مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ: لَمَّا ھَجَانَا الْمُشْرِکُوْنَ، شَکَوْنَا ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((قُوْلُوْا لَھُمْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ لَکُمْ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُنَا نُعَلِّمُہُ اِمَائَ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۰۴)
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکوں نے ہماری ہجو کی اور ہم نے اس چیز کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا کچھ وہ کہتے ہیں، اتنا کچھ تم بھی ان کو کہہ دیا کرو۔ پھر ہم نے اہل مدینہ کی لونڈیوں کووہ چیزیں سکھائیں۔
10134
Zaeef