TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Book 14 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 14 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 43 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

43 Hadith · 9 Chapters
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۲)۔عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ حَدَّثَنِی الْقَیْسِیُّ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَبَالَ فَأُتِیَ بِمَائٍ فَہَالَ عَلٰی یَدِہِ مِنَ الْاِنَائِ فَغَسَلَہَا مَرَّۃً وَعَلٰی وَجْہِہِ مَرَّۃً وَعَلٰی ذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا، وَقَالَ فِی حَدِیْثِہِ: اِلْتَفَّ اِصْبَعَہُ الْاِبْہَام۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۰۶)
سیدنا قیسی ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پانی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کوایک دفعہ دھویا، چہرے کو ایک مرتبہ دھویا، بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے ایک ایک بار دھویا۔ انھوں نے اپنی حدیث میں کہا: انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔
Takhreej
(۷۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمارۃ بن عثمان بن حنیف۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۷۹ (انظر: ۲۳۱۱۸)
702
Zaeef
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۷۸)
سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری مازنیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضائے مبارک کو دو دو دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
Takhreej
(۷۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۸ (انظر: ۱۶۴۶۴)
703
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۸۶۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۷۰۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۶، والترمذی: ۴۳(انظر: ۷۸۷۷)
704
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد:۴۰۳)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
Takhreej
(۷۰۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۰(انظر: ۴۰۳)
705
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۷۰)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔
Takhreej
(۷۰۶) تخریج: صحیح لغیر ہ۔ أخرجہ ابویعلی فی مسندہ الکبیر ، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۹، والطبرانی فی الکبیر : ۷۹۹۰ (انظر: ۲۲۲۱۷)
706
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَۃً فَتِلْکَ وَظِیْفَۃُ الْوُضُوئِ الَّتِی لَا بُدَّ مِنْہَا، وَمَن تَوَضَّأَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُ کِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَالِکَ وُضُوئِیْ وَوُضُوئُ الْأَنْبِیَائِ قَبْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۳۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔
Takhreej
(۷۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی اسرائیل و زید العمی۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۸۱ (انظر: ۵۷۳۵)
707
Zaeef
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۸)۔عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ عُثْمَانَ ؓ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَعِنْدَہُ رِجَالٌ مِن أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَلَیْسَ ہٰکَذَا رَأَیْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۴۰۴)
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے مقاعد میں تین تین دفعہ وضو کیا، آپ کے پاس صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۷۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۰(انظر: ۴۰۴)
708
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۹)۔عَنْ عَبْدِخَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۹۱۹)
عبد ِ خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۰۹) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۹، والدارمی: ۷۰۲ (انظر: ۹۱۹)
709
Sahih
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَأَرَاہُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ((ھٰذَا الْوُضُوئُ، فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدَّی وَظَلَمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔
Takhreej
(۷۱۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۵، وابن ماجہ: ۴۲۲، والنسائی: ۱/ ۸۸ (انظر: ۶۶۸۴)
Explanation
فوائد:… اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک یا دو دو یا تین تین بار دھویا جا سکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک ہی وضو میں بعض اعضاء کو ایک بار، بعض کو دو بار اور بعض کو تین بار دھو لیا جائے، تین دفعہ سے آگے بڑھنا درست نہیں ہے۔
710
Sahih
وضو کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں
۔ (۷۱۱)۔عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ رَفَعَ نَظْرَہُ اِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَائَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱)
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا پڑھی: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے، جس میں سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۷۱۱) تخریج: صحیح لغیرہ وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابن عم ابی عقیل۔ أخرجہ مسلم: ۲۳۴، وابوداود: ۱۷۰، والدارمی: ۷۱۶، وابویعلی: ۱۸۰، ۲۴۹ (انظر: ۱۲۱)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم ثم رفع نظرہ الی السماء کے الفاظ نہیں ہیں، مزید تحقیق کریں۔ جامع ترمذی میں پوری دعا یوں ہے: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کہ کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ تعالی، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں میں سے بنا۔
711
Sahih
وضو کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں
۔ (۷۱۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، فُتِحَتْ لَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ ثَلَاثَۃُ أَبْوَابٍ مِن أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۲۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر یہ دعا پڑھی: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ تو اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے تین دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس میں سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۷۱۲) تخریج: صحیح دون قولہ ثلاث مرات وھذا اسناد ضعیف من اجل زید العمی، فانہ ضعیف، قالہ الالبانی، انظر: سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۴۵۷۸۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۶۹، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۴۴، ۱۰/ ۴۵۱ (انظر: ۱۳۷۹۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور پھر یہ دعا پڑھی: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔) تو اس عمل کو ایک کاغذ میں لکھ کر اس پر مہر لگادی جائے گی اور اس کو قیامت کے دن تک نہیں توڑا جائے گا۔ (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی: ۸۱، مستدرک حاکم: ۱/ ۵۶۴، صحیحہ: ۲۳۳۳)وضو کے بعد تمام دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
712
Sahih
وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا بیان
۔ (۷۱۳)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، أَنَّ جِبْرِیْلَؑ أَتَاہُ فِیْ أَوَّلِ مَا أُوحِیَ اِلَیْہِ فَعَلَّمَہُ الْوُضُوئَ وَالصَّلاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوئِ أَخَذَ غُرْفَۃً مِن مَّائٍ فَنَضَحَ بِہَا فَرْجَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۱۹)
سیدنا زید بن حارثہؓ سے مروی ہے کہ ابتدائے وحی والے زمانے میں جبریلؑ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلّو لیا اور اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔
Takhreej
(۷۱۳) تخریج: قال الالبانی: صحیح (السلسلۃ الصحیحۃ: ۸۴۱)۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۶۲ (انظر: ۱۷۴۸۰)
713
Sahih
وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا بیان
۔ (۷۱۴)۔عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ جِبْرِیْلَؑ لَمَّا نَزَلَ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَّمَہُ الْوُضُوئَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِہِ أَخَذَ حَفْنَۃً مِن مَائٍ فَرَشَّ بِہَا نَحْوَ الْفَرْجِ، قَالَ: فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرُشُّ بَعْدَ وُضُوئِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۱۴)
سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر اترے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو وضو کی تعلیم دی اور جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلّو پانی کا لے کر اس کو شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی وضو کے بعد اس طرح پانی چھڑکا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۱۱۱(انظر: ۲۱۷۷۱)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کے مزید شواہد بھی موجود ہیں، حدیث نمبر (۵۴۸)میں بھی یہ مسئلہ گزر چکا ہے، ان احادیث کا خلاصہ اور تقاضا یہ ہے کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دیا جائے۔
714
Zaeef
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Takhreej
(۷۱۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸(انظر: ۲۱۹۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا واجب تھا، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امت کا شروع سے ایک ہی حکم تھاکہ ایک وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھی جا سکتی تھیں، بہرحال نیا وضو کر لینا فضیلت والا عمل ہے۔
715
Sahih
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۱۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنْتُمْ کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ۔ (مسند أحمد:۱۲۳۷۱)
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ میں (عمرو بن عامر) نے کہا: اور تم صحابہ لوگ کیسے کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب تک ہم بے وضو نہ ہوجاتے تھے، اس وقت تک ایک ہی وضو سے نمازیں پڑھتے رہتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۴ (انظر: ۱۲۳۴۶)
716
Sahih
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۱۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ یَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اِنَّکَ صَنَعْتَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ؟ قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۵۴)
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ والے دن ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں ادا کیں، سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کہا: آج آپ نے ایسا عمل کیا ہے جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔
Takhreej
(۷۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۷(انظر: ۲۲۹۶۶)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ سے پہلے غزوۂ خیبر کے موقع پر بھی ایک وضو سے ایک سے زائد فرضی نمازیں ادا کی تھیں، سیدنا سوید بن نعمان ؓنے یہ حدیث بیان کی، ممکن ہے کہ سیدنا عمرؓ کو اس صورت کا علم نہ ہو سکا ہو۔
717
Sahih
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۱۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَؓأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَہُ بِکُوْزٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا یَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَائٌ تَوَضَّأْ بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَالِکَ کَانَتْ سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۵۰)
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
Takhreej
(۷۱۸) اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن یحییٰ الضبی۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲،وابن ماجہ: ۳۲۷ (انظر: ۲۴۶۴۳)
Explanation
فوائد:… لیکن یہ بات درست ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر وقت باوضو رہنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے خارج ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کھانا پیش کر دیا گیا، لوگوں نے کہا کہ کیا ہم وضو کا پانی لے آئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِنَّمَا اُمِرْتُ بِالْوُضُوْئِ اِذَا قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) … مجھے صرف وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نماز ادا کرنے لگوں۔
718
Zaeef
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۱۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا فِیْ رِوَایَۃٍ أُخْرٰی، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ تَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۷۶)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۴ (انظر: ۲۵۵۶۱)
719
Sahih
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
۔ (۷۲۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِی لَأَمَرْتُہُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوئٍ وَمَعَ کُلِّ وُضُوئٍ بِسِوَاکٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الآخِرَۃَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے، ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دے دیتا۔
Takhreej
(۷۲۰) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الترمذی بذکر السواک فقط: ۲۲(انظر: ۷۵۱۳)
Explanation
فوائد:… ہمارے حق میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، البتہ باوضو ہونے کے باوجود ہر نماز کے لیے از سرِ نو وضو کر لینا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے، نیا وضو کرنے سے نماز کے حسن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
720
Sahih
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۷۲۱)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: حَفِظْتُ لَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۷۷)
ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تیرے لیے یہ بات یاد رکھی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسجد میں وضو کیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ مسدد فی مسندہ (انظر: ۲۳۰۸۹)
Explanation
فوائد:… جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو سیدہ عائشہ ؓکی طرف اپنے سر مبارک کو جھکاتے اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا سر دھوتیں اور کنگھی کرتیں تھیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسجد میں ہی ہوتے تھے، یہ حدیث آ گے آ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسی طرح ہی وضو کر لیا، بہرحال وضو کرنے والے کے اعضاء سے گرنے والا پانی پاک ہوتا ہے۔
721
Sahih