TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10037 - تعریف کی ناجائز صورتیں - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
10037
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۰۳۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۲۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۰۶ (انظر: ۲۰۳۴۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔

Related Chapters

64
1
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Praise For The Deceased
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Praising For Good
باب: احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Praising Others Is Disliked,And Those Who Praise Others
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
9
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
10
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
11
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
12
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
13
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
14
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
16
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
18
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
20
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
22
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
23
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
24
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
25
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
Musnad Ahmad
26
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
27
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
28
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
Musnad Ahmad
30
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
31
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
Musnad Ahmad
32
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
33
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
Sahih Bukhari
34
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
Sahih Bukhari
35
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
Sahih Bukhari
36
(17) CHAPTER. What is hated of exaggeration in praising, and one should say only what he knows.
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے جو جانتا ہو بس وہی کہے
Sahih Bukhari
37
(17) CHAPTER. Al-Mukatab (i.e., the slave who is given the writing of emancipation for a certain sum) and about the invalidity of those conditions which contradict Allah's Laws.
مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
38
(3) CHAPTER. To provide one's family with food sufficient for one year in advance. And how one should spend on his dependants.
مرد کا اپنی بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرناجائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان ۔
Sahih Bukhari
39
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
Sahih Bukhari
40
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
Sahih Bukhari
41
Chapter: Clarifying the types of Ihram; and that it is permissible to perfom Hajj that is Ifrad, Tamattu and Qiran. It is permissible to join Hajj to Umrah. And when the pilgrim who is performing Qiran should exit Ihram
احرام کی مختلف صورتیں ‘حج افراد تمتع اور قران ‘نیز عمرے (کے احرام )میں ‘احرام حج کو شامل کر لینے کا جواز ‘اور (یہ کہ)حج قران کرنے والا کب احرام کھولے
Sahih Muslim
42
Chapter: The permissibility of eating Rabbit
خرگوش کھاناجائز ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: If A Righteous Man Is Praised, It Is Glad Tidings For Him And Will Not Harm Him
جب کسی نیک آدمی کی تعریف کی جائے تو یہ اس کے لیے بشارت ہے اور اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prohibition Of Praising if It Involves Exaggeration And There Is The Fear That It May Be A Source Of Temptation (Fitnah) For The One Who Is Praised
تعریف کرنے کی ممانعت جبکہ اس میں مبالغہ ہو اور ممدوح کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو
Sahih Muslim
46
CHAPTER: The Places In Which Prayer Is Not Allowed.
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding Woman Giving Without Her Husband’s Permission.
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی کو کچھ دے دینا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding the Judges judge when he is mistaken.
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

197
Musnad Ahmad
319
۔ (۳۱۹)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ لَبِیْدٍؓ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا فَقَالَ: ((وَذَاکَ عِنْدَ أَوَانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَ نَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَائُ نَا أَبْنَائَ ہُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا ابْنَ أُمِّ لَبِیْدٍ، اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، أَوَ لَیْسَ ہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَنْتَفِعُوْنَ مِمَّا فِیْہِمَا بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۶۱۲)
سیدنا زیاد بن لبید ؓ کہتے ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کی اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے،لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔
Musnad Ahmad
322
۔ (۳۲۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلَی زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ (ؓ) فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ قَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: لقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وسَمِعْتَ حَدِیْثَہَ وَغَزَوْتَ مَعَہُ وَصَلَّیْتَ مَعَہُ، لقَدْ رَأَیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، حَدِّثْنَا یَا زَیْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! وَاللّٰہِ! لقَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ وَقَدُمَ عَہْدِیْ وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ أَعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَـلَا تُکَلِّفُوْنِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا خَطِیْبًا فِیْنَا بِمَائٍ یُدْعٰی خُمًّا، یَعْنِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! أَ لَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِیَنِیْ رَسُوْلُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَأُجِیْبَ، وَاِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ، أَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فِیْہِ الْہُدٰی وَالنُّوْرُ، فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ۔)) فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ، قَالَ: ((وَأَھْلُ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ۔)) فَقَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: وَمَنْ أَھْلُ بَیْتِہِ یَا زَیْدُ؟ أَلَیْسَ نِسَائُ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ؟ قَالَ: اِنَّ نِسَائَ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ وَلَکِنَّ أَھْلَ بَیْتِہِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہُ، قَالَ: وَمَنْ ہُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِیٍّ وَ آلُ جَعَفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَکُلُّ ہٰؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۷۹)
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
1485
۔ (۱۴۸۵) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدٍ صَاحِبِ سُلَیْمَانَ قَالَ رَأَیْتُ عَطَائَ بْنَ یَزِیْدَ اللَّیْثِیَّ قَائِمًا یُصَلِّیْ مُعْتَمًّا بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ مُرْخٍ طَرَفَہَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرَّ اللَّحْیَۃِ، فَذْھَبْتُ أَمُرُّ بَیْنَیَدَیْہِ فَرَدَّنِیْ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَعْیِدٍنِ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہٗفَقَرَأَفَالْتَبَسَتْعَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأَیْتُمُوْنِیْ وَإِبْلیِسَ فَأَھْوَیْتُ بِیَدِیْ فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُہٗحَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إِصَبَعَیَّ ھَاتَیْنِ، الإِْ بِہْاَمِ وَالَّتِیْ تَلیِْہَا وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أَخِیْ سُلَیْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانَ الْمَدِیْنَۃِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ لَّایَحُولَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أَحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۰۲)
سلیمان کے ساتھی ابو عبید کہتے ہیں: میں نے عطا بن یزید لیثی کودیکھا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ کر اس کا کنارہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا اور داڑھی کو زرد کر رکھا تھا، میں ان کے آگے سے گزرنے لگا لیکن انہوںنے مجھے روک دیا، پھر کہا: مجھے سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، وہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں تھے، آپ نے قراء ـت کی لیکن قراء ت آپ پر خلط ملط ہونے لگی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کاش تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے، میں نے اپنا ہاتھ جھکایا (اور اسے پکڑ لیا پھر) اس کا گلا گھونٹتا رہا حتی کہ مجھے اس کے لعاب کی ٹھنڈک ان دونوںانگلیوںیعنی انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی کے درمیان محسوس ہوئی،اور اگر میر ے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستون کے باندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ اس لیے تم سے جوشخص یہ طاقت رکھتا ہے کہ (اس کی نماز کے دوران) کوئی اس کے اور قبلہ کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا ہی کرے۔
Musnad Ahmad
1518
۔ (۱۵۱۸) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَمَعَ قَوْمَہُ فَقَالَ: یَامَعْشَرَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ! اجْتَمِعُوْا وَاجْمَعُوْا نِسَائَ کُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ أُعَلِّمُکُمْ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلَّتِیْ کَانَ یُصَلِّیْ لَنَا بِالْمَدِیْنَۃِ، فَاجْتَمَعُوْا وَجَمَعُوْا نِسَائَ ھُمْ وَأَبْنَائَ ھُمْ فَتَوَضَّأَ وَأَرَاھُمْ کَیْفَیَتَوَضَّأُ فَأَحْصَی الْوَضُوئَ إِلَی أَمَاکِنِہِ حَتّٰی لَمَّا أَنْ فَائَ الْفَیْئُ وَانْکَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ فَصَفَّ الرِّجَالَ فِی أَدْنَی الصَّفِّ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَہُمْ، وَصَفَّ النِّسَائَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ فَکَبَّرَ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍیُسِرُّھَا، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَاسْتَوٰی قَائِمًا، ثُمَّ کَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ کَبَّرَ فَانْتَہَضَ قَائِمًا، فَکَانَ تَکْبِیْرُہُ فِی أَوَّلَ رَکْعَۃٍ سِتَّ تَکْبِیْرَاتٍ وَکَبَّرَحَیْنَ قَامَ إِلَی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ أَقْبَلَ إِلٰی قَوْمِہِ بِوَجْہِہِ فَقَالَ اِحْفَظُوْا تَکْبِیْرِی، وَتَعَلَّمُوا رُکُوْعِیْ وَسُجُودِیْ، فَإِنَّہَا صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلَّتِیْ کَانَیُصَلِّیْ لَنَا کَذَا السَّاعَۃَ مِنَ النَّہَارِ ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَضَی صَلَاتَہُ أَقْبَلَ إِلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ اِسْمَعُوْا وَاعْقِلُوْا وَاعْلَمُوْا أَنَّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عِبَادًا لَیْسُوْا بِأَنْبِیَائَ وَلَاشُہَدَائَ، یَغْبِطُہُمْ الْأَنْبِیَائُ وَالشُّہَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِہِمْ وَقُرْبِہِمْ مِنَ اللّٰہِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِیَۃِ النَّاسِ وَأَلْوٰی بِیَدِہِ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! نَاسٌ مِنَ النَّاسِ لَیْسُوا بِأَنْبِیَائَ وَلَا شُہَدَائَ یَغْبِطُہُمُ الْأَنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِہِمْ وَقُرْبِہِمْ مِنَ اللّٰہِ، اِنْعَتْہُمْ لَنَا یَعْنِیْ صِفْہُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِیِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَائِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَیْنَھُمْ أَرْحَامٌ مُتَـقَارِبَۃٌ، تَحَابُّوْا فِیْ اللّٰہِ وَتَصَافُوْا، یَضَعُ اللّٰہُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مَنْ نُورٍ فَیُجْلِسُہُمْ عَلَیْہَا، فَیَجْعَلُ وُجُوُھَہُمْ نُورًاوَثِیَابَہُمْ نُورًا، یَفْزَعُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَفْزَعُونَ، وَھُمْ أَوْلِیَائُ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا یَحْزَنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۴)
عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور کہا: اشعریوں کی جماعت! خود بھی جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلو، میں تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ نماز سکھاتا ہوں جو آپ ہمیں مدینہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ پس وہ جمع ہوگئے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلیا۔ سیّدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وضوکیا اور انہیں دکھایا آپ کیسے وضو کرتے تھے، انھوں نے اعضائے وضو تک وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا۔ پھر جب سایہ( مغرب سے مشرق کی طرف) لوٹ آیا اور سایہ مائل ہوگیا تو انھوں نے کھڑے ہوکر (ظہر کی) اذان دی، پھر سب سے آگے مردوں کی صف بنائی،ان کے پیچھے بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی ، پھر اقامت کہہ کر آگے کھڑے ہوگئے، رفع الیدین کیا اور تکبیر کہی پھر سورۂ فاتحہ اور مزید ایک سورت کی سرّاً تلاوت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا، تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور کھڑے ہو کر سیدھے ہوگئے، پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور (سجدے سے) سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا ، پھر تکبیر کہی اور اٹھ کھڑے ہوئے، پہلی رکعت میں ان کی کل چھ تکبیریں ہو گئیں، جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو تکبیر کہی تھی ، جب انھوں نے اپنی نماز پوری کرلی تو اپنی قوم کے طرف منہ کرکے کہا: میری تکبیریںیاد کرلو، اور یہ رکوع و سجود بھی سمجھ لو،کیونکہیہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اسی وقت پڑھایا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نماز پوری کی تھی تو اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرکے فرمایا تھا: لوگو! سنو ،سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بندے، جو نہ نبی ہیں نہ شہید، لیکن ان کے مقام او راللہ کے قریب ہونے کہ وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ دور والے لوگوں سے ایک بدو آیا اور اپنے ہاتھ سے اللہ کے نبی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں سے کچھ لوگ، جو نبی ہیںنہ شہید،لیکن ان کے مقام او ر اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے، ہمیں ان کے اوصاف تو بتائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اعرابی کے سوال کی وجہ سے خوش ہوگیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ غیر معروف اور قبیلوں سے نکلے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی قریبی رشتہ داریاں نہیں ہیں، لیکن وہ صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے حق میں صاف ہیں، قیامت کے دن اللہ ان کے لیے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا اور ان چہروں اور کپڑوں کو نور بنادے گا، قیامت کے دن لوگ گھبرائیں گے، لیکنیہ نہیں گھبرائیں گے ، بلکہ یہ اللہ کے وہ ولی ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ پریشان ہوں گے۔
Musnad Ahmad
1610
۔ (۱۶۱۰) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ رَجُلاً (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاصَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فُلَانٍ، الإِْمَامِ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ: فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُطِیْلُ الْأُوْلَیَیْنِ (وَفیِ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ) مِنَ الظُّہْرِ وَیُخَفِّفُ الْأُخْرَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَیَقْرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفْصَّلِ، وَیَقَرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الْغَدَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفْصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاکُ وَحَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلَاۃً بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا الْفَتٰییَعْنِیْ عُمَرَبْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، قَالَ الضَّحَّاکُ فَصَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَکَانَ یَصْنَعُ مِثْلَ مَاقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے ایکآدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔
Musnad Ahmad
1939
۔ (۱۹۳۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ یَہْوِی بِیَدِہِ قَالَ خَلَفٌ یَہْوِی فِی الصَّلاَۃِ قُدَّامَہُ، فَسَأَلَہُ الْقَوْمُ حِیْنَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ ھُوَ کَانَ یُلْقِیْ عَلَیَّ شَرَرَ النَّارِ لِیَفْتِنَنِی عَنْ صَلاَۃٍ، فَتَنَاوَلْتُہُ فَلَوْ أَخَذْتُہُ مَا انْفَلَتَ مِنِّیْ حَتّٰییُنَاطَ إِلٰی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَنْظُرُ إِلَیْہِ وِلْدَانُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۱۲)
سیدناجابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، (عبدالرزاق اور خلف دونوں راویوں کے الفاظ کا اکٹھا مفہوم یہ ہے کہ) آپ نماز میں ہی اپنے سامنے اپنا ہاتھ جھکانے لگ گئے یا خود جھکنے لگ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں نے ایسا کرنے کے بارے میںپوچھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان مجھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا تاکہ مجھے میری نماز سے فتنے میں ڈال دے تو مجھے اسے پکڑنے کا خیال آیا اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے نہ چھوٹ پاتا اور اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہکے بچے اس کی طرف دیکھتے۔
Musnad Ahmad
2375
۔ (۲۳۷۵) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ اِلَیْہِ فَتًی مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَہُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَشَہِدْتُ مَعَہُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ، وَاعْتَمْرَتُ مَعَہُ ثَـلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَجَّاتٍ فَلَمْ یُصَلِّیَا اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۲)
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
2512
۔ (۲۵۱۲) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی کَثْرۃِ خُطَا الرَّجُلِ اِلَی الْمَسْجِدِ شَیْئًا؟ فَقَالَ: ھَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((لَا تُعْرُوْا الْمَدِیْنَۃَ، فَاِنْ لَکُمْ فَضِیْلَۃً عَلٰی مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِکُلِّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۶۶)
ابوزبیرکہتے ہیں: میں نے سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے والے آدمی کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے خود مسجد کے قرب کی خاطراپنے گھروں سے مدینہ میں منتقل ہونا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ڈانٹا اور فرمایا: مدینہ (کی اطراف) کو خالی نہ چھوڑو، بے شک مسجد کے پاس رہنے والوں کی بہ نسبت ہر ایک قدم کے بدلے تمہارے لیے ایک ایک درجہ کی فضیلت ہے۔
Musnad Ahmad
2515
۔ (۲۵۱۵) عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِیْنَۃِ لَاأَعْلَمُ رَجُلًا کَانَ أَبْعَدَ مِنْہُ مَنْزِلًا أَوْ قَالَ: دَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: فَکَانَ یَحْضُرُا الصَّلَوَاتِ کُلَّہُنَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَقِیْلَ لَہُ: لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا فَرَکِبْتَہُ فِی الرَّمْضَائِ وَالظُّلُمَاتِ؟ فَقَالَ: مَا یَسُرُّنِیْ أَنَّ دَارِی أَوْ قَالَ مَنْزِلِی اِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِیَ الْحَدِیْثُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ مَا یَسُرُّنِی أَنْ مَنْزِلِی أَوْ قَالَ دَارِی اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ؟)) قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ یُکْتَبَ اِقْبَالِی اِذَا أَقْبَلْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَرُجُوْعِی اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی أَھْلِی۔ قَالَ: ((أَعْطَاکَ اللّٰہُ ذٰلِکَ کُلَّہُ، أَوْ أَنْطَاکَ اللّٰہُ مَا اِحْتَسَبْتَ أَجْمَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۳۳)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مدینہ میں ایک آدمی تھا، میرے علم کے مطابق اس کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دور تھا، لیکن وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تمام نمازوں میں حاضر ہوتا تھا، اس سے کسی نے کہا: اگر تم گدھا خرید لو اور سخت گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کرو؟ لیکن اس نے کہا: میں تو اس چیز پر خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔ جب یہ ساری بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: یہ تو نے کہا کہ میں تو اس چیز پر بھی خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، اس سے تیری مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میرا مقصد یہ ہے کہ جب میں مسجد کی طرف آؤں تو میرا آنا اور جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو میرا واپس جانا لکھا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ سارا کچھ تجھے عطا کر دیا۔ یہ فرمایا: تجھے جس ثواب کی امید تھی، اللہ تعالیٰ نے وہ سارا تجھے عطا کر دیا ۔