باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۷)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا۔)) قَالَ: ((أَلَا! وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اصل ایمان یہاں ہے اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوںمیں ہے، جہاں شیطان کا سینگ نمودار ہو گا، ربیعہ اور مضر قبائل میں۔
12737
Sahih