Establishing the prayer and the sunnah regarding them - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل - Book 7 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 7 of Sunnan Ibn e Maja, with 205 chapters and 630 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
Sa’eed bin Musayyab said that Abu Qatadah bin Rib’i told him that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Allah said: ‘I have enjoined on your nation five prayers, and I have made a covenant with Myself that whoever maintains them, I will admit them to Paradise, and whoever does not maintain them, has no such covenant with Me.’”
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۰۸۲، ومصباح الزجاجة:۴۹۴)، وقد آخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ۹ (۴۳۰)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“One prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers anywhere else, except The Sacred Mosque (Al-Masjid Al-Haram).” (Another chain) from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ) with similar wording.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ۱ (۱۱۹۰)، صحیح مسلم/الحج ۹۴ (۱۳۹۴)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۶ (۳۲۵)، سنن النسائی/المساجد ۷ (۶۹۵)، المناسک ۱۲۴ (۲۹۰۲)،(تحفة الأشراف:۱۳۴۶۴،۱۴۹۶۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة ۵ (۹)، مسند احمد (۲/۲۳۹،۲۵۱،۲۵۶،۲۷۷،۲۷۸،۳۸۶،۳۹۷،۴۶۶،۴۶۸،۴۷۳،۴۸۴،۴۸۵،۴۹۹)
Explanation
میری مسجد سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہے، یہ فضیلت توسیع شدہ حصہ کو بھی شامل ہے، جیسا کہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک یہ مسجد نبوی بڑھتی جائے، وہ تمام حصے بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے۔ ۲؎: مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:
“One prayer in this mosque of mine is better than one thousand prayers in any other mosque except the Sacred Mosque.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الحج ۹۴ (۱۳۹۵)،(تحفة الأشراف:۷۹۴۸)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ۱۲۴ (۲۹۰۰)، مسند احمد (۲/۱۶،۲۹،۵۳،۶۸،۱۰۲)
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“One prayer in my mosque is better than one thousand prayers elsewhere, except the Sacred Mosque, and one prayer in the Sacred Mosque is better than one hundred thousand prayers elsewhere.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۴۳۲، ومصباح الزجاجة:۴۹۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۳۴،۳۴۳،۳۹۷)
Explanation
یہاں مسجد الحرام کا ذکر کرتے وقت مدینہ منورہ کی مسجد کا استثناء نہیں کیا، اور بظاہر یہی ہے کہ سوائے مسجد نبوی کے اور مسجدوں کی لاکھ نماز سے افضل ہے، کیونکہ اگر مسجد نبوی کے ایک لاکھ نماز سے افضل ہو تو دوسری مسجدوں کے ایک ارب نماز سے افضل ہو گی، اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی قدر ثواب عطا فرمائے، اور اس صورت میں یہ کہنا کہ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے، صحیح ہو گا کہ جب ایک ارب نماز افضل ہوئی تو ایک لاکھ سے بطریق اولیٰ افضل ہوگی، «واللہ اعلم»۔
It was narrated that Maimunah the freed (female) slave of the Prophet (ﷺ) said:
I said: “O Messenger of Allah, tell us about Baitil- Maqdis.” He said: “It is the land of the Resurrection and the Gathering. Go and pray there, for one prayer there is like one thousand prayers elsewhere.” I said: “What if I cannot travel and go there?” He said: “Then send a gift of oil to light its lamps, for whoever does that is like one who goes there.”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۱۴ (۴۵۷)،(تحفة الأشراف:۱۸۰۸۷، ومصباح الزجاجة:۴۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۶۳)
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet (ﷺ) said:
“When Sulaiman bin Dawud finished building Baitil-Maqdis, he asked Allah for three things: judgment that was in harmony with His judgment, a dominion that no one after him would have, and that no one should come to this mosque, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him.” The Prophet (ﷺ) said: “Two prayers were granted, and I hope that the third was also granted.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی ۱؎۔
Takhreej
سنن النسائی/المساجد ۶ (۶۹۴)،(تحفة الأشراف:۸۸۴۴، ومصباح الزجاجة:۴۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۶)
Explanation
سلیمان علیہ السلام کا حکم ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: «ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما» (سورة الأنبياء: 79)،«فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب» (سورة ص: 36) نیز ہوا پر اور جن و انس پر اور چرند و پرند سب پر ان کی حکومت تھی، جیسا کہ اس آیت میں موجود ہے: «والشياطين كل بناء وغواص» (سورة ص: 37) اور تیسری بات کی صراحت چونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے نبی اکرم ﷺ نے اس میں فرمایا مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“No one should prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, this mosque of mine, and Aqsa Mosque.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الحج ۹۵ (۱۳۹۷)،(تحفة الأشراف:۱۳۲۸۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصلاة ۱ (۱۱۸۹)، سنن ابی داود/الحج ۹۸ (۲۰۳۳)، سنن النسائی/المساجد ۱۰ (۷۰۱)، موطا امام مالک/الجمعة ۷ (۱۶)، مسند احمد (۲/۲۳۴،۲۳۸،۲۷۸،۵۰۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۳۲ (۱۴۶۱)
It was narrated from Abu Sa’eed and ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Do not prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, Aqsa Mosque, and this mosque of mine.”
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
Takhreej
حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مکة والمدینة ۶ (۱۱۸۸،۱۱۸۹)، صحیح مسلم/المناسک ۷۴ (۸۲۷)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۷ (۳۲۶)،(تحفة الأشراف:۴۲۷۹)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۹۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۷،۳۴،۴۵،۵۱،۵۹،۶۲،۷۱،۷۷)
Abul-Abrad, the freed slave of Banu Khatmah, said that he heard Usaid bin Zuhair Ansari who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ) narrating that the Prophet (ﷺ) said:
“One prayer in the Quba’ Mosque is like ‘Umrah.”
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۶ (۳۲۴)،(تحفة الأشراف:۱۵۵)
Explanation
مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ ﷺ مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه» جو مسجد (نبی اکرم ﷺ کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے
(Sahl) bin Hunaif said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever purifies himself in his house, then comes to the Quba’ Mosque and offers one prayer therein, will have a reward like that for ‘Umrah.”
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
Takhreej
سنن النسائی/المساجد ۹ (۷۰۰)،(تحفة الأشراف:۴۶۵۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۸۷)
It was narrated that Anas bin Malik said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘A man’s prayer in his house is equal (in reward) to one prayer; his prayer in the mosque of the tribes is equal to twenty-five prayers; his prayer in the mosque in which Friday prayer is offered is equal to five-hundred prayers; his prayer in Aqsa Mosque is equal to fifty thousand prayers; his prayer in my mosque is equal to fifty thousand prayers; and his prayer in the Sacred Mosque is equal to one hundred thousand prayers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۳۴، ومصباح الزجاجة:۴۹۸)
It was narrated from Tufail bin Ubayy bin Ka’b that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray facing the trunk of a date- palm tree when the mosque was still a hut, and he used to deliver the sermon leaning on that trunk. A man from among his Companions said: ‘Would you like us to make you something upon which you can stand on Fridays so that the people will be able to see you and hear your sermon?’ He said: ‘Yes.’ So he made three steps for him, as a pulpit. When they put the pulpit in place, they put it in the place where it stands now. When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to stand on the pulpit, he passed by the tree trunk from which he used to deliver the sermon, and when he went beyond the trunk, it moaned and split and cracked. The Messenger of Allah (ﷺ) came down when he heard the voice of the trunk, and rubbed it with his hand until it fell silent. Then he went back to the pulpit and when he prayed, he prayed facing it. When the mosque was knocked down (for renovation) and (the pillars, etc.) were changed, Ubayy bin Ka’b took that trunk and kept it in his house until it became very old and the termites consumed it and it became grains of dust.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے ) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۴، ومصباح الزجاجة:۴۹۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۳۷)، سنن الدارمی/المقدمة ۶ (۳۶)
Explanation
اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی لکڑی کا آپ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونا، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں نفس اور جان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جس کو چاہے قوت گویائی عطا کر دے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو کہ منبر نبوی کی تین سیڑھیاں تھیں۔
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) used to deliver the sermon leaning on a tree trunk. When he started to use the pulpit, he went to the pulpit, and the trunk made a sorrowful sound. So he came to it and embraced it, and it calmed down. He said:
“If I had not embraced it, it would have continued to grieve until the Day of Resurrection.”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔
Takhreej
تفر د بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۸۹،۶۲۹۷، ومصباح الزجاجة:۵۰۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ۶ (۳۶۳۱)، مسند احمد (۱/ ۲۴۹،۲۶۷،۲۶۶،۳۶۳)، سنن الدارمی/المقدمة ۶ (۴۰)
It was narrated that Abu Hazim said:
“The people differed concerning the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) and what it was made of. So they came to Sahl bin Sa’d and asked him. He said: ‘There is no one left who knows more about that than I. It is made of tamarisk (a type of tree) from Ghabah. It was made by so-and-so, the freed slave of so- and-so (a woman), (who was) a carpenter. He brought it and he (the Prophet (ﷺ)) stood on it when it was put in position. He faced the Qiblah and the people stood behind him. He recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground, then he went back to the pulpit and recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground.”
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا۔
Takhreej
صحیح البخاری/الصلاة ۱۸ (۳۷۷)، الجمعة ۲۶ (۹۱۷)، صحیح مسلم/المساجد ۱۰ (۵۴۴)،(تحفة الأشراف:۴۶۹۰)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ۲۲۱ (۱۰۸۰)، سنن النسائی/المساجد ۴۵ (۷۴۰)، مسند احمد (۵/۳۳۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۴۵ (۱۲۹۳)
Explanation
غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to stand by the root of a tree, or by a tree trunk, then he started to use a pulpit. The tree trunk made a grieving sound.” Jabir said: “So that the people in the mosque could hear it. Until the Messenger of Allah (ﷺ) came to it and rubbed it, and it calmed down. Some of them said: ‘If he had not come to it, it would have grieved until the Day of Resurrection.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۱۱۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ۲۶ (۹۱۸)، المناقب ۲۵ (۳۵۸۴)، سنن النسائی/الجمعة ۱۷ (۱۳۹۷)، مسند احمد (۳/۳۰۶)، سنن الدارمی/الصلاة ۲۰۲ (۱۶۰۳)
It was narrated from Abu Wa’il that ‘Abdullah said:
“I prayed one night with the Messenger of Allah (ﷺ) and he kept standing until I thought of doing something bad.” I said: “What was that?”He said: “I thought of sitting down and leaving him.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، ( راوی ابووائل کہتے ہیں: ) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔ نماز تہجد میں طویل قرات افضل ہے۔ شاگردوں کو تربیت دینے کے لیے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے اگرچہ اس میں مشقت ہو۔ استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیک کا اس قدر شوق رکھتے تھے کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرنے کو انہوں نے برا کام قرار دیا۔
It was narrated from Ziyad bin ‘Ilaqah that he heard Mughirah say:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stood (in prayer) until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
اس مغفرت پر شکر نہ ادا کروں؟ سبحان اللہ! جب نبی کریم ﷺ نے باوصف ایسے علو مرتبہ اور جلالت شان کے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا درجہ ہے، عبادت کو ترک نہ کیا، اور دوسرے لوگوں سے زیادہ آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے، تو کسی دوسرے کا یہ خیال کب صحیح ہو گا کہ آدمی جب ولایت کے اعلی درجہ کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے ذمہ سے عبادت ساقط ہو جاتی ہے، یہ صاف ملحدانہ خیال ہے، بلکہ جتنا بندہ اللہ سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا شوق عبادت بڑھتا جاتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ساری رات نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى» یعنی ہم نے آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارا کہ آپ اتنی مشقت اٹھائیں (سورة طه: 2)۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۸۱، ومصباح الزجاجة:۵۰۲)
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:
“The Prophet (ﷺ) was asked: ‘Which prayer is best?’ He said: ‘That with the longer Qunut.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۔
Takhreej
صحیح مسلم/المسافرین ۲۲ (۶۵)،(تحفة الأشراف:۲۸۲۷)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۸ (۳۸۷)، مسند احمد (۳/۳۰۲،۳۹۱،۴۱۲،۴/۳۸۵)
It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him:
“I said: ‘O Messenger of Allah! Tell me of a deed that I can adhere to and act upon.’ He said: “You should prostrate, for you will not prostrate to Allah but He will raise you in status one degree thereby and erase from you one sin.”
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۰۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۷۶،۲۸۰)