور قاری اور خوش آواز تھے، یہ دونوں صفات ایک قاری میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اکثر لوگ خوش آواز تو ہوتے ہیں لیکن تجوید یعنی قواعد قراءت سے ناواقف ہوتے ہیں، اور بعض قاری ہوتے ہیں لیکن ان کی آواز اچھی نہیں ہوتی، نیز حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عورت کو اجنبی مرد کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔
It was narrated that Jabir said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Among the people who recite the Qur’an with the most beautiful voices is the man who, when you hear him, you think that he fears Allah.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۶۴۶، ومصباح الزجاجة:۴۷۱)
Explanation
یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔
It was narrated that Fadalah bin ‘Ubaid said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah listens more attentively to a man with a beautiful voice who recites Qur’an out loud than the master of a singing slave listens to his slave.’”
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۴۰، ومصباح الزجاجة:۴۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۹،۲۰)
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and heard a man reciting Qur’an. He asked: ‘Who is this?’ It was said: ‘(He is) ‘Abdullah bin Qais.’ He said: ‘He has been given (sweet melodious voice) from the Mazamir of the family of Dawud.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۱۱۹، ومصباح الزجاجة:۴۷۳)، وقد أخر جہ: سنن النسائی/الافتتاح ۸۳ (۱۰۲۰)، مسند احمد (۲/۳۵۴،۳۶۹،۴۵۰)
خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں «زينوا أصواتكم بالقرآن» کے الفاظ ہیں، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ موسیقی کی طرح آواز نکالو۔