TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان - اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 16 · 6 Hadith
۔ (۱۱۷)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: لَمَّا أَلْقَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی قَلْبِیَ الْاِسْلَامَ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُبَایِعَنِیْ فَبَسَطَ یَدَہُ إِلَیَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَایِعُکَ حَتّٰی یُغْفَرَ لِیْ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِیْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا قَبْلَہَا مِنَ الذُّنُوْبِ، یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْاسْلَامَ یَجُبُّ مَا قَبْلَہُ مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۸۱)
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلادیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہیں دیئے جاتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۷۸۲۷)
Explanation
فوائد: …ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} … آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں، سب معاف کر دیئے جائیں گے۔ (سورہ ٔانفال: ۳۸) معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
117
Sahih
۔ (۱۱۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذَا أَحْسَنْتُ فِی الْاِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ؟ قَالَ: ((إِذَا أَحْسَنْتَ فِی الْاِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَ إِذَا أَسَأْتَ فِی الْاِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالآخِرِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے)اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا محاسبہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مؤاخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگرتو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مؤاخذہ کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۲۱، ومسلم: ۱۲۰ (انظر: ۳۵۹۶)
Explanation
امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: اس کے بارے میں محققین کی جماعت نے جو بات کہی ہے، وہی صحیح ہے کہ احسان سے مراد بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرنا ہے، یعنی جب کوئی حقیقی مسلمان بن جاتا ہے، تو اس کی حالت ِ کفر میں کی ہوئی برائیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور وَاِذَا اَسَاْتَ سے مراد یہ ہے کہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہوا جائے، یہ دراصل منافق ہوتا ہے، جو اپنے کفر پر برقرار رہنے والا ہوتا ہے، ایسے شخص کی اظہارِ اسلام سے پہلے والی اور بعد والی، دونوں حالتوں کی برائیوں پر اس کا مؤاخذہ ہوتا ہے، کیونکہ در حقیقت اس کے کفرکی حالت ہی جاری رہتی ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ۲/ ۱۳۶)
118
Sahih
۔ (۱۱۹)۔عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الْجُعْفِیِّؓ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَ أَخِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَیْکَۃَ کَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَ تَفْعَلُ وَ تَفْعَلُ ہَلَکَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہَلْ ذَالِکَ نَافِعُہَا شَیْئًا؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّہَا کَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہَلْ ذَالِکَ نَافِعُہَا شَیْئًا؟ قَالَ: (( الْوَائِدَۃُ وَالْمَوْئُ وْدَۃُ فِی النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِکَ الْوَائِدَۃُ الْاِسْلَامَ فَیَعْفُوَ اللّٰہُ عَنْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۹)
سیدنا سلمہ بن یزید جعفیؓ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان مُلیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ ہم نے کہا: اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زندہ دوگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔
Takhreej
(۱۱۹) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر داود بن ابی ہند فمن رجال مسلم، وصحابیہ روی لہ النسائی، وفی متنہ نکارۃ ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۱۶۴۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۳۱۹ (انظر: ۱۵۹۲۳)
Explanation
فوائد: …کفر کی حالت پر مرنے والے کی تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
119
Sahih
۔ (۱۲۰)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ کَانَ یَصِلُ الرَّحِمَ وَ یَفْعَلُ وَ یَفْعَلُ، فَہَلْ لَہُ فِی ذَالِکَ یَعْنِیْ مِنْ أَجْرِہِ؟ قَالَ: ((إنَّ أَبَاکَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۰۵)
سیدنا عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔
Takhreej
(۱۲۰) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۳۶۱(انظر: ۱۹۳۸۶)
Explanation
فوائد: …حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔
120
Sahih
۔ (۱۲۱)۔عَنْ حَکِیْمٍ بْنِ حِزَامٍؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ أُمُوْرًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ عَتَاقَۃٍ وَ صِلَۃِ رَحِمٍ ہَلْ لِیْ فِیْہَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۹۲)
سیدنا حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔
Takhreej
(۱۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۲۰، ۵۹۹۲، ومسلم: ۱۲۳(انظر: ۱۵۳۱۸)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی دینِ حق کو اختیار کرتا ہے اور پھر اس کو اسی دین پر موت آتی ہے تو اس کی دورِ جاہلیت کی نیکیاں بھی قبول کر لی جاتی ہیں، یہ ایک اختلافی موضوع ہے، اس لیے ہم اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں: محقق علمائے اسلام کے مسلک کے مطابق درست بات یہ ہے کہ جو کافر حالت ِ کفر میں صدقہ و خیرات اور صلہ رحمی جیسی نیکیاں سر انجام دینے کے بعد مسلمان ہوتا ہے تو اس کی سابقہ نیکیوں کا ثواب بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس رائے پر مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔ ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔ بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔ یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔ ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ علامہ سندھی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے ، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ ) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔ غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
121
Sahih
۔ (۱۲۲)۔عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْخٌ کَبِیْرٌ یَدَّعِمُ عَلٰی عَصًا لَہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی غَدَرَاتٍ وَ فَجَرَاتٍ فَہَلْ یُغْفَرُ لِی؟ قَالَ: ((أَلَسْتَ تَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ: بَلٰی! وَ أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: ((قَدْ غُفِرَ لَکَ غَدَرَاتُکَ وَفَجَرَاتُکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۵۲)
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۲) تخریج: حدیث صحیح بشواہدہ۔ أخرجہ الطبرانی (انظر: ۱۹۴۳۲)
122
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.