TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان - میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان - Book 122 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 122 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 7 Chapters
میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں جامع بیان
۔ (۷۱۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ حُرَّۃَ الرَّقَاشِیِّ عَنْ عَمِّہِ قَالَ: کُنْتُ آخِذًا بِزَمَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ (فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا) وَفِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَاتْقُوْا اللّٰہَ فِیْ النِّسَائِ فَاِنَّہُنَّ عِنْدَکُمْ عَوَانٌ لَایَمْلِکْنَ لِاَنْفُسِہِنَّ شَیْئًا، وَإِنَّ لَھُنَّ عَلَیْکُمْ وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ حَقَّانِ، لَایُوْطِئْنَ فُرُشَکُمْ اَحَدًا غَیْرَکُمْ، وَلَا یَأْذَنَّ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لِأَحَدٍ تَکْرَھُوْنَہُ، فَاِنْ خِفْتُمْ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ (قَالَ حُمَیْدٌ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا الْمُبَرِّحُ؟ قَالَ: الْمُؤَثِّرُ) وَلَھُنَّ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاِنَّمَا اَخَذْتُمُوْھُنَّ بِاَمَانَۃِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷۱)
۔ ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی،یہ ایام تشریق کے درمیان والے دن کی بات ہے، … پھر راوی نے طویل حدیث بیان کی، …۔ اس میں تھا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، یہ اپنی جانوں پر بھی اختیار نہیں رکھتیں، ان عورتوں کے تمہارے اوپر اور تمہارے ان پر دو حق ہیں،تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی اور کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں اس شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں، جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر تم کو ان کیشرارت کا ڈر ہو تو انہیں نصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو،اور ان کو مارو، لیکن وہ مارنا واضح نہ ہو۔ حمید راوی کہتے ہیں: میں نے امام حسن سے کہا: مُبَرّح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جسم میں نشان چھوڑنے والی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: تمہاری ذمہ دارییہ ہے کہ تم معروف طریقے سے ان کے رزق اور لباس کا بندوبست کرو، تم نے ان کو اللہ تعالی کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالی کے کلمے کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔
Takhreej
(۷۱۰۰) تخریج: صحیح لغیرہ مقطعا، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابوداود: ۲۱۴۵، والترمذی: ۱۱۶۳، ۳۰۸۷، وابن ماجہ: ۱۸۵۱، لکنھم اقتصروا علی بعض ھذا الحدیث (انظر: ۲۰۶۹۵)
Explanation
فوائد:… مار کا واضح نہ ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کو ایسی سخت سزا نہ دی جائے، جو اس کے لیے بہت مشقت کا باعث بنے، جیسے اس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا زخم ہو جائے، بس کمر وغیرہ پر تھپڑ وغیرہ لگا لیا جائے۔ بہرحال بہترین لوگ وہی ہوں گے جو حسن اخلاق کے ذریعے اپنی بیویوں کے معاملات کو سنوار لیتے ہوں۔ میاں بیوی دونوں کو مصلحت اور حکمت کی راہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپس میں ایک دوسرے کی بغاوت کرنے سے بچنا چاہیے، ہر معاملے کو نرمی سے سلجھا لینے کی اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔
7100
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاھِدٌ اِلَّا بِاِذْنِہِ، وَلَا تَأْذَنُ فِیْ بَیْتِہِ وَھُوَ شَاھِدٌ اِلَّا بِأِذْنِہِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہِ مِنْ غَیْرِ أَمْرِہِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِہِ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی ، اس کو آدھا اجر ملے گا۔
Takhreej
(۷۱۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۶۶، ۵۱۹۲، ۵۳۶۰، ومسلم: ۱۰۲۶، وابوداود!: ۱۶۸۷، ۲۴۵۸ (انظر: ۸۱۸۸)
Explanation
فوائد:… اس سے مراد نفلی روزہ ہے، لیکن اگر حکم کی غرض و غایت کو دیکھا جائے تو فرضی روزوں کی قضا کا بھییہی حکم ہو گا، یعنی رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں بھی خاتون کو اپنے خاوند سے مشورہ کر لینا چاہیے۔ اس خرچ سے مراد وہ چیز ہے، جس کا عام طور پر صدقہ دے دیا جاتا ہو، مثلا پانچ دس روپے، لپ بھر آٹا یا گندم اور روٹی سالن وغیرہ، قیمتی چیز کو خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کیا جا سکتا،نیز گھر کے حالات کو دیکھ کر قیمتی چیز کا اندازہ لگایا جائے گا اور اگر خاوند وضاحت کے ساتھ معمولی چیز کو صدقہ کرنے سے بھی منع کر دے تو بیوی کو کوئی اختیار نہیںرہے گا۔ نفلی روزہ عظیم عبادت ہے، اس کا بڑا اجر وثواب ہے، لیکن خاوند کے حق کو اس پر مقدم رکھا گیا ہے۔
7101
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہ اِلٰی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ عَلَیْہِ فَبَاتَ وَھُوَ غَضْبَانُ (وَفِیْ لَفْظٍ: وھُوَ عَلَیْہَا سَاخِطٌ) لَعَنَتْہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔
Takhreej
(۷۱۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۳۷، ۵۱۹۳، ومسلم: ۱۴۳۶(انظر: ۱۰۲۲۵)
7102
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِہَا، بَاتَتْ تَلْعَنُہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تَرْجِعَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس نے اپنے خاوند کا بستر چھوڑ رکھا ہو تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے بستر کی طرف لوٹ آئے۔
Takhreej
(۷۱۰۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7103
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ فَجَائَ بَعِیْرٌ فَسَجَدَ لَہُ، فَقَالَ أَصَحَابُہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((تَسْجُدُ لَکَ الْبَہَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ۔)) فَقَالَ: ((اعْبُدُوْا رَبّکُمْ وَأَکْرِمُوْا أَخَاکُمْ، وَلَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَوْ أَمَرَھَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ اِلٰی جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ اِلٰی جَبَلٍ أَبْیَضَ کَانَ یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَفْعَلَہ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرامf نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائییعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔
Takhreej
(۷۱۰۴) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان الا قولہ ’’وَلَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا‘‘، فانہ جید لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۵۲(انظر: ۲۴۴۷۱)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو یہ حکم دے کہ وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پتھر یا ایک ٹیلے سے دوسرے ٹیلے تک ریت منتقل کرے تو اس کو ایسے ہی کرنا چاہیے، مراد یہ ہے کہ بیوی کو اپنے خاوند کی حد درجہ اطاعت کرنی چاہیے۔
7104
Zaeef
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ظِبْیَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّہ، لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْیَمَنِ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ رِجَالًا بِالْیَمَنِیَسْجُدُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَفَـلَا نَسْجُدُ لَکَ؟ قَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ بَشَرًا یَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میںیمن سے واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یمن میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے بشر کو بشر کے لئے سجدہ کی اجازت دینا ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کو سجدہ کرے۔
Takhreej
(۷۱۰۵) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۴/ ۳۰۵، والطبرانی: ۲۰/ ۳۷۳ (انظر: ۲۱۹۸۶)
7105
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ اَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا مِنْ عِظَمِ حَقِّہِ عَلَیْہَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ کَانَ مِنْ قَدَمِہِ اِلٰی مَفْرِقِ رَأْسِہِ قُرْحَۃً تَنْبَجِسُ بِالْقَیْحِ وَالصَّدِیْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْہُ فَلَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لئے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر خاوند کو پائوں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑا نکل آئے اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جائے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے تو پھر بھی وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔
Takhreej
(۷۱۰۶) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ کَانَ مِنْ قَدَمِہِ اِلٰی مَفْرِقِ رَأْسِہِ قُرْحَۃً تَنْبَجِسُ بِالْقَیْحِ وَالصَّدِیْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْہُ فَلَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ‘‘ وھذا الحرف تفرد بہ حسین المروذی عن خلف بن خلیفۃ وخلف کان قد اختلط قبل موتہ، أخرجہ البزار: ۲۴۵۴ (انظر: ۱۲۶۱۴)
7106
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْیَمَنَ اَوْ قَالَ: الشَّامَ، فَرَأَی النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَأَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأَ (أَیْ فَکَّرَ) فِیْ نَفْسِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَقُّ أَنْ یُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَاَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّکَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَا تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا کُلَّہُ حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا عَلَیْہَا کُلَّہُ، حَتّٰی لَوْسَأَلَھَا نَفْسَہَا وَھِیَ عَلٰی ظَہْرِ قَتَبٍ لَاَعْطَتْہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمنیا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پادریوں اور لیڈروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالی کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ (کسی سواری کے) پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔
Takhreej
(۷۱۰۷) تخریج: حدیث جیّد، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۵۳(انظر: ۱۹۴۰۳)
Explanation
فوائد:… آپ a کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔
7107
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۸)۔ عَنْ عَائِذِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ عَلَی الْیَمَنِ فَلَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَہَا بَنُوْنَ لَھَا اِثْنَا عَشَرَ فَتَرَکَتْ أَبَاھُمْ فِیْ بَیْتِہَا، أَصْغَرُھُمُ الَّذِیْ قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْیَتُہُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلٰی مُعَاذٍ وَرُجَلانِ مِنْ بَنِیْہَایُمْسِکَانِ بِضَبْعَیْہَا فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلْکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: أَرْسَلَنِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتِ الْمَرْأَۃُ: أَرْسَلَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ رَسُوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ أَفَـلَا تُخْبِرُنِیْیَا رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِِ a؟ فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: سَلِیْنِیْ عَمَّا شِئْتِ، قَالَتْ: حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: تَتَّقِی اللّٰہَ ماَ اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِیْعُ، قَالَتْ: أَقْسَمْتُ بِاللّٰہِ عَلَیْکَ لَتُحَدِّثَنِّیْ مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: اَوَمَا رَضِیْتِ أَنْ تَسْمَعِیْ وَتُطِیْعِیْ وَتَتَّقِی اللّٰہَ؟ قَالَتْ: بَلیٰ وَلٰکِنْ حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ، فَاِنِّیْ تَرَکْتُ أَبَا ھٰؤُلَائِ شَیْخًا کَبِیْرًا فِی الْبَیْتِ، فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: والَّذِیْ نَفْسُ مُعَاذٍ فِیْیَدَیْہِ! لَوْ أَنَّکِ تَرْجِعِیْنَ اِذَا رَجَعْتِ اِلَیْہِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَہُ وَخَرَقَ مَنْخِرَیْہِ، فَوَجَدْتِ مَنْخِرَیْہِیَسِیْلَانِ قَیْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِیْہِمَا فَاکِ لِکَیْ مَا تَبْلُغِیْ حَقَّہُ مَا بَلَغْتِ ذَالِکَ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲۸)
۔ عائذ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں آئے، انہیں خولان قبیلہ کی ایک عورت ملی، اس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے بھی تھے، وہ ان کے باپ کو گھر میں چھوڑآئی تھی، ان میں سے جو سب سے چھوٹا بیٹا تھا، وہ مکمل باریش تھا، وہ کھڑی ہوئی اوراس کے دو بیٹوں نے اسے تھام رکھا تھا، اس نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سلام کہا اور کہا: اے آدمی! تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔اس نے کہا: کیا واقعی آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے،اچھا اگر آپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قاصد ہیں مجھے کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو ضرورت ہے پوچھو، اس نے کہا: مجھے بتائو کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے اسے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے مقدور بھر ڈرتی رہو اور سنو اور اطاعت کرو، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتی ہوں، مجھے بتائو آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے کہا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہوئی کہ تم خاوند کی بات سنو اور اس کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؟ اس نے کہا: جی ضرور راضی ہوں، لیکن پھر بھی آپ مجھے بتائیں کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی ہوں، وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے دونوں ہاتھوں میں معاذ کی جان ہے! فرض کرو جب تم اس کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس کو اس حال میں پاؤ کہ کوڑھ نے اس کا گوشت چھلنی کردیا ہو اور اس کے دونوں نتھنے پھٹ چکے ہوں اور اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہوں اور تم اس کے دونوں نتھنوں کو منہ میں ڈال لو، تاکہ تم اس کا حق ادا کر دو، تو پھر بھی تم اس کا حق ادا نہیں کر سکو گی۔
Takhreej
(۷۱۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ ۱۶۶(انظر: ۲۲۰۷۸)
7108
Zaeef
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۰۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا وَصَامَتْ شَہْرَھَا وَحَفِظَتْ فَرْجَہَا وَاَطَاعَتْ زَوْجَہَا، قِیْلَ لَھَا: ادْخُلِیْ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔
Takhreej
(۷۱۰۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۱۶۶۱)
Explanation
فوائد:… اسلام کئی فرائض، واجبات، مستحبّات، محرّمات اور مکروہات پر مشتمل ہے، آپ a نے اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف چار امور کا ذکر کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین زیادہ تر ان چار امور میں راہِ اعتدال اختیار نہیں کرتیں۔
7109
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُؤْذِی امْرَأَۃٌ زَوْجَہَا فِی الدُّنْیَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ: لَا تُؤْذِیْہِ، قَاتَلَکِ اللّٰہُ فَاِنَّمَا ھُوَ عِنْدَکِ دَخِیْلٌیُوْشِکُ أَنْ یُفَارِقَکِاِلَیْنَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۵۲)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دنیا والی کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنت کی سفید سرخ رنگ والی موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں میں سے اس کی بیوی اس کو مخاطب ہو کر کہتی ہے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے۔
Takhreej
(۷۱۱۰) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۱۴، والترمذی: ۱۱۷۴(انظر: ۲۲۱۰۱)
7110
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۱)۔ عَنِ الْحُصَیْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّۃً لَہُ أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِہَا، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ ذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((کَیْفَ اَنْتِ لَہُ؟)) قَالَتْ: مَا آلُوْہُ اِلَّا مَاعَجَزْتُ عَنْہُ، قَالَ: ((انْظُرِیْ اَیْنَ اَنْتِ مِنْہُ فَاِنَّمَا ھُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۲)
۔ سیدنا حصین بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔
Takhreej
(۷۱۱۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۹۶۵، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۳۰۴، والبیھقی: ۷/ ۲۹۱(انظر: ۲۷۳۵۲)
Explanation
فوائد:… یعنی بیوی کے جنت یا جہنم میں جانے کا بڑا سبب اس کا خاوند ہے۔
7111
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٍیَقُوْلُ: ((اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَزَعَتْ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا ھَتَکَتْ سِتْرَ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ رَبِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنا لباس اتار ا، اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان والا پردہ چاک کر دیا۔
Takhreej
(۷۱۱۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۰ (انظر: ۲۴۱۴۰)
Explanation
فوائد:… خاتون کو غیر محرم کے سامنے اپنے جسم کے اعضاء کو ننگا نہیں کرنا چاہیے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کی حدود سے خارج ہو جائے گی اور اللہ تعالی اس کی عزت کا ضامن نہیں رہے گا۔ دورِ حاضر میں عورت کو بڑے غلط رنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے اس معاملے میں بڑا ہی بد کردار پیش کیا ہے اور خواتین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ مرد و زن، ہر ایک کی پاکدامنی داؤ پر لگ گئی ہے، ما سوائے اس کے جس پر اللہ تعالی خاص رحمت کر دے۔ اس میڈیا سے مسلم خواتین بری طرح متأثر ہوئی ہیں اور آج ان کے جسم کے بعض حصے ننگے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور تنگ اور باریک لباس کی وجہ سے جسم کے باقی حصوں کی جسامت کا خوب اندازہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن نافرمانی کے اس انداز کو کون سمجھے اور پھر وہ کیا کرے۔
7112
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۳)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ إِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ قَالَتْ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ فِیْ نِسْوَۃٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَقَالَ: ((اِیَّاکُنَّ وَکُفْرَ الْمُنَعَّمِیْنَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا کُفْرُ الْمُنَعَّمِیْنَ؟ قَالَ: ((لَعَلَّ اِحْدَا کُنَّ أَنْ تَطُوْلَ أَیْمَتُہَا بَیْنَ أَبَوَیْہَا وَتَعْنُسَ فَیَرْزُقَہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ زَوْجَہَا وَیَرْزُقَہَا مِنْہُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَۃَ فَتَقُوْلُ: مَا رَاَیْتُ مِنْہُ یَوْمًا خَیْرًا قَطُّ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَا رَاَیْتُ مِنْہُ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۱۳)
۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائیدیکھی ہی نہیں۔
Takhreej
(۷۱۱۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۶۹۷(انظر: ۲۷۵۶۱)
7113
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖاَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: ((لَا یَجُوْزُ لِمَرْأَۃٍ عَطِیَّۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا حلال نہیںہے۔
Takhreej
(۷۱۱۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۵۴۶، والنسائی: ۶/ ۲۷۸ (انظر: ۶۷۲۷)
7114
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَجُوْزُ لِلْمَرْأَۃِ أَمْرٌ فِیْ مَالِھَا اِذَا مَلَکَ زَوْجُہَا عِصْمَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت کی عصمت کا مالک اس کا خاوند بن جائے،تو عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں رہتا۔
Takhreej
(۷۱۱۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر مال و دولت میں تصرّف نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَا تُنْفِقُ اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِزَوْجِہَا اِلاَّ بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ مِنْ اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) (ترمذی، ابن ماجہ) … کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسی کو کھانابھی نہ دے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھانا تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔ سیدنا واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ أَںْ تَنْتَہِکَ شَیْئًا مِنْ مَالِہَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (طبرانی: ۲۲/ ۸۳/ ۲۰۶، صحیحہ: ۷۷۵) … عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ کے فرمان { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ}کا بھییہی تقاضا ہے۔ لیکن اگر کوئی خاوند سچا مسلمان ہے، تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ اس حکم شرعی کو بہانہ بنا کر اپنی بیوی پر جبر کرے اور ایسے مالی تصرف سے بھی روک دے، جس کا ان دونوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔ غور فرمائیں کہ یہ حکم اس حق سے ملتا جلتا ہے، جو بچی کے ولی کو اس کی شادی کے سلسلے میں حاصل ہوتا ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتی، لیکن جب ولی اس کو نکاح سے روک لیتا ہے تو معاملہ انصاف کا طالب بن کر شرعی قاضی تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئیخاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اسے اس کے ذاتی مال میں شرعی تصرف کرنے سے بھی روک لیتا ہے، تو قاضی ان کے درمیان انصاف کی راہ ہموار کرے گا۔ معلوم ہوا کہ حکم میں اشکال نہیں ہے، بلکہ سوئے تصرف میں اشکال ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۵) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ مزید لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہد کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: لیث بن سعد کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالی معاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ امام ابن حزم نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبۂ عید میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں ڈال دیے۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں: آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث ، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ کہا جائے کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں سے اجازت کی پابندی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی اجازت پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔ حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکیں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔ لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔ پھر ابن حزم نے یہ کہا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟ کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔ لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیاء کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یار بنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ}(سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریں گے۔ (صحیحہ: ۲۵۷۱) قارئین کرام! یقینا آپ کو اور بالخصوص عورتوں کو اس حکم پر تعجب ہو رہا ہو گا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت اپنے مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی۔ اس تعجب کی وجہ ہمارا ماحول ہے، جہاں اکثر خواتین کو اپنے خاوندوں کے گھروں میں مجبور و مظلوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیا جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔ خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ حکم نبوی کے مطابق اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، دوستانہ ماحول بنائیں، آپس میں خوش و خرم رہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی کو سمجھیںاور دونوں ایک دوسرے کے والدین اور دوسرے قرابت داروں کی قدر کریں۔ نیز خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو کچھ تصرف کرنے کی اجازت دے دیں۔ ایسے ماحول میں ان احادیث پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ عورت اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے حدیث۷۱۱۴ اور ۷۱۱۵ اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ عورت اپنے مال سے کوئی عطیہ وغیرہ دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے، پھر یہ کام کرے۔ لیکن ایک حدیث اس بارے صریح ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت مال خرچ کرسکتی ہے۔ صحیح بخاری (۲۵۹۲) میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی میمونہ بنت حارث نے اپنی لونڈی آزاد کی اور آپ سے اس کی اجازت نہ لی، پھر انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ نے فرمایا کیا (واقعۃً) تونے یہ کام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا! ہاں آپ نے فرمایا اگر تو یہ لونڈی اپنے ماموئوں کو دے دینی تو اس سے تجھے اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے۔ جب منع و نہی کے مقابلہ میں یہ حدیث صحیح صریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا مال خرچ کرسکتی ہے تو اس حدیث کو جواز پر محمول کرنا چاہیے اور نہی کو نہی تنزیہی پر، اس طرح دونوں کی احادیث پر عمل ہو جائے گا امام بخاری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے باب ہبۃ المرأۃ لغیر زوجہا وعتقہا اذا کان لہا زوج فہو جائز اذا کانت سفیھۃً اس بات کا بیان کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کو تحفہ دے سکتی ہے اور غلام وغیرہ آزاد کرسکتی ہے خواہ اس کا خاوند ہو، یہ جائز ہے جب وہ بے وقوف نہ ہو۔ خلاصہیہ ہے کہ بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے ساتھ مال خرچ کرے لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی مال میں تصرف کرتی ہے تو یہ جائز ہے۔ (عبداللہ رفیق)
7115
Sahih
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ زَوْجِیْ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، وَیُفَطِّرُنِیْ اِذَا صُمْتُ، وَلَا یُصَلِّیْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَہُ قَالَ: فَسَأَلَہُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا قَوْلُھَا یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، فَاِنَّہَا تَقْرَأُ بِسُوْرَتَیْنِ فَقَدْ نَہَیْتُہَا عَنْہُمَا، قَالَ: فَقَالَ: ((لَوْ کَانَتْ سُوْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَکَفَتِ النَّاسَ۔))، وَأَمَّا قَوْلُہَا: یُفَطِّرُنِیْ، فَاِنَّہَا تَصُوْمُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَـلَا أَصْبِرُ، قَالَ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ: ((لَا تَصُوْمَنَّ امْرَأَۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُہَا بِأَنِّی لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَھْلُ بَیْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَاَ ذَاکَ لَا نَکَادُ نَسْتَیْقِظُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: ((فاِذَا اسْتَیْقَظْتَ فَصَلِّ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأَمَّا قَوْلُہَا اِنِّیْ لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَاِنِّیْ ثَقِیْلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَھْلِ بَیْتٍیُعْرَفُوْنَ بِذَاکَ بِثِقَلِ الرُّؤُوْسِ، قَالَ: ((فَاِذَا قُمْتَ فَصَلِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صورتحال یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ افطار کروا دیتا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر ادا کرتا ہے، اس وقت سیدنا صفوان بھی وہاں موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے ان کی بیوی کے اعتراضات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا یہ کہنا کہ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو میں اس کو مارتا ہوں، تو باتیہ ہے کہ یہ دو طویل سورتیں پڑھتی ہے، جبکہ میں نے اس کو ان سے منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ایک سورت بھی پڑھ لی جائے تو وہ لوگوں کے لئے کافی ہے۔ اس نے پھر کہا: اس کا یہ کہنا کہ جب وہ روزہ رکھتی ہے تو میں اس کو افطار کروا دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن فرمایا تھا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر ہر گز (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ ا ور اس کا یہ کہنا کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو گزارش یہ ہے کہ ہم اس قبیلے کے لوگ ہیں کہ ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہی نہیں ہو سکتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس بیشک میرا سر بوجھل رہتا ہے اور ہمارا سارا کنبہ ہی ایسا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ معروف ہے کہ ہمارے سر بوجھل رہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔
Takhreej
(۷۱۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۴۵۹(انظر: ۱۱۷۵۹)
Explanation
فوائد:… دو طویل سورتوں سے مراد یہ ہے کہ اس کے خاوند نے اپنی بیوی کو لمبا قیام کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خاوند کی خدمت کو لمبے قیام اور نفل نماز پر ترجیح دی جائے۔ بہرحال ان روایات کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ بیوی عبادات، ذکرو تلاوت سے کلی طور پر غافل ہو جائے، جب وہ فکر کرے گی تو خاوند کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس کو موقع ملتا رہے گا اور خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ رکھے، آخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس جوڑے کے لیے خاص دعا کی ہے، جو رات کو اٹھ کر اکٹھا قیام کرتا ہے۔ خاوند کی فرمانبردار ی کرنا بیوی پر فرض ہے، کسی کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا جائے۔ اگر یہ انداز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز ہوتا تو وہ صرف بیوی ہوتی جو اپنے خاوند کے سامنے اطاعت کا اظہار کرتی۔ بیویوں کو شاکر اور صابر ہونا چاہیے، ہر وقت طعن کرنے اور خاوند کے منفی پہلوؤں پر کڑی نگاہ رکھنے سے بچنا چاہیے، امہات المؤمنین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹیوں کی مثالیں ان کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، دنیا صرف یہی نہیں کہ کھانے پینے اور لباس میں اعلی معیار اختیار کر لیا جائے، خاوند کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم ہے، اس لیے ہر ممکنہ حد تک ان کی اقتداء کی جائے۔ اچھی بیوی کی صفات پر مشتمل ایک اور حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے: سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِنِسَائِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ؟ کُلُّ وَدُوْدٍ وَلُوْدٍ إِذَا غُضِبَتْ أَوْ أُسِیَ إِلَیْھَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُھَا قَالَتْ: ھٰذِہٖیَدِی فِییَدِکَ لَا أَکْتَحِلُ بِغَمْضٍ حَتّٰی تَرْضٰی۔)) … اب کیا میں تمھیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصے ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند سے) کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔ (معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر، شعب الایمان، صحیحہ: ۳۳۸۰)
7116
Sahih
خاوند پر بیوی کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ اَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((حَرْثُکَ ائْتِ حَرْثَکَ أَنّٰی شِئْتَ غَیْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلاَّ فِی الْبَیْتِ وَأَطْعِمْ اِذَا طَعِمْتَ وَاکْسُ اِذَا اکْتَسَیْتَ، کَیْفَ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ اِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۳)
۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو ، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔
Takhreej
(۷۱۱۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۱۹۲، ۲۴۲۴ (انظر: ۲۰۰۳۰)
Explanation
فوائد:… یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو اس سے مراد عورت کو لٹانے کی کیفیت ہے، وگرنہ جماع کے لیے وہی مقام استعمال کیا جائے جو اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ، پہلے یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا حرام ہے، البتہ پچھلی طرف سے حق زوجیت ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
7117
Sahih
خاوند پر بیوی کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۸)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَۃِ عَلَی الزَّوْجِِ؟ قَالَ: ((تُطْعِمُہَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوْھَا اِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلَّا فِی الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۲)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔
Takhreej
(۷۱۱۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۵۰، والترمذی: ۲۱۹۲، ۲۴۲۴ (انظر: ۲۰۰۱۳)
7118
Sahih
خاوند پر بیوی کے حقوق کا بیان
۔ (۷۱۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ النِّسَائَ فَوَعَظَ فِیْہِنَّ وَقَالَ: ((عَلامَ یَضْرِبُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَجْلِدُ) أَحَدُکُمُ امْرَأَتَہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ضَرْبَ الْعَبْدِ) وَلَعَلَّہُ أَنْ یُضَاجِعَہَا مِنْ آخِرِ النَّہَارِ أَوْ آخِرِ اللَّیْلِ)) (مسند احمد: ۱۶۳۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا آپ عورتوں کے حقوق کے بارے مردوں کو نصیحت کر رہے تھے، بیچ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے، پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میںیا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔
Takhreej
(۷۱۱۹) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۳۳۷۷، ۴۹۴۲، ۵۲۰۴، ۶۰۴۲، ومسلم: ۲۸۵۵(انظر: ۱۶۲۲۱)
Explanation
فوائد:… ایسا افراط و تفریط والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے بیوی کی خوب پٹائی کر دی جائے اور پھر رات کو اس سے ہم بستری بھی کی جائے۔ اگر کسی جرم کی وجہ سے بیوی کو سزا دینا پڑ ہی جائے تو ایسا معمولی طریقہ اختیار کیا جائے کہ بعد میں ہم بستری کے وقت تعجب نہ ہو۔
7119
Sahih