TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Book 14 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 14 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 43 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

43 Hadith · 9 Chapters
پاؤں کو دھونے کی کیفیت
۔ (۶۸۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ وَقَدْوَصَفَ لَہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۹)
سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انھوں نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا ۔ ایک روایت میں ہے: پھر اپنے پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیا۔
Takhreej
(۶۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۱، ومسلم: ۲۳۵ (انظر: ۱۶۴۴۵)
682
Sahih
پاؤں کو دھونے کی کیفیت
۔ (۶۸۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ وَأَبِی الْأَزْہَرِ، أَنَّ مُعَاوِیَۃَ ؓ أَرَاہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وََٖغَسَلَ رِجْلَیْہِ بِغَیْرِ عَدَدٍ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۸۰)
یزید بن ابی مالک اور ابو ازہر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ؓ نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھایا، پھر انھوں نے اعضا کو تین تین مرتبہ ، البتہ پاؤں کو دھوتے وقت تعداد کا خیال نہ رکھا۔
Takhreej
(۶۸۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۵(انظر: ۱۶۸۵۵)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث آگے آ رہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار وضو کیا اور پھر فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔ اگر مذکورہ بالا حدیث میں راوی کی مراد پاؤں کو تین بار سے بھی زیادہ دھونا ہے، تو اس کو کسی ایسی مجبوری پر محمول کیا جائے گا، جس نے تین بار سے زیادہ دھونے کا تقاضا کیا۔
683
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۴)۔عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَۃَؓ اِلٰی مَکَّۃَ، قَالَ: وَکَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِیْ یَحْییٰ التَّیْمِیِّ یُصَلِّیْ بِہَا فَأَدْرَکْنَا عَبْدَالرَّحْمَانِ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ فَأَسَائَ عَبْدُالرَّحْمَانِ الْوُضُوْئَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا عَبْدَالرَّحْمَانِ! أَسْبِـغِ الْوُضُوئَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۷۴۴)
سالم سبلان کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرتے تھے۔ سیدہ، ابو یحییٰ تیمی کے ساتھ جایا کرتی تھیں اور وہ ان کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن ہم نے عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق کو پا لیا، انھوں نے ناقص وضو کیا، سیدہ عائشہؓ نے ان سے کہا: اے عبد الرحمن! وضو مکمل کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۶۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۰ (انظر: ۲۶۲۱۴)
684
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۵)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ آخَرَ)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُالرَّحْمَانِ عِنْدَ عَائِشَۃَؓ فَقَالَتْ: یَا عَبْدَالرَّحْمَانِ! أَسْبِـغِ الْوُضُوئَ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلعَرَاقِیْبِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۲۴)
۔ (دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد الرحمن ؓ نے سیدہ عائشہؓکی موجودگی میں وضو کیا، تو انھوں نے ان سے کہا: اے عبد الرحمن! وضو مکمل طور پر کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایڑیوں کے اوپر والے حصوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۶۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
685
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: رَاٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا یَتَوَضَّؤُوْنَ فَلَمْ یَمَسَّ أَعْقَابَہُمُ الْمَائُ، فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: لِلْعَرَاقِیْبِ) مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۵)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۶۸۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۵۴(انظر: ۱۴۳۹۲)
686
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: رَاٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا یَتَوَضَّؤُونَ وَأَعْقَابُہُمْ تَلُوْحُ فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوْئَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۰۹)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا ، لیکن ان کی ایڑیوں کی خشکی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، پوری طرح وضو کرو۔
Takhreej
(۶۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۱ (انظر: ۶۸۰۹)
687
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۸)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۲۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۵، ومسلم: ۲۴۲ (انظر: ۷۱۲۲)
688
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۸۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُوْنِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۶۲)
سیدنا عبد اللہ بن حارثؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے اور پاؤں کے تلووں کے لیے آگے سے ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۶۸۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۶۲، والبیھقی: ۱/ ۷۰، وابن خزیمۃ: ۱۶۳ (انظر: ۱۷۷۱۰)
689
Sahih
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
۔ (۶۹۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ خُثَیْمٍ الْہِلَالِیِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ رِبْعِیَّۃُ بِنْتُ عَیَاضٍ الْکِلَابِیَّۃُ عَنْ جَدِّہَا عُبَیْدَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْکِلَابِیِّ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَأَسْبَغَ الطُّہُوْرَ، وَکَانَتْ ہِیَ اِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الطُّہُوْرَ حَتّٰی تَرْفَعَ الْخِمَارَ فَتَمْسَحَ رَأْسَہَا۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۴۱)
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مکمل طور پر وضو کرتے تھے۔ اسی بنا پر جب ربعیہ وضو کرتیں تو وہ ہر عضو کو اچھی طرح دھو دھو کر وضو کرتی تھیں، یہاں تک کہ دوپٹہ اٹھا کر سر کا مسح کرتی تھیں۔
Takhreej
(۶۹۰) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین (انظر: ۱۶۷۲۱)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں وضو میں خشک رہ جانے والی ایڑھیاں مراد ہیں، اگر کسی اور عضو کا کوئی حصہ خشک رہ گیا تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا، جیسے کہنیاں اور پاؤں کے تلوے وغیرہ۔ ان احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ وضو کیا جائے، لیکن تین بار سے زیادہ اعضا نہ دھوئے جائیں اور اس سلسلے میں شیطانی وسوسوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
690
Sahih
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
۔ (۶۹۱)۔ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ؓ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَیْہِ بِخِنْصَرِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۷۳)
صحابیِ رسول سیدنا مستورد بن شدادؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب وضو کرتے تو چھنگلی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۹۱) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۸، والترمذی: ۴۰۰ (انظر: ۱۸۰۱۰)
691
Sahih
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
۔ (۶۹۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَوۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ یَعْنِی اسْبَاغَ الْوُضُوئِ، وَکَانَ فِیمَا قَالَ لَہُ: اِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتِیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی تَطْمَئِنَّا) وَاِذَا سَجَدتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۴)
سیدناعبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں:ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سے نماز کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو۔ آپ کی مراد یہ تھی کہ وضو مکمل طور پر کیا جائے۔ مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر (رکوع کی حالت میں) مطمئن ہو جا اور جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کو اچھی طرح زمین پر رکھ، حتی کہ تو زمین کی ضخامت پائے۔
Takhreej
(۶۹۲) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۴۷، والترمذی: ۳۹(انظر: ۲۶۰۴)(۶۹۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۳، وابن ماجہ: ۶۶۵ (انظر: ۱۲۴۸۷)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ دورانِ سجدہ پیشانی کا زمین پر زور آنا چاہیے اور وہ اس طرح ممکن ہو گا کہ سنت کے مطابق بازوؤں کو پہلوؤں سے اچھی طرح جدا کیا جائے، تاکہ ناک اور پیشانی زمین پر اچھی طرح ٹک سکیں۔ ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کا خلال کیا جائے، تاکہ ان کا اندرونی حصہ خشک نہ رہ جائے۔
692
Sahih
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۶۹۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَکَ عَلٰی قَدَمِہِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۱۵)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔
693
Sahih
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۶۹۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ، فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: (( اِرْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۶۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۳ (انظر: ۱۳۴)
694
Sahih
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۶۹۵)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ وَفِیْ ظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ قَدْرُ الدِّرْہَمِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُعِیْدَ الْوُضُوئَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۶)
خالد بن معدان ایک صحابیِ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔
Takhreej
(۶۹۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۵ (انظر: ۱۵۴۹۵)
Explanation
فوائد:… وضو میں موالاۃ ضروری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو لگاتار اور پے در پے دھویا جائے۔ اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جب آدمی وضو سے فارغ ہو تو اس کے سارے اعضا گیلے ہونے چاہئیں، یہ درست نہیں ہے کہ بیچ میں اتنا وقفہ ڈال دیا جائے کہ جب آدمی پاؤں دھونے سے فارغ ہو تو اس کا چہرہ خشک ہو چکا ہو۔ مذکورہ بالا احادیث کی یہی فقہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس بنا پر دیا کہ متعلقہ صحابی کے اعضا خشک ہو چکے تھے۔ اگر بندے کو اس حال میں کسی عضو کے خشک رہ جانے کا پتہ چلے کہ سارے اعضائے وضو ابھی تک تر ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً خشک جگہ کو تر کر دے، ایسی صورت میں دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درج ذیل دو احادیث سے بھی اس اجتہاد کا استدلال کرنا ممکن ہے: (۱)غسل جنابت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا غسل کے آخر میں پاؤں دھو کر وضو مکمل کرنا اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
695
Sahih
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۶۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ رَوْحِ نِ الْکَلَاعِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّوْمِ فَتَرَدَّدَ فِیْ آیَۃٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّہُ یُلَبَّسُ عَلَیْنَا الْقُرآنُ، اِنَّ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا لَا یُحْسِنُوْنَ الْوُضُوئَ، فَمَنْ شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا فَلْیُحْسِنِ الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۹)
سیدنا ابو روح کلاعی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تردّد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہٰذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔
Takhreej
(۶۹۶) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۵۶(انظر: ۱۵۸۷۴)
696
Sahih
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۶۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔وَفِیْہِ: ((اِنَّمَا لَبَّسَ عَلَیْنَا الشَّیْطَانُ الْقِرَائَ ۃَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ یَأتُونَ الصَّلٰوۃَ بِغَیْرِ وُضُوئٍ، فَاِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: شیطان اس وجہ سے ہم پر قراء ت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔
Takhreej
(۶۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… چونکہ عہد ِ نبوی میں پانی کی بہت کمی تھی، اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جانا ممکن تھا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے بعض مقتدیوں کی اس سستی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس سے ان لوگوں کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لے لینا چاہیے، جن کے آگے پیچھے برے لوگ بسیرا کرتے ہیں اور وہ ہر وقت گپوں اور اول فول بکنے میں مصروف رہتے ہیں، اگر کسی کا مقصد ایمان کی سلامتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بدوں سے دور ہو جائے اور نیکوں کے قریب ہو جائے۔
697
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۹۸)۔عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّہُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کُلَّ عُضْوٍ مِنْہُ غَسْلَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند أحمد: ۳۱۱۳)
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور پھر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۶۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷ (انظر: ۳۱۱۳)
698
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۹۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّۃً مَرَّۃً۔ (مسند أحمد: ۳۰۷۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا۔
Takhreej
(۶۹۹) تخریج: انظر الحدیث السابق
699
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۰)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹)
سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایک اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۷۰۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۲ (انظر: ۱۴۹)
700
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۱)۔ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَتَوَضَّأُ مَرَّۃً یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۳۵۲۶)
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ وضو کرتے اور اس عمل کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۰۱) تخریج: حدیث ابن عمر صحیح موقوفا و ضعیف مرفوعا۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۴، والنسائی: ۱/ ۶۲۔ حدیث ابن عباس أخرجہ البخاری: ۱۵۷ (انظر: ۳۵۲۶)
701
Sahih