TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10038 - تعریف کی ناجائز صورتیں - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 8 in this chapter
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یُثْنِیْ عَلَی رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِیْ الْمِدْحَۃِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اَھْلَکْـتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَھْرَ الرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۲۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔
10038
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۰۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۳، ۶۰۶۰، ومسلم: ۳۰۰۱ (انظر: ۱۹۶۹۲)

Related Chapters

64
1
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Praise For The Deceased
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Praising For Good
باب: احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Praising Others Is Disliked,And Those Who Praise Others
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
9
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
10
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
11
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
12
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
13
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
14
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
16
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
18
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
20
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
22
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
23
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
24
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
25
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
Musnad Ahmad
26
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
27
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
28
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
Musnad Ahmad
30
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
31
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
Musnad Ahmad
32
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
33
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
Sahih Bukhari
34
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
Sahih Bukhari
35
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
Sahih Bukhari
36
(17) CHAPTER. What is hated of exaggeration in praising, and one should say only what he knows.
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے جو جانتا ہو بس وہی کہے
Sahih Bukhari
37
(17) CHAPTER. Al-Mukatab (i.e., the slave who is given the writing of emancipation for a certain sum) and about the invalidity of those conditions which contradict Allah's Laws.
مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
38
(3) CHAPTER. To provide one's family with food sufficient for one year in advance. And how one should spend on his dependants.
مرد کا اپنی بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرناجائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان ۔
Sahih Bukhari
39
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
Sahih Bukhari
40
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
Sahih Bukhari
41
Chapter: Clarifying the types of Ihram; and that it is permissible to perfom Hajj that is Ifrad, Tamattu and Qiran. It is permissible to join Hajj to Umrah. And when the pilgrim who is performing Qiran should exit Ihram
احرام کی مختلف صورتیں ‘حج افراد تمتع اور قران ‘نیز عمرے (کے احرام )میں ‘احرام حج کو شامل کر لینے کا جواز ‘اور (یہ کہ)حج قران کرنے والا کب احرام کھولے
Sahih Muslim
42
Chapter: The permissibility of eating Rabbit
خرگوش کھاناجائز ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: If A Righteous Man Is Praised, It Is Glad Tidings For Him And Will Not Harm Him
جب کسی نیک آدمی کی تعریف کی جائے تو یہ اس کے لیے بشارت ہے اور اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prohibition Of Praising if It Involves Exaggeration And There Is The Fear That It May Be A Source Of Temptation (Fitnah) For The One Who Is Praised
تعریف کرنے کی ممانعت جبکہ اس میں مبالغہ ہو اور ممدوح کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو
Sahih Muslim
46
CHAPTER: The Places In Which Prayer Is Not Allowed.
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding Woman Giving Without Her Husband’s Permission.
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی کو کچھ دے دینا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding the Judges judge when he is mistaken.
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Musnad Ahmad
5062
۔ (۵۰۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ کَانَ یَنْفُلُ فِیْ مَغَازِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۳۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے غزووں میں زائد حصہ دیا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
5323
۔ (۵۳۲۳)۔ عَنْ اَبِی مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلَانِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۴۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Musnad Ahmad
5517
۔ (۵۵۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: احْتَرَقَ بَیْتٌ بِالْمَدِینَۃِ عَلٰی أَہْلِہِ، فَحُدِّثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَأْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا ہٰذِہِ النَّارُ عَدُوٌّ لَکُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوہَا عَنْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔
Musnad Ahmad
5659
۔ (۵۶۵۹۔) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ کَمَثَلِ رِیشَۃٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ یُقَلِّبُہَا الرِّیحُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۵)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
Musnad Ahmad
5696
۔ (۵۶۹۶۔) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا ہٰذَا الشِّرْکَ فَإِنَّہُ أَخْفٰی مِنْ دَبِیبِ النَّمْلِ۔)) فَقَالَ لَہُ: مَنْ شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ وَکَیْفَ نَتَّقِیہِ وَہُوَ أَخْفٰی مِنْ دَبِیبِ النَّمْلِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((قُولُوا اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۳۵)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی مخفی ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو:اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ (اے اللہ! بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے)۔
Musnad Ahmad
8341
۔ (۸۳۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مُعَاذًا وَاَبَا مُوْسٰی اِلَی الْیَمَنِ، وَاَمَرَھُمَا اَنْ یُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۳)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔
Musnad Ahmad
8390
۔ (۸۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۵)
۔ (دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھییہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
8971
۔ (۸۹۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلاَُ الْمِیْزَانَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ تَمْلَاُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا بَیْنَ السَّمٰوٰتِ) وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نَوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ عَلَیْکَ اَوْ لَکَ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُوْبِقُھَا اَوْ مُعْتِقُھَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۶)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میںیا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔
Musnad Ahmad
9139
۔ (۹۱۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّہُ سَاَلَہُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا، وَلْیََقْضِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ مَا اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۱۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔