۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ پسند ہے کہ میرا لباس دھلا ہوا ہو، میرے سر میں تیل لگا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو، انھوں نے مزید اشیاء کا بھی ذکر کیا، حتیٰ کہ اپنے کوڑے کے دستے کا بھی تذکرہ کیا، اے اللہ کے رسول! کیا یہ چیزیں تکبر میں شامل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو جمال اور خوبصورتی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
Takhreej
(۸۰۹۶) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لارسالہ، یحیی بن جعدۃ لم یلق ابن مسعود، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۲۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۳۳(انظر: ۳۷۸۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا معنی درست ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایک آدمی نے کہا کہ اگر آدمی یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے کپڑے اور اور جوتے اچھے ہوں تو اس کے جواب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
8096
Sahih