TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - Book 145 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 145 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 46 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

46 Hadith · 9 Chapters
۔ (۸۳۴۸)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَاَ بِمِئَۃِ آیَۃٍ فِی لَیْلَۃٍ کُتِبَ لَہٗقُنُوْتُلَیْلَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۳)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ایک رات میں سو آیات پڑھتا ہے، اس کے لیے رات کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۴۸) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۰۵۵۳، والدارمی: ۲۴۵۰ (انظر: ۱۶۹۵۸)
8348
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۸م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام وَہُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْہُمْ عَلٰی حَرْفٍ فَلْیَقْرَأْ کَمَا عَلِمَ وَلَا یَرْجِعْ عَنْہُ، قَالَ أَ بِی: وَقَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِکَ الضَّعِیفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلٰی حَرْفٍ فَلَا یَتَحَوَّلْ مِنْہُ إِلٰی غَیْرِہِ رَغْبَۃً عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔
Takhreej
(۸۴۳۸م) اسنادہ ضعیف، ابراہیم بن مہاجر لیس بذاک القوی، ولم یتابع علیہ بھذا اللفظ (انظر:۲۳۲۷۳)
8348
Sahih
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
۔ (۸۴۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کُنَّا نَتَّقِیْ کَثِیْرًا مِنَ الْکَلَامِ وَالْاِنْبِسَاطِ اِلٰی نِسَائِ نَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَخَافَۃَ اَنْ یَنْزِلَ فِیْنَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَکَلَّمْنَا۔ (مسند احمد: ۵۲۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے زیادہ باتیں کرنے اور زیادہ کھل کر ہنسنے سے گریز کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو تب ہم کھل کر بات کرنے لگے۔
Takhreej
(۸۴۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۸۷ (انظر: ۵۲۸۴)
Explanation
فوائد:… بعض صحابہ کرام کے گھریلو مسائل کی وجہ سے قرآن مجید کے بعض حصے نازل ہوئے، اس لیے دوسرے صحابہ محتاط ہو گئے۔
8432
Sahih
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
۔ (۸۴۳۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَ وَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَ ہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَ خَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّیالْجَھْدُ، ثُمَّّ أَ رْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَ نَا بِقَارِیئٍ، فَأَ خَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَ رْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَ خْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَ بْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَ تَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَ سَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَ خِیْ أَ بِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ،وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَ یِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَ خِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَ خِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَ خْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰ ی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلَی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَ کُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ وَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرُکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَ نْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَ وْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میںپڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کے چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل پر سکون ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
Takhreej
(۸۴۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۵۶، ۶۹۸۲، ومسلم: ۱۶۰،وقولہ: حتی حزن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیما بلغنا حزنا، … الخ۔ انما ھو من بلاغات الزھری (انظر: ۲۵۹۵۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے سورۂ علق کی درج ذیل ابتدائی پانچ آیات نازل ہوئیں: {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَئْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ}صبح کے پھٹنے سے مراد یہ ہے وہ خواب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیداری میں واضح طور پر پورا ہوتا ہوا نظر آتا، خوابوں کا سلسلہ فرشتے اور وحی کے لیے تمہید ہوتا ہے، اس سلسلے کی وجہ سے بشری قوتیں وحی کا بار برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔ وحی کا نزول نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مطالبے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ دیر تک وحی رکی رہی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔ ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحی کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز میں آتی ہے تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالی کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔ آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کم و بیش تین سالوں کے لیے وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھے،جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیاتھی لیکن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجید وصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالی کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کیسیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میں عذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب
8433
Sahih
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
۔ (۸۴۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَاوَرْتُ بِحِرَائَ شَھْرَا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِیْ فَنُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ أَ مَامِیْ وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ أَ رَ أَ حَدًا، ثُمَّّ نُوُدِیْتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَ رَ أَ حَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ عَلَی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ) فَأَ خَذَتْنِیْ وَجْفَۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَأَ تَیْتُ خَدَیْجَۃَ فَقُلْتُ: دَثِّرُوْنِیْ، دَثِّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَائًا فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} (مسند احمد: ۱۴۳۳۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔
Takhreej
(۸۴۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۲۲، ومسلم: ۱۶۱ (انظر: ۱۴۲۸۷)
Explanation
فوائد:… جمہور اہل علم کے نزدیک پہلی وحی {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ } والی آیات ہی ہیں، سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس حدیث سے مراد دوسری وحی ہے، جو فترۂ وحی کے بعد نازل ہوئی تھی، اس حدیث کے درج ذیل سیاق پر غور کریں، حافظ ابن کثیر نے اسی حدیث کے سیاق کو محفوظ قرار دیاہے، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی:
8434
Sahih
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
۔ (۸۴۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَقُولُ: أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَ نَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَتْرَۃً فَبَیْنَا أَ نَا أَ مْشِی سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِی قِبَلَ السَّمَائِ، فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَائَ نِی بِحِرَائٍ، الْآنَ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْہُ فَرَقًا حَتّٰی ہَوَیْتُ إِلَی الْأَ رْضِ، فَجِئْتُ أَ ہْلِی فَقُلْتُ: زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَزَمَّلُونِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}))، قَالَ أَ بُو سَلَمَۃَ: الرُّجْزُ الْأَ وْثَانُ ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۳۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وحی رک گئی، پس ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی،جب میں نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، اب وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں اس کے خوف سے کپکپانے لگا، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھکا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پس انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی، پس اللہ تعالی نے آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی کو چھوڑ دے۔ ابو سلمہ نے کہا: پلیدی سے مراد بت ہیں، اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔
Takhreej
(۸۴۳۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
8434
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۵)۔ عَن أَ بِی بَکْرَۃَ أَ نَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: اِقْرَاِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ) قَالَ مِیکَائِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ، قَالَ: اقْرَأْہُ عَلَی حَرْفَیْنِ، قَالَ مِیکَائِیلُ: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، قَالَ: کُلٌّ شَافٍ کَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَ وْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِکَ تَعَالَ وَأَ قْبِلْ وَہَلُمَّ وَاذْہَبْ وَأَ سْرِعْ وَاعْجَلْ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۸۸)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔
Takhreej
(۸۴۳۵) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ فی آخرہ نحو قولک: تعال، واقبل، وھلم …الخ ، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۲۰۵۱۴)
8435
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، عَلٰی اَیِّ حَرْفٍ قَرَاْتُمْ فَقْدَ اَصَبْتُمْ، فَلَا تَمَارَوْا فِیْہِ فَاِنَّ الْمِرَائَ فِیْہٖ کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۲)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
Takhreej
(۸۴۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۷۸۱۹)
8436
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۷)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ آیَۃً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَہَا (جَائَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَرَأَ رَجَلٌ خِلَافَہَا) فَأَ تَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِی آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((بَلٰی۔))، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ فَقَالَ: ((بَلٰی، کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ، فَضَرَبَ صَدْرِی فَقَالَ: ((یَا أُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ! إِنِّی أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِیلَ لِی: عَلٰی حَرْفٍ أَوْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقُلْتُ: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ: عَلٰی حَرْفَیْنِ أَ وْ ثَلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ، فَقُلْتُ: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، لَیْسَ مِنْہَا إِلَّا شَافٍ کَافٍ إِنْ قُلْتَ: غَفُورًا رَحِیمًا أَ وْ قُلْتَ: سَمِیعًا عَلِیمًا أَ وْ عَلِیمًا سَمِیعًا فَاللّٰہُ کَذٰلِکَ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہٖ: فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ): ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ ذْہِبْ عَنْ أُبَیٍّ الشَّکَّ۔))، فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِی فَرَقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أُبَیُّ إِنَّ مَلَکَیْنِ أَتَیَانِی، فَقَالَ أَ حَدُہُمَا: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، فَقَالَ: اقْرَأْ عَلٰی ثَـلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی أَ رْبَعَۃِ أَحْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی خَمْسَۃِ أَ حْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سِتَّۃٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۶۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایکیادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراء توں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالی تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر ہوگیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اسنے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔
Takhreej
(۸۴۳۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۷۷(انظر: ۲۱۱۴۹)
Explanation
فوائد:… یہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔
8437
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقِیتُ جِبْرِیلَ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقُلْتُ: یَا جِبْرِیلُ! إِنِّی أُرْسِلْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیَّۃٍ، الرَّجُلُ وَالْمَرْأَ ۃُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِیَۃُ وَالشَّیْخُ الْفَانِی الَّذِی لَا یَقْرَأُ کِتَابًا قَطُّ، قَالَ: اِنَّ الْقُرْاٰنَ نَزَلَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۸۴۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۲۹۰۸(انظر: ۲۳۳۸۹)
Explanation
فوائد:… اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو روایتی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔
8438
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۳۹)۔ عَنْ أُبَیٍّ قَالَ: لَقِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِجِبْرِیلَ علیہ السلام : ((إِنِّی بُعِثْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیِّینَ فِیہِمُ الشَّیْخُ الْعَاسِی وَالْعَجُوزَۃُ الْکَبِیرَۃُ وَالْغُلَامُ، قَالَ: فَمُرْہُمْ فَلْیَقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔
Takhreej
(۸۴۳۹) تخریج: صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۴۴(انظر: ۲۱۲۰۴)
8439
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۴۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔
Takhreej
(۸۴۴۰) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۱۷۹)
8440
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۴۱)۔ عَنْ اُمِّ اَیُّوْبَ قَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ اَیُّہَا قَرَاْتِ اَجْزَأَکِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۵)
۔ سیدنا ام ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔
Takhreej
(۸۴۴۱) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الحمیدی: ۳۴۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۵۱۵ (انظر: ۲۷۶۲۳)
8441
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۴۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ اَنَّ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۰۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۸۴۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابن حبان: ۷۴۲، والطبرانی فی الاوسط : ۵۲۴۶(انظر: ۲۱۰۹۱)
8442
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَ قْرَأَ نِی جِبْرِیلُ علیہ السلام عَلَی حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُہُ فَلَمْ أَ زَلْ أَ سْتَزِیدُہُ وَیَزِیدُنِی حَتَّی انْتَہَی إِلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ۔)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَاِنَّمَا ھٰذِہِ الْاَحْرُفِ فِی الْاَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَیْسَیَخْتَلِفُ فِیْ حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: یہ قراء توں کا یہاختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے باریمیں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Takhreej
(۸۴۴۳)ٖتخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۱۹، ۴۹۹۱، ومسلم: ۸۱۹ (انظر: ۲۳۷۵)
8443
Sahih
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
۔ (۸۴۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔))، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ عَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر اتارا گیا ہے، جیسے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھنا۔
Takhreej
(۸۴۴۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۱۰۱ (انظر: ۸۳۹۰)
8444
Sahih
۔ (۸۴۴۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَامِلَۃً بَرَائَۃٌ، وَآخِرُ آیَۃٍ نَزَلَتْ خَاتِمَۃُ سُورَۃِ النِّسَائِ {یَسْتَفْتُونَکَ} إِلٰی آخِرِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۱)
۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کامل سورت جو آخر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی وہ سورۂ براء ت ہے اور سب سے آخرمیں نازل ہونے والی آیت سورۂ نساء کی آخری آیت{یَسْتَفْتُونَکَ…} ہے۔
Takhreej
(۸۴۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۶۴، ۶۷۴۴، ومسلم: ۱۶۱۸ (انظر: ۱۸۶۳۸)
8445
Sahih
۔ (۸۴۴۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ فَإِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ، فَحَرِّمُوہُ وَسَأَ لْتُہَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: الْقُرْآنُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۳)
۔ سیدنا جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انہوںنے مجھ سے کہا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے،لہٰذا اس میں جو حلال پائو، اسے حلال سمجھو اورجس چیز کو اس میں حرام پائو، اسے حرام سمجھو۔ پھر میں نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے بارے میںپوچھا، انھوں نے کہا: آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔
Takhreej
(۸۴۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ مسلم: ۱۲۳۳ بلفظ: فَقُلْتُ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَ نْبِئِینِی عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ أَ لَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلٰی قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ الْقُرْآنَ۔ فی حدیث طویل (انظر: ۲۵۵۴۷)
8446
Sahih
۔ (۸۴۴۷)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آیَۃُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُبِضَ وَلَمْ یُفَسِّرْہَا، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّیبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶)
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سود والی ہے، لیکن ہوا یوں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی تک اس کی تفسیر نہیں کی تھی، پس سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو، اس کوبھی چھوڑ دو۔
Takhreej
(۸۴۴۷) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۷۶(انظر: ۲۴۶)
Explanation
فوائد:… قرآن کے آخر میں نازل ہونے والے حصے کے بارے میں مزید روایات: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخر میں سورۂ توبہ کی آیت {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ …} نازل ہوئی، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۶۲۸)، لیکنیہ حدیث ضعیف ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: آخِرُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} … سب سے آخر میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم: ۵۳۴۹) یہ کل چار پانچ روایات ہیں، ان میں جمع تطبیق کی صورت کیا ہے؟ جبکہ حافظ سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں اس قسم کے کئی آثار ذکر نے کے بعد کہا: ان اقوال کے ساتھ ساتھ اس آیت {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} کا مسئلہ بھی اشکال والا ہے، کیونکہیہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں نازل ہوئی، اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اس سے پہلے تمام فرائض اور احکام کی تکمیل ہو چکی تھی، …، حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ سود، قرض اور کلالہ والی آیت اس کے بعد نازل ہوئیں۔ قاضی ابو بکر نے الانتصار میں کہا: یہ اقوال ہیں، مرفوع احادیث نہیں ہیں، ہر صحابی نے اجتہاد اور ظن غالب کی روشنی میں بات کی ہے (کہ فلاں سورت یا آیت سب سے آخر میںنازل ہوئی)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان اقوال کے قائلین کے مقاصد مختلف ہوں، مثلافلاں مضمون سے متعلقہ سب سے آخری آیتیہ ہے، سب سے آخر میں نازل ہونے والی مکمل سورت فلاں ہے، آیت فلاں ہے۔ واللہ اعلم۔
8447
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
۔ (۸۴۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ علیہ السلام فِی کُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اللَّیْلَۃِ الَّتِییَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ، أَصْبَحَ وَہُوَ أَ جْوَدُ مِنْ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ، لَا یُسْأَ لُ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا أَعْطَاہُ، فَلَمَّا کَانَ فِی الشَّہْرِ الَّذِی ہَلَکَ بَعْدَہُ عَرَضَ عَلَیْہِ عَرْضَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔
Takhreej
(۸۴۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶، ۳۲۲۰، ۳۵۵۴، ومسلم: ۲۳۰۸ (انظر: ۲۰۴۲)
Explanation
فوائد:… رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)
8448
Sahih

Chapters

9
01
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
1 Hadith
02
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
3 Hadith
03
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
11 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
3 Hadith
05
قرآن مجید کے نسخ کا بیان
3 Hadith
06
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
11 Hadith
07
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
08
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
2 Hadith
09
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.