TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10892 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 5 in this chapter
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
۔ (۱۰۸۹۲)۔ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ أَبَاہُ الْأَسْوَدَ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَایِعُ النَّاسَ یَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَۃَ، فَبَایَعَ النَّاسَ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالشَّہَادَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الشَّہَادَۃُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ: أَنَّہُ بَایَعَہُمْ عَلَی الْإِیمَانِ بِاللّٰہِ وَشَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکُنْتُ اَقُوْلُ کَمَا یَقُلْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰۹)
عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے مروی ہے کہ ان کو محمد بن اسود بن خلف نے بیان کیا کہ ان کے والد اور اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فتح مکہ کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں سے بیعت لیتے دیکھا۔ آپ قرن مسقلہ نامی جگہ پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے اسلام اور شہادت کی بیعت لی، عبداللہ بن عثمان کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی کی بیعت لی۔ پس میں بھی اسی طرح کہتا تھا جیسے وہ کہتی تھیں۔
10892
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۸۹۲) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۸۲۰، ۱۹۲۲۲، والطبرانی فی المعجم الکبیر : ۸۱۵(انظر: ۱۵۴۳۱)

Related Chapters

339
1
(9) CHAPTER. The way the Prophet (p.b.u.h.) taught his followers, whether men or women, of what Allah taught him.He did not impart his own opinions, nor did he give a verdict based on Qiyas.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں وعورتوں کو وہی باتیں سکھا نا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی ۔
Sahih Bukhari
2
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
3
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
4
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
7
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
8
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
9
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
10
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
13
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
Sahih Bukhari
14
(61) CHAPTER. About those men who are in the similitude (assume the manners) of women, and those women who are in the similitude (assume the manners) of men.
عورتوں کا چال ڈھال اختیار کرنے والے مرد اور مردوں کی چال ڈھال اختیار کرنے والی عورتیں عنداللہ ملعون ہیں
Sahih Bukhari
15
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
16
جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں
Sunnan Ibn e Maja
17
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
18
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
20
عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
Musnad Ahmad
21
عورتوں اورمردوں کی خوشبو کا بیان
Musnad Ahmad
22
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
23
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
24
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
Musnad Ahmad
25
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
Musnad Ahmad
27
(44) CHAPTER. To give the judicial verdicts in the mosque and to perform the Al-Lian between men and women (husbands and wives) there.
مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں ( خاوند ، بیوی ) کے درمیان لعان کرانا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
28
(164) CHAPTER. The Salat (prayer) of women behind men.
عورتوں کا مردوں کے پیچھے نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
29
(10) CHAPTER. The offering of the Eclipse Salat (prayer) by women along with men.
سورج گرہن میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
30
(3) CHAPTER. What is allowed for the men as regards the saying of Subhan Allah and Al-hamdulilldh during As-Salat (prayer).
نماز میں مردوں کا سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنا
Sahih Bukhari
31
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
32
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
33
(65) CHAPTER. The Jihad of women and their fighting along with men.
عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا
Sahih Bukhari
34
(66) CHAPTER. The carrying of water-skins by the women to the people (and giving them water to drink) during holy battles.
جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا
Sahih Bukhari
35
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
Sahih Bukhari
36
(4) CHAPTER. The descent of the Yemenites from Ismail (Ishmael). Among such Yemenites are the tribes of Aslam bin Afsa bin Haritha bin Amir from Khuzaa.
یمن والوں کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں ۔
Sahih Bukhari
37
(4) CHAPTER. “Allah commands you as regards your children's (inheritance)...” (V.4:11)
آیت ( ( یوصیکم اللہ فی اولادکم ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
38
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
Sahih Bukhari
39
(111) CHAPTER. Men will decrease and women will increase.
( قیامت کے قریب ) عورتوں کا بہت ہو جانا مردوں کی کمی ۔
Sahih Bukhari
40
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
41
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
Sahih Bukhari
42
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
43
(56) CHAPTER. Rings for women.
عورتوں کے لیے ( سونے کی ) انگوٹھی پہننا جائز ہے اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کے پاس سونے کی انگوٹھیاں تھیں
Sahih Bukhari
44
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
Sahih Bukhari
45
(4) CHAPTER. “And the Command of Allah is a decree determined.” (V.33:38)
اس بیان میں کہ مشرکوں کی اولاد کا حال اللہ ہی کو معلوم کہ اگر وہ بڑے ہوتے ، زندہ رہتے تو کیسے عمل کرتے
Sahih Bukhari
46
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
Sahih Bukhari
47
Chapter: The Command To Women Who Are Praying Behind Men Not To Raise Their Heads From Prostration Before The Men Have Done So
مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے والی عورتوں کو حکم (دیا گیا) کہ وہ اس وقت تک سجدے سے اپنا سر نہ اٹھائیں جب تک مرد سر نہ اٹھا لیں
Sahih Muslim
48
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Men And Women, And Gold Rings And Silk For Men, But They Are Permissible For Women. Permissibility Of Silken Borders On Garments For Men, But It Should Not Be More Than Four Fingers Wide
مردوں اور عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال حرام ہے۔ سونے کی انگوٹھی اور ریشم مردوں پر حرام ہے اور عوتوں کے لیے جائز ہے اگر چارانگشت سے زیادہ نہ ہو تو مرد کے لیے (لباس پر کسی نما یا ں جگہ لگی ہو ئی ) علامت کے طور پر جا ئز ہے
Sahih Muslim
50
CHAPTER: Rows For Women, And Their Distance From The First Row.
باب: مردوں کا پہلی صف سے پیچھے رہ جانا مکروہ ہے اور عورتوں کی صف بندی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
2132
۔ (۲۱۳۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بَأَیِّ شَیْئٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَتْ: کَانَ إِذَا قَامَ کَبَّرَ وَیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِیَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔)) قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا ھَمْزُہُ وَنَفْخُہُ وَنَفْثُہُ؟ قَالَ: ((أَمَّا ھَمْزُہُ فَہٰذِہِ الْمُوْتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ بَنِیْ آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُہُ فَالْکِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُہُ فَالشِّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۱)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کوقیام کرتے تونماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِیَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقَّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔ (اے اللہ! اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! غیب وحاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری راہنمائی کر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یقینا تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے) یحیی کہتے ہیں: سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کا قیام کرتے توکہتے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، شیطان مردود سے، یعنی اس کے جنون، تکبر اور شعروں سے) مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: شیطان مردود کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ھَمْز سے مراد لوگوں کو لگنے والی مرگی ہے، اس کے نَفْخ سے مراد تکبر ہے اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔
Musnad Ahmad
5487
۔ (۵۴۸۷)۔ عَنْ أَبِی رَاشِدٍ الْحُبْرَانِیِّ قَالَ: أَتَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ لَہُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَلْقٰی بَیْنَ یَدَیَّ صَحِیفَۃً فَقَالَ: ہٰذَا مَا کَتَبَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَنَظَرْتُ فِیہَا فَإِذَا فِیہَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ عَلِّمْنِی مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَیْتُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا بَکْرٍ قُلْ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۵۱)
۔ ابو راشد حبرانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: جو حدیث تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو، وہ مجھے بیان کرو، انھوں نے میرے سامنے ایک صحیفہ رکھا اور کہا: یہ وہ چیز ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی، جب میں نے اس میں دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں، جو میں صبح اور شام کو پڑھوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘ اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔
Musnad Ahmad
5542
۔ (۵۵۴۲)۔ عن أَبی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ حَدَّثَہُ قَالَ: أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قِرْطَاسًا وَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: کَانَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ یَقُولَ ذٰلِکَ حِینَ یُرِیدُ أَنْ یَنَامَ۔ (مسند أحمد: ۶۵۹۷)
۔ ابو عبد الرحمن حبلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے لیے ایک کاغذ نکالا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی یہ گواہی دیتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے، اور میں تیرے پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس دعا کی تعلیم دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سونا چاہے تو اس وقت یہ دعا پڑھا کرے۔
Musnad Ahmad
5667
۔ (۵۶۶۷۔) عَن زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ دُعَائً، وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَعَاہَدَ بِہِ أَہْلَہُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: ((قُلْ کُلَّ یَوْمٍ حِینَ تُصْبِحُ: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ وَمِنْکَ وَبِکَ وَإِلَیْکَ، اَللّٰھُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حِلْفٍ فَمَشِیئَتُکَ بَیْنَ یَدَیْہِ مَا شِئْتَ کَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ وَمَا صَلَّیْتُ مِنْ صَلَاۃٍ فَعَلٰی مَنْ صَلَّیْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَۃٍ فَعَلٰی مَنْ لَعَنْتَ، إِنَّکَ أَنْتَ وَلِیِّی فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ، أَسْأَلُکَ اَللّٰھُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَائ،ِ وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ، وَلَذَّۃَ نَظَرٍ إِلٰی وَجْہِکَ وَشَوْقًا إِلٰی لِقَائِکَ مِنْ غَیْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، أَعُوذُ بِکَ اَللّٰھُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِیَ أَوْ یُعْتَدٰی عَلَیَّ،ٔ أَوْ أَکْتَسِبَ خَطِیئَۃً مُحْبِطَۃً أَوْ ذَنْبًا لَا یُغْفَرُ، اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَإِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، وَأُشْہِدُکَ وَکَفٰی بِکَ شَہِیدًا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، لَکَ الْمُلْکُ وَلَکَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَأَشْہَدُ أَنَّ وَعْدَکَ حَقٌّ، وَلِقَائَکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃَ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لَا رَیْبَ فِیہَا، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، وَأَشْہَدُ أَنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تَکِلْنِی إِلٰی ضَیْعَۃٍ وَعَوْرَۃٍ وَذَنْبٍ وَخَطِیئَۃٍ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ، إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۰۶)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک دعا کی تعلیم دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس دعا کے معاملے میں ہر روز اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھے، (یعنی وہ سارے افراد روزانہ یہ دعا پڑھیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز صبح کے وقت کہو: میں (تیری اطاعت کے لیے) حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، تیری طرف سے ہے ، تیرے ساتھ ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں نے جو بات کہی، میں نے جونذر مانی اور میں نے جو قسم اٹھائی، پس تیری مشیت اس کے سامنے ہے، جو تو چاہے گا، وہ ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا، وہ نہیں ہو گی، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر تیرے ساتھ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ! میں نے رحمت کی جو دعا کی ہے، وہ اس کے لیے ہے، جس پر تو نے رحمت بھیجی ہے اور میں نے لعنت کی جو بد دعا کی ہے ، وہ اس پر ہو، جس پر تو نے لعنت کی ہے، بیشک تو ہی میرا دوست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تو مجھے مسلمان فوت کرنا اور نیکوکار لوگوں کے ساتھ مجھے ملا دینا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلہ کے بعد رضامند ہونے کا، موت کے بعد راحت کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، لیکن اس میں نقصان پہنچانے والی کوئی تکلیف اور گمراہ کرنے والا کوئی فتنہ ہو۔ اے اللہ! میں اس چیز سے تیری پناہ میں آتا ہو کہ میں ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں، یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں اعمال کو ضائع کرنے والا گناہ کروں، یا میں نہ بخش دیے جانے والے گناہ کا ارتکاب کروں۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! جلال و اکرام والے! بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ بناتا ہے، جبکہ تو ہی بطورِ گواہ کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری تعریف تیرے واسطے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے اور تو قبروں والوں کو اٹھانے والا ہے۔ اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ اگر تو نے مجھ کو میرے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو نے مجھے ضائع ہونے، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ مجھے کوئی بھروسہ نہیں ہے، سوائے تیری رحمت کے، پس میرے لیے میرے سارے گناہوں کو بخش دے، توہی گناہوں کو بخش دینے والا ہے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Musnad Ahmad
5677
۔ (۵۶۷۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، إِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَإِنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تُقَرِّبْنِی مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِی مِنَ الْخَیْرِ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ عَہْدًا تُوَفِّینِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ، إِلَّا قَالَ اللّٰہُ لِمَلَائِکَتِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: إِنَّ عَبْدِی قَدْ عَہِدَ إِلَیَّ عَہْدًا، فَأَوْفُوہُ إِیَّاہُ فَیُدْخِلُہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ سُہَیْلٌ: فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِکَذَا وَکَذَا، قَالَ: مَا فِی أَہْلِنَا جَارِیَۃٌ إِلَّا وَہِیَ تَقُولُ ہٰذَا فِی خِدْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۳۹۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ…… إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اگر تو نے مجھ کو میرے نفس کے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو مجھے شرّ کے قریب کر رہا ہے اور خیر سے دور کر رہا ہے اور میرا بھروسہ نہیں ہے، مگر تیری رحمت کے ساتھ، پس تو میرے لیے اپنے ہاں ایک وعدہ کر لے، جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا )۔ جو آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں روزِ قیامت فرشتوں سے کہے گا: فلاں بندے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، تو اس کے لیے اس کا وعدہ پورا کر دو، پس اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود نے کہا: ہمارے اہل و عیال میں تو ہر بچی اپنے پردے کے اندر یہ ذکر کرتی ہے۔