۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریںیا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیںیا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
Takhreej
(۸۴۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۹۸ (انظر: ۹۱۹۰)
Explanation
فوائد:… بعض آیات منسوخ ہو چکی تھیں، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کے نسخ کے قائل نہیں تھے، ممکن ہے کہ ان کو نسخ پر دلالت کرنے والی احادیث نہ ملی ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں ایک آیت بھی پیش کر دی کہ قرآن مجید کا بعض حصہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجیدمیںنسخ کی درج ذیل صورتیںہیں: (۱)۔ قراء ت کا منسوخ ہو جانا، لیکن حکم کا باقی رہنا، جیسے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِنْ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ (جب شیخ اور شیخہیعنی شادی شدہ مر دو زن زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے کمال حکمت والا ہے۔ ) (۲)۔ تلاوت کاباقی رہنا، لیکن حکم کا ختم ہو جانا، جیسے {وَعَلَی الَّذِینَیُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} (اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مسکین کا فدیہ دینا) (۳)۔ قرائت اور حکم دونوں کا ختم ہو جانا، جیسے عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ (دس بار دودھ پینا حرام کرتا ہے)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔
Takhreej
(۸۴۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۸۱(انظر: ۲۱۰۸۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سماع کے بعد بھی قرآن مجید کا ایسا حصہ یا حکم نازل ہوا، جس نے ان کی سنی ہوئی چیز کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا علم نہیں تھا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔
Takhreej
(۸۴۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۶۴۷(انظر: ۲۱۱۴۰)
Explanation
فوائد:… اس باب سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہو گئیں تھی، بعض صحابہ کو ان کے نسخ کا علم نہیں تھا، لیکن ہمیشہ علم کو عدم علم پر مقدم سمجھا جاتا ہے، یعنی جس کو زائد چیز کا علم ہے، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔
Takhreej
(۸۴۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضف یزید بن ابی زیاد الکوفی، وعاصم بن بھدلۃ، وان کان صدوقا، تقع لہ اوھام بسبب سوء حفظہ (انظر: ۲۱۲۰۶)
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔)
Takhreej
(۸۴۵۳م) اسنادہ ضعیف، عاصم بن بھدلۃ، وان کان صدوقا، لہ اوھام بسبب سوء حفظہ، فلایحتم تفردہ بمثل ھذا المتن ۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۵۹، والطیالسی: ۵۴۰، وابن حبان: ۴۴۲۸(انظر: ۲۱۲۰۷)
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص رضی اللہ عنہ اورسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکنیوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔
فوائد:… اس منسوخ آیت میں بوڑھے مرد اور عورت کا ذکر اتفاقاً کیا گیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس عمر کے لوگ شادی شدہ ہی ہوتے ہیں، وگرنہ رجم کی سزا اس زانی کے لیے ہے، جو شادی شدہ ہو۔
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔
Takhreej
(۸۴۵۵) اسنادہ ضعیف لتفرّد محمد بن اسحاق، وفی متنہ نکارۃ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۴۴(انظر: ۳۶۳۱۶)
Explanation
فوائد:… رضاعت کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ۔ … اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس بار مقرر شدہ دودھ پینا تھا، جو حرام کر دیتا تھا، پھر ان کو پانچ بار دودھ پینے سے منسوخ کردیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کو قرآن مجید میں پڑھا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۳۴)
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
Takhreej
(۸۴۵۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۷۹۳، ۳۸۹۸(انظر: ۲۱۲۰۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
Takhreej
(۸۴۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل ھشام بن سعد المدنی،یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۳۰۰، والبیھقی فی الشعب : ۱۰۲۷۷(انظر: ۲۱۹۰۶)
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ …بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۴۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۱۱۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پائوں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ پھر دوسرے صحابہ کی گواہی کی وجہ سے ان آیات کو قرآن مجید سے مٹا دیا گیا ہو۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
فوائد:… یہ قراء صحابہ کی ایک جماعت تھی، جن کو سریۂ بئر معونہ میں قتل کر دیا گیا تھا، ان کی تفصیلیہ ہے: سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَ تَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَ نَّہُمْ قَدْأَ سْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَ مَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَ نْصَارِ، قَالَ أَ نَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَ تَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَ حْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا أَ نَسٌ أَ نَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِی حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۰۶۴، ۴۰۸۸، ۴۰۹۰، واللفظ لاحمد)
یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Explanation
فوائد:… آخری جملے میں جن لوگوں سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا آیت میں مذکور یہ لوگ ہیں: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے۔ مسلمانوں کے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ان کی طرف توجہ نہ دھریں۔ مُحْکَمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر و نواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں، جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا، اس کے برعکس مُتَشَابِھَات ہیں، مثلا اللہ تعالی کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ،یعنی ما ورا عقل حقائق، جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لیے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں، جیسے عیسائی ہیں، قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو عبد اللہ اور نبی کہا ہے، یہ واضح اور محکم بات ہے، لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِھات کو بنیاد بناتے ہیں، ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور مُتَشَابِھات کے مفہوم کو بھی محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
Takhreej
(۸۴۶۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۶۴، وابویعلی: ۱۰۸۶، وابن حبان: ۶۹۳۷ (انظر: ۱۱۷۷۳)