۔ (۱۱۷)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: لَمَّا أَلْقَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی قَلْبِیَ الْاِسْلَامَ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِیُبَایِعَنِیْ فَبَسَطَ یَدَہُ إِلَیَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَایِعُکَ حَتّٰی یُغْفَرَ لِیْ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِیْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا قَبْلَہَا مِنَ الذُّنُوْبِ، یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ
أَنَّ الْاسْلَامَ یَجُبُّ مَا قَبْلَہُ مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۸۱)
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلادیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہیں دیئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۷۸۲۷)
Explanation
فوائد: …ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} … آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں، سب معاف کر دیئے جائیں گے۔ (سورہ ٔانفال: ۳۸)
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
117
Sahih