۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر پھر پئے تو تم اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو اسے حد لگائو۔ چوتھییا پانچویں مرتبہ فرمایا: اگر وہ پھر پئے تو تم اس کو قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۷۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال حمید بن یزید، أخرجہ ابوداود: ۴۴۸۳(انظر: ۶۱۹۷)
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی شراب پئے تو اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار یا پانچ دفعہ ایسے ہی فرمایا اور پھر فرمایا: اگر وہ پھر شراب پئے تو اس کو قتل کر دو۔
۔ ابو بشر کہتے ہیں: میں نے یزید بن ابی کبشہ سے سنا، وہ شام میں خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے سنا، وہ عبد الملک بن مروان کو شراب کے بارے میں بتارہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کے بارے میں فرمایا: اگر کوئی آدمی شراب پئے تو اسے کوڑے لگائو، اگر پھر وہ پیئے تو پھر اسے کوڑے لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اسے قتل کر دو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اس کو کوڑنے لگاؤ، پھر جب اس نے شراب پی، تو تم پھر اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر اس نے شرا ب پی تو تم اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اس کو قتل کر دو۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شراب پئے تو اسے حد لگائو، پھر اگر وہ پئے تو اسے حد لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اس کی گردن اڑا دو۔ امام زہری کہتے ہیں کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ ایک آدمی کو لایا گیا،وہ نشے میں تھا، لیکن آپ نے اسے چھوڑدیا۔
Takhreej
(۶۷۹۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شرابی کو قتل کرنے کی حدّ منسوخ ہو چکی ہے، امام ترمذی نے کہا: شروع میں قتل کی سزا تھی، لیکن پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا …۔عام اہل علم کے نزدیکیہی رائے معتبر ہے، ہمارے علم کے مطابق قدیم و جدید اہل علم میں قتل کے منسوخ ہو جانے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔
Takhreej
(۶۷۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن علی بن یزید بن رکانۃ فی عداد المجھولین، وفی متن حدیثہ مخالفۃ للأحادیث الصحیحۃ التی فیھا ان حد شارب الخمر کان علی زمن النبیV اربعین، أخرجہ ابوداود: ۴۴۷۶(انظر: ۲۹۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔
فوائد:… شرابی کو تین صورتوں میں سزا دی جائے گی:
(۱) جب دو عادل گواہ گواہی دے دیں۔
(۲) جب وہ خود اقرار کرے۔
(۳) سیدنا عثمان b نے ولید بن عقبہ کو شراب کی حدّ اس بنا پر لگائی کہ ایک آدمی نے کہا: میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے نے کہا: میں نے اس کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا عثمان b نے کہا: جب تک شراب نہ پی ہو، قے کیسے کر سکتا ہے، پھر انھوں نے اس کو حدّ لگائی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
بہرحال تیسری صورت میں واضح علامت کا ہونا ضروری ہے، جیسے قے، بو وغیرہ، جبکہ یہیقین ہو کہ یہ بو معدے سے آ رہی ہے اور واقعی شراب کی ہے، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے کے منہ سے آنے والی بد بو سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کی ہے۔
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے، الا یہ کہ وہ اللہ تعالی کی حدود میں سے کوئی حد ہو۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ مارو، مگر اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد میں۔
Takhreej
(۶۷۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ میں حدود اور ان کی سزاؤں کا تعین کر دیا گیا ہے، تعزیر سے مراد اس جرم کی سزا ہے، جو حد شرعی والے جرم سے کم ہو، اس کے بارے میں آپa نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ تعزیر دس کوڑوں سے زیادہ نہ دی جائے۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری قوم کے کچھ لوگ تہمت کے جرم میں پکڑ کر قید کر دئیے، پھر ہماری قوم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے محمد! آپ نے میرے پڑوسیوں کو قید کیوں کر رکھا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خاموشی اختیار کی، وہ پھر کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شر سے منع کرتے ہیں، جبکہ آپ تو شرّ پھیلا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا کہتا ہے؟ سیدنا معاویہ کہتے ہیں :میں نے دونوں کے درمیان بات کو واضح نہ ہونے دیا، ڈر یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سن لیں اورمیری قوم پر بددعا کر دیں، پھرمیری قوم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکے گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ لگے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کوسمجھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ان لوگوں نے یہ تہمت والی بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں وہ کام کر دوں، جس سے میں نے منع کیا ہے، تو اس کا بوجھ مجھ پر ہو گا، ان پر نہیں ہوگا تم اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم کی کہ معاملہ واضح ہونے تک متعلقہ افراد کو قید کرنا جائز ہے، دراصل یہ کوئی سزا نہیں ہے، بلکہ جرم کی تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ فرد مجرم ہے یا نہیں اور اس کا جرم حد یا تعزیر کے قابل ہے یا نہیں، اس لیے اس قید کے دوران کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل قبیلے کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، لیکن جب انھوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب وہ صحت یاب ہو گئے تو وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے ان کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجا اور وہ ان کو تلاش کر کے لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دئیے اور انہیں داغا نہیں،یہاں تک کہ وہ مر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلاخیں بھی پھیری تھیں۔
۔ (دوسری سند) عکل قبیلے کے آٹھ افراد رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی،مدینہ کی سرزمین کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی اور ان کے جسم بیمار پڑ گئے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی شکایت کی تو …پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا …، البتہ اس کے آخر میں ہے: پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا،یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
۔ (تیسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ نے مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلاخیں پھیریں اور انہیں حرّہ زمین میںپھینک دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ سے زمین کو کاٹتا تھا ، پھر وہ سب اسی حالت میں مرگئے۔محمد بن سیرین نے کہا: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
Takhreej
(۶۸۰۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ لوگ محاربین تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
{ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} (المائدہ: ۳۳) ’’جو لوگ اللہ تعالی اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیںیا سولی چڑھا دیئے جائیںیا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے
لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
سیدنا ابن عمر d نے کہا: یہ آیت عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوداود: ۴۳۶۹، نسائی: ۷/ ۱۰۰) مذکورہ بالا احادیث میں ان ہی عرینہ اور عکل قبیلے کے افراد کا ذکر ہے، لیکنیہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے جرائم کرنے والوں کے لیے عام حکم رکھتی ہے۔
جناب ابو قلابہ نے کہا: ھٰؤُلَائِ قَوْمٌ سَرَقُوْا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَحَارَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔…انلوگوںنےچوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد پھر سے کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔
(صحیح بخاری: ۶۸۰۲، ۶۸۰۵)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ محارِب تھے اور ان کو محاربہ کی سزا دی گئی۔
امام محمد بن سیرین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسری حدود کے نزول سے قبل محاربہ کا حکم نازل ہوا تھا۔