TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6738 - اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ (عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ) وَابْنِ اَبِی لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمْرَ قَالَا:رَجَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیًّا وَیَہُوْدِیَّۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۲۱)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا۔
6738
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۷۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۵۷، والترمذی: ۱۴۳۷ (انظر: ۲۰۹۱۴)

Related Chapters

293
1
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
Musnad Ahmad
2
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
3
CHAPTER: Stoning.
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About Stoning The Married Adulterer
باب: شادی شدہ کو رجم (سنگسار) کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(31) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married lady who has become pregnant through illegal sexual intercourse.
زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادیشدہ ہو
Sahih Bukhari
7
Chapter: Stoning of a married person for Zina
زنا (کی حد)میں شادی شدہ کو رجم کرنا
Sahih Muslim
8
باب: اسلام قبول کر لینے کی شرط پر شادی کر لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
10
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
11
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
Musnad Ahmad
12
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
Musnad Ahmad
13
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
14
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
Musnad Ahmad
15
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
Musnad Ahmad
16
(16) CHAPTER. Whoever made a vow in the Pre-lslamic Period of Ignorance to perform Itikaf and then embraced Islam.
اگر کسی نے جاہلیت میں اعتکاف کی نذر مانی پھر وہ اسلام لایا
Sahih Bukhari
17
(35) CHAPTER. The markets of the Pre-Islamic Period of Ignorance where the people continued to trade after embracing Islam.
جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خریدوفروخت کی
Sahih Bukhari
18
(1) CHAPTER. The conditions permissible on embracing Islam, and in contracts and transactions.
اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع و شراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
19
(6) CHAPTER. The marrying of a poor man who has the knowledge of the Quran and is a Muslim.
ایسے تنگدست کی شادی کرانا جس کے پاس صرف قرآنمجید اور اسلام ہے ۔
Sahih Bukhari
20
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جب کسی نے جاہلیت میں ( اسلام لانے سے پہلے ) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو ؟
Sahih Bukhari
21
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
Sahih Bukhari
22
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
Sahih Bukhari
23
(29) CHAPTER. The question of the ruler to the confessing person, “Are you married?
زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادیشدہ ہو ؟
Sahih Bukhari
24
(32) CHAPTER. Unmarried males and females (committing illegal sexual intercourse) should be flogged and exiled.
غیرشادیشدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کیا جائے
Sahih Bukhari
25
CHAPTER: A slave girl commits zina and has not been married.
باب: غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
زانی کو رجم کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
باب: زانی اور بدکار عورت سے شادی کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
Chapter: (What Has Been Mentioned) About A Man Performing Ghusl When He Accepts Islam
باب: قبول اسلام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For the Muhrim To Marry
باب: حالت احرام میں محرم کی شادی کرانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: محرم کے لیے شادی کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Looking at The Proposed Woman
باب: جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Marrying Virgins
باب: کنواری لڑکی سے شادی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Two Wali Giving The Same Woman In Marriage
باب: کسی لڑکی کی اگر دو ولی (الگ الگ جگہ) شادی کر دیں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of That
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
40
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Dowry Of The Baghi
باب: زانیہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About A Man Is Not To Propose To A Woman Who Has Been Proposed To By His Brother
باب: آدمی اپنے مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About A Married Couple Who Are Idolaters, Then One Of Them Accepted Islam
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Married A Woman His Father Was Married To (Previously)
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Banishment
باب: (زانی کو) شہر بدر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Swear By A Religion Other Than Islam
باب: اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کے قسم کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Musnad Ahmad
284
۔ (۲۸۴)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا أَبُوْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیُّ عَنْ مُطَرِّفٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) قَالَ: قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ؓ: أَیْ مُطَرِّفُ! وَاللّٰہِ اِنْ کُنْتُ لَأَرٰی أَنِّیْ لَوْ شِئْتُ حَدَثَّتُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ لَا أُعِیْدُ حَدِیْثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَ بِیْ بُطْأً عَنْ ذٰلِکَ وَکَرَاہِیَّۃً لَہُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہِدْتُ کَمَا شَہِدُوْا وَسَمِعْتُ کَمَا سَمِعُوْا یُحَدِّثُوْنَ أَحَادِیْثَ مَا ہِیَ کَمَا یَقُوْلُوْنَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُمْ لَا یَأْلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ، فَأَخَافُ أَنْ یُشَبَّہَ لِیْ کَمَا شُبِّہَ لَہُمْ، فَکَانَ أَحْیَانًا یَقُوْلُ: لَوْ حَدَّثْتُکُمْ أَنِّیْ سَمِعْتُ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا وَکَذَا، رَأَیْتُ اَنِّیْ قَدْ صَدَقْتُ، وَاَحْیَانًا یَعْزِمُ فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: کَذَا وَ کَذَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۴)
مُطَرِّف بن عبد اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین ؓ نے مجھے کہا: اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی ٔ کریم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ میں سے بعض لوگ میری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اُس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ بسا اوقات سیدنا عمران ؓ یوں کہتے تھے: اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا، اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: میں نے اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔
Musnad Ahmad
484
۔ (۴۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْجُحْرِ، وَاِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْا السِّرَاجَ، فَاِنَّ الْفَأْرَۃَ تَأْخُذُ الْفَتِیْلَۃَ فَتَحْرِقُ أَھْلَ الْبَیْتِ، وَأَوْکِئُوْا الْأَسْقِیَۃَ وَخَمِّرُوْالشَّرَابَ وَغَلِّقُوْا الْأَبْوَابَ بِاللَّیْلِ۔)) قَالُوْا لِقَتَادَۃَ: مَا یَکْرَہُ مِنَ الْبَوْلِ فِیْ الْجُحْرِ؟ قَالَ: یُقَالُ: اِنَّہَا مَسَاکِنُ الْجِنِّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بِل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ سے کہا: بِل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔
Musnad Ahmad
669
۔ (۶۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی ابْنِ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَسَنٍ الْمَازِنِیُّ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِْن زَیْدٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْیَانُ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ یَحْیٰ مُنْذُ أَرْبَع وَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً وَسَأَلْتُہُ بَعْدَ ذَالِکَ بِقَلِیْلٍ وَکَانَ یَحْیٰی أَکْبَرَ مِنْہُ، قَالَ سُفْیَانُ: سَمِعْتُ مِنْہُ ثَلَاثَۃَ أَحَادِیْثَ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ، قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُہُ مِنْ سُفْیَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَقَالَ مَرَّۃً: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً، وَقَالَ مَرَّتَیْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحییٰ ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔
Musnad Ahmad
849
۔ (۸۴۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُونَ وَحَدَّثَنِیْ حَجَّاجٌ قَالَ: أَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَۃَ أَبِیْ طَلْحَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْمَرْأَۃُ تَرٰی زَوْجَہَا فِی الْمَنَامِ یَقَعُ عَلَیْہَا أَعَلْیْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اِذَا رَأَتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: وَتَفْعَل ذَالِکَ؟ فَقَالَ: ((تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ، فَأَنّٰی یَأتِیْ شَبَہُ الْخُؤُولَۃِ اِلَّا مِنْ ذَالِکَ،أَیُّ النُّطْفَتَیْنِ سَبَقَتْ اِلَی الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلٰی الشَّبَہِ۔)) وَقَالَ حَجَّاجٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَرِبَتْ جَبِیْنُکِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۶۶)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔
Musnad Ahmad
1576
۔ (۱۵۷۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ عَنْ أَبِیْہِ وَکَانَ أَبُوْہُ أَسِیْرًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ لَا یُقْرَأُ فِیْہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۲۱)
عبد اللہ بن سوادہ قشیری کہتے ہیں: مجھے ایک دیہاتی آدمی نے اپنے باپ، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس قیدی تھا، سے بیان کیا کہ اس نے محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ نماز قبول نہیں ہوتی، جس میں ام الکتاب (یعنی فاتحہ شریف) کی تلاوت نہیں کی جاتی۔
Musnad Ahmad
1661
۔ (۱۶۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْیَعْلٰی ثَنَا الْأَ عْمَشُ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو فَذَکَرَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّہُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خُذُوْا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَۃٍ عَنِ ابْنِ أَمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِہِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلٰی أَبِیْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ یَعْلٰی وَنَسِیْتُ الرَّابِعَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس سے میں نے ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: چار آدمیوں سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو:ام عبد کے بیٹے، معاذ اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے اِن کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے شخص کا نام بھول گیا۔
Musnad Ahmad
1662
۔ (۱۶۶۲) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِسْتَـقْرِئُ وْا الْقُرْآنَ مِنْ أَرَبَعَۃٍ: مِنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی أَبِیْ حُذَیْفَۃَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأَبِیِّ بْنِ کَعْبٍ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن مجید پڑھو: عبد اللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب سے۔
Musnad Ahmad
1777
۔ (۱۷۷۷) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ أَخَذَ بِیَدِہِ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِ عَبْدِاللّٰہِ فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ، فَقَالَ: ((قُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (کَمَا تَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ) وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ قَالَ: فَإِذَا قَضَیْتَ ھٰذَا أَوْقَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ ھٰذَا فَقََدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُوْمُ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔)) (مسند احمد: ۴۰۰۶)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کاہاتھ پکڑا اور نماز میں (پڑھا جانے والے) تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ ……أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ (سابقہحدیث والا تشہد بیان کیا)۔ پھر فرمایا: جب تو یہ پورا کرلے توتونے اپنی نماز پوری کرلی، اگر کھڑا ہونا چاہے توکھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ۔
Musnad Ahmad
1785
۔ (۱۷۸۵) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَنِ افْتِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ الْیُسْرٰی فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ وَفِی آخِرِھَا وَقُعُودِہِ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الیُسْرٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُسْرٰی وَنَصْبِہِ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُمْنٰی وَنَصْبِہِ إِصْبَعَہُ السَّبَابَۃَیُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ عِمْرَانُ ابْنُ أَبِیْ أَنَسٍ أَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلٰیعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِیِْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ صَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ اِفْتَرَشْتُ فَخِذِیْ الْیُسْرٰی وَنَصَبْتُ السَّبَّابَۃَ، قَالَ: فَرَآنِیْ خُفَافُ بُنْ إِیِمَائِ ابْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلاَتِیْ، قَالَ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَکَ ھٰکَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْکِرُ رَأَیْتُ النَّاسَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَإِنَّکَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰییَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا یَصْنَعَ ھٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِہِ یَسْحَرُ بِہَا وَکَذَبُوْا، إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ یُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۸)
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔