Establishing the prayer and the sunnah regarding them - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل - Book 7 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 7 of Sunnan Ibn e Maja, with 205 chapters and 630 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin ‘Abdin Al-Qari said:
“I heard ‘Umar bin Khattab say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever sleeps and misses his daily portion of Qur’an, or any part of it, let him read it between the Fajr prayer and the Zuhr prayer, and it will be recorded as if he had read it during the night.”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ ( ورد ) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۔
Takhreej
صحیح مسلم/المسافرین ۱۸ (۷۴۷)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۰۹ (۱۳۱۳)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۹۱ (الجمعة۵۶)(۸۵۱)، سنن النسائی/قیام اللیل۵۶ (۱۷۹۱،۱۷۹۲،۱۷۹۳)،(تحفة الأشراف:۱۰۵۹۲)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۳ (۳)، مسند احمد (۱/۳۲،۵۳)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۶۷ (۱۵۱۸)
It was narrated that Abu Darda’ conveyed that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever goes to bed intending to wake up and pray during the night, but is overwhelmed by sleep until morning comes, what he intended will be recorded for him, and his sleep is a charity given to him by his Lord.”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا ۔
It was narrated from ‘Uthman bin ‘Abdullah bin Aws that his grandfather Aws bin Hudhaifah said:
“We came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the delegation of Thaqif. The allies of Quraish stayed at the house of Mughirah bin Shu’bah, and the Messenger of Allah (ﷺ) camped Bani Malik in a tent belonging to him. He used to come to us every night after the ‘Isha’ and speak to us standing on his two feet, until he started to shift his weight from one foot to the other. Most of what he told us was what he had suffered from his people, the Quraish. He said: ‘(The two sides) were not equal. We were weak and oppressed and humiliated, and when we went out to Al-Madinah, the outcome of the battles between us varied; sometimes we would defeat them and sometimes they would defeat us.’ One night he was later than he usually was, and I said: ‘O Messenger of Allah, you have come to us late tonight.’ He said: ‘It occurred to me that I had not read my daily portion of Qur’an and I did not want to come out until I had completed it.’” Aws said: “I asked the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ): ‘How did you used to divide up the Qur’an?’ They said: ‘A third, a fifth, a seventh, a ninth, an eleventh, a thirteenth, and Hizbul-Mufassal.’”
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا ( بقرہ، آل عمران اور نساء ) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ( مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا ( یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل ) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا ( بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان ) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ( شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین ) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ( صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات ) ، اور ساتواں حزب مفصل کا ( سورۃ ق سے آخر قرآن تک ) ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:
“I memorized the Qur’an and recited it all in one night. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am afraid that you may live a long life and that you may get bored. Recite it over the period of a month.’ I said: ‘Let me benefit from my strength in my youth.’ He said: ‘Recite it in ten days.’ I said: ‘Let me benefit from my strength and my youth.’ He said: ‘Recite it in seven days.’ I said: ‘Let me benefit from my strength and my youth,’ but he refused (to alter it any further).”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۱؎۔
یعنی سات دن سے کم میں ختم قرآن کی اجازت نہ دی، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سات دن سے کم میں ختم قرآن نہ کرو، قسطلانی نے کہا کہ یہ نہی حرمت کے لئے نہیں ہے، اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا حرام ہے، نووی کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں، جب تک جی لگے اور جتنی طاقت ہو، اس کے لحاظ سے قرآن پڑھے، اور بہتر یہی ہے کہ سات دن سے کم میں ختم نہ کرے، انتہاء تین دن میں، اور قرآن کے معانی اور مطالب میں غور و فکر کر کے پڑھے، اور ہمارے زمانہ میں تو قرآن کے معانی کا ترجمہ ہر زبان میں ہو گیا ہے، پس ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا زیادہ ثواب ہے، فقیہ ابواللیث کہتے ہیں کہ اقل درجہ یہ ہے کہ آدمی سال بھر میں قرآن دو بار ختم کرے، اور حسن بن زیاد نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ جس نے سال بھر میں دو بار پورے قرآن کی قراءت مکمل کی اس نے قرآن کا حق ادا کیا، کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے جس سال نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی، دوبار قرآن کا دور کیا، اور بعض نے کہا چالیس دن سے زیادہ ختم قرآن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“No one properly understands who reads the Qur’an in less than three days.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا ۔
It was narrated that Jasrah bint Dijajah said:
“I heard Abu Dharr say: ‘The Prophet (ﷺ) stood reciting a Verse and repeating it until morning came. That Verse was: “If you punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily You, only You, are the All- Mighty, the All-Wise.’”” [5:118]
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( سورة المائدة: 118 ) ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۰۱۲، ومصباح الزجاجة:۴۷۵)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ۷۹ (۱۰۱۱)، مسند احمد (۵/۱۴۹)
Explanation
یہ سورۃ المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسی علیہ السلام کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
It was narrated from Hudhaifah that the Prophet (ﷺ) prayed, and when he recited a Verse which mentioned mercy, he would ask for mercy; when he recited a Verse that mentioned punishment he would pray for deliverance from it; and when he recited a Verse that mentioned the Tanzih of Allah, he would glorify Him.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ۱؎۔
تلاوت قرآن کے آداب میں سے یہ ہے کہ قرآن شریف سمجھ کر پڑھے، اور رحمت اور وعدوں کی آیتوں پر دعا کرے، اور عذاب و وعید کی آیتوں پر استغفار کرے، اور اللہ کی پناہ مانگے۔
It was narrated that Abu Laila said:
“I prayed beside the Prophet (ﷺ) when he was praying voluntary prayers at night. He recited a Verse which mentioned punishment and said: ‘I seek refuge with Allah from the Fire, woe to the people of the Fire.’”
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۱۵۳ (۸۸۱)،(تحفة الأشراف:۱۲۱۵۳)وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۴۷)
It was narrated that Qatadah said; “I asked Anas bin Malik about the recitation of the Prophet (ﷺ) and he said:
‘He used to elongate his voice.’”
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔
It was narrated that Ghudaif bin Harith said:
“I came to ‘Aishah and asked: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) recite Qur’an loudly or softly?’ She said: ‘Sometimes he would recite loud and sometimes softly.’ I said, ‘Allahu Akbar! Praise is to Allah Who has made this matter one of broad scope.’”
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ؟ انہوں نے کہا: کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔
It was narrated that Ibn `Abbas said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La ilaha illa anta wa la ilaha ghairuka, wa la hawla wa la quwwata illa bika (O Allah, to you is praise, You are the Light of the heavens and the earth, and everyone therein. To You is praise, You are the Sustainer of the heavens and the earth, and everyone therein. To You is praise, You are the Sovereign of the heavens and the earth, and everyone therein. To You is praise, You are the Truth; Your promise is true, the meeting with You is true, Your saying is true, Paradise is true, the Fire is true, the Hour is true, the Prophets are true, and Muhammad (ﷺ) is true. O Allah, to You have I submitted, in You I believe, in You have I put my trust, to You I turn in repentance, by Your help I argue, to You I refer my case, so forgive me for my past and future sins, what I have done in secret and what I have done openly. You are the One Who brings forward and puts back. None has the right to be worshipped but You, and there is none who has the right to be worshipped other than You. And there is no power and no strength except with You.” Another chain that Ibn `Abbas narrated: “When the Messenger of Allah (ﷺ) stood during the night for Tahajjud,” and he mentioned something similar.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا مالک ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات برحق ہے، تیری بات سچی ہے، جنت و جہنم برحق ہیں، قیامت برحق ہے، انبیاء برحق ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، اے اللہ! میں نے تیرے آگے گردن جھکائی، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی دلیلوں سے لڑا، اور تیری ہی طرف انصاف کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے، تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور تیرے سوا کسی کا زور اور طاقت نہیں )
Takhreej
صحیح البخاری/التہجد ۱ (۱۱۲۰)، والدعوات ۱۰ (۶۳۱۷)، التوحید ۸ (۷۳۸۵)،۲۴ (۷۴۴۲)،۳۵ (۷۴۹۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۶ (۷۶۹)، سنن النسائی/قیام اللیل ۹ (۱۶۲۰)،(تحفة الأشراف:۵۷۰۲)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۸ (۳۴)، مسند احمد (۱/۲۹۸،۳۵۸،۳۶۶)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۶۹ (۱۵۲۷)
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:
“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۱۲۱ (۷۶۶)، سنن النسائی/قیام اللیل ۹ (۱۶۱۸)،(تحفة الأشراف:۱۶۱۶۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۴۳)
It was narrated that Abu Salamah bin `Abdur-Rahman said:
“I asked `Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start his voluntary prayers?’ She said: ‘He would say: “Allahumma Rabba Jibra’il wa Mika’il wa Israfil, Fatiras-samawati wal-ard, `alimal-ghaybi wash- shahadah, Anta tahkumu baina `ibadika fima kanu fihi yakhtalifun, ihdini lima-khtulifa fihi minal-haqqi bi idhnika, innaka latahdi ila siratin mustaqim (O Allah, Lord of Jibra’il, Mika’il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You judge between Your slaves concerning that wherein they differ. Guide me to the disputed matters of truth by Your Leave, for You are the One Who guides to the straight Path).” (One of the narrators) `Abdur-Rahman bin `Umar said: “Bear in mind the word Jibra’il with a Hamzah - this is how it was narrated from the Prophet (ﷺ).”
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے۔
اور قرآن میں جو جبریل کا لفظ آیا ہے، اس میں بھی قراءت کا اختلاف ہے، بعض جبریل پڑھتے ہیں، اور بعض جبرائیل، اور بعض جبرئیل، یہ عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی اللہ کا بندہ، اور جبرئیل وحی کے فرشتہ ہیں، میکائیل روزی کے، اسرافیل صور پھونکنے کے۔
It was narrated that ‘Aishah said, and this is the Hadith of Abu Bakr. “During the period after he finished the ‘Isha’ prayer until the Fajr, the Prophet (ﷺ) used to pray eleven Rak’ah, saying the Salam after each two Rak’ah and praying Witr with one Rak’ah. He would prostrate for as long as it takes anyone of you to recite fifty Verses before he would raise his head. When the Mu’adh-dhin fell silent after the first Adhan for the Subh prayer, he would get up and pray two brief Rak’ah.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۶ (۱۳۳۶،۱۳۳۷)، سنن النسائی/الأذان ۴۱ (۶۸۶)،(تحفة الأشراف:۱۵۶۱۵،۱۶۶۱۸، ومصباح الزجاجة:۴۷۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۲ (۶۱۹)، االتہجد ۳ (۱۱۲۳)، صحیح مسلم/المسافرین ۱۷ (۷۳۶)، سنن الترمذی/الصلاہ ۲۰۹ (۴۴۱)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ۲ (۸)، مسند احمد (۶/۳۴،۳۵)، سنن الدارمی/الصلاہ ۱۴۸ (۱۴۸۷)
اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ ﷺ تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہو جاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم
It was narrated that ‘Amir Ash-Sha’bi said:
“I asked ‘Abdullah bin ‘Abbas and ‘Abdullah bin ‘Umar about the Prophet’s prayer at night. They said: ‘(He prayed) thirteen Rak’ah, including eight, and three for Witr, and two Rak’ah after the Fajr.’”
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت ( تہجد کی ہوتی ) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۷۷۰، ومصباح الزجاجة:۴۷۶)
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:
“I said, I must observe how the Messenger of Allah (ﷺ) prays tonight. So I lay down at his door. The Messenger of Allah (ﷺ) got up and prayed two brief Rak’ah, then two long ones, which were very, very long, then two Rak’ah which were shorter than the ones preceding them, then two Rak’ah which were shorter than the ones preceding them, then two Rak’ah which were shorter than the ones preceding them, then two Rak’ah, then Witr. That was thirteen Rak’ah.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/المسافرین ۲۶ (۷۶۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۶ (۱۳۶۶)،(تحفة الأشراف:۳۷۵۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل ۲ (۱۳)، سنن الترمذی/الشمائل (۲۶۹)، مسند احمد (۵/۱۹۲)
Explanation
اس روایت سے تہجد کی بارہ رکعت نکلتی ہیں، اور ایک رکعت وتر کی، اور احتمال ہے کہ تہجد کی آٹھ ہی رکعت ہوں، اور پانچ وتر کی ہوں، لیکن دو، دو رکعت الگ الگ پڑھنے سے راوی کو گمان ہوا ہو کہ یہ بھی تہجد ہے، «واللہ اعلم»۔