TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان

Chapter 28 of لباس اور زینت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 28 of 37 · 12 Hadith
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ریشم کی ایک پوشاک دی، جو فیروز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِہدیہ دی تھی، میں نے تہبند باندھا تو وہ تو کافی لمبا چوڑا تھا،سو میں نے اسے زمین پر گھسیٹا اور اوپر والی چادر بھی پہن لی اور اس طرح میں نے وجود ڈھانپ لیا ، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا اور فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اٹھا کر رکھو، کیونکہ یہ ٹخنوں سے لے کر زمین تک جتنی مقدار ہے، یہ آگ میں جائے گی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر لباس کو سمیٹ کر رکھنے والا ہو۔
Takhreej
(۸۱۱۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۵۷۱۴ (انظر: ۵۷۱۳)
8111
Sahih
۔
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قبطی چادر دی اور سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دھاری دار ریشمی حلہ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نے چادر ٹخنوں کے نیچے لٹکا رکھی ہے، آپ تشریف لائے، میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! لباس کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کے بعد اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھتے تھے۔
Takhreej
(۸۱۱۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
8112
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے کھینچے گا، اللہ تعالی اس کی طرف نہیںدیکھے گا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر تہبند دیکھا جو کہ زمین پر حرکت کر رہا تھا، نیا ہونے کی وجہ سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبداللہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنا تہبند اوپر اٹھالو۔ پس میں نے ٹخنوں سے اوپر اٹھا لیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اٹھائو۔ پس میں نے اور اٹھا لیا حتیٰ کہ نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، پھر آپ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا لباس زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کبھی کبھی میرا تہبند کچھ لٹک سا جاتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔
Takhreej
(۸۱۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۶۵، ۵۷۸۴(انظر: ۶۳۴۰)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ مسلمان پراپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانا واجب ہے،اسے چاہیے کہ وہ اپنے لباس کو ٹخنوں سے اوپر رکھے، اگرچہ اس کا مقصد تکبر نہ ہو۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا واضح ردّ کیا گیا ہے، جن کے جبّے زمین پر لگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ تکبر کی نیت سے نہیں کر رہے۔
8113
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے تک ہونا چاہیے، یا پھر نصف پنڈلی تک کر لے، نہیں تو ٹخنوں تک، جو اس سے نیچے ہوگا، وہ آگ میں ہے۔
Takhreej
(۸۱۱۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۷۰۹(انظر: ۷۸۵۷)
8114
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے تہبند کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل سے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں ہے کہ وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان درمیان رہے، البتہ ٹخنوں سے نیچے والا جو حصہ تہبند میں آئے گا، وہ آگ میں ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، جو از راہِ تکبر تہبند گھسیٹے گا۔
Takhreej
(۸۱۱۵) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۰۹۳، وابن ماجہ: ۳۵۷۳ (انظر: ۱۱۰۱۰)
8115
Sahih
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے۔ ‘ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹخنوں تک لٹکایا جا سکتا ہے، البتہ اس سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۱۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط (انظر: ۱۳۶۰۵)
8116
Sahih
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کپڑا ٹخنوں کے نیچے لٹکے گا، وہ حصہ آگ میں ہو گا۔
Takhreej
(۸۱۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۳۹۱ (انظر: ۲۶۲۰۴)
8117
Sahih
۔
۔ ابو تمیمہ ہجیمی نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا، اس نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تہبند کے متعلق پوچھا اور کہا: کہاں تک رکھوں؟ آپ نے اپنی پنڈلی کی ہڈی تک تہبند اٹھا کردکھایا اور فرمایا: یہاں تک ازار باندھ لو، اگر تم اس سے انکار کرتے ہو تو اس سے ذرانیچے رکھو، اگر اس سے بھی انکار ہے تو ٹخنوں سے اوپر رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی کے متعلق سوال کیا۔
Takhreej
(۸۱۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۸۶، والطیالسی: ۱۲۰۸(انظر: ۱۵۹۵۵)
8118
Sahih
۔
۔ سیدنا عمرو بن فلاں انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے جا ملے ، اس حال میں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرو! یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔ اے عمرو!۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔
Takhreej
(۸۱۱۹) تخریج: صحیح (انظر: ۱۷۷۸۲)
8119
Sahih
۔
۔ شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو ثقیف کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنا تہبند گھسیٹتا جا رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پیچھے تیزی سے چلے یہاں تک کہ اس کا کپڑا کپڑا اور فرمایا: اپنا تہبند اوپر اٹھا کر رکھ۔ اس آدمی نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا اٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے قدم پڑھے ہیں اور گھٹنے آپس میں ٹکراتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر مخلوق خوبصورت اور اچھی ہے۔ اس کے بعد اس آدمی کو جب بھی دیکھا گیا تو اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا، موت تک ان کی یہی حالت رہی ۔
Takhreej
(۸۱۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطبرانی (انظر: ۱۹۴۷۲)
8120
Sahih
۔
۔ سیدنا عبیدہ بن خلف بیان کرتے ہیں میں مدینہ میں آیا، میں ابھی نوجوان تھا میں نے ایک دھاری دار تہبند باندھ رکھا تھا جوزمین پر کھینچا جا رہا تھا ایک آدمی نے مجھے پا لیا اور مجھے چھڑی لگائی اگر تم یہ کپڑا اوپر اٹھا لو تو تمہارے لئے دیرپابھی ہوگا اور صاف بھی ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے ،میں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ ایک سیاہ و سفید دھاری والی چادر ہے۔ آپ نے فرمایا اگرچہ یہ سیاہ و سفید چادر ہے لیکن کیا تمہارے لئے میرے اندر بہترین اسوہ نہیں؟ میں نے آپ کے تہبند کی طرف دیکھا تو وہ ٹخنوں سے اوپر اور پنڈلی کے پٹھے کے نیچے تھا۔
Takhreej
(۸۱۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سلیمان بن قرم، وجھالۃ عمۃ الاشعث، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۹۰، والترمذی فی الشمائل : ۱۱۳، والنسائی فی الکبری : ۹۶۸۲ (انظر: ۲۳۰۸۷)
8121
Sahih
۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری پنڈلی کے پٹھے کو پکڑ کر کہا یہ تہبند باندھنے کی جگہ ہے اگر تو اس سے انکار کرتا ہے تو اس سے ذرا نیچے کر لو، اور اگر اس سے بھی انکار کرتا ہے تو ٹخنوں کے نیچے تہبند رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
Takhreej
(۸۱۲۲) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۷۲، والترمذی: ۱۷۸۳، والنسائی: ۸/ ۲۰۶ (انظر: ۲۳۲۴۳)
Explanation
فوائد:… قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مزاج کو نظر انداز کر کے ان احادیث کا مطالعہ کریں اور اپنے وضع قطع کے معاملات میں اسلام میں پورا پورا داخل ہو جائیں۔
8122
Sahih

Chapters

37
01
صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا اور مستحب ملبوسات کا بیان
7 Hadith
02
تہبند اور قمیص اور ان سے متعلقہ آداب کا بیان
6 Hadith
03
جوتا پہننے کے آداب کا بیان
8 Hadith
04
پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
5 Hadith
05
نیا کپڑا پہننے والے کی دعا کا بیان
4 Hadith
06
سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان
6 Hadith
07
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
5 Hadith
08
سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
4 Hadith
09
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
15 Hadith
10
سونے اور چاندی کے برتنوں کا مردو زن پر حرام ہونے کا بیان
3 Hadith
11
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب سونے کی انگوٹھی کا بیان
13 Hadith
12
پیتل اور لوہے کی انگوٹھی کی کراہت اور چاندی کی انگوٹھی کے استحباب کا بیان
4 Hadith
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
6 Hadith
14
انگوٹھی کا نقش بنوانے، اس کو دائیں ہاتھ میں پہننے اور اس کو درمیانی انگلی میں پہننے کی کراہت کا بیان
5 Hadith
15
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
16 Hadith
16
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
24 Hadith
17
عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
8 Hadith
18
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
3 Hadith
19
سونے کے ذریعے دانتوں کو باندھنے کا بیان
2 Hadith
20
خارش وغیرہ کی وجہ سے ریشم پہننے کے جواز کا بیان
2 Hadith
21
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
8 Hadith
22
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
23
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
7 Hadith
24
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے ممانعت کا بیان
7 Hadith
25
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
19 Hadith
26
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
27
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
13 Hadith
28
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
12 Hadith
29
عورت کا اپنا دامن لمبا کرنے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
30
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
12 Hadith
31
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
6 Hadith
32
بغیر کسی ضرورت کے عورتوں کے گھروں سے نکلنے کا اور عطر لگا کر نکلنے والی کی وعید کا بیان
3 Hadith
33
خواتین کے لئے مہندی لگانے کے مستحبّ ہونے کا بیان
5 Hadith
34
خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
6 Hadith
35
مردوں کے لئے مکروہ خوشبو کا بیان
7 Hadith
36
عورتوں اورمردوں کی خوشبو کا بیان
2 Hadith
37
سرمہ کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.