TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12737 - باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۷۳۷)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا۔)) قَالَ: ((أَلَا! وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اصل ایمان یہاں ہے اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوںمیں ہے، جہاں شیطان کا سینگ نمودار ہو گا، ربیعہ اور مضر قبائل میں۔
12737
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۷۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۰۲، ۵۳۰۳، ومسلم: ۵۱(انظر: ۲۲۳۴۳)

Related Chapters

682
1
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
2
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
Musnad Ahmad
3
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
4
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
7
مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
11
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
12
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
Musnad Ahmad
13
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
14
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
15
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
16
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
17
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
18
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
20
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
Musnad Ahmad
21
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
22
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
23
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
24
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
25
(7) CHAPTER. What is said regarding the hand to hand exchange (of books of knowledge), and the writing of knowledge by religious scholars to different countries.
مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر ( دوسرے ) شہروں کو بھیجنا
Sahih Bukhari
26
Chapter: The virtue of spending on one's family and slaves, and the sin of the one who neglects them or withholds maintenance from them
اہل و عیال اور غلاموں پر خرچ کرنے کی فضیلت ‘جس نے انھیں ضائع ہونے دیا یا ان کا خرچ روکا ‘اس کا گناہ
Sahih Muslim
27
Chapter: The Virtues Of The People Of Oman
اہل عمان کی فضیلت:۔
Sahih Muslim
28
Chapter: The Virtues Of The Persians
اہل فارس کی فضیلت:۔
Sahih Muslim
29
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

12
Musnad Ahmad
12580
۔ (۱۲۵۸۰)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا، الْإِیمَانُ ہَاہُنَا، وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہے، جہاں سے ربیعہ اور مضر میں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوں گے۔
Musnad Ahmad
12716
۔ (۱۲۷۱۶)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْإِیمَانُ فِی أَہْلِ الْحِجَازِ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَائُ فِی الْفَدَّادِینَ فِی أَہْلِ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۲)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور شدت اہل مشرق کے اونٹوں کے مالکوں میں ہے۔
Musnad Ahmad
12738
۔ (۱۲۷۳۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْإِیمَانُیَمَانٍ، وَالْفِقْہُ یَمَانٍ، وَالْحِکْمَۃُیَمَانِیَۃٌ، أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ فَہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً وَأَلْیَنُ قُلُوبًا، وَالْکُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِی أَہْلِ الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِینَ أَہْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّکِینَۃُ فِی أَہْلِ الْغَنَمِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۲۹)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان یمنیوں کاہے، فقاہت بھی یمن کی اور حکمت و دانائی بھی یمن کی بہتر ہے، تمہارے پا س اہل یمن آئے ہیں، یہ بہت زیادہ نرم دل ہیں اور کفر مشرق کی طرف زیادہ ہے اور فخراورتکبر اونٹ اورگھوڑے پالنے والوں اور دیہاتی لوگوں میں ہے اور بکریاں پالنے والوں میں سکینت اور نرم خوئی ہے۔
Musnad Ahmad
4858
۔ (۴۸۵۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ فَتًی مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ لِی مَالٌ أَتَجَہَّزُ بِہِ، فَقَالَ: ((اذْہَبْ إِلٰی فُلَانٍ الْأَنْصَارِیِّ، فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ لَکَ: ادْفَعْ إِلَیَّ مَا تَجَہَّزْتَ بِہِ۔)) فَقَالَ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ! ادْفَعِی إِلَیْہِ مَا جَہَّزْتِنِی بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی عَنْہُ شَیْئًا، فَإِنَّکِ وَاللّٰہِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْہُ شَیْئًا لَا یُبَارِکُ اللّٰہُ لَکِ فِیہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: إِنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۹۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں جہاد تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس مال نہیں ہے کہ میں تیار کر سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ، اس نے جہاد کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن وہ بیمار پڑ گیا ہے اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تم کو سلام کہہ رہے ہیں اور تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو تم نے تیاری کر رکھی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے جا کر یہی پیغام دیا، اس نے جواباً اپنی بیوی سے کہا: اے فلاں خاتون! تونے میرے لیے جو کچھ تیاری کی تھی، وہ سارا کچھ اس آدمی کو دے دے، اور کوئی چیز مت روک، اللہ کی قسم! اگر تو نے کوئی چیز روکی تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت نہیں ڈالے گا۔ عفان راوی نے کہا: یہ نوجوان بنو اسلم قبیلے سے تھا۔
Musnad Ahmad
5052
۔ (۵۰۵۲)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ، فَنَفَّلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَبَہُ وَدِرْعَہُ، فَبَاعَہُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۸۸)
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔
Musnad Ahmad
10826
۔ (۱۰۸۲۶)۔ عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِیَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، وَکَانَ أَحَدَ الْقُرَّائِ الَّذِینَ قَرَئُ وْا الْقُرْآنَ، قَالَ: شَہِدْنَا الْحُدَیْبِیَۃَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْہَا إِذَا النَّاسُ یُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ، فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوْا: أُوحِیَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّی وَجَدْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَاحِلَتِہِ عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیمِ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَیْہِ، فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا} فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْ رَسُولَ اللّٰہِ! وَفَتْحٌ ہُوَ؟ قَالَ: ((أَیْ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّہُ لَفَتْحٌ۔)) فَقُسِمَتْ خَیْبَرُ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ، لَمْ یُدْخِلْ مَعَہُمْ فِیہَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَہِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ، فِیہِمْ ثَلَاثُ مِائَۃِ فَارِسٍ، فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَہْمَیْنِ وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَہْمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۹)
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو ان قراء میں سے تھے، جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا،سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں حاضر ہوئے، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اچانک اپنے اپنے اونٹوں کو تیز تیز چلانے لگے، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ تو دوسروں نے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہوا ہے، ہم بھی اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ چل دئیے، ہم نے کراع غمیم مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر موجود پایا، لوگ آپ کے اردگرد جمع تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سامنے {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا۔} یعنی سورۂ فتح کی تلاوت کی۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! کیایہ ہمارے حق میں واقعی فتح ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہیقینا فتح ہے۔ اس کے بعد غزوۂ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں میں تقسیم کی گئیں، جو حدیبیہ میں حاضر تھے، ان کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غنیمتوں کو اٹھارہ حصوں میں بانٹ دیا، لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے، ان میں سے تین سو گھڑ سوار بھی تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑ سواروں کو دو دو حصے اور پیدل لوگوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
Musnad Ahmad
11044
۔ (۱۱۰۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اجْتَمَعَ الْقَوْمُ لِغُسْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ فِی الْبَیْتِ إِلَّا أَہْلُہُ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ، وَصَالِحٌ مَوْلَاہُ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِہِ نَادٰی مِنْ وَرَائِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِیِّ نِ الْأَنْصَارِیُّ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِی عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَکَانَ بَدْرِیًّا عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ لَہُ: یَا عَلِیُّ نَشَدْتُکَ اللّٰہَ! وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: ادْخُلْ، فَدَخَلَ فَحَضَرَ غُسْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَلِ مِنْ غُسْلِہِ شَیْئًا، قَالَ: فَأَسْنَدَہُ إِلٰی صَدْرِہِ وَعَلَیْہِ قَمِیصُہُ، وَکَانَ الْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَقُثَمُ یُقَلِّبُونَہُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَکَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَصَالِحٌ مَوْلَاہُمَا یَصُبَّانِ الْمَائَ، وَجَعَلَ عَلِیٌّیَغْسِلُہُ، وَلَمْ یُرَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ شَیْئٌ مِمَّا یُرٰی مِنَ الْمَیِّتِ، وَہُوَ یَقُولُ: بِأَبِی وَأُمِّی مَا أَطْیَبَکَ حَیًّا وَمَیِّتًا، حَتّٰی إِذَا فَرَغُوا مِنْ غُسْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ یُغَسَّلُ بِالْمَائِ وَالسِّدْرِ جَفَّفُوہُ، ثُمَّ صُنِعَ بِہِ مَا یُصْنَعُ بِالْمَیِّتِ، ثُمَّ أُدْرِجَ فِی ثَلَاثَۃِ أَثْوَابٍ ثَوْبَیْنِ أَبْیَضَیْنِ وَبُرْدِ حِبَرَۃٍ، ثُمَُُُُّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَیْنِ، فَقَالَ: لِیَذْہَبْ أَحَدُکُمَا إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَکَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَیَضْرَحُ لِأَہْلِ مَکَّۃَ، وَلْیَذْہَبْ الْآخَرُ إِلَی أَبِی طَلْحَۃَ بْنِ سَہْلٍ الْأَنْصَارِیِّ، وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَیَلْحَدُ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَہُمَا حِینَ سَرَّحَہُمَا: اللَّہُمَّ خِرْ لِرَسُولِکَ، قَالَ: فَذَہَبَا فَلَمْ یَجِدْ صَاحِبُ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَبَا عُبَیْدَۃَ وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِی طَلْحَۃَ أَبَا طَلْحَۃَ فَجَائَ بِہِ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کے لیے لوگ جمع ہوئے، گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا فضل بن عباس، سیدنا قثم بن عباس، سیدنا اسامہ بن زید بن حار ثہ اجمعین اور ان کا غلام سیدنا صالح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، یہ لوگ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کے لیے جمع ہوئے تو دروازہ کے باہر سے بنو عوف بن خزرج کے ایک فرد سیدنا اوس بن خولی انصاری بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے علی! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، ہمارا بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حق اور حصہ ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اندر آجاؤ، سو وہ اندر آگئے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غسل کے موقع پر حاضر رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے میں شریک نہیں ہو سکے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قمیض اسی طرح رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے سینے سے لگا لیا، سیدنا عباس، سیدنا فضل اور سیدنا قثم ، سیدنا علی بن ابی طالب کے ساتھ مل کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو کو بدلتے اور سیدنا اسامہ بن زید اور ان کا غلام سیدنا صالح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پانی ڈالتے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دیتے، عام طور پر فوت ہونے والوں کے جسم میں جو ناروا باتیں دیکھی جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دیتے جاتے اور کہتے: میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی کس قدر پاکیزہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسم کو خشک کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وہ سارے کام کئے گئے جو میت کے ساتھ کئے جاتے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین کپڑوں میں داخل کیا گیا، ان میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار چادر تھی، اس کے بعد سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو آدمیوں کو بلوا کر ایک کو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اور دوسرے کو سیدنا ابو طلحہ بن سھل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انصاری کو بلانے کے لیے بھیجا، سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں اہل مکہ کے لیے قبر کھودا کرتے تھے، یہ صندوقییعنی شق والی قبر بناتے تھے اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہل مدینہ کے لیے بغلییعنی لحد والی قبر تیار کیا کرتے تھے، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کو روانہ کرنے کے بعد کہا: اے اللہ ! ان دونوں میں سے تو جسے چاہے، اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اختیار فرما، وہ دونو ں گئے، جو آدمی سیدنا عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے نہیں مل سکے، اور جو آدمی سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے مل گئے، چنانچہ وہ ان کو ساتھ لے آئے اور انہوں نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لحدوالی (بغلی قبر) تیار کی۔
Musnad Ahmad
11305
۔ (۱۱۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَۃٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ وَقَالُوْا: یُبَلِّغُنَا اللّٰہُ بِہِ، فَلَمَّا رَأٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ ھَمَّ أَنْ یَأْذَنَ لَھُمْ فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِیْنَا الْقَوْمَ غَدًا جِیَاعًا أَوْ رِجَالًا؟ وَلٰکِنْ إِنْ رَأَیْتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ فَنَجْمَعَھَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللّٰہَ فِیْہَا بِالْبَرَکَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَیُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِکَ، فَدَعَاالنَّبٍیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَجِیْئُوْنَ بِالْحَثْیَۃِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذٰلِکَ، وَکَانَ أَعْلَاھُمْ مَنْ جَائَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَمَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا الْجَیْشَ بِأَوْعِیَتِہِمْ فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَحْتَثُوْا، فَمَا بَقِیَ فِی الْجَیْشِ وِعَائٌ إِلَّا مَلَؤُوْہُ وَبَقِیَ مِثْلُہٗ،فَضَحِکَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ فَقَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلاَّ حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۸)
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں ۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
11533
۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔