TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے - قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے - قسم اور نذر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of قسم اور نذر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 11 · 6 Hadith
۔ (۵۳۳۲)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ صَفْوَانَ، وَکَانَ لَہُ بَلَائٌ فِی الْإِسْلَامِ حَسَنٌ، وَکَانَ صَدِیقًا لِلْعَبَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ جَائَ بِأَبِیہِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ،فَأَبٰی وَقَالَ: ((إِنَّہَا لَا ہِجْرَۃَ۔)) فَانْطَلَقَ إِلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ فِی السِّقَایَۃِ، فَقَالَ: یَا أَبَا الْفَضْلِ! أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَبِی یُبَایِعُہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَأَبٰی، قَالَ: فَقَامَ الْعَبَّاسُ مَعَہُ وَمَا عَلَیْہِ رِدَائٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰۂِٔ! قَدْ عَرَفْتَ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ فُلَانٍ وَأَتَاکَ بِأَبِیہِ لِتُبَایِعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَأَبَیْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا لَا ہِجْرَۃَ۔)) فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَتُبَایِعَنَّہُ، قَالَ: فَبَسَطَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ، قَالَ: فَقَالَ: ہَاتِ أَبْرَرْتُ قَسَمَ عَمِّی وَلَا ہِجْرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۶۳۶)
۔ مجاہد کہتے ہیں: عبد الرحمن بن صفوان نامی ایک مہاجر صحابی تھا، اس نے اچھے انداز میں اسلام کی آزمائش کو پورا کیا تھا، یہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دوست تھا، یہ صحابی فتح مکہ والے دن اپنے باپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہجرت پر اس کی بیعت لو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ وہ آدمی سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا گیا، جبکہ وہ زمزم کا پانی پلا رہے تھے، اور ان سے کہا: اے ابو الفضل! میں اپنے باپ کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تاکہ ہجرت پر ان سے بیعت لیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ان پر قیمص کی جگہ پر اوڑھی جانے والی چادر بھی نہیں تھی، بہرحال وہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا فلاں آدمی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، وہ اپنے باپ کو لے کر آیا تاکہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ نے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ پر قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور اس سے بیعت لیں گے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: آجا، بیعت کر لے، میں اپنے چچا کی قسم پوری کر رہا ہوں، ہجرت اب کوئی نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۳۳۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۱۶(انظر: ۱۵۵۵۱)
Explanation
فوائد:… بہرحال فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا، باقی رہا مسئلہ درالحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا تو اس کا حکم وجوب کے ساتھ برقرار ہے۔
5332
Zaeef
۔ (۵۳۳۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہَا قَالَتْ: أَہْدَتْ إِلَیْہَا امْرَأَۃٌ تَمْرًا فِی طَبَقٍ فَأَکَلَتْ بَعْضًا وَبَقِیَ بَعْضٌ، فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَیْکِ إِلَّا أَکَلْتِ بَقِیَّتَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِرِّیہَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَی الْمُحَنِّثِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۴۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، ایک خاتون نے ان کی طرف ایک تھال میں کچھ کھجوریں بھیجیں، اس (عائشہ) نے کچھ کھجوریں کھالی اور کچھ بچ گئیں، لیکن اس خاتون نے مجھے کہا: میں تجھ پر قسم اٹھاتی ہوں کہ تو باقی کھجوریں بھی کھائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی قسم کو پورا کر دے، کیونکہ گناہ اس پر ہوتا ہے، جو قسم توڑنے کا سبب بنتا ہے۔
Takhreej
(۵۳۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو الزاھریۃ لم یسمع من عائشۃ، أخرجہ ابوداود فی المراسیل : ۳۸۸، والبیھقی: ۱۰/۴۱، والدارقطنی: ۴/ ۱۴۲ (انظر: ۲۴۸۳۵)
5333
Zaeef
۔ (۵۳۳۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ: فَذَکَرَ مَا أَمَرَہُمْ مِنْ عِیَادَۃِ الْمَرِیضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۹۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کا ذکر کیا، جن کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا، ان میں سے بعض امور تھے: مریض کی تیمارداری کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا اور قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا، …۔
Takhreej
(۵۳۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۳۹، ۲۴۴۵، ۵۶۵۰، ومسلم: ۲۰۶۶(انظر: ۱۸۵۰۴)
5334
Sahih
۔ (۵۳۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ حَدِیْثِ رُؤْیَا اَعْبَرَھَا (اَیْ فَسَّرَھَا) اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَمَامَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِیْرِھَا: اَصَبْتُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَصَبْتَ وَاَخْطَأْتَ۔)) قَالَ: اَقْسَمْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَتُخْبِرُنِیْ، فَقَالَ: ((لَا تُقْسِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
(۵۳۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۰۰، ۷۰۴۶، ومسلم: ۲۲۶۹(انظر: ۲۱۱۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قسم پوری نہیں کی، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی قسم کو پورا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ کسی مانع اور مصلحت کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قسم کو پورا نہیں کیا۔
5335
Sahih
۔ (۵۳۳۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ اَبَابَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَقْسَمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْسِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قسم اٹھائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
(۵۳۳۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
5336
Sahih
۔ (۵۳۳۷)۔ عَنْ اِبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأٰی عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام رَجُلًا یَسْرِقُ، فَقَالَ لَہٗ عِیْسٰی: سَرَقْتَ؟ قَالَ: کَلَّا وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، قَالَ عِیْسٰی: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَکَذَبَّتُ عَیْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس سے کہا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! میں ہر گز چوری نہیں کی۔ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔
Takhreej
(۵۳۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۴۴، ومسلم: ۲۳۶۸(انظر: ۸۱۵۴)
Explanation
فوائد:… جب اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا وسیلہ دیتے ہوئے انکار کیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی تصدیق کر دی۔
5337
Sahih

Chapters

11
01
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
02
کعبہ کی قسم اٹھانے کا بیان
2 Hadith
03
لات اور عزی کی قسم اٹھانے والے کا اور اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ، جوا کھیلیں
2 Hadith
04
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے
2 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
8 Hadith
06
قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
6 Hadith
07
جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
9 Hadith
08
اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
3 Hadith
09
قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
6 Hadith
10
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
14 Hadith
11
قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.