TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان - میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان - Book 122 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 122 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 7 Chapters
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ یَمِیْلُ لِاِحْدَاھُمَا عَلَی الْأُخْرٰی جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَحَدُ شِقَّیْۃِ سَاقِطٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۹۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔
Takhreej
(۷۱۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۶۹(انظر: ۱۰۰۹۰)
7140
Sahih
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِہِ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ: ((ھٰذِہٖقِسْمَتِیْ، (ثُمَّ یَقُوْلُ) اَللّٰھُمَّ ھٰذَا فِعلِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَـلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
Takhreej
(۷۱۴۱) تخریج: ضعیف، لکن قولہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِۃِ فَیَعْدِلُ صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۴۳، والترمذی: ۱۱۴۰،و ابن ماجہ: ۱۹۷۱(انظر: ۲۵۱۱۱)
Explanation
فوائد:… کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔ عطاء کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جنازہ کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھائو تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متأثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نو (۹) بیویاں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔عطاء کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں۔ فوائد:… جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو درج ذیل امہات المؤمنین زندہ تھیں:
7141
Zaeef
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۲)۔ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَۃَ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھٰذِہٖمَیْمُوْنَۃُ اِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَـلَا تُزَعْزِعُوْھَا وَلَا تُزَلْزِلُوْھَا فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ وَکَانَ یَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَۃٌ لَمْ یَکُنْ لِیَقْسِمَ لَھَا، قَالَ عَطَائٌ: الَّتِیْ لَمْ یَکُنْیَقْسِمُ لَھَا صَفِیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴)
۔ سیدہ عائشہ، سیدہ سودہ، سیدہ حفصہ، سیدہ ام سلمہ، سیدہ زینب بنت حجش، سیدہ صفیہ، سیدہ جویریہ، سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس حرم پاک کی باری مقرر نہیں کرتے تھے، وہ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا نام ذکر کرنا راوی کا وہم ہے۔
Takhreej
(۷۱۴۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۶۷(انظر: )
7142
Sahih
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسَوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَ ھُوَ یَطُوْفُ عَلَیْنَا جَمِیْعًا امْرَأَۃً امْرَأَۃً فَیَدْنُوْا وَیَلْمِسُ مِنْ غَیْرِ مَسِیْسٍ حَتّٰییُفْضِیَ اِلَی الَّتِیْ ھُوَ یَوْمُہَا فَیَبِیْتُ عِنْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۷۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۳۵(انظر: ۲۴۷۶۴)
7143
Zaeef
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدُوْرُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ اِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذَالِکَ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ، أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔
Takhreej
(۷۱۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸(انظر: ۱۴۱۰۹)
7144
Sahih
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
۔ (۷۱۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاشْتَدَّ وَجْعُہُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَہُ أَنْ یُمَرَّضَ فِیْ بَیْتِیْ فَأَذِنَّ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔
Takhreej
(۷۱۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۹۹، ۵۷۱۴ (انظر: ۲۴۸۵۸)
Explanation
فوائد:… جس آدمی نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہوں، اس پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا} (النسائ:۳) اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔ زیادہ بیویوں میں انصاف کرنا اتنا اہم مرحلہ ہے کہ اللہ تعالی برابری نہ کرسکنے کے خوف کی وجہ سے ایک بیوییا لونڈی کا حکم دے رہے ہیں۔ کسی ایک بیوی کی طرف طبعی میلان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
7145
Sahih
ایک بیوی کا اپنا دن اپنی سوکن کو ہبہ کر دینے کا بیان
۔ (۷۱۴۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ فَأَیَّتُہُنَّ خَرَجَ سَہْمُہَا خَرَجَ بِہَا مَعَہُ، وَکَانَ یَقْسِمُ لِکِلِّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ یَوْمَہَا وَلَیْلَتَہَا غَیْرَ أَنَّ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ کَانَتْ وَھَبَتْ یَوْمَہَا وَلَیْلَتَہَا لِعَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبْتَغِیْ بِذَالِکَ رِضَا النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا مقصد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔
Takhreej
(۷۱۴۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۹۳، ۲۶۸۸، وابوداود!: ۲۱۳۸(انظر: ۲۴۸۵۹)
Explanation
فوائد:… جب سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔
7146
Sahih