۔ (۷۰۶۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ شَوَّالٍ وَبَنٰی بِیْ فِیْ شَوَّالٍ، فَأَیُّ نِسَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ اَحْظٰی عِنْدَہُ مِنِّیْ، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رضی اللہ عنہا تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَائَھَا فِی شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۵)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوال میں مجھ سے نکاح کیا اور شوال میں ہی میری رخصتی ہوئی،بتلاؤ تو سہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ مقبول اور شرف والی تھی۔
Takhreej
(۷۰۶۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۳(انظر: ۲۵۷۱۶)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ کی رخصتی شوال میں ہوئی تھی، وہ اس سنت کا لحاظ کر کے کوشش کرتی تھیں کہ خواتین کو شوال میں ہی رخصت کیا جائے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اس مہینے کی میاں بیوی کے حق میں کوئی برکت ہوتی ہے۔
دورِ جاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنی کی وجہ سے منحوس قرار دیتے تھے اور اس میں شادی و تعمیر وغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے، حالانکہ یہ صرف توہّم ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مہینے کا نام اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، اسلام ایسے توہّمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں رکاوٹ کو بد عقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھنے لگ گئے ہیں۔
7066
Sahih