TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس معاملے میں رخصت کا بیان - اس معاملے میں رخصت کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 12 · 3 Hadith
۔ (۳۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَۃٍ فَفَضَلَتْ فَضْلَۃٌ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَغْتَسِلَ مِنْہَا فَقُلْتُ: اِنِّی قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْہَا، فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَیْسَ عَلَیْہِ الْجَنَابَۃُ)) أَوْ ((لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) فْاغْتَسَلَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ نے کہا: مجھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے غسل کیا۔
Takhreej
(۳۸۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۰۹۸، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۱۰۳۰، والدارقطنی: ۱/ ۵۲(انظر: ۲۶۸۰۲)
384
Sahih
۔ (۳۸۵)۔عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَۃِ فَتَوَضَّأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِفَضْلِہِ فَذَکَرَتْ لَہُ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، پس جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ساری بات بتلائی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔
Takhreej
(۳۸۵) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۶۸، والنسائی: ۱/ ۱۷۳، وابن ماجہ: ۳۷۰، والترمذی: ۶۵ (انظر: ۲۱۰۲)
385
Sahih
۔ (۳۸۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۷)
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کے غسلِ جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا۔
Takhreej
(۳۸۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۲(انظر: ۲۶۸۰۱)
Explanation
فوائد:… اِن واضح احادیث کی روشنی میں پچھلے باب کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مزید کچھ روایات درج ذیل بھی ہیں:سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ((کَانَ یُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ الْمَعِیْنُ)) … نظر لگانے والے کو وضو کرنے کا حکم دیا جاتا، پھر اس پانی سے وہ آدمی غسل کرتا، جس کو نظر لگی ہوتی تھی۔ (ابوداود: ۳۸۸۰) اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
386
Sahih