۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔
Takhreej
(۷۱۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۶۹(انظر: ۱۰۰۹۰)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
فوائد:… کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔
عطاء کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھائو تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو
اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متأثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (۹) بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔عطاء کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ فوائد:… جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو درج ذیل امہات المؤمنین زندہ تھیں:
۔ سیدہ عائشہ، سیدہ سودہ، سیدہ حفصہ، سیدہ ام سلمہ، سیدہ زینب بنت حجش، سیدہ صفیہ، سیدہ جویریہ، سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس حرم پاک کی باری مقرر نہیں کرتے تھے، وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا نام ذکر کرنا راوی کا وہم ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۳۵(انظر: ۲۴۷۶۴)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔
فوائد:… جس آدمی نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہوں، اس پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا} (النسائ:۳) اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔ زیادہ بیویوں میں انصاف کرنا اتنا اہم مرحلہ ہے کہ اللہ تعالی برابری نہ کرسکنے کے خوف کی وجہ سے ایک بیوییا لونڈی کا حکم دے رہے ہیں۔ کسی ایک بیوی کی طرف طبعی میلان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔
فوائد:… جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔