۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، وہ بڑی زبان دراز ہے اور مجھے اذیت دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو اس نے کہا: میرا اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے اور اس سے میری اولادبھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے روک لو اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو، اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا، جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایماندار خاوند اپنی ایمانداری بیوی سے بغض وعداوت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر وہ اپنی بیوی کی ایک عادت ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری صفت کی وجہ سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۱۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۶۹(انظر: ۸۳۶۳)
Explanation
فوائد:… مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ایسا کلی بغض نہیں رکھتا جو اس کو طلاق دینے پر مجبور کر دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ جہاں وہ اس کے برے پہلو پر نظر رکھتا ہے، وہاں اس کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہ کرے، ممکن ہے کہ خاتون کا اچھا پہلو اس کے قابل اعتراض پہلو پر غالب ہو اور اس طرح میاں بیوی اچھی زندگی گزار سکیں۔
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں یعنی عورت اور یتیم کے حق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
Takhreej
(۷۱۲۲) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۷۸ (انظر: ۹۶۶۶)
Explanation
فوائد:… ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
۔ سیدناسعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر آدمی کو نمازِ عشاء کے بعداپنے اہل کے پاس آنے سے منع کیا ہے۔
Takhreej
(۷۱۲۳) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۱۵۱۳)
Explanation
فوائد:… اس حکم کا تعلق زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے والے مسافر کے ساتھ ہے، جیساکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَطَالَ أَحَدُکُمْ الْغَیْبَۃَ فَـلَا یَطْرُقْ أَہْلَہُ لَیْلًا۔)) … جب کوئی آدمی زیادہ عرصہ باہر رہے تو وہ رات کو اپنے گھر واپس نہ آئے۔ (صحیح بخاری: ۳۸۴۳، صحیح مسلم: ۳۵۵۸)
میاں بیوی کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا مطلوبِ شریعت ہے، اس مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ خاوند کے لیے زینت و آرائش اختیار کرے۔ اس حدیث کا مقصد نفرت اور سوئے ظن کا باعث بننے والے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے سے مدینہ واپس پہنچ کر جب اپنے گھروں کو جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ تمہاری بیویاں پراگندہ بالوں میں کنگی کر لیں اور فاضل بالوں کی صفائی کر لیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث میں میاں بیوی کے مابین مودت و محبت پیدا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا کوئی وصف یا بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو آنے سے منع کیا تاکہ کوئی نفرت والا معاملہ پیش نہ آ سکے، ممکن ہے کہ بیوی اچھی حالت میں نہ ہو یا اس کے گھر میں کوئی ایسا فرد آیا
ہوا ہو، جس کی آمد خاوند کو ناگوار گزرے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ برا ہو گا، لیکن اس معاملے میں خاوند کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رات کو اپنی بیوی کے گھر گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اس کی کنگھی کر رہی تھی، لیکن میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مرد ہے، سو میں نے اس کی طرف تلوار کو سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس کا عورت ہونا واضح ہو گیا، جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا کہ وہ رات کو اپنی بیویوں کے پاس آئیں۔ (صحیح ابی عوانہ، بحوالہ فتح الباری: ۹/ ۴۲۶) اگر اس باب کی تمام احادیث اور ان کے مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں فون کے ذریعے مطلع کر کے رات کو آیا جا سکتا ہے، ہاں اس سلسلے میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کا مزاج سمجھے۔
آج کل بیویاں اپنے گھروں میں سادہ ملبوسات پر اکتفا کرتی ہیں اور صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتیں، لیکن جب وہ دوسرے رشتہ داروں کے پاس جانے یا گھر سے باہر کسی دوسری مجلس میں جانے لگتی ہیں، تو حسن و جمال کے جو انداز اختیار کئے جاتے ہیں، ان کے سامنے دلہن بھی شرما جاتی ہے۔ ایسا کرنا مقصودِ شریعت نہیں ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی،یہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، جب رسول اللہ نے اس کی حالت کی پراگندگی دیکھی تو مجھ سے فرمایا: عائشہ! خویلہ کی حالت تو بڑی پراگندہ ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یوں سمجھیں کہ اس خاتون کا خاوند کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس لیے خویلہ اس خاتون کی طرح ہے کہ جس کا خاوند نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اس کو ضائع کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، پس وہ آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عثمان! کیا میری سنت سے بے رغبتی کررہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی سنت کو طلب کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ہے تو میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، اے عثمان! اللہ سے ڈرو، تم پر تیری بیوی کا حق ہے، تم پر تیرے مہمان کا حق ہے اور تجھ پر تیرے نفس کا حق ہے، اس لیے روزے بھی رکھا کر اور ان کو ترک بھی کیا کر اور نماز بھی پڑھا کر اور سویا بھی کرو۔
فوائد:… تم پر تیری بیوی کا حق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بیوی کو باقاعدہ ٹائم دیا جائے اور اس کے جسم اور زندگی کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو پورا کیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ}(سورۂ نسائ: ۱۹) … اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرو۔
عورت سب سے زیادہ خاوند کے حسنِ اخلاق کی محتاج ہے، مختلف احادیث میں اس کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے، علاوہ ازیں عورت کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کے اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہے۔
اسلام ہی واحد مذہب ہے کہ جس نے بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے کا سبق دیا ہے، اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ شادی اور بالخصوص اولاد ہو جانے کے بعد عورت کا واحد سہارا اس کا خاوند ہو تا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر جچتی ہی نہیں ۔ اس لیے خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کی بے بسی کا خیال رکھیں اور اس کی خدمت کو شرف انسانیت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ٹھہریں۔
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیانکی۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے اپنی شہوت پوری کی، اس میں اجر کیسے ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، پھر وہ بالغ ہوجائے اور تم کو اس سے خیر کی امید بھی ہو، اتنے میں وہ فوت ہو جائے تو کیا تم ثواب کی نیت کے ساتھ صبر کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو ہدایت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو رزق دیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو رزق دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح جماع کے ذریعے حلال کو تلاش کر اور حرام سے اجتناب کر، پس اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اس کو زندہ رکھے گا اور چاہا تو اس کو فوت کر دے گا اور اس میں تیرے لیے اجر ہو گا۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔
فوائد:… غور کریں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی کو راضی کر رہے ہیں، اور ایسے کرنے سے بیوی کی بڑی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس میں فرمانبرداری کا جذبہ بڑھ جاتا ہے۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا ،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، ان کانام زینبیا دعد تھا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی آرزو کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم س کو چھوڑدو تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تمہارے لیے ایک ہی عادت اور خصلت پر سیدھا نہیں رہ سکتی،یہ پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تواس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
Takhreej
(۷۱۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… عورت کو پسلی سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن ہوتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے، اس لیے اس کے ساتھ لطف و نرمی والا سلوک کرو، تاکہ تم اس کے ساتھ زندگی گزارتے رہو۔
Takhreej
(۷۱۳۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۷۵، والبزار: ۱۱۷۶، وابن حبان: ۴۱۷۸ (انظر: ۲۰۰۹۳)
Explanation
فوائد:… یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالی نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہذا خاوند کو عورت کی اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے، اس سے اس ٹیڑھ پن کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
۔ نعیم بن قعنب ریاحی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، لیکن میں نے ان کو نہ پایا اور ان کی بیوی سے پوچھا، اس نے کہا: وہ اُدھر اپنی جائداد میں ہیں، اتنے میں وہ آگئے دو اونٹوں کو ہانک کر لا رہے تھے، ان میں سے ایک کو دوسرے کے پچھلے حصہ میں باندھ رکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن پر ایک مشک تھی، پس انھوں مشکوں کو نیچے اتار ا اور میں نے کہا: اے ابو ذر! مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ سے ملاقات کرنے کی چاہت تھی اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بھی آپ کی ملاقات ہی تھی، انہوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تیرے باپ کی عمر دراز ہو۔اس نے کہا : جاہلیت میں میں نے بچیاں زندہ درگور کی ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کی تمنا اس امید پر تھی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے کوئی توبہ یا نکلنے کی راہ ہے یا نہیں ہے، اور آپ سے ملاقات میں مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زندہ درگو ر دفن کرنا جاہلیت میں تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جو پہلے گزر چکا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، پھر انھوں نے اپنی بیوی کی طرف سر سے اشارہ کیا کہ وہ میرے لئے کھانا لائے، لیکن اس نے توجہ نہ کی، پھر انھوں نے اس کو حکم دیا، لیکن اس نے پھر توجہ نہ کی،یہاں تک کہ ان کے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں،انھوں نے بیوی سے کہا: خاموش ہو جائو اور یہاں سے چلی جائو، تم اس بات سے قطعاً تجاوز نہیں کر سکتیں، جو تمہارے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمادیا ہے، نعیم کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ایک پسلی کی مانند ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کے ٹیڑھا پن کو اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیوی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثرید لے آئی، اس کی لذت ایسی تھی جیسا کہ قطاۃ (کبوتر یا بٹیر کے برابر ایک پرندہ) کے گوشت کی ہوتی ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کھائو اور اپنے ساتھ میرے نہ کھانے سے پریشان نہ ہونا، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، پھر وہ خود کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور رکوع وغیرہ بہت ہلکے کئے، میرے خیال میں جب انہوں نے اندازہ لگالیا کہ میں سیر ہونے کے قریب ہوں تو وہ آئے اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا، میں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر افسوس کا اظہار کیا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا اگر کوئی عام آدمی جھوٹ کہتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا، مگر آپ سے جھوٹ کا سرزد ہونا تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا، انھوں نے کہا: تو نے کیا خوب بات کی ہے، جب سے تیری اور میری ملاقات ہوئی ہے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہو؟ میں نے کہا: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ آپ روزہ سے ہوں اور اب میں دیکھتا ہوں آپ نے کھانا شروع کر دیا ہے، اس نے کہا: ضرور ضرور، وجہ یہ ہے کہ میں نے اس ماہ کے تین روزے رکھ لئے ہیں، ایک نیکی دس گنا ہے، لہٰذا ایک ماہ کا اجر ثابت ہوچکا ہے اور تیرے ساتھ کھانا میرے لئے جائز تھا۔
Takhreej
(۷۱۳۲) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح غیر نُعیم بن قعنب، فقد روی لہ البخاری فی الادب والنسائی، ولم یوثقہ غیر ابن حبان، وروی عنہ ھذا الحدیث ثلاثۃ اختلف علیھم، لکن تشھد لقصۃ المرأۃ کالضلع ولقصۃ صیام ثلاثۃ ایام من الشھر احادیث اخری، أخرجہ مختصرا بالمرفوع منہ فقط النسائی فی الکبری : ۹۱۵۲(انظر: ۲۱۳۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمانداروں میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔
فوائد:… کسی آدمی کے حسن اخلاق کا سب سے زیادہ علم اس کی بیوی کو ہوتا ہے، آج کل لوگ باہر کے دوستوں اور یاروںسے وفا کرنے میں ہی مصروف رہتے ہیں، دوست ایک آدمی کی بڑی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اگر اس کی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اس کے حق میں ایک جملہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتی،یہ اچھے لوگوں کا رویہ نہیں ہے، کسی آدمی کے اخلاق کے اچھایا برا ہونے کی شہادت اس کی بیوی دے گی۔
عملی طور پر بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ شام کا کھانا کھا کر اپنے دوستوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رات ایک دو بجے واپس آتے ہیں، اس وقت بیوی بچے گہری نیند سوچکے ہوتے ہیں، پھر جب صبح کے وقت بیوی بچے اٹھتے ہیں اور بیوی بچوں کو تیار کر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتی ہے تو اس وقت گھر کا سربراہ سویا ہوا ہوتا ہے، یہ راہِ اعتدال سے منحرف رویہ ہے اور اس طرح سے گھر کے افراد کی اچھی تربیت نہیں ہوتی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود پھرتی تھی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔
فوائد:… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو برس میں شادی ہوئی تھی، انھوں نے کل دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے، چونکہ وہ نوعمر تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عمر کے تقاضے پورے کرنے کا موقع دیتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے تھے، کیونکہ وہ بیوہ تھیں۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میرے پاس تین دن تک ٹھہرے اور فرمایا: بیشک اس میں نہ تیرے اہل کی توہین ہے اور نہ تیری حق تلفی ہے،اگر تمہاری مرضی ہے تو میں سات دن پورے کر دیتا ہوں، لیکن پھرمیں اپنی دیگر بیویوں کے ہاں بھی سات سات دن رہوں گا۔ ایک روایت میں ہے: تیری وجہ سے تیرے اہل کی کرامت اور عزت ہے۔ ایک راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام تک ان کے پاس ٹھہرے اور فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں، لیکن پھر اپنی دیگر بیویوں کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا اور اگر تم چاہتی ہو تو میں تیرے لیے تقسیم کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے تقسیم کر دیں۔
Takhreej
(۷۱۳۹) تخریج: ھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد العزیز بن بنت ام سلمۃ، لکن قولہ اِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَاِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِیْ صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۶۹۰۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۵۰۶، وابن حبان: ۲۹۴۹، والحاکم: ۲/ ۱۷۸، والبیھقی: ۷/ ۱۳۱ (انظر: ۲۶۷۲۱)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیوہ تھیں، اس لیے ان کا حق تین دن بنتا تھا، اگر ان کو سات دن دیئے جاتے تو پھر باقی بیویوں کو بھی اتنے دن دینے پڑتے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دنوں کو ترجیح دی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ لوٹنا جلدی ہو، سات دنوں کی صورت میں تو لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔