TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7084 - عزل کی رخصت کا بیان - ولیمہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
عزل کی رخصت کا بیان
۔ (۷۰۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اَصَبْنَا سَبْیًا فِیْیَوْمِ حُنَیْنٍ فَکُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَائَھُنَّ، فَسَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: ((اصْنَعُوْا مَا بَدَا لَکُمْ، فَمَا قَضَی اللّٰہُ فَہُوَ کَائِنٌ فَلَیْسَ مِنْ کُلِّ الْمَائِ یَکُوْنُ الْوَلَدُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حنین کے دن لونڈیاں حاصل کیں، ہم ان کے عوض مال چاہتے تھے، اس لیے ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک مناسب سمجھو کر لو، لیکن اللہ تعالی نے جو فیصلہ کر دیا ہے، وہ ہو کررہے گا، سارے مادۂ منویہ سے تو اولاد نہیں ہوتی، (وہ تو ایک قطرے سے ہو جاتی ہے)۔
7084
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۷۰۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۳۸(انظر: ۱۱۴۳۸)

Related Chapters

147
1
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
Musnad Ahmad
2
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Permitting Talk After Isha
باب: عشاء کے بعد بات چیت کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: [What Has Been Related] About Permission For Squatting
باب: اقعاء کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission To Prostrate On The Clothing During The Heat And Cold
باب: گرمی اور ٹھنڈک میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: محرم کے لیے شادی کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Giving Permission For The Shepherds To Stone A Day And Leave (Stoning) A Day
باب: چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن جمرات کی رمی کرنے کی رخصت ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Crying Over The Deceased
باب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Permitting That
باب: جنازے کے پیچھے سواری پر چلنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Regarding Permission To Not Stand For It
باب: جنازے کے لیے کھڑا نہ ہونے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Visit The Graves
باب: قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Azl
باب: عزل کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Azl Being Disliked
باب: عزل کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Buy On Credit
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Eating Fruit For The Passerby
باب: راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Lie And Be Deceitful In War
باب: لڑائی میں جھوٹ دھوکہ اور فریب کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Wearing Of Silk During War
باب: دوران جنگ ریشم پہننے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Permission (For Walking In) One Sandal
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related From The Prophet (saws) Permitting One To Cut Meat With A Knife
باب: چھری سے گوشت کاٹنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related Permitting That
باب: مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: بدن داغنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Bidding Farewell To A Person
باب: کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
33
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
34
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
35
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
36
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
37
اس معاملے میں رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
38
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
39
پانی کی عدم موجودگی میں جماع اور تیمم کی رخصت اور پانی کے موجود ہونے کی صورت میں تیمم کے باطل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
41
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
43
نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
44
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
45
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
Musnad Ahmad
46
سحری تک وصال کرنے کی رخصت
Musnad Ahmad
47
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
48
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
49
قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
Musnad Ahmad
50
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

191
Musnad Ahmad
163
۔ (۱۶۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلٰی آخِیَّتِہِ یَجُوْلُ ثُمَّّ یَرْجِعُ عَلٰی آخِیَّتِہِ، وَاِنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْہُوْ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۵۵)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: مؤمن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مؤمن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔
Musnad Ahmad
287
۔ (۲۸۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ الْیَشْکُرِیِّ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّہُ قَالَ فِیْ الْوَہْمِ: ((یُتَوَخّٰی۔)) قَالَ لَہُ رَجُلٌ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ قَالَ: فِیْمَا أَعْلَمُ۔ (مسند أحمد: ۱۱۴۴۰)
سلیمان یشکری سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے (نماز میں) وہم ہو جانے کے بارے میں یتوخی کا لفظ استعمال کیا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کی جا رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق تو یہی بات ہے۔
Musnad Ahmad
293
۔ (۲۹۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ، مَنْ کتَبَ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۱)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔
Musnad Ahmad
305
۔ (۳۰۵)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نبی اسرائیل سے بیان کرسکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، تم بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پس بیشک تم ان سے جو چیز بھی بیان کرو گے، ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز امور پائے جاتے ہوں گے۔
Musnad Ahmad
311
۔ (۳۱۱)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَدِّثُوْا عَنِّیْ وَلَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ)) (مسند أحمد: ۱۱۴۴۴)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
323
۔ (۳۲۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ أَھْلُ بَیْتِیْ وَإِنَّہُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) (مسند أحمد:۱۱۱۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔
Musnad Ahmad
341
۔ (۳۴۱)۔ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا (یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّؓ) یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہُ أَبَدًا، وَلَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ،(قَالَ أبُوْحَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِیْ عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَقَالَ: ہٰکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا یَقُوْلُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیْدُ فَیَقُوْلُ: ((اِنَّہُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ، فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۱۰)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوںنے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔
Musnad Ahmad
345
۔ (۳۴۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوْہُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آلْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ: ((فَمَنْ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۸۲۲)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوںکی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گو کے بِل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اور کون۔
Musnad Ahmad
389
۔ (۳۸۹)۔عن أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَوَضَّأُ مِنْہَا وَہِیَ یُلْقٰی فِیْھَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۳۶)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے رہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔